سانحہ 8 اکتوبر2005۔۔۔جب پوری قوم ایک نظر آئی۔۔۔۔تحریر:شعیب احمد ہاشمی

8 اکتوبر 2005 ء کو8 بج کر 50 منٹ پر آنے والے ہولناک زلزلے کو پاکستان کی تاریخ کا بد ترین زلزلہ کہیں تو غلط نا ہوگا۔ ریکٹر سکیل پر 7.6 کی شدت سے آئے زلزلے نے علاقے کا نقشہ بدل کر رکھ دیا

پیر اکتوبر

saneha 8 october 2005. .. jab poori qaum aik nazar aayi
آزاد کشمیر اور شمالی علاقہ جات میںآ نے والے ہولناک زلزلے کو آج 14برس بیت چکے ہیں۔یہ قیامت خیز سانحہ بلاشبہ پوری قوم کے لئے ایک آزمائش کی گھڑی اور کڑاامتحان تھا۔ لیکن اس موقع پر اتحاد ملت کی جو مثال دیکھنے کو ملی اس کی نظیر نہیں ملتی۔تمام تر اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پوری قوم اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کے لئے یکجا نظر آئی۔جہاں پاک فوج اور حکومتی مشینری حرکت میں آئی وہیں کچھ ایسے ادارے بھی ہیں جنھوں نے بھی زلزلہ زدگان کی بھر پور مدد کرکے خدمات کی ایک نئی تاریخ رقم کی۔

ایسا ہی ایک نمایاں نام الخدمت فاوٴنڈیشن پاکستان ہے۔الخدمت نے 2005 ء کے زلزلے میں ریسکیو،ریلیف اور ری ہیبلیٹیشن تمام مراحل میں خود کو پاکستان کے سب سے بڑے فلاحی ادارے کے طور پر منوایا۔

(جاری ہے)


8 اکتوبر 2005 ء کو8 بج کر 50 منٹ پر آنے والے ہولناک زلزلے کو پاکستان کی تاریخ کا بد ترین زلزلہ کہیں تو غلط نا ہوگا۔ ریکٹر سکیل پر 7.6 کی شدت سے آئے زلزلے نے علاقے کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔

پاکستان کی جنت نظیر وادی آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا کے علاقے مظفر آباد، باغ، راولاکوٹ ، نیلم ، بالاکوٹ، مانسہرہ ،کوہستان، شانگلہ، بٹ گرام اور ایبٹ آباد سمیت مقبوضہ کشمیر، افغانستان ، تاجکستان اور مغربی چین کے حصے بری طرح متاثر ہوئے ۔خصوصاََ مظفر آباد ، باغ اور بالاکوٹ کسی جنگ زدہ علاقے کا منظر پیش کررہے تھے ۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 87 ہزار 350 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 1 لاکھ 38ہزارافراد شدید زخمی ہوئے لیکن غیر سرکار ی اداروں کے اندازے کے مطابق ہلاک افراد کی تعداد1لاکھ سے بھی زیادہ ہے۔

بھاری لینڈ سلائیڈنگ کے باعث جہاں سینکڑوں دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے وہیں زلزلے کے باعث 17 ہزار سکولوں،1 ہزار ہسپتالوں اور مراکز صحت سمیت مجموعی طور پر 7 لاکھ 80 ہزار عمارتیں زمین بوس ہو گئیں۔انفراسٹرکچر مکمل طور پر تباہ ،مواصلاتی نظام درہم برہم ،پٹرول اور ڈیزل کے ذخائر ختم اوراشیائے خورونوش سمیت جان بچانے والی ادویات کی قلت ہو گئی ۔

کئی پل ٹوٹ گئے اورکئی کلومیٹر سڑکیں تباہ ہونے کے باعث کئی علاقوں سے رابطہ مکمل طور پرمنقطع ہو گیا۔ لوگوں کے کم و بیش ڈھائی لاکھ قیمتی جانور بھی زلزلے کی نظر ہو گئے ۔ اس طرح مجموعی طور پر 35 لاکھ افراد متاثر ہوئے جو شدید سردی میں کھلے آسمان تلے شب و روز گزارنے پر مجبور تھے۔
ابتدائی مرحلے میں الخدمت کی مقامی ٹیموں نے اپنی مدد آپ کے تحت گرے ہوئے مکانات اور عمارتوں کے ملبے سے زخمیوں کو نکالنے کا کام شروع کیا ۔

بعد ازاں اطلاع ملتے ہی پشاور اور راولپنڈی سمیت دیگر شہروں سے امدادی ٹیموں کے پہنچنے کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔الخدمت اور حکومتی اپیل کے بعد کراچی سے خیبر تک پوری قوم زلزلہ زدگان کی مددکو میدانِ عمل میں نکل آئی۔یہ رمضان المبارک کی ہی برکت تھی جو اتنی بڑی تباہی کے باوجود قوم نے اپنے متاثرہ بھائیوں کو امدادی سامان پہنچانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔

