یو م مئی محنت کشوں کا عالمی دن

اللہ کا دوست آج بھی استحصال کا شکار ہے پاکستان کے مزدوروں کو ایک نمایاں مقام حاصل ہے اور ان کی صلاحیتوں کا پوری دنیا اعتراف کرتی ہے۔ یہ محنت کش پاکستان کی تعمیر وترقی کیلئے دن رات کوشاں ہیں

پیر اپریل

youm e May mehnat kashoo ka aalmi din
شیخ محمد انور
یکم مئی دنیا بھر کے مزدوروں اور محنت کشوں کا دن ہے اور اسے عالمی سطح پر انتہائی جوش و خروش کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ اک دن شکاگو کے ان مزدوروں کی با قاعدہ یاد منائی جاتی ہے جنہوں نے 1886ء میں اپنے حقوق کی جدوجہد میں اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا تھا اور دنیا بھر کے مزدوروں کو یہ درس دیا تھا کہ انہیں سرمایہ داری کے نظام میں طبقاتی حقوق کے حصول کیلئے قدم قدم پر اتحاد اور ایثار کیلئے کمر بستے رہنا چاہیے۔

پاکستان میں بھی یہ دن بڑے عزم اور وقار کے ساتھ منایا جاتا ہے اور ملک بھر کے مز دور تنظیمیں اس موقع پر اپنے اس عزم کا اعادہ کرتی ہیں کہ وہ اپنے جائز حقوق کے تحفظ اور منصفانہ نظا م معیشت کی تعمیر کیلئے اپنی تاریخی جدوجہدر جاری رکھیں گی آج الحمدللہ مزدور طبقہ دنیا کے ہر ملک میں ایک موٴثر طاقت اور آواز بن چکا ہے ۔

(جاری ہے)

صنعتی ترقی کے عمل نے دنیا بھر میں مزدور تحریک کو مضبوط اور فعال بنادیا ہے۔

مزدوروں نے قومی آزادی کی تحریکوں میں بڑاا سرگرم اور قابل فخر کردار ادا کیا۔ ہمارے اپنے وطن میں بھی مزدوروں نے اپنے کسان بھائیوں اور غریب عوام کے ساتھ مل کر ہمیشہ جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد میں قابل فخر کردار ادا کیا۔ دنیا بھر کے مزدور یکم مئی کے دن اپنا بین الا قوای تہواریوم مئی مناتے ہیں۔ اس دن شکا گو کے شہید مزدوروں کو اپنی جانیں قربان کرنے اور اپنے خون کا نذرانہ پیش کرنے پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور ان کی جلائی ہوئی مشعل کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں بلندرکھتے ہوئے آگے بڑھتے رہنے کے عزم کی تجدید کرتے ہیں۔

دنیا جانتی ہے کہ مزدورطبقہ ازل سے استحصال و جبر کی چیرہ دستیوں کا شکار ہے اور وسائل سے محرومی کے باعث اپنی محنت سے پیدا کی ہوئی دولت میں سے اپنے جائزحق سے محروم رہتا ہے۔ مزدور کا بیٹا آج بھی روٹی کو ترستا ہے۔ سرمایہ دار مزدوروں کا خونچوڑنا اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں اور اس سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ سر جھکائے دن رات محنت مشقت کر کے اس کی دولت میں اضافہ کرتے رہیں۔

ان ناانصافیوں کے خلافی زور دار آواز 1886ء میں شکاگو کے شہیدوں نے بلند کی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مزدور کو انسان سمجھا جائے اور اسے جانوروں کی طرح کام کرنے پر مجبور نہ کیاجائے۔ انہوں نے منظم ہو کر روزانہ آٹھ گئے اوقات کار کے تعین اور مزدوروں پر آجروں کے غیر انسانی تشدد بند کروانے کیلئے صدا ئے احتجاج بلند کی اور اپنے یہ مطالبات ارباب اختیار تک پہنچانے کیلئے سڑکوں پر امن مظاہروں اور جلسے جلوں کا آغاز کیا۔

