سی پیک اور عوام

یہ ہم سب ہی جانتے ہیں کہ پا کستان کو اپنے محلِ وقوع کے لحاظ سے نہ صرف جنوب ایشیا بلکہ پوری دنیا میں ہی خصوصی اہمیت حاصل ہے۔پاکستان مشرق اور مغرب کے درمیان رابطے کا ایک اہم ذریعہ ہے چین پاکستان کا ہمسایہ اور دوست ملک ہے دونوں ممالک کے مابین دوستانہ تعلقات ہیں

پیر جنوری

CPEC Or Pakistan
یہ ہم سب ہی جانتے ہیں کہ پا کستان کو اپنے محلِ وقوع کے لحاظ سے نہ صرف جنوب ایشیا بلکہ پوری دنیا میں ہی خصوصی اہمیت حاصل ہے۔پاکستان مشرق اور مغرب کے درمیان رابطے کا ایک اہم ذریعہ ہے چین پاکستان کا ہمسایہ اور دوست ملک ہے دونوں ممالک کے مابین دوستانہ تعلقات ہیں ۔چین نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے جبکہ پاکستان بھی چین کی دوستی پر فخر کرتا ہے ۔

پاکستان میں کئی ترقیاتی منصوبے چین کی مدد سے چل رہے ہیں سی پیک بھی اسی طرح کا ایک بڑا منصوبہ ہے۔جس کا تخمینہ اب57 کھرب ہو گیا ہے۔چین پاکستان اقتصادی راہداری سے پاکستان میں ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہورہا ہے۔یہ معاشی اور صنعتی ترقی کے ایک ایسے دور کا آغاز ہے جس سے پاکستان کی ترقی اور کامیابی کے نئے راستے روشن ہو جائیں گے۔

چین نے ایک ایسے وقت میں پاکستان میں سینکڑوں منصوبوں میں سرمایہ کاری کا آغاز کیا ہے جب اقوامِ عالم یہاں آنے میں گومگو کا شکار تھیں۔

اقتصادی راہداری ایک ایسا بڑاپروجیکٹ ہے جس سے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی تقدیر بدل جائے گی۔اور تین ار ب افراد اس عظیم منصوبے سے فائدہ اٹھائیں گے۔اقتصادی راہداری سے ہونے والی معاشی ترقی سے پاکستان میں صحت،تعلیم اور دیگر شعبوں کو بھی زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچے گا۔صنعتوں کے قیام سے بے ورزگاری میں کمی واقع ہوگی ۔ اور پاکستان کے چاروں صوبے اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

پاکستان کی حکومت ،سیاسی جماعتیں ،فوج اور عوام بھی پاکستان اور چین کے اس اقتصادی راہداری منصوبے کی پْرزور حمایت کر رہے ہیں ۔اور پوری دنیا کی نظریں اس پر جمی ہوئی ہیں۔27اگست 2013ء کو اقتصادی راہداری کے حوالے سے پہلی مشترکہ تعاون کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا تھا۔پھر فروری 2014 میں صدرِ پاکستان ممنون حسین نے چین کا دورہ کیا اور اقتصادی راہداری پر چین کی قیادت سے تبادلہء خیالات بھی کیا۔

اس کے دو ماہ بعد پھر وزیراعظم نواز شریف نے چین کا دورہ کر کے چین کے وزیراعظم سے منصوبے کے معاملات پر بات کی۔اور یوں 2014میں چین کی حکومت نے سی پیک منصوبے کا اعلان کر دیا۔ اور چینی کمپنیز کو ہدایت کی کہ وہ اقتصادی راہداری منصوبے میں شامل توانائی ،مواصلات اور ٹرانسپورٹ کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کریں۔اپریل 2016میں چین کے صدر نے پاکستان کا تاریخی دورہ کیااور اس منصوبے کے حوالے سے 46ارب ڈالر مالیت کے 51منصوبوں پر دستخط کیے۔

ان منصوبوں کی تکمیل سے دنیا کی تجارت کا رخ پاکستان کی طرف ہو جائے گا۔اور چین کی درآمدات و برآمدات میں بھی اضافہ ہو گا۔اور تیل گیس کی ترسیل بھی ممکن ہو سکے گی۔چین نے ان منصوبوں کے لئے پاکستان کو قرضہ نہیں دیابلکہ چین کے تین بڑے بینکوں نے ملکی اور غیر ملکی کمپنیز کو فنانسنگ کی ہے ۔ پاک چین اقتصادی راہداری صرف ایک سڑک یا روڈ کا نام نہیں ہے۔

بلکہ اس کے ذریعے پاکستا ن کے 55 شہروں کو سڑ کوں اور ریلوں کے ذریعے ملا دیا جائے گا۔حکومت اور تمام سیاسی جماعتوں نے 28مئی 2015 کو آل پاکستان پارٹیز کانفرنس میں اس بات پر اتفاق کیا کہ سب سے پہلے سی پیک کے مغربی روٹ کو تعمیر کیا جائے گا۔حکومت نے تمام سیا سی جماعتوں کے نظریات کو سننے اوراس پر عمل کر نے کے لئے اقتصادی راہداری کی پارلیمانی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔

جس کے سربراہ سینیٹر مشاہد حسین سّید ہیں۔پارلیمانی کمیٹی نے نومبر میں طویل مغربی روٹ کا دورہ بھی کیا اور تمام کاموں کا مکمل جائزہ بھی لیا۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سی پیک پاکستان کے لیے بہت بڑا پروجیکٹ ہے جس کی تکمیل سے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی وابستہ ہے۔لیکن جب حکومتیں ایسے بڑے منصوبے تشکیل دیتی ہیں تو ان منصوبوں کا فائدہ عوام کو بھی ہونا چاہیے۔

عوام کے مسائل بھی حل ہونے چا ہیے۔ورنہ سی پیک حکومت ِ پاکستان اور ریاست پاکستان کے لئے گلے کی ہڈی ثابت ہوگا۔سی پیک سے حاصل ہونے والی دولت پاکستان کے عوام پر ہی خرچ ہونی چاہیے۔اور یہ خوشحالی ان طبقات کے لیے ہونی چاہیے جو اب تک غربت،بیماری،جہالت اور بد حالی کا شکار ہیں۔اگر سی پیک کے منصوبے سے تعلیم ، صحت ،روزگار اور رہائش کا مسئلہ حل نہیں ہوتا اور دولت منی لانڈرنگ کے زریعے دوسرے ممالک میں منتقل ہو جاتی ہے تو اس میں سی پیک کا کیا فائدہ ہو گا۔یہ بات غور طلب ہے۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

CPEC Or Pakistan is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 09 January 2017 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.