الخدمت فاؤنڈیشن کے تحت تمام بڑے چھوٹے شہروں میں کولیکشن سینٹر قائم کئے گئے جہاں رقوم اور امدادی سامان اکٹھا کرکے زلزلہ زدگان کے لئے بھجوایا جاتا۔
تمام بڑے چھوٹے شہروں سے سامان جمع ہونے کے بعد الخدمت کے راولپنڈی میں قائم بیس کیمپ میں پہنچنا شروع ہو گیا جس کے بعد اُسے آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا کے متاثرہ علاقوں میں بھجوایا جاتا۔

الخدمت فاؤنڈیشن کے تحت متاثرہ علاقوں میں 55 ریلیف کیمپ اور 30 خیمہ بستیاں قائم کی گئیں جہاں متاثرین کو ہر ممکن مدد فراہم کی جاتی رہی۔متاثرین کی مکمل بحالی تک سر ڈھانپنے اور عارضی رہائش کے لئے متاثرہ علاقوں میں 50 ہزار 175خیمے ،40 ہزار 700 ترپال اور23ہزار265 پلاسٹک شیٹ اِس کے علاوہ تقسیم کئے گئے ۔چونکہ سردی کے موسم کا بالکل آغاز تھا اور پہاڑ ی علاقوں میں موسم شدید تھا لہذا اِسی ضرورت کے پیش نظر 7 لاکھ 5 ہزار کمبل، 10 ہزار 200 سلیپنگ بیگ اور15 ہزار چادریں تقسیم کی گئیں۔

متاثرہ علاقوں میں اجزائے خوردونوش کی قلت کے باعث خوراک پہنچانے کے لئے بڑا ریلیف آپریشن کیا گیا جس کے تحت متاثرین میں 40 ہزار خشک راشن پیک، 780 ٹن آٹا، 270 ٹن چاول اور چینی کے 25 ہزار500 پیکٹ تقسیم کئے گئے۔رمضان کی پہلی تاریخ کو زلزلہ آیا اور اُس کے بعد عید الفطر متاثرین کی پہلی عید تھی جس پر ایک طرف اپنوں کے بچھڑنے کا غم تو دوسری طرف عید پر اپنی کم مائیگی کا احساس۔

الخدمت فاؤنڈیشن نے عید کے موقع پر خواتین و حضرات کے لئے15 ہزار عید گفٹس سمیت 2 لاکھ 91 ہزار 300 گرم کپڑوں کے جوڑے تقسیم کئے گئے۔اِسی طرح عیدالاضحی پر 20 ہزار خاندانوں میں قربانی کا گوشت تقسیم کئے گئے۔
 زلزلے میں ہسپتال اور مراکز صحت مکمل طور پر تباہ ہو گئے تھے اور مقامی طور پر زخمیوں کو طبی امداد مہیا کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔

الخدمت نے زلزلے کے فوراََ بعد پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کی مدد سے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف اور 25 ایمبولینس پر مشتمل امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں روانہ کی گئیں۔ جہاں مجموعی طور پر 14 فیلڈ ہسپتال قائم کئے گئے ۔اِس فیلڈ ہسپتالوں میں 476ڈاکٹرز اور 1 ہزار 800 پیرا میڈیکل سٹاف نے متاثرہ علاقوں میں خدمات سر انجام دیں۔ جہاں 480 میجر آپریشن اور 32 ہزار 870 معمولی آپریشن کئے گئے اور صرف زلزلہ زدہ علاقوں میں میڈیکل ریلیف پر 20 کروڑ روپے کی رقم خرچ ہوئی۔

الخدمت اور پیما کی دعوت پر نہ صرف ملک بلکہ بیرون ملک سے بھی ڈاکٹرز کی ٹیموں نے متاثرہ علاقوں میں خدمات سر انجام دیں۔ 
 زلزلے سے ایک بڑی تباہی سکولوں کی عمارتوں کا زمین بوس ہونا تھا جس کے باعث بچوں کی بڑی تعداد میں اموات ہوئی۔ چونکہ حالات نارمل ہونے میں وقت تھا اور خدشہ تھا کہ متاثرہ علاقوں میں بچوں کا تعلیمی سال ضائع نہ ہو جائے ۔