یہ بات سرمایہ داروں کیلئے ناقابل برداشت تھی کہ وہ مزدور جن کی اہمیت ان کے نزدیک کسی جانور سے زیادہ نہیں ان کے سامنے آ کر اپنے حقوق کی بات کریں۔ اس لئے انہوں نے مزدوروں کی اس آواز کو ہمیشہ کیلئے خاموش کرنے کیلئے گولیوں سے اُن کے سینے چھلنی کر دئے ۔ظلم و ستم کی اس انتہاء کے باوجود مزدوروں کوحوصلے پست ہونے کی بجائے اور بلند ہو تے گئے انہوں نے اپنے گریبان چاک کر کے اپنے شہید ساتھیوں کے بہتے ہوئے خون سے تر کر لیے اور سرخ پرچم بنالیا۔

یہ سرخ پرچم رہتی دنیا تک مزدور جدوجہدکی علامت بن گیا اور جب تک دنیا قائم ہے اس جھنڈے کی سرخی مزدوروں کی شہادت کی یاد دلاتی رہے گی۔ آخر کار مظلوموں کا خون رنگ لایا اور ظالم ظلم کرتے کرتے عاجز اور بے بس ہو گئے۔ مظلوم و مجبور محنت کش ستم سہتے سہتے کامیابی سے ہمکنار ہو گئے۔ میں یہ لکھنے میں خود کو حق بجانب سمجھتا ہوں کے پاکستان میں پہلی بار وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹوکے دور حکومت میں 1972ء میں یکم مئی کو مزدوروں کے جلسوں میں ذوالفقار علی بھٹو شامل ہوئے۔

اس طرح یوم مئی کا دائرہ وسیع ہوکر پاکستان میں عوامی حیثیت اختیار کر گیا۔ ذوالفقارعلی بھٹو 1972 میں پہلی بار محنت کشوں کیلئے لیبر پالیسی کا اعلان کیا۔
1۔ٹریڈ یونین کو سرگرمیوں میں حصہ لینے کی قانونی اجازت کو تحفظ دیا۔
2۔ ملازمین کو برطرف اورچھانیٹوں کوقانونامنع قرار دیا۔
3۔ سرکاری اورنجی اداروں میں یونین سازی کی اجازت دی

کم اازکم اجرت کاتعین کیا گیا۔ یک مئی کو ملک بھرمیں عام تعطیل کا اعلان کیا۔
5۔ جلدی اور فوری انصاف کیلئے لیبر کوروٹس اور قومی صنعتی تعلقات کمیشن تشکیل دیا۔
6۔ مزدوروں کے علاج و معالجہ کیلئے سوشل سکیورٹی سکیم اولڈاایج بینیفیٹ کا اجراء کیا۔
 7۔ مزدوروں کیلئے رہائشی کالونیاں بنائیں اورمفت پلاٹ تقسیم کیے گئے۔
8۔صنعتی اداروں میں 8 گھنٹے اوقات کار مقرر کیے، اوور ٹائم کی دو گنا ادائیگی کو قانونی طور پر لازمی قراردیا۔


چہرا دیکھ کر اپنی تمام تر خواہشات اپنے دل میں ہی چھپالیتا ہے۔ ایک وقت ایسا بھی تھاجب گھرانے کا ایک فرد کماتا تھا اور سب کھانے والے ہوتے تھے مگر آج کے دور میں سب گھر والے دونوں ہاتھوں سے صبح وشام بھی مزدوری کر یں بت بھی بڑی مشکل سے روٹی میسر آتی ہے۔ ایک وقت تھا کہ روٹی سستی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ نان کے ساتھ دکاند ارتھوڑا سا سالن مفت دے دیا کرتا تھامگرآج کے اس جدید دور میں انسان روٹی کیلئے ایک دوسرے کا خون کررہا ہے۔

میں ایک دن مقامی تھانے میں کسی کام کے سلسلے میں گیا تو وہاں میں نے دیکھا کہ ایک بچے کسی کی جیب کاٹتے ہوئے پکڑا گیا تھا۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ بچہ اس سے پہلے بھی دوبار چوری کے کیس میں پکڑا گیا ہے اورچھ ما ہ کی قید بھی کاٹ چکا ہے۔ ا س سب کی بنیادی وجہ صرف یہی ہے کہ اس نے اپنا پیٹ بھرنا ہے۔ میں نے پوچھا کہ اس بچے کو اپنے ہتھکڑی کیوں لگائی ہوئی ہے تو جواب ملا کہ یہ پہلے بھی پکڑا جا چکا ہے اور عادی مجرم ہے۔

