عیدالفطر تب اور اب

جہاں سے کام نکلتا دکھائی دیا وہاں رشتے جڑ گئے جن کے ساتھ کوئی کام نہ ہوا اس سے صدیوں کی دوری اختیار کر لی، عید آگئی، سب نے عید کی نماز پڑھی، چہروں پر مصنوعی ہنسی سجائے، دلوں میں بغض، کینہ اور نفرت چھپائے سب ایک دوسرے سے گلے مل رہے ہیں

 Waheed Ahmad وحید احمد ہفتہ جون

eid ul fitr tab or ab
رمضان المبارک کا آخری عشرہ اور اٹھائیسواں، انتیسواں روزہ،ہر کوئی افطاری کی تیاریوں میں مصروف، ہم نے اپنے پھوپھی زاد بھائی بہنوں کے ساتھ پورے گھر میں دھماچوکڑی مچائی ہوئی ہے، دادی سالن کو آخری دم دیتے ہوئے ساتھ ساتھ ہمیں ہاتھ میں پکڑی ہوئی پھوکنی سے ہش ہش کرتے ہوئے پیچھے ہٹا رہی ہیں "پتر آگ جل رہی ہے اوپر نا گر جانا،تھوڑا دور ہو کر کھیلو" دور بیٹھے ابا جان نے سب رنگ ڈائجسٹ پڑھتے ہوئے ڈائجسٹ کے اوپر سے ہی ہمیں غصیلی نظروں سے دیکھا، اور ہم ان نظروں سے سہم کر فوراََ صحن میں لگے شہتوت کے بڑے تنے کی اوٹ میں ہو گئے، دادا جان چولہے کے پاس بیٹھے اپنا حقہ تازہ کرنے کے لیے کوئلے اٹھا اٹھا کر چلم میں بھر رہے ہیں، پڑدادی ان کو ہدایات دے رہی ہیں" پتر کچے کوئلے نہ ڈال، دھواں کرتے ہیں"ایک کونے میں امی جان ہاتھ سے چلنے والی مدھانی سے لسی بلو رہی ہیں۔

(جاری ہے)


 دوسری طرف اپلوں کی آگ پر روٹیاں بن رہی ہیں ، دادی آواز دیتی ہیں پتر سارے آجاؤ، اور یہ افطاری کا سامان تمام گھروں میں دے آؤ،بڑی بڑی پلیٹوں میں نفاست کے ساتھ ایک طرف سالن، ایک طرف فروٹ اور ایک طرف پکوڑے سجے ہوئے، سب نے پلیٹیں پکڑ لی اور ایک ترتیب کے ساتھ چل پڑے، چھوٹی تو ساتھ والے گھر میں دے گی، بھائی تم اس سے آگے والے گھر میں اور میں محلے کے سب سے آخری گھر میں،دور والے گھروں میں افطار کا سامان پہنچانے والے کزنز میں پھر اپنے گھر تک ریس لگ جاتی۔

 دروازے پر جو نیم کا درخت ہے جو سب سے پہلے اسے ہاتھ لگائے گا جیتے گا۔گھر پہنچتے ہی اچانک پڑدادی کی آواز گونجی،ارے نگوڑوچاند دیکھو چل کروقت نکل جائے گا، ماہ رمضان میں یہی ایک آواز ہوتی تھی جس کا سب کوشدت سے انتظار ہوتا تھاکیونکہ یہی آواز عید آنے کی وعید ہوتی تھی، آواز کے سنتے ہی ہمارے اندر چھپے ہوئے ایتھلیٹ چیتے کی طرح برق رفتاری سے سیڑھیوں کی طرف بھاگتے، ہر کسی کی کوشش کہ سیڑھیوں کے دروازے میں داخل ہو کر اندر سے کنڈی لگا کر چھت پر چڑھ جائے تا کہ کوئی دوسرا چاند نہ دیکھ پائے، گھر میں بڑا ہونے کی وجہ سے میں یا کبھی کزن اس مقصد میں کامیاب ہوجاتے، لیکن پھردادا کی آواز پر بادل ناخواستہ دروازہ کھولنا ہی پڑتا، ساتھ ہی ابو جان، چچااور باقی ماندہ بچے جو نیچے رہ چکے ہوتے فاتحانہ نظروں سے اور منہ چڑاتے ہوئے اوپر چڑھ آتے اور سب مغرب کی سمت میں افق پر نظریں جما دیتے اور باریک بینی سے چاند دیکھنے کی کوشش کرنے لگ جاتے، اچانک ایک خوشی سے بھرپور چیخ سنائی دیتی ،وہ رہا اور سب کدھر کدھر کا شور مچاتے۔

