قائداعظم رحمتہ اللہ علیہ کا جمہوری پاکستان اور ہمارے حکمران!

سیاستدانوں کا چور دروازے سے مسند اقتدار پر قبضے کا خواب․․․․․ انگریزوں کے وفاداروں کی فوج ظفر موج نے وطن عزیز کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا

بدھ جنوری

quaid azam  Ka jamhori  pakistan or Hamary  Hukmrann
امیر محمد خان:
1947ء میں قائداعظم محمد علی جناح نے واضح طور پر کہا تھا کہ اس ملک میں جمہوریت کو تمام نظاموں سے زیادہ اولیت دی جائے گی، اس قوم اور سرزمین کی بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارا قائد رحمتہ اللہ علیہ اپنے اس پودے کو جمہوری نظام کے درخت تلے پھلتا پھولتا نہ دیکھ سکا اور اللہ تعالیٰ نے دنیا کی اس عظیم شخصیت جس نے کسی جنگ وجدل کے بغیر صرف اپنی قابلیت اور حکمت عملی سے پاکستان جیسی عظیم مملکت کے قیام کو ممکن بنایا، ہندو بنئے کو قائداعظم نے ہر مذاکراتی ٹیبل پر اپنی دانشمندی سے شکست سے نوازا، اس میں صرف ہندو بنیا نہیں بلکہ برصغیر کی سرزمین پر ناجائز قابض انگریز بھی قائداعظم کی دانش کے سامنے ایک لفظ بولنے اور کسی بحث ومباحثے پر پڑنے کو تیار نہیں تھا ۔

14 اگست کو بالآخر عظیم مملکت پاکستان کا ظہور ہوا مگر جاتے جاتے انگریز اپنی شیطانیت سے باز نہ رہا اوربرصغیر کو اس طرح تقسیم کردیا کہ کشمیر کا مسئلہ ہی رہا اورآج تک ہے ۔ قائد اعظم کے بعد کی قیادت اگر چاہتی تو قائد کے اصولوں اور ہمت کو اپنے لئے مشتعل راہ بناتے ہوئے کشمیر بھی لے سکتی تھی مگر جہاں کشمیر کا مسئلہ حل نہ ہوسکا وہیں برصغیر کی تقسیم میں کچھ لوگ ایسے بھی پاکستان کے حصے میں آئے جو اپنی وفاداریوں کے عوض بے تحاشہ جائیداادوں کے مالک بن گئے، ان کی وفاداریاں پاکستان یا کسی زمین کیلئے نہیں بلکہ انگریزوں کی انسان دشمن کاروائیوں کو عملی جامع پہنانے میں صرف ہوئیں، اپنے ہی لوگوں کا قتل عام اور ان کے گھروں کی مسمار ی کرنا یہ انگریزوں کے نزدیک اہم ترین وفاداری تھی، انگریزچلا گیا ، ہندو بنئے سے پیچھا چھوٹ گیا مگر یہ انگریز کے وفاداروں کی فوج ظفر موج پاکستان کے طول عرض پر آباد ہوگئی جنہیں حد نگاہ زمینیں انعام میں ملیں، وہی خاندان قائد کے اس ملک جس کی آزادی کیلئے قائد کی جدوجہد اور ہزاروں معصوموں نے شہادت کا جام پیا اور اس ملک پر انگریز کے وفادار قابض ہوگئے جن کے نزدیک جمہوریت کس چڑیا کا نام ہے؟ یا انہی کی آل اولاد یں جو آج تک پاکستان پر کسی نہ کسی طرح قابض ہیں، ان کے لئے جمہوریت ہو یا نہ ہو مگر چونکہ جمہوریت دنیا میں اس وقت معروف طرز عمل ہے اس کا دعوی اور نام ضرور لینا ہے۔

