درد

اللہ تعالیٰ کا اصول ہے جب ہم کسی کا درد بانٹتے ہیں، دل کو سکون راحت ملتی ہے یعنی درد بانٹنے سے کم ہوتا ہے۔جب درد مشترک ہوں تو ایک دوسرے کی ڈھارس بندھ جاتی ہے۔ بعض آزمائشیں اتنی زیادہ درد ناک ہوتی ہیں کہ درد ہی دوا بن جاتا ہے

Rehan muhammad ریحان محمد بدھ اکتوبر

dard
 درد زندگی کا دوسرا نام ہے۔افزائش سے پیدائش،پیدائش سے موت تک درد کا سفر ہے۔یعنی زندگی اور درد کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔بچپن میں سب سے پہلے تین طرح کے درد سے آشنائی ہوئی۔پہلا کان کا درد دوسرا دانت کا درد تیسرا پیٹ کا درد۔اور یہ تینوں درد ایک عرصے تک میرے لیے بڑے مفید ثابت ہوئے اور میں نے ان سے پورہ استعفادہ حاصل کیا۔جب بھی سکول سے چھٹی کرنی ہوتی ان میں سے کوئی درد بھی میرا ہتھیار ہوتا اور میں اپنے مقصد میں ہمیشہ کامیاب رہتا۔

سو فیصد کامیابی کا تناسب تھا۔ہر گزرتے وقت کے ساتھ مختلف اقسام کے درد کا پتہ چلا۔زمانہ طالب علمی میں کئی مضمون درد کا باعث بنے۔ لڑکپن سے جوانی میں قدم رکھا تو ایک اور درد درد آشنائی سے واسطہ پڑا اور ایسا پڑا کہ بہت مرتبہ تو درد سر چڑھ کے بولا۔

(جاری ہے)

جوانی دیوانی ہوتی ہے نادانی کے درد کا بھی ایک اپنا مزہ ہے۔اس درد کو نکھارنے میں ہماری فلموں ڈراموں کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔


ہم ایک جذباتی قوم ہیں اور اس حساس کا فنون لطیفہ نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔شاعری کو لے لیجیے۔ہمارے شعرا کرام کے درد عشق سے متعلق شاعری کے دیوان ملیں گے۔درد کے جذبات کو جس طرح اشعار میں ڈھالہ ہے اس کی مثال نہیں۔جب تک کسی شاعر کی شاعری میں درد کے جذبات نہیں اس کا ادب میں وہ مقام نہیں.بعض شعرا نے تو درد لفظ کو بطور تخلص اپنایا۔

اسی درد کو فلموں میں بھی بخوبی استعمال کیا ہے۔فلموں کی درد ناک کہانیاں درد ناک مناظر کامیابی کی ضمانت سمجھے جاتے ہیں۔جس اداکار کی اداکاری میں جتنا زیادہ درد ہو گا وہ اتنا قدآور اداکار ہو گا۔درد کا یہ سفر فن گلوکاری تک بھی پہنچا ہے۔کسی بھی بڑے گلوکار کے درد سوز گانے اسے امر کر دیتے ہیں۔ اس ضمن میں زیادہ تر کی وہ شاعری اداکاری گلوکاری ہے جو نہ صرف سر درد کا باعث بنتا ہے بلکہ ازیت سے دوچار کرتی ہے۔

 
 اگر تھورا سا غوروفکر کیا جائے تو شاید ہی کوئی درد سے بچا ہو۔سیاستدان ملک اور قوم کے درد میں ہر وقت ڈوبے نظر آئیں گے۔ ہر سیاسی جماعت عوام کے درد میں بیحال نظر آے گی چاہے پریس کانفرنس ہو یا جلسہ جلوس عوام کے درد سے شروع عوام کے درد پر ختم ۔حالانکہ اس کے برعکس عوام کا درد نہیں بلکہ اقتدار کی کرسی کا اپنے اثاثے بنانے کا درد ہے۔

اس میں قائداعظم اور ان جیسے بے شمار قوم کے سچے رہنما تھے جن کے دل میں قوم کے لیے حقیقی درد تھا۔ ہمارا پاکستان اس کی زندہ مثال ہے
 آمریکہ جیسی سپر پاور کا صدر ڈولنڈ ٹرمپ بھی پوری دنیا کہ بلکہ غریب ترقی پزیر ممالک کے درد میں ہر وقت اتنا فکر مند نظر آتا ہے اتنے وہ خود فکر مند نہیں۔امریکی صدر کا یہ درد ترقی پزیر ممالک کے لیے مزید درد میں اضافے کا باعث بنا ہے ان کی درد میں کمی کے بجائے مزید انتشار بڑھا ہے۔