میں بہت پریشان ہوا اور میں نے اس بچے سے پوچھا کہ تم نے یہ کیوں کیا؟ تو اس نے کہا کہ میری ماں بیمار تھی باپ مر چکا ہے گھر کا سب سے بڑا ہوں اوربیر روزگار ہوں، گھر کا گزارا نہیں ہوتا تو میں کیا کروں۔ یہ سن کر میرا جسم لرزا ٹھااور مجھے حضرت عمر بن خطاب کی وہ بات یاد آ گئی کہ اگر دریائے دجلہ کے کنارے پر کتا پیاسا مر گیا تو عمرتو اس کا جواب دہ ہوگا۔

نہ جانے آج کتنے معصوم بچیس دن رات ہوٹلوں، موٹرسائیکلوں،گاڑیوں، سائیکلوں اور تنوروں پر کام کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ جن ہاتھوں میں قلم اور کتاب ہونی چاہیے آج وہ ہاتھ موبل آئل، گریس اور پٹرول سے لتھڑے ہوتے ہیں پھر بھی ہم اللہ سے مدد کی توقع رکھتے ہیں۔ پاکستان کے مزدور اپنے وطن عزیز سے بے پناہ محبت رکھتے ہیں، ان کے دلوں میں ایمان اور اتحاد کی شمع روشن ہے۔

ان کے خون میں محنت اور جدوجہد کا جذبہ شامل ہے۔ درحقیقت محنت ہی ان کا ایمان اور ان کی عظمت ہے۔ دنیا بھر میں پاکستان کے مزدوروں کو ایک نمایاں مقام حاصل ہے اور ان کی صلاحیتوں کا پوری دنیا اعتراف کرتی ہے۔ یہ محنت کش پاکستان کی تعمیر وترقی کیلئے دن رات کوشاں ہیں۔ آج ہی نہیں بلکہ قیام پاکستان کے وقت بھی ان محنت کشوں نے ایک نئی اسلای مملکت کے قیام کیلئے بے شمار خدمات انجام دیں اور قیام پاکستان کے بعدبھی ہمارے محنت کش اسی جذبے کے تحت سرگرم عمل ہیں۔

پاکستان ایک ترقی پذیرملک ہے اور محنت کش یڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس ملک کے پیداواری عمل کو تیز کرنے کیلئے مزدوروں کا احترام بے حد ضروری ہے۔ پاکستان کی موجودہ حکومت ان کی عظمت اور محنت کا اعتراف کرتی ہے،بیشتر اقدامات اور مسائل حل بھی ہورہے ہیں لیکن آج بھی مزدور کی تنخواہ بہت کم ہے۔مہنگائی نے مزدور کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔یوم مئی پر پاکستان کے محنت کش اس عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو پاکستان کی تعمیر وترقی کیلئے صرف کریں گے اور پرامن رہ کر اپنے مطالبات کے حصول کی کوشش کریں گے۔

کارخانوں، ورکشاپوں اور صنعتی اداروں کی رونق اور قوم کی خوشحالی کا راز در حقیقت مزدوروں کی محنت میں مضمر ہے۔ حضور پرنورﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ قیامت کے روز تین آدمی ایسے ہوں گے جن سے میں جھگڑا کروں گا، ایک وہ شخص جس نے میرا نام لے کر معاہدہ کیا اور پھر اس عہد کو توڑ دیا۔ (یعنی بد عہدی کی)۔ دوسراوہ شخص جس نے کسی شریف اورآزارآدمی کو اغواء کر کے اسے فروخت کیا اور اس کی قیمت کھائی اور تیسرا وہ شخص جس نے کسی مزدور کومزدوری پر محنت کیلئے مقرر کیا۔

پھر اس سے پورا کام لیا اور کام لینے کے بعد اس کو اس کی مزدوری ادانہ کی ، یا اس کی محنت اور مشقت کے برابر اس کی جرت ادانہ کی۔۔
 میرے نزدیک یوم مئی منانے کا سلسلہ اسلام کے طلوع کