نہال ہاشمی بیچ منجھدھار چھوڑے جانے پر تبدیل

ایک جانب مسلم لیگ نے نہال ہاشمی کو اجنبی قرار دیدیا تو دوسری جانب دیگر جماعتیں بھی ان پر برس رہی ہیں، وکلاء نے بھی نہال ہاشمی کا ساتھ دینے اور وکالت کرنے سے انکار کر دیا ہے

منگل جون

Nehal Hashmi Beech Manjdhar Chore Jane Per Tabdeel
شہزاد چغتائی :
مالی سال برائے 2017-18ء کیلئے سندھ کی تاریخ کے سب سے بڑے بجٹ میں کراچی کے شہری ترقیاتی منصوبوں اور فنڈز کے فراہمی سے محروم رہے ،سارے وسائل اندرون سندھ جھونک دئیے گئے ہیں۔ سندھ کے بجٹ کے اعلان کے ساتھ ہی ایم کیو ایم اور حکومت سندھ کے درمیان کشمکش بڑھ گئی اور فاصلے مزید وسیع ہو گئے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے یہ اعتراف تو کیا کہ کراچی کو خصوصی فنڈز ملنا چاہئیں لیکن خصوصی پیکج دینے سے گریز کیا گیا۔

پہلے وفاق کراچی کو خصوصی فنڈز دیتا تھا لیکن این ایف سی ایوارڈ آنے کے بعد وفاق نے ہاتھ کھینچ لیا جس کے بعد یہ بحث شروع ہو گئی کہ کراچی کے لوگ کہاں جائیں؟ وفاق اور صوبہ دونوں عروس الباد پر مہربانی کرنے سے گریزاں ہیں، شہر ترقی کو ترس رہا ہے، کراچی کی بلدیات پائی پائی کی محتاج ہیں۔

(جاری ہے)

سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ سندھ کو ریونیو کراچی سے ملتا ہے کراچی کے سارے لوکل ٹیکسوں پر بھی صوبے نے قبضہ کر لیا ہے۔

پیپلز پارٹی کی حکومت نے 9 سال میں کراچی کے تمام اداروں اور وسائل پر قبضہ کر لیا اور ان کے اختیارات سلب کر لئے گئے۔ جو کام بلدیات کے تھے وہ اب صوبائی حکومت کر رہی ہے‘ سڑکیں بھی بنا رہی ہے اور کچرا بھی اٹھا رہی ہے۔ کراچی اور حیدر آباد کے کئی سو نمائندے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت اندرون سندھ کے بلدیاتی اداروں کو بھی اختیارات دینے کیلئے تیار نہیں۔

پورے سندھ میں ایک ہزار سے زائد یونین کونسلیں اور یونین کمیٹیاں ہیں مالی سال برائے 2017-18ء کے بجٹ میں انہیں فنڈز دینے سے گریز کیا گیا۔ پورے صوبے کی ترقیاتی اسکیمیں صوبائی حکمرانوں کے کنٹرول میں دے دی گئی ہیں، بلدیاتی ادارے محض ملازمین کو تنخواہیں دینے والے دفاتر میں تبدیل ہو گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے رواں مالی سال کیلئے خوبصورت و خوشنما اعداد و شمار پیش کر دئیے ایک جانب وہ یہ رونا روتے ہیں کہ وفاق صوبے کو فنڈز نہیں دیتا اور سندھ کے کئی سو ارب روپے دبا رکھے ہیں ۔

دوسری جانب انہوں نے ایک ہزار 43 ارب روپے کا بجٹ پیش کر دیا جس پر ان سے سوال کی جا سکتا ہے کہ جب وفاق سندھ کا حصہ نہیں دیتا تو ایک ہزار 43 ارب روپے کہاں سے آئیں گے؟ وزیراعلیٰ سندھ کو بجٹ پیش کرتے وقت گزشتہ مالی سال کے 835 ارب روپے کے میزانیہ کا جواب دینا چاہئے کہ یہ 835 ارب کہاں خرچ ہوئے۔ پیپلز پارٹی کو گزشتہ 9 سالوں کا بھی حساب دینا چاہئے۔

اس دوران پیپلز پارٹی نے سندھ میں 7 سے 8 ہزار ارب روپے خرچ کئے لیکن سندھ کی حالت دیکھ کر ذہن میں یہ سوال گردش کرتا ہے کہ یہ 7 سے 8 ہزار ارب روپے زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا۔ کراچی کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں‘ گلیوں‘ محلوں میں بکھرے ساڑھے 4 کروڑ ٹن کوڑے کو چھوڑئیے، اندرون سندھ کے 23 اضلاع کا حال افریقی ملکوں سے بھی برا ہے۔ گزشتہ 9 سال میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے اندرون سندھ ایک ماڈل سڑک‘ ایک سول اسپتال نہیں بنایا۔

تعلیم اور صحت کیلئے بجٹ میں اضافے کے دعوے کئے گئے لیکن یہ رقم صرف تنخواہوں پر خرچ ہو گی اور یہ تنخواہ ان سوا 2 لاکھ اساتذہ کو ملے گی جنہوں نے پیپلز پارٹی سے ملازمتیں خریدیں۔ سندھ کے عوام کو ایک ہزار 43 ارب روپے کے بجٹ سے کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا لیکن اشرافیہ سیاستدانوں، بیوروکریسی، ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی کے وارے نیارے ہو جائیں گے۔

