داعش

عراق میں اپنا وجود کھو رہی ہے؟ اسلامک اسٹیٹ (داعش) کے سربراہ ابوبکر البغدادی کا باکسنگ ڈے کے موقع پر شیخی نما پیغام انہیں مہنگا پڑ گیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اتحادی ممالک کی لاکھ کوشش کے باوجود داعش کا پھیلاوٴ جاری رہے گا۔

منگل جنوری

Daesh
Con-Coughlin :
اسلامک اسٹیٹ (داعش) کے سربراہ ابوبکر البغدادی کا باکسنگ ڈے کے موقع پر شیخی نما پیغام انہیں مہنگا پڑ گیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اتحادی ممالک کی لاکھ کوشش کے باوجود داعش کا پھیلاوٴ جاری رہے گا۔عرب میڈیا میں چھپنے والے ان بیان کی سیاہی ابھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ عراق حکومت نے سنیوں کے مضبوط ترین گڑھ رماوی میں داعش کو بیدخل کرکے ایک اہم کامیابی حاصل کر لی۔

اس اہم کامیابی نے البغدادی کے دعووٴں کی قلعی کھال دی ہے۔ یوں دکھائی دیتا ہے کہ داعش کے لیے 2016 میں عراق میں اپنا وجود برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ رمادی دارالحکومت بغداد سے محض ساٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ گزشتہ موسم بہار کے دوران رمادی پر قبضہ عراقی وزیراعظم حیدر العبادی کیلئے بھی سخت دھچکاتھا۔

(جاری ہے)

اب عراقی وزیراعظم نے رماوی پر قبضہ کر کے ایک اہم کامیابی حاصل کی ہے جس پر اتحادی کمانڈروں نے بھی سکون کا سانس لیا ہے۔

اب عراقی وزیراعظم اور اتحادی کمانڈروں کے لیے موصل کو داعش کے قبضے سے چھڑانا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ موصل کو داعش کا گڑھ کہا جاتا ہے جہاں اس شہریوں کو بے پناہ سہولیات بھی فراہم کر رکھی ہیں۔داعش نے موصل پر قبضے کے دوران مخالفین کا بے دریغ قتل عام بھی کیا۔ موصل کا داعش سے چھڑانے کے لیے عراق حکومت کو رمادی کی طرح حکمت عملی اپنانا ہوگئی۔

قبل ازیں عراق فوج کی رمادی میں داعش کے خلاف عبرت ناک شکست نے اتحادی کمانڈرز کے اعتماد کو منزلزل کر دیاتھا۔رمادی کو دوبارہ آزاد کرانے کے لیے ایک ایسی کامیاب جنگی حکمت عملی تشکیل دی گئی جس سے داعش کو شکست دینا ممکن ہوا۔
داعش کو رمادی سے شکست دلوانے میں اتحادی کمانڈروں کی حکمت عملی نے بھی اہم کردار ادا کیا جنہوں نے عراق حکومت کویہ بات پہلے ہی سمجھا دی تھی کہ اس کے لیے آئی ایس ایف کو ساتھ ملانا ضروری ہے جس کے پاس نہ صرف وسائل بلکہ قوت بھی ہے۔

داعش کے خطرے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے کے لیے پورے عراق میں اسی قسم کے مستحکم پلیٹ فارم کی سخت ضرورت ہے۔ امریکی اور برطانوی ایڈوائزرز نے اپنی تجاویز میں عراق کی حکومت پر آئی ایس ایف پر انحصار بڑھانے پر زور دیا ہے جو انہیں بہتر زمینی معاونت مہیا کر سکتی ہے جو کہ موجودہ حالات میں انتہائی ضروری بھی ہے۔ آئی ایس ایف اور اتحادی فورسز کے مشترکہ رمادی آپریشن کی کامیابی کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات بخوبی سامنے آتی ہے کہ اتحادیوں نے اب ایک ایسا قابل عمل پیمانہ طے کر لیا ہے جس کے تحت داعش پر 2016 میں عراق کی سرزمین تنگ کر دی جائے گی۔

شام میں داعش کو شکست دینے کے لیے اتحادیوں کی کوششوں پر سب بڑی تنقید یہ کی جاتی ہے کہ وہاں زمینی فورسز موجود نہیں ہیں جو داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کے بعد انہیں بھاری نقصان پہنچاسکیں۔ اب یہاں سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا اس آپریشن کو کامیاب بنانے کے لیے اس کا دائرہ شام تک بھی بڑھایا جائے گا۔موصل عراق کا دوسرا بڑا شہر ہے جس کی آبادی 1.5 ملین ہے جو رمادی کے مقابلے میں کہیں مشکل ٹارگٹ ہے۔

اس پردوبارہ قبضہ رواں موسم خزاں میں شیڈول ہے مگر اتحادی کمانڈرز کو خوف ہے کہ داعش اتحادیوں کے خلاف جنگ میں عراق عوام کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔دفاعی تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ رمادی میں جس عمدہ حکمت عملی کا مظاہرہ کیا گیا ہے ۔ اب لگتا یہ ہے کہ آنیوالے دنوں میں داعش کا عراق اور شام پر قبضہ ختم ہوتا دکھائی دیتا ہے مگر یہ اتنا آسان بھی نہیں ہوگا۔

متعلقہ مضامین :

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

Daesh is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 12 January 2016 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.