لہذاالخدمت نے متاثرہ علاقوں میں 18خیمہ سکول قائم کئے جہاں 4 ہزار بچوں کے لئے ریگولر کلاسز کا اہتمام کیا گیا۔ جبکہ 55 ہزار بچوں میں سکول یونیفارم اور 27 ہزار بچوں میں سکول بیگ تقسیم کئے گئے۔ خواتین کو ہنر مند بنانے کے لئے ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز بھی قائم کئے گئے۔ 
 ہمارے ہاں کسی بھی نا گہانی آفت کی صورت میں فلاحی ادارے صرف ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں تک محدود رہتے ہیں۔

متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو اور متاثرین کی بحالی ایک مشکل اور صبر آزما مرحلہ ہوتا ہے ۔ الخدمت نے ریسکیو اور ریلیف آپریشن کے فوراََ بعد ری ہیبلی ٹیشن کے کام کا آغازکیا ۔متاثرین کی دوبارہ آبادکاری کے لئے جاری کام میں بڑے پیمانے پر عمارتی لکڑی کا استعمال بھی ہونا تھا ،جہاں حسب ِ ضرور ت لکڑ ی کی چرائی اور کٹائی کے لئے مطلوبہ سامان (آرا مشین وغیرہ ) کی عدم دستیابی کی وجہ سے تعمیری عمل کو جاری رکھنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا،اس ضرورت کے پیشِ نظر ہنگامی بنیادوں پر ”آرامشین پراجیکٹ “کا آغاز کیا گیااور 65مقامات پر آرامشینیں لگائی گئیں ۔

محض عارضی ضرورت کے تحت لگایا گیا یہ پراجیکٹ بعد ازاں روزگار پراجیکٹ میں تبدیل ہو گیا۔
اسی طرح سائبان پراجیکٹ کے زیرِاہتمام زلزلے سے متاثرہ علاقے کے طول و عرض میں بے گھر ہو جانے والے خاندانوں کو 12X12فٹ پر مشتمل نالی دار چادر (G.Iشیٹ ) کی چھت سے آراستہ ،ایک کمرے کے سولہ ہزار پانچ سو (16,500) مکانات تعمیر کرکے فراہم کئے گئے ،جہاں انہوں نے بھرپور عزم کے ساتھ نئی زندگی کا آغاز کیا۔

مزید تعمیر ِنو کے جاری کام میں الخدمت کے زیرِاہتمام تقریباََ دو لاکھ G.Iشیٹس (نالی دار چادر برائے چھت )بلاک ،سریا اور سیمنٹ وغیرہ تقسیم کیا گیا۔اس تعاون کے نتیجے میں بہت سے متاثرہ خاندانوں کو فائدہ پہنچا ہے اور انہوں نے اس میٹریل سے اپنے تباہ شدہ مکانوں کو ازسرِنو تعمیر کیا ۔زلزلہ زدہ علاقے میں تعمیراتی سامان بالخصوص بلاک (اینٹوں ) کی فراہمی ایک مسئلہ کی صورت میں سامنے آئی ۔

چنانچہ الخدمت نے تعمیر ِنو کے لئے پائیدار بلاکس کی فراہمی کو پیش نظر رکھتے ہوئے دس مختلف مقامات پر بلاک مشین کا انتظام کیا ،جس کے نتیجے میں نہ صرف الخدمت کے جاری پراجیکٹس میں تیزی پیدا ہوئی بلکہ دیگر امدادی اداروں اور متاثرین کو بھی سستے اور مضبوط بلاکس کی فراہمی ممکن ہو سکی ۔ یہ پراجیکٹ بھی بعد میں روزگار پراجیکٹ میں تبدیل ہو گیا ۔

الخدمت کے پراجیکٹس میں سے ایک اہم پراجیکٹ ”ماڈل ہاؤس پراجیکٹ “ہے ۔جس کے تحت زلزلے سے متاثرہ علاقے میں مختلف مقامات پر ایک ہزار چھ سو چھتیس ڈھائی مرلے پر مشتمل مکمل مکانات تعمیر کئے گئے ۔دو کمروں ،برآمدے ،کچن اور باتھ روم پر مشتمل ان ماڈل ہاؤسز میں سے چار مختلف مقامات پر کنکریٹ (RCC)سے بھی تعمیر کئے گئے ہیں ۔زلزلے کے نتیجے میں جزوی اورکلی طور پر متاثرہ 850 مساجد کی تعمیر ومرمت کاکام انجام دیا گیا ۔

تعمیر و مرمت کے اس کام پر حسب ِ ضرورت ایک لاکھ سے پندرہ لاکھ تک لاگت آئی ۔الحمداللہ اب ان مساجد و مدارس میں ادائیگی نماز و تعلیم ِقرآن کا سلسلہ ایک بار پھر بحال ہو گیا ۔
زلزلے نے جہاں نظام زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا وہیں متاثرہ علاقوں کے مکین پانی جیسی بنیادی ضرور ت تک سے محروم ہوگئے۔اس صورتحال میں الخدمت نے فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں سروے کیا اور تین سو مختلف علاقوں میں حسب ِضرورت واٹر سپلائی کی تین مختلف اسکیمیں،کنوؤں کی کھدائی،ہینڈ پمپزکی تنصیب اورپائپس کے ذریعے چشموں سے پانی کی فراہمی شروع کی گئی ۔

