ہرشخص دھندے میں لگا ہوا ہے !

ہماری یہ تواناقوم ہر مہینے ہی کسی نہ کسی دھندے میں مصروف رہتی ہے۔ڈھونڈ لی قوم نے فلاح کی راہ!۔ یہ جشن تو وہ جشن!۔یہ تہوار تو وہ تہوار !

رضی الدین سید منگل دسمبر

har shakhs dhande mein laga hwa hai!
زمانہ اس طور کا ہو چکا کہ ملک میں ہر شخص ”دھندے“ پر لگا ہوا دکھائی دیتا ہے۔”یہ دھندا ! یا وہ دھندا!“۔ بقراعید آتی ہے تو لگتا ہے جیسے قوم پر کوئی جنون ساسوار ہوگیا ہے۔لوگ پاگل ہوگئے ہیں۔ ہر شخص کے ہاتھوں میں گائے کی دم ہے جسے پکڑے پکڑے وہ گھوم رہا ، گھما رہا، اور بھگا رہاہے۔ ایک میلے کا سا سماں ہے۔جانوروں کو چمکارا اورنہلایاجارہاہے اور اس کے ساتھ تصویریں بنا ئی جارہی ہیں۔

گایوں کے علاوہ دکھائی دیتا ہے جیسے ملک میں اب کوئی اور کام ہی کسی کے پاس باقی نہیں رہ گیاہے۔ پھرکچھ دنوں کے بعد محرم کے ایام سایہ فگن ہوتے ہیں تو اب تمام قوم کا رخ قربانی سے ہٹ کر ایام ِ عاشورہ کی جانب مڑجاتا ہے۔ہر شخص نوحے اور سیاہ لباس میں مگن دکھائی دیتا ہے۔ اہلِ تشیّع بھی اور خیر سے اہلِ سنّت بھی!۔

(جاری ہے)

بسیں ہوں یا کاریں، ڈیک زورزور سے بج رہے ہیں،مرثئے سنے جارہے ہیں اور سنائے جارہے ہیں ۔

چھوٹے بچے ہیں تو انہوں نے بھی جگہ جگہ سبیلیں لگا رکھی ہیں ۔اور نوجوان ہیں تو وہ ہر گلی اور محلے میں پوری توانائی کے ساتھ حلیم کی دیگوں کی گھُٹا ئی کررہے ہیں۔بیشک وہ ِ عشا ء کی نماز نہ پڑھیں اورفجر کی نماز بھی چھوڑدیں۔ لیکن حلیم کی گھٹائی کبھی نہ چھوڑیں کہ اس سے گنا ہ سرزد ہوتا ہے !۔ نماز کے فرائض انہوں نے دوسروں کے لئے رکھ چھوڑ ے ہیں اور حلیم کی پکائی و تقسیم اپنے لئے مخصوص کرلی ہے!۔

نظر دوڑائیں تو لگتا ہے جیسے ساری قوم ہی ماتمِ حسین میں گم ہے ۔ مگر اب ایسا بھی کیا کہ جب یہ دن گذرگئے تو یاد ِحسین بھی ساتھ ہی رخصت ہوگئی!
لیکن ابھی یہ بارہ پندرہ دن یوں جوش و خروش اور گریہ و ماتم سے گزرتے ہی ہیں کہ کچھ دنوں بعد ربیع الاول کا مبارک چاند طلو ع ہوتا ہے ۔ قوم کے سامنے اب ایک بالکل نیا سماں جنم لیتا ہے۔ قربانی کی گایوں ،امام حسین رضی اللہ عنہ کی سبیلوں اور حلیم کی دیگوں کی جانب سے اس کا دھیان ہٹ کر اب جشن عید میلا دالنبی کی جانب پلٹ جاتا ہے ۔

ہر فرد اسی دھن میں ہمہ تن مصروف و مگن ہے کہ جشن ولادت ِ نبی ﷺ انتہائی دھوم دھام سے منالے ۔جلوس ، نعتیں ، پگڑیاں،اور جلسے ہوں۔ پھر توہرچار طرفہ سبز پرچموں کی بہار ہوتی، اور تعمیر کردہ چوبی خانہ ء کعبہ کے گر دطواف جاری رکھ کر حج کا ثواب گھر بیٹھے لوٹ لیا جاتا ہے۔ ایک جشن برپا ہے جس سے ہٹ کرقوم تب کسی اور کام کاسوچتی بھی نہیں ہے ۔ان ایام میں کلّہ پھاڑ مبلغین ،و تکفیر بازواعظین کی چاندی ہوجاتی ہے جوخود کو دولت و شہرت کے دریامیں نہلا رہے ہوتے ہیں۔

