احتساب کے نام پر اپوزیشن کا ٹرائل

بشیر میمن کے انکشافات نے نیا پینڈورا باکس کھول دیا

بدھ 19 جنوری 2022

رحمت خان وردگ
تحریک انصاف کی حکومت انتخابی منشور میں کڑے احتساب کا نعرہ لے کر اقتدار میں آئی اور پوری قوم کڑے احتساب کے ایجنڈے پر یک زبان ہے۔جب ہم احتساب کا نام لیتے ہیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ تمام سرکاری عہدوں پر رہنے والے افراد کا بلا امتیاز کڑا اور غیر جانبدارانہ احتساب کیا جائے لیکن ان کے ٹرائل میں انصاف کے تقاضے ہر صورت پورے ہونے چاہئیں اور کسی بھی پہلو سے یہ تاثر نہیں جانا چاہئے کہ احتساب میں کسی قسم کی جانبداری کی جا رہی ہے ایسے ہی غیر جانبدارانہ احتساب کے لئے قوم نے تحریک انصاف کو منتخب کیا تھا۔

اقتدار میں آنے کے بعد تحریک انصاف نے یہی کہا کہ احتساب عدالتوں کے مقدمات ہمارے دور میں نہیں بنے بلکہ یہ سابقہ حکومتوں میں بننے والے کیسز ہیں جس کا ٹرائل اب ہمارے دور حکومت میں ہو رہا ہے یہ بات اس وقت کسی حد تک درست بھی تھی۔

(جاری ہے)

دنیا بھر میں یہ اصول ہے کہ جب تک کوئی شخص تحقیقات مکمل ہو کر مجرم ثابت نہ ہو جائے اس وقت تک گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاتی اور اگر کسی کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کر لیا جائے تو عدالتیں ناصرف انہیں باعزت بری کرتی ہیں بلکہ حکومت کو بھاری ہرجانے کی ادائیگی کا بھی حکم دیا جاتا ہے مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ برطانیہ میں طیارہ ہائی جیکنگ کے ایک مقدمے میں زلفی بخاری کے کسی عزیز کو اسی طرح بے گناہ ہونے کے باوجود گرفتار کیا گیا تھا اور جب ٹرائل ہو کر وہ بے گناہ ثابت ہوئے تو ناصرف باعزت رہائی ملی بلکہ انہیں ہرجانے کے طور پر بھاری رقم بھی ملی ہمارے ہاں ہمیشہ سے عجب احتساب چلتا آیا ہے کہ پہلے اپوزیشن لیڈرز کو چن چن کر گرفتار کیا جاتا ہے اور جب ان کی گرفتاری کی وجہ دریافت کی جاتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ ان کے خلاف تحقیقات کرنی ہیں حالانکہ اصول تو یہ ہونا چاہئے کہ تحقیقات پہلے ہوں اور مجرم ثابت ہونے پر گرفتاری عمل میں لائی جائے لیکن یہاں الگ اصول ہے اگر یہی اصول ہے تب بھی اسے تمام سیاستدانوں پر لاگو ہونا چاہئے لیکن یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ حزب اقتدار کے ایک رہنماء کی گرفتاری کے متعلق چیئرمین نیب نے سوال کے جواب میں کہا کہ اگر انہیں گرفتار کرتے ہیں تو خدشہ ہے کہ وہ ہارٹ اٹیک سے مر جائیں گے۔

اگر حزب اقتدار کے وہ رہنماء بیمار اور لاغر ہیں تو اپوزیشن کے تمام نامی گرامی سیاستدان کونسے جوان اور صحت مند ہیں؟۔
ایسے میں یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ سندھ میں مقیم سیاستدانوں کو پوچھ گچھ کے لئے اسلام آباد یا لاہور طلب کیا جاتا ہے انہیں گرفتار کرکے اسلام آباد یا لاہور میں قید رکھا جاتا ہے ان کا ٹرائل اسلام آباد اور لاہور کی عدالتوں میں کیا جاتا ہے ایسے میں آپ کیا تاثر دے رہے ہیں؟ اس تاثر سے تو ایک صوبے میں موجود آپ تمام تحقیقاتی‘عدالتی اور احتساب کے اداروں کی ساکھ کو روند رہے ہیں اور دوسری طرف ایک صوبے کی عوام کے مینڈیٹ کو تسلیم کرنے سے انکار کر رہے ہیں اس تمام تاثر کے متعلق اپوزیشن تو لازمی الزام تراشی کرتی ہے اور کئی کالم نگاروں نے بھی اس پر کھل کر لکھا ہے اس تاثر پر مہر تصدیق اس وقت ثبت ہو گئی ہے جب انتہائی ایمانداری سے اپنے سرکاری فرائض انجام دینے والے نہایت دیانتدار افسر سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے ایک بیان میں اصل حالات بیان کر دیئے۔

سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن بھی بہترین افسر رہے ہیں اور اب موجودہ ڈی جی ایف آئی اے ثناء اللہ عباسی بھی بہترین ساکھ کے حامل ہیں۔بشیر میمن نے برملا کہا کہ مجھ پر جسٹس فائز عیسی کے خلاف تحقیقات کے لئے اعلیٰ سطح سے دباؤ تھا جس پر میں نے اسے اختیارات سے تجاوز قرار دے کر مسترد کر دیا اسی طرح بشیر میمن نے کہا کہ مجھے اپوزیشن کے درجنوں نامور لیڈروں کے خلاف تحقیقات کے احکامات آتے رہے۔

بشیر میمن کے اخباری بیان سے یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ انہیں غلط اور جانبدارانہ احکامات نہ ماننے کی پاداش میں ریٹائرمنٹ کے بعد تنگ کیا جا رہا ہے اور ان سے غیر متعلقہ سوالات و طلبی کی جا رہی ہے۔انہوں نے حزب اقتدار کے احتساب کے نظام سے متعلق طرز عمل کو ناصرف جانبدارانہ ثابت کیا ہے بلکہ اس طرز عمل کو ملکی یگا نگت کے لئے بھی خطرناک قرار دیا ہے۔


بشیر میمن کے انکشافات کے بعد کم از کم اب تو احتساب کے نظام کو ایسا بنا دیں کہ جانبداری اور غیر ضروری تنگ کرنے کا تاثر بھی ختم ہو جائے اور تمام صوبوں میں موجود تحقیقات،احتساب اور عدالتی اداروں پر یکساں اعتماد کا اظہار ہو۔آپ احتساب کا نعرہ لے کر منتخب ہوئے ہیں اور احتساب کرنا آپ کا حق ہے۔آپ ایسا احتساب کریں کہ جس کے بعد کوئی بھی عام آدمی اسے ہر طرح سے شفاف اور غیر جانبدار قرار دے سکے۔

آپ پہلے تحقیقات کریں،مجرم ثابت ہونے پر گرفتاری عمل میں لائیں اور جس صوبے کا رہائشی سرکاری عہدیدار ہو اسے اپنی رہائش گاہ کے قریب ترین طلبی،قید اور ٹرائل سے گزاریں تو یہ تاثر زائل ہو جائے گا کہ آپ کسی کو جان بوجھ کر تنگ کر رہے ہیں۔ماضی میں بھی تو اسی طرح کا احتساب ہوتا رہا ہے جسے موجودہ حزب اقتدار خود تنقید کا نشانہ بناتی ہے لیکن تحمل سے اگر آپ اپنے دور میں تمام طریقہ کار اور بیانات کا جائزہ لیں تو یقین کریں کہ اس میں آپ کو خود نقائص اور جانبداری نظر آئے گی جس کی وجہ سے حکومت کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے اس معاملے میں تنقید کرنے کے بعد اگر یہ اپنی اصلاح کر لیں تو یہ تنقید ان کے لئے فائدہ مند ہے جس سے ان کی حکومت کی ساکھ بہتر ہو جائے گی،جانبداری سے انکار کرنے والے اب تک کے احتساب کی مکمل ناکامی کا بھی اعتراف کرنے کی جرات نہیں کر رہے اب تک کسی بڑے سیاستدان پر نہ تو جرم ثابت ہوا ہے اور نہ ہی انہیں کوئی قابل ذکر سزا ہو سکی ہے۔

آصف زرداری سمیت سندھ کے تمام سیاستدانوں اور سندھ کے افسران کے کیس سندھ میں ہی چلائے جائیں اور ان کے مقدمات جلد از جلد نمٹائے جائیں جب تک کوئی مجرم ثابت نہ ہو اس وقت تک گرفتاری نہیں ہونی چاہئے اور 18 ویں ترمیم پر مکمل عملدرآمد ہونا چاہئے۔صوبوں کو صوبائی خود مختاری دی جائے اور مرکزی حکومت اس پر پوری طرح عمل کرے اسی سے وفاق مضبوط ہو گا اور صوبے بھی ملکی ترقی کے لئے وفاق سے تعاون کریں گے۔صوبوں کے حقوق پر ڈاکہ نہیں ڈالنا چاہئے۔مشرقی پاکستان میں جس طرح نفرتیں پیدا کی گئیں اس کے نتیجے میں پاکستان دولخت ہوا اب سندھ میں غیر منصفانہ اقدامات نہ کئے جائیں تاکہ بھارت کو سازشوں کا موقع نہ ملے۔

ادارہ اردوپوائنٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

متعلقہ مضامین :

Ehtesaab Ke Naam Par Opposition Ka Trail is a national article, and listed in the articles section of the site. It was published on 19 January 2022 and is famous in national category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.