سیاست دانوں نے ہمیں سکھایا ہے کہ ہم سندھی ،پنجابی ، بلوچی، اور پٹھان ہیں، ”مولوی“ بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے انہوں نے سکھایا ہے کہ ہم بریلوی ، شیعہ، سنی ، وہابی اور دیو بندی ہیں جس گھر میں ہم پید ا ہوئے ہیں وہاں سکھایا گیا کہ ہم آرائیں،جٹ ملک، مغل ، چوہدری ، سردار ہیں جبکہ قائد اعظم اور اکابرین نے ہمیں سکھایا تھا کہ ہم ”پاکستانی “ ہیں لیکن ہم یہ بات بھول گئے یا ہمیں بھلادی گئی جس سے ہم اس ہندو کے ایجنڈے کے قریب جارہے ہیں جس نے یہ لکھا تھا کہ یہ اپنی آزادی سے تنگ آکر واپس ہمارے پاس ہی آئیں گے(خدانخواستہ)ان کے ایجنٹ ملک میں بیٹھ کر ”امن کی آشا“ ہمارے ثقافت ایک ہے“ کی باتیں کرتے ہیں ، جمہوریت سے دور رہنے کی ایک بڑی وجہ بدقسمتی سے چور راستے سے اقتدار حاصل کرنے کے خواہشمندوں نے پاکستان کی پیشہ ور فوج جس کے لئے قائد نے کہا تھا کہ ہم پالیسی دیں گے آپ اس پر عمل کریں،سیاست میں عمل دخل نہ کریں، آج پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ قائداعظم کے بعد موجودہ فوجی قیادت سے یہ جملہ سننے کو ملا کہ”آپ پالیسی بنائیں ہم اس پر عمل کریں گے“ اس کی وجہ فوجی قیادت کا اقتدار کیلئے کسی ہوس کا نہ ہونا جبکہ چور دروازے سے اقتدار کی خواہش رکھنے والے سیاست دان ہمیشہ یہ ہی چاہتے رہے کہ فوج کو کسی طرح سیاست میں عمل دخل کرادیا جائے چونکہ جب سربراہ سیاست کا شوق رکھتا ہوگا تو اس طرح کے ’بونے“ لوگوں کی ضرورت پڑتی ہے۔

ہماری مختصر تاریخ میں فوج نے اقتدار سنبھالا اکثر کی وجہ سے سیاست دانوں کی نالایقی اور ”بونوں“ کا چور دروازے سے مسند اقتدار پر قابض ہونا تھا، سکندر مرزا ، ایوب خان، یحیٰ خان، ضیاالحق اور پرویز مشرف ان معاملات کا شکار رہے، لہٰذا یہی وجہ ہے کہ جمہوریت کبھی پروان نہ چڑھ سکی جب سے پاکستان دہشت گردی کی لپیٹ میں آیا ہے تب سے نہایت ایمانداری اورجانقشانی سے افواج پاکستان دہشت گردی کے اس ناسور کو ملک سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے دن رات قربانیاں دینے میں مصروف لیکن گزشتہ 3 برس سے اقتدار حاصل کرنے کے لئے بعض عناصر جلد بازی میں ہیں اور وہ عوام میں یہ تاثر چھوڑرہے ہیں کہ سیاسی قیادت نا اہل ہے مگر پاک فوج کے سربراہوں نے ایسی کسی خواہش کی تکمیل نہیں ہونے دی۔

آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے تو یہ تاثر ختم کرنے کیلئے سینٹ میں جاکر بریفنگ بھی دے دی، جس میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ اب گیند سیاست دانوں کی کورٹ میں ہے کہ ” آپ پالیسی بنائیں، ہم عمل کریں گے“ ایسا ہی حکم نامہ قائد ہے جنہوں نے آزادی کے بعد افواج پاکستان کو دیا تھا ، آرمی چیف کے دورہٴ سینٹ کے بعد سڑکوں پر شور شرابا، ان کی سینٹ آمد اور بات چیت سے پاکستانی سیاست میں بہار آنے کے مترادف ہے۔

سیاست دانوں کی بد زبانی بند ہوگئی ہے، سیاست دانوں کی اہلیت کا اندازہ اس سے بھی لگایاسکتا ہے کہ ”ان کمیرہ“ اجلاس کی خبریں بھی باہر دے رہے ہیں، اب بہتر یہی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں سنجیدگی سے انتخابات کی تیار کریں اور عوام کو مزید کنفیوژ نہ کریں۔ مسلم لیگ ن کی طرف سے شہباز شریف وزیراعظم بننے کی تیاری میں ہیں، دیگر سیاستدان بھی بدکلامی کے بجائے سنجیدگی سے عوام میں اپنا پروگرام پیش کریں، ہمارے پہلے سے ہی بے شمار مسائل ہیں اس لئے خدا تعالیٰ کا خو کرتے ہوئے قائداعظم کے اس پاکستان کو مزید زخمی نہ کریں۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

quaid azam Ka jamhori pakistan or Hamary Hukmrann is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 10 January 2018 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.