 جس نے دیکھنے کا اذن دیا ہوتا وہ سب کو دکھانے لگ جاتا کہ وہ دیکھو آلوبخارے اور آم کے پیڑ کے درمیان میں، ہاں وہاں پہلے دن کا چاند کجھور کی پتلی شاخ کی کمان کی طرح اپنی کمزور روشنی بکھیرتانظر آتا اور سب خوشی خوشی نیچے اترتے، بچے بالے عید کی خوشی میں پھولے نا سماتے، رات ہوتے ہی گھر کا صحن سینکڑوں جگنوؤں کی روشنی سے جگمگا اٹھتااور ہم شیشے کی بوتلیں لے کر جگنو پکڑتے اور انکو بوتلوں میں بند کر لیتے اور قریب سے دیکھنے کی کوشش کرتے کہ اس بدصورت سے کیڑے میں یہ دل کش اور خوش رنگ روشنی کہاں سے آتی ہے؟
اگر چاند نظر نہ آتا تو سب نیچے اتر آتے اور رات نو بجے کے خبرنامے کا انتظار کرتے جس میں اس زمانے کی واحد اور ہردلعزیز اینکرعشرت فاطمہ سفید پروقار دوپٹہ اوڑھے اپنی مسحور کن آواز اور شستہ لہجے میں چاند نظر نہ آنے کا اعلان کرتی۔

پڑدادی جان ایک ایک رشتہ دار کا نام لے کر پوچھتیں کہ ان کو خط یا عید کارڈ لکھ کر بھیج دیا تھا،بچوں کو عیدی منی آرڈر کردی تھی؟ عید والے دن عید کی نماز کے بعد دادی کے ساتھ پورے محلے میں تمام گھروں میں جا کر ہمسائیوں سے عید ملنا ہمارا محبوب مشغلہ ہوتا تھا اور پھر جیسے دو دہائیاں پلک جھپکتے ہی گزر گئیں،چاند راتوں میں لکن چھپائی کھیلنا، پٹھو گرم، کوکلا چھپاکی، باندر کلہ اور شٹاپو جیسے کھیل صفحہ ہستی سے ندارد ہو گئے، ان کی جگہ رفتہ رفتہ ویڈیو گیم ، پھر کمپیوٹر اوراب سمارٹ فون نے لے لی، بزرگ اپنی شفقت و محبت سمیت سب ایک ایک کر کے راہ عدم سدھار گئے،رشتے ناطے دھیرے دھیرے ختم ہو گئے، محبت اور خلوص کی جگہ دکھاوا اور نمود ونمائش آگئی۔

 جہاں سے کام نکلتا دکھائی دیا وہاں رشتے جڑ گئے جن کے ساتھ کوئی کام نہ ہوا اس سے صدیوں کی دوری اختیار کر لی، عید آگئی، سب نے عید کی نماز پڑھی، چہروں پر مصنوعی ہنسی سجائے، دلوں میں بغض، کینہ اور نفرت چھپائے سب ایک دوسرے سے گلے مل رہے ہیں،کسی کو کوئی گلہ تو کسی کو کوئی دکھ، حاجی صاحب کی کوٹھی اتنی بڑی کیوں ہے، شیخ صاحب کا کاروبار اتنا وسیع کیوں ہے، بیگ صاحب کے بچے نے بورڈ ٹاپ کیسے کر لیا، اسی محلے میں رہنے والا منظور بڑھئی اور شامو لوہار بھی اسی مسجد میں نماز پڑھ کر ایک طرف کھڑے سب کو حسرت بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ ہم نے بھی روزے رکھے ہم بھی مسلمان ہیں پھر ہم سے کوئی عید کیوں نہیں مل رہا ، انہیں کیا پتا کہ ان دو دہائیوں نے رشتوں کو سماجی اثر و سوخ اور دولت و ثروت کے درجوں کے حساب سے مسلمان، عیسائی، یہودی اور ہندو دھرم میں تبدیل کردیا۔

سیاستدان ،منسٹر یا کوئی اہم عہدہ دار ہے تو مسلمان ۔۔۔۔زور سے تین دفعہ گلے لگ کر عید ملو،عام آدمی ہے تو ہندو سمجھو،اس سے عید ملنا تو درکنار، اس کی طرف دیکھنا بھی گناہ کبیرہ۔گھروں میں پہنچے ،میکانکی انداز میں ایک دوسرے کو عید مبارک کہا، تمام چھوٹے بڑے، لڑکے، لڑکیاں، مرد عورتیں اپنے ہاتھوں میں ہتھیلیوں سے بڑے سمارٹ فونز پر نظریں جمائے کسی نہ کسی کونے کھدرے میں دبکے ہوئے بیٹھے عید منا رہے ہیں اور کسی رشتہ دار، ہمسائے کی آمد انہیں ناگوار گزرتی ہے، جسے وہ سوشل میڈیا پر Busy ، Away یا Wait کا Status لگا کراورانکے آنے کی مصنوعی خوشی کا اظہار کر کے برداشت کرتے ہیں اور ہم صوفے پر بیٹھے خلا میں کہیں دورخالی نظروں سے تک رہے ہیں، آنکھوں میں چند برس پہلے گزری عیدیں یاد کررہے ہیں جب رشتے سچے اور وعدے پکے ہوتے تھے، ٹی وی کی سکرین پر نظریں جمائے عید ٹرانسمشن دیکھتے پتا ہی نہ چلا دو موٹے موٹے آنسو گالوں سے ہوتے ہوئے ٹھوڑی کے نیچے گم ہوگئے ، بچوں اور گھر کے مکینوں کو سمارٹ فون سے فرصت ہی کہاں تھی کہ تب کی عید اور اب کی عید میں فرق ڈھونڈ سکتے، عید مبارک! 

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

eid ul fitr tab or ab is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 08 June 2019 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.