”میرے پاس تو بالکل ہی وقت نہیں۔ابھی ایک چینل والے کو بھی منع کردیا تھا۔لیکن اب آپ آئے ہیں تو انکار نہیں کیاجاسکتا“۔یو ں نذرانہ ء عقیدت کے لئے اپنے ریٹ خود ہی بڑھالئے جاتے ہیں! 
وہی نعتیں جنہیں لوگ ان دنوں ڈیک پر سن سن کر وجد میں آتے ہیں، انہی نعتوں کی جانب سے عام دنوں میں پیٹھ موڑ لیتے ہیں ! ۔ بس بیہودہ فلمی گانے ہی تب سب کوراس آتے ہیں۔

 
ابھی یہ ایام بھی بمشکل ختم ہوپاتے ہیں کہاایک نئی رات ” شب برا ت“ کے نام سے سامنے آجاتی ہے۔ قوم اب ایک بار پھرجاگ اٹھتی ہے اور توجہ اس نئے یوم کی طرف موڑ لیتی ہے۔ مصروف رہنے کے لئے اسے مزید چند ایام حاصل ہوجاتے ہیں۔ پٹاخوں اورفائرنگ کی دھواں دھار گونج، اور حلووں اور شربتوں کی فراوانی!۔جشن میں لوگوں کی جانیں اور عزت و احترام سب داؤ پر لگ جاتے ہیں۔

ایک تماشا سا لگا ہوتا ہے ۔دھماکوں کی آوازوں سے کان پھٹ جائیں تو پھٹ جائیں لیکن ثواب حاصل کرنے کا سلسہ بدستو ر جاری ر ہے ۔ رقم ہاتھ میں نہ ہو،لیکن حلوے اور شربتوں کی تقسیم لازمی ر ہے۔
ابھی اس دن کا سلسلہ بھی پوری طرح ختم نہیں ہو پاتا کہ بسنت کا موسم ڈیرہ جمالیتاہے۔ ہر طرف سے ”وہ کاٹا،وہ کاٹا“ کی صدائیں سامنے آنے لگتی ہیں۔ پتنگیں کٹنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے گلے بھی کٹنے لگتے ہیں،لیکن کسی کو کسی کی کیا پروا؟۔

کیونکہ جشن توبہرحال جشن ہے۔جو ہونا ہے ہوتا رہے۔ باقی تمام تہوار تو عمو ماََ مرَدوں کے ہوتے ہیں لیکن یہ تہوار خاص خواتین کے جوش وخروش کا ہوتا ہے۔ زرق برق و پرکشش لباس کے ساتھ نازک اندام خواتین چھتوں پر پہنچی ہوئی مردوں کے ساتھ خود بھی پتنگیں اڑانے میں مصرف ہو رہتی ہیں۔ فلمی اداکاراؤں کے لئے بھی یہ موسم سہانا ثابت ہوتاہے اور اپنی روایتی شوٹنگس چھوڑ کر وہ بھی محض بسنت میں گم ہونے لگ جاتی ہیں ۔

جنون و وحشت کے آگے ہرصدا، صدا بصحراا ثابت ہوتی ہے!
لیکن پتنگوں اور بسنتوں کے یہ ایام ابھی ختم بھی نہیں ہوپاتے کہ اچانک عشق و محبت پروان چڑھانے کا رومان پرور مہینہ سامنے آن کھڑا ہوتا ہے ۔فروری!۔ چلبلے اور دھماکہ خیزلوگ اسے”ویلین ٹائن ڈے “ کہہ کر پکارتے ہیں اور گھر بیٹھی تمام معصوم لڑکیوں کو ہنکارے دیتے ہیں کہ وہ کیوں خاموش بیٹھی ہیں ؟۔

نکلیں اور کسی بوائے فرینڈ کی کمر میں ہاتھ ڈال کر سرخ پھولوں کے ساتھ محبت کی ایک نئی داستان رقم کریں۔ 
فروری کے دنوں میں سرخ گلابوں کی بہار ہوتی ہے۔ نوجوان جوڑے دریا کے کنا رے اور ہوٹلوں کے اندر رومان بھری کہانیاں تحریر کررہے ہوتے اور ساتھ جینے مرنے کے عہد وپیمان کرتے دکھائی دیتے ہیں۔خواہ ساری کہانی ماں باپ کے علم میں ہویا نہ ہو! ۔

