چین کے اہم اقتصادی سماجی ترقیاتی اہداف

چینی وزیر اعظم لی کھہ چھیانگ نے حکومتی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ دو ہزار انیس میں چین کو درپیش مشکلات اور چیلنجز کے باوجود اہم سالانہ اہداف کی تکمیل کی گئی ہے۔ چین کی مجموعی اقتصادی کارکردگی مستحکم ہے اور لوگوں کے معیار زندگی میں مزید بہتری آئی ہے، جس سے ایک خوشحال چین کے جامع قیام کی فیصلہ کن بنیاد رکھی گئی ہے

Shahid Afraz شاہد افراز خان ہفتہ مئی

cheen ke ahem iqtisadi samaji taraqiyati ahdaaf
اس وقت چین کی سب سے بڑی سیاسی سرگرمی جاری ہے جسے" دو اجلاسوں" سے موسوم کیا جاتا ہے۔ان اجلاسوں کے دوران چینی حکومت کی گزشتہ ایک سالہ کارکردگی کے جائزے سمیت مستقبل کے اہم اہداف کا تعین کیا جاتا ہے۔اسی باعث دنیا کی نظروں کا محور چینی حکومت کے فیصلے ہوتے ہیں۔عالمگیر وبائی صورتحال کے تناظر میں چین کی یہ سیاسی سرگرمی جہاں ملک میں معمولات زندگی کی بحالی کا عملی مظہرہے وہاں دوسری جانب دنیا کے لیے امید کا پیغام بھی ہے۔


چین کی قومی عوامی کانگریس کو ملک میں قانون سازی اور ریاستی امور چلانے میں اعلیٰ ترین ریاستی اتھارٹی کا درجہ حاصل ہے۔ نوول کورونا وائرس کے باعث گزشتہ 22 سالوں میں یہ پہلا موقع ہے جب اس سالانہ اجلاس کا انعقاد مئی میں کیا جا رہا ہے وگرنہ مارچ کے اوائل میں سالانہ اجلاس کا انعقاد ایک روایت ہے۔

(جاری ہے)

 

چینی صدر شی جن پھنگ، چینی کمیونسٹ پارٹی اور دیگر ریاستی رہنماوں سمیت کانگریس کے 2897مندوبین بھی قومی عوامی کانگریس کے افتتاحی اجلاس میں شریک ہوئے۔

افتتاحی اجلاس کے آغاز میں تمام شرکاء کی جانب سے وبا کے دوران جاں بحق ہونے والے ہم وطنوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے خاموشی اختیار کی گئی۔ اجلاس کے دوران چین کے وزیر اعظم لی کھہ چھیانگ نے چینی حکومت کی گزشتہ سال کی ورکنگ رپورٹ پیش کی جس پر اجلاس کے دوران نظر ثانی کی جائے گی ۔اجلاس کے دوران قانون سازی سے متعلق دو ایجنڈے زیر غور آئیں گے۔

ان میں چین کے پہلے سول کوڈ کے مسودے پر نظر ثانی اور ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے میں قومی سلامتی کے تحفظ کے لئے قانونی نظام اور نفاذ کے طریقہ کار کا مسودہ شامل ہیں۔
چینی وزیر اعظم لی کھہ چھیانگ نے حکومتی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ دو ہزار انیس میں چین کو درپیش مشکلات اور چیلنجز کے باوجود اہم سالانہ اہداف کی تکمیل کی گئی ہے۔

چین کی مجموعی اقتصادی کارکردگی مستحکم ہے اور لوگوں کے معیار زندگی میں مزید بہتری آئی ہے، جس سے ایک خوشحال چین کے جامع قیام کی فیصلہ کن بنیاد رکھی گئی ہے۔دو ہزار انیس میں، چین کی جی ڈی پی میں چھ اعشاریہ ایک فیصد کا اضافہ ہوا۔ شہروں اور دیہی علاقوں میں ایک کروڑ سے زائد روز گار کے نئے مواقع فراہم کئے گئے، دیہی علاقوں میں ایک کروڑ سے زائد لوگوں کو سطح غربت سے نکالا گیا جبکہ شہریوں کی فی کس آمدنی بھی تیس ہزار چینی یوآن سے تجاوز کر چکی ہے۔

عالمگیر وبائی صورتحال اور معیشت و تجارت میں غیر یقینی کے باعث چین کی ترقی کو بھی غیر متوقع عوامل کا سامنا ہے۔اسی باعث چینی حکومت نے 2020 میں معاشی نمو کے لیے مخصوص اہداف کا تعین نہیں کیا ہے۔اس کی وجوہات کا تذکرہ کرتے ہوئے چینی وزیر اعظم نے واضح کیا کہ دنیا بھر میں کساد بازاری کے سبب چین کی کوشش رہے گی کہ روزگار کے تحفظ، بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی،مالیاتی منڈیوں کی بہتر صورتحال، توانائی اور خوراک کا تحفظ،مستحکم صنعتی چین اور حکومتی امور پر زیادہ توجہ دی جائے۔

دنیا کے لیے چین کی جانب سے معاشی نمو کا ہدف طے نہ کرنا باعث حیرت ہو سکتا ہے۔
چینی حکومت سال 2020 میں مستحکم روزگار اور عوام کی زندگیوں کے تحفظ کو ترجیح دے گی، غربت کے خلاف جنگ میں فیصلہ کن کامیابی حاصل کرے گی اور ایک خوشحال معاشرے کی تعمیر کے ہدف کی بھرپور جستجو کی جائے گی۔ملک کے شہری اور دیہی علاقوں میں روزگار کے نئے مواقع کا ہدف نوے لاکھ سے زائد رکھا گیاہے جبکہ بے روزگاری کو چھ فیصد کی سطح تک برقرار رکھنے کا ہدف طے کیا گیاہے۔

اس ضمن میں کوشش کی جائے گی کہ کالج گریجویٹس، دیہی تارکین وطن اورروزگار کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنے والے افراد کو ترجیح دی جائے۔سال دوہزار بیس اور اکیس کے دوران تین کروڑ سے زائد افراد کو فنی تربیت بھی فراہم کی جائے گی تاکہ انہیں روزگار مل سکے۔ وبائی صورتحال میں چینی قیادت کی جانب سے صحت عامہ کے نظام کی بہتری کا عزمظاہر کیا گیاہے۔

انسداد امراض کے نظام میں اصلاحات کی جائیں گی اور وبائی امراض کی پیش گوئی کے نظام کو بہتر بنایا جائے گا۔ وبائی معلومات کے بروقت اور شفاف اجراء پر عمل کیا جائے گا۔ حکومتی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ویکسین، ادویات اور تیز رفتار ٹیسٹنگ کی تحقیق کو تیز تر کیا جائے گا۔ ہنگامی سازوسامان کی فراہمی
کو یقینی بنانے کی صلاحیت کو مضبوط بنایا جائے گا۔

چین کی منصوبہ بندی میں اہم نکتہ رواں برس ملک بھر سے غربت کا خاتمہ بھی ہے۔حکومتی رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ رواں سال چین میں غربت کے مکمل خاتمے کو یقینی بنایا جائے گا۔ غربت کی شکار کاونٹیوں اور گاؤں کی امداد میں اضافہ کیا جائے گا۔انسداد غربت سے وابستہ صنعتی ترقی اور افراد کی دوسرے علاقوں تک منتقلی سمیت موثر اقدامات جاری رہیں گے۔

اس کے ساتھ ساتھ انسداد غربت کو دیہی
خوشحالی کی حکمت عملی سے جوڑتے ہوئے غربت سے نجات پانے والوں کی خوشحال زندگی کی جانب پیش قدمی کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
رواں برس چین کی جانب سے مینوفیکچرنگ انڈسٹری کی اپ گریڈیشن اور ابھرتی ہوئی صنعتوں کی ترقی کو فروغ دینے کا عزم بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ مینوفیکچرنگ کے لیے درمیانے اور طویل مدتی قرضوں میں نمایاں اضافہ کیا جائے گا۔

صنعتی انٹرنیٹ کے فروغ سمیت سمارٹ مینوفیکچرنگ کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ چین "انٹرنیٹ پلس"کو وسیع پیمانے پر فروغ دینے اور ڈیجیٹل معیشت میں نئے ثمرات سامنے لانے کے لئے معاون پالیسیاں جاری رکھے گا۔چین سائنسی اور تکنیکی جدت کی معاونت کی خاطر اپنی صلاحیت میں بہتری لائے گا۔ عالمی معیار کی حامل تجربہ گاہوں کی تعمیر کو تیز کرے گا، بین الاقوامی سائنسی اور تکنیکی تعاون کو مزید وسیع کرے گا اور اہم منصوبوں کی تکمیل کی حوصلہ افزائی کرے گا۔

چین کی منصوبہ بندی میں بیلٹ اینڈ روڈ کی اعلیٰ معیار کی تعمیر و ترقی بھی شامل ہے۔چین۔پاک اقتصادی راہداری بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ پاکستان کو بھی اس وقت وبائی صورتحال کے ساتھ ساتھ جن مسائل کا سامنا ہے اُن میں غربت اور بے روزگاری سرفہرست ہیں۔امید کی جا سکتی ہے کہ چین۔پاک دوستی کے سفر میں ایک دوسرے کے مثبت پہلووں سے سیکھتے ہوئے مشترکہ ترقی کو پروان چڑھایا جا سکے گا۔

Your Thoughts and Comments

cheen ke ahem iqtisadi samaji taraqiyati ahdaaf is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 23 May 2020 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.