ہمارے مذہبی رہنماوں کے دل میں امت کا بے انتہا درد ہے۔بہت سوں نے اس درد سے امت کو فرقوں میں تقسیم کر دیا ہے۔
بنیادی طور پر انسان معاشرتی جانور ہے۔اور آپس کے میل جول کے بغیر نہ چل سکتا ہے اور نہ دور رہ سکتا ہے۔آپس کے میل جول میں جہاں پیار محبت کا رشتہ ہے وہی پر درد کا بڑا گہرا تعلق ہے۔کئی رشتے پیار محبت کے ہوتے ہوئے بھی درد کے رشتے بن جاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کے بعد ماں باپ کا رشتہ دکھ درد کا ہے بغیر کسی لالچ کیدرد مندانہ اور بے لوث ہے۔ہر قسم کے تعلقات کے درد مثبت بھی ہوتے ہیں منفی بھی ہوتے ہیں۔اگر درد پالنا ہی ہے تو مثبت درد پالو جو انسانیت کے کام آئے۔دنیا میں کتنے لوگ اپنی توفیق سے بڑھ کر درد دل کا ثبوت دے رہے ہیں ضرورت مندوں کی ضرورت اور حاجت مندوں کی حاجت پوری کرنے میں مصروف ہوں گے۔

دل تو ہر سینے کے اندر ہے مگر دل کی سب سے بڑی خوبی درد دل کا ہونا ہے۔بڑی بڑی آفات میں درد دل رکھنے والے اپنی ہمت حیثیت سے بڑھ کر کام کر رہے ہوں گے۔ باقول شاعر
 درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
 ورنہ عطاعت کے لیے کم نہ تھے کروبیاں
 اللہ تعالیٰ کا اصول ہے جب ہم کسی کا درد بانٹتے ہیں، دل کو سکون راحت ملتی ہے یعنی درد بانٹنے سے کم ہوتا ہے۔

جب درد مشترک ہوں تو ایک دوسرے کی ڈھارس بندھ جاتی ہے۔ بعض آزمائشیں اتنی زیادہ درد ناک ہوتی ہیں کہ درد ہی دوا بن جاتا ہے۔
 اسی طرح منفی درد بھی ہیں جو ہمارے معاشرے میں باکثرت پائے جاتے ہیں۔ان میں زیادہ تر وہ درد ہیں جو ایک دوسرے کو جان بوجھ کر دیے جاتے ہیں۔اس میں سب بڑی وجہ حسد ہے۔عدم برداشت ہے۔کسی کی ترقی کسی کی خوشیاں خشحالی برداشت نہ ہونا جیسے عوامل ہیں۔

ہر اہم موقعے پر درد اذیت دینے کا موقع جانے نہیں دیتے۔بعضں مرتبہ دیے جانے والے درد اتنے مہلک ہوتے ہیں وہ جان لیوا ثابت ہوتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں کئی لوگوں کی عادت ہوتی ہے ان کے پاس بیٹھ جائیں تو ایسے ایسے درد بیان کریں گے اپ دکھی نہ ھوتے ہوے بھی دکھی ہو جاتے ہیں۔ 
مندرجہ بالا وہ درد تھے جو حساسیت جذباتیت روحانیت پر تھے۔اب کچھ جسمانی درد کا زکر ہو جائے۔

بڑھتی عمر کے ساتھ جو درد بیماریوں کی صورت میں لاحق ہوتے ہیں۔ان میں سر فہرست دل کا درد گردے کا درد کمر درد جوروں کا درد وغیرہ شامل ہیں۔جن کے علاج کے لیے قوم کے مسیحا ڈاکٹروں کے پاس جانا پڑتا ہی۔ ہمارے مسیحا میں مرض کے علاج سے زیادہ پیسہ کمانے کا درد زیادہ ہے۔یہ کہا جائے کہ ان کے سینے میں دل نہیں پتھر ہے بیجا نہ ہو گا۔ معالج کے لیے درد دل کا ہونا ضروری ہے۔
 سماجی معاشی جسمانی یہ وہ درد ہیں جو وقت حالات عمر کے ساتھ بڑھتے ہیں۔ذیادہ تر وہ درد ہیں جو بلاوجہ اور خود ساختہ ہیں۔ان کو اپنی انا پرستی ختم کر کے دور کیا جا سکتا ہے۔ یہ سب درد قبر تک پہنچا کر آتے ہیں۔موت کا آنا خود ایک درد ناک عمل ہے۔موت بر حق ہے۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

dard is a social article, and listed in the articles section of the site. It was published on 09 October 2019 and is famous in social category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.