ویلینٹائین ڈے کا تو مقصد ہی انہوں نے ”ماں باپ سے فرارکا ڈے “رکھا ہے ۔
ایک اور دھندا قوم کے مصروف ہونے کا کرکٹ کے میچز کا بھی ہے۔ یہ ون ڈے والے مییچز بھی ہوسکتے ہیں اور پنج روزہ ٹیسٹس بھی! ۔ آپ کو لگے گا کہ ان دنوں میں پاکستانی قوم کے پاس اب کوئی کام ہی باقی نہیں رہ گیا ہے۔ اول کرکٹ اور آخر کرکٹ!۔ادھر کرکٹ اور ادھر کرکٹ!۔ ڈاکڑ ، وزیر، صدر، نائی ، بیرا، کاروباری،فلمی ستارے اور علما ،سب کی نظریں بس ایل سی ڈی ہی پر ہی ہوتی ہیں۔

ایک ٹکٹکی ہے جس سے نگاہ ہٹانا بھی گناہ کے زمرے میں داخل ہوتاہے ۔ ڈیک چل رہے ہیں ، بھنگڑے اور ہوجمالو کی تھا پ پر نوجوانوں کی ٹولی کمر لچکا رہی ہے، اور خواتین باورچی خانہ چھوڑ کر بس ”آوٹ، ، فور،چھکا باؤنڈری، کیچ “ کے نعرے لگا رہی ہیں۔
غرض کس کس دھندے کا ذکر کیا جائے ؟۔تعمیر کا تو کوئی ذکر ہی نہیں بس جشن اور دھمال ہی قوم کا نصیب رہ گئے ہیں۔

ہماری یہ تواناقوم ہر مہینے ہی کسی نہ کسی دھندے میں مصروف رہتی ہے۔ڈھونڈ لی قوم نے فلاح کی راہ!۔ یہ جشن تو وہ جشن!۔یہ تہوار تو وہ تہوار !۔جوش و خروش کا انداز وہی کہ 
 خاموش تو نہ بیٹھے گا وحشت میں جنوں میرا 
یااپنا گریبا ں چاک، یا دامنِ یزداں چاک !
اپنا گریباں چاک کرنے کے ساتھ ستاھ قوم کا گریباں بھی زبردستی چاک کردیتے ہیں۔

ان کے سامنے کوئی منزل بھی نہیں ہے اور نہ ہی خو کوئی راستہ معلوم کرنا چاہتی ہے۔مگر انہیں کون بتائے کہ جشنوں سے نہیں،قومیں عمل سے بنتی ہیں؟ ۔
قومون کو اپنی سربلندی کے لئے بس عمل درکار ہوتا ہے ،محنت درکار ہوتی ہے۔اسی طرح جیسے کسی شاعر نے کہا تھاکہ # خون ِ دل صرف ِچمن ہو تو چمن مہکے گا
 یہ فقط نام کا جشنِ بہاراں کیا ہے۔؟ 
نام کے جشن بہاراں منانے سے کیا حاصل؟۔

افسوس کہ ہماری قوم وہ بن کے رہ گئی ہے جس پر ہوش کبھی غالب ہی نہیں آتا۔ سدا مدہوش رہتی ہے ۔دانش سے عاری مگر جوش کی ماری! 
رہ گئے وہ ،جو اوپر حاکمان ِ وقت ہیں، چھوٹے بھی اور بڑے بھی، صدر بھی اوروزیر اعظم بھی،وہ بھی بس اپنے اپنے دھندوں ہی میں لگے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ کمیشن،کک بیکس، پانامہ لیکس،ڈان لیکس،، لوٹ مار، تعریفوں کے پل، خاندانی اجارہ داری ، پارٹی صدارت اور بہت کچھ !۔کچھ کہی اوبہت کچھ ان کہی۔ دھندے اور دھندے!۔ مذ ہبی جشن ختم تو دیگرجشنوں کے دھندے شروع! ۔ غرض قوم کے منصوبہ سازوں نے ،بیرونی اور اندرونی دونوں نے ، اس قوم کو ہمہ تن دھندوں میں منہمک کردیا ہے۔ 

Your Thoughts and Comments

har shakhs dhande mein laga hwa hai! is a national article, and listed in the articles section of the site. It was published on 03 December 2019 and is famous in national category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.