اس طرح سندھ کا بجٹ آصف علی رزداری ، مراد علی شاہ، ارکان اسمبلی، بیوروکریسی اور اشرافیہ کا بجٹ ہے۔ 9 سال میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے ووٹرز کو کچھ نہیں دیا، ان کی حالت تبدیل نہیں ہو سکی، سانحہ سہون کے بعد زخمیوں کے علاج کیلئے پورے ضلع میں ایک اسپتال نہیں تھا ایمبولینس سروس دستیاب نہیں تھی۔ تجزیہ نگار سوال کرتے ہیں کہ سندھ کا بجٹ آخر کہاں خرچ ہوتا ہے؟
دوسری جانب سابق صدر آصف علی زرداری خود تو آرام سے بیرون ملک چلے گئے لیکن ان کی دیکھا دیکھی مہم جوئی کرنے والے سابق صوبائی وزیر شرجیل میمن اگست تک پھنس گئے۔

عدالتوں نے شرجیل میمن اور ڈاکٹر عاصم حسین دونوں کو ملک سے باہر جانے سے روک دیا ہے۔ سابق صدر کی وطن واپسی کے بعد خیال کیا جا رہا تھا کہ ڈاکٹر عاصم کو ریلیف مل جائے گا لیکن برف نہیں پگھل سکی حالانکہ اس دوران پیپلز پارٹی نے مسلسل یہ تاثر دیا کہ اسٹیبلشمنٹ سے ان کی ڈیل ہو گئی ہے اور آئندہ حکومت پیپلز پارٹی بنائے گی۔ آصف علی زرداری کی بیرون ملک روانگی کے بعد سارا بوجھ بلاول بھٹو کے ناتواں کاندھوں پر آن پڑا ہے۔

پیپلز پارٹی کی سیاسی پسپائی پر جیالے سیخ پا ہیں لیکن اس بات پر بضد ہیں کہ سندھ میں انتقام کی سیاست اسی طرح جاری رہی تو عوام ان کی جماعت کو ووٹ بھی دیتے رہیں گے۔علاوہ ازیں کراچی میں مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر نہال ہاشمی کے خلاف مقدمے کے اندراج کے بعد نئی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔پولیس حکام نہال ہاشمی کے خلاف مقدمے کے اندراج سے گریزاں تھے جب ایک چینل نے مقدمے کے اندراج کے بارے میں خبر بریک کی تو ایس پی عبداللہ فیصل اور ایس ایچ او خوشنود جاوید نے تردید کر دی اور کہاکہ پہلے دفعات کا تعین اور تقریر کا مواد حاصل کریں گے۔

پھر اچانک ان کے خلاف عدلیہ اور جے آئی ٹی کی دھمکی دینے پر سرکاری مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔ کراچی پولیس کی جانب سے گرفتاری کی تیاریاں مکمل کرنے کے بعد نہال ہاشمی نے استعفے کے بارے میں یو ٹرن لے لیا اور گرفتاری سے بچنے کیلئے سینیٹ کو خیرباد کہنے سے معذرت کر لی۔ وزیراعظم محمد نوازشریف نے سابق سینیٹر کو ہدایت کی تھی کہ وہ سینیٹ کی نشست چھوڑ دیں لیکن مسلم لیگ کی جانب سے بیچ منجھدھار میں چھوڑنے کے بعد ان کو یہ سخت فیصلہ کرنا پڑا۔

ان کے ساتھ سیاسی‘ قانونی اور سماجی بائیکاٹ کی صورتحال پیدا ہو گئی۔ ایک جانب مسلم لیگ نے نہال ہاشمی کو اجنبی قرار دیدیا تو دوسری جانب دیگر جماعتیں بھی ان پر برس رہی ہیں، وکلاء نے بھی نہال ہاشمی کا ساتھ دینے اور وکالت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ میں نہال ہاشمی کو لائرز گیٹ سے نہیں گزرنے دیا گیا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ نہال ہاشمی کی مشکلات بڑھ رہی ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے اندر اب یہ بات تو طے ہو گئی ہے کہ پارٹی کے اندر اگر کوئی بحران کا شکار ہو گا تو اس کی کشتی ڈبونے میں اس کے ساتھی پیش پیش ہوں گے کسی دشمن کی ضرورت نہیں ہو گی نہال ہاشمی کے ساتھ یہی ہوا ہے کہ وہ جب پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو کوئی مسلم لیگی ایسا نہیں جو ان سے نفرت کا اظہار نہ کر رہا ہو۔ ادھر حسین نواز کی جے آئی ٹی کے سامے پیشی کے موقع پر جاری تصویر نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی ہے۔

تصویر کو دیکھ کر خواتین آبدیدہ ہو گئیں جبکہ کراچی کے مسلم لیگی بھی غضبناک ہو گئے۔ حسین نواز کی تصویر وائرل کرانے کا الزام تحریک انصاف پر عائد کیا گیا لیکن حسین نواز کی تصویر زحمت کے روپ میں مسلم لیگ کیلئے رحمت ثابت ہو گئی‘ پورے ملک میں نوازشریف کی مقبولیت اور مظلومیت کے گراف میں اضافہ ہوا اور اس تصویر سے مسلم لیگ (ن) کو جس قدر فائدہ ہوا اس کا مسلم لیگ (ن) کو اندازہ نہیں تھا۔ پوری دنیا میں یہ پیغام تیزی سے چلا گیا کہ پاکستان میں وزیراعظم کے صاحبزادے کا احتساب ہو رہا ہے اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت انصاف کے تقاضے پورے کر رہی ہے۔

متعلقہ مضامین :

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

Nehal Hashmi Beech Manjdhar Chore Jane Per Tabdeel is a political article, and listed in the articles section of the site. It was published on 13 June 2017 and is famous in political category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.