اس کے علاوہ دو مختلف علاقو ں ،ضلع بٹگرام اور ضلع کوہستان میں بجلی کی سپلائی کے لئے ہائیڈرو پاروپلانٹس بھی نصب کیے گئے ،جس کے نتیجے میں تقریباََدو سو گھرانے اس سہولت سے مستفید ہورہے ہیں ۔اس کے علاوہ ایک مقام پر بڑی پن چکی کی تنصیب کی گئی ہے جس سے 14گھرانوں کا روزگا ر وابستہ ہے ۔
2005 کا زلزلہ پوری قوم کے لئے اور خاص طور پر حکومتی ادارو ں کے لئے ایک امتحان تھا۔

قوم اِس امتحان پر پورا اتری ۔ فلاحی اداروں نے بھی جس حد تک ممکن تھا زلزلہ زدگان کی خدمت کی۔لیکن دیکھا جائے تو حکومتی سطح پر اس حوالے سے کوئی اقدامات دیکھنے کو نظر نہیں آئے۔آج بھی زلزلہ متاثرہ علاقے کا دورہ کیا جائے تو ان شہروں میں قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کثیر المنزلہ عمارات تعمیر ہوئی ہیں جبکہ حکومت کو اس علاقے میں عمارتوں کی تعمیرات کے حوالے سے سخت قوائد و ضوابط بناکر ان پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنانا چاہیئے تھا۔

14سال گزرنے کے بعد بھی فراہمی و نکاسی آب کا مناسب نظام نہیں بنایا جاسکا۔ طلبا اور اساتذہ ہیں لیکن سکولوں میں بنیادی سہولیات موجود نہیں ہیں۔ کچھ بڑے ہسپتالوں کے علاوہ کسی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لئے ضروری سہولیات کا فقدان ہے ۔یہ حقیقت ہیے کہ ہم نے بہت سا وقت گنوا دیا ہے لیکن اب بھی درست سمت قدم اٹھانے کا موقع موجود ہے۔
تاریخی اعتبار سے ہمالیہ میں سو سال کے اندر بڑا زلزلہ آیا ہے۔

جموں میں 1905 میں زلزلہ آیا تھا اور مظفرآباد 2005 میں تباہ ہوا۔ سری نگر میں سو سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے مگر بڑا زلزلہ نہیں آیا۔ عالمی ماہرین جو زلزلے کی پیشن گوئی کر رہے ہیں، وہ تاریخ کے تناظر میں کر رہے ہیں، چونکہ اس خطے میں ایسا ہمیشہ ہوتا آرہا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ 1977 سے پہلے کوئی پتھر ریزہ ریزہ نہیں تھا اور چٹانیں ہی چٹانیں تھیں، پھر بھی چہلہ کے مقام پر خشک سلائیڈ آئی جو کئی دن چلتی رہی اور نیلم دریا بند ہو گیا تھا، جسے آرمی کے جوانوں نے بحال کیا تھا۔

اب تو مظفرآباد کے گرد و نواح کے پہاڑ بجری بن چکے ہیں۔یہ بجری نالوں کے ذریعہ شہر میں آرہی ہے کسی بھی زلزلے یا لینڈ سلائیڈنگ کے باعث یہ ہنستا بستا شہر اور سو کلومیٹر کی پٹی جس میں لاکھوں لوگ بستے ہیں، ایک بار پھر تباہی کی دہلیز پر پہنچ چکا ہے۔افسوس کی بات ہے کہ آزاد کشمیر اور مظفرآباد میں تعلیم یافتہ لوگوں کی بڑی تعداد مقیم ہے مگر کسی کو اس بات کی فکر نہیں کہ وہ جغرافیائی طور پر کس قدر خطرناک مقام پر رہائش پذیر ہیں۔

2005 کا زلزلہ ایک واحد واقعہ نہیں تھا، بلکہ ایسا ماضی میں بار بار ہوتا رہا ہے، اور اب کی بار مزید شدت سے ہونے کا امکان ہے۔اگر ہمارے حکام عالمی اداروں اور سائنسدانوں کی واضح نشاندہی کے باوجود آنکھیں نہیں کھولیں گے تو خدانخواستہ اس کا نتیجہ ہزاروں لوگوں کی آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند ہونے کی صورت میں نکل سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

saneha 8 october 2005. .. jab poori qaum aik nazar aayi is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 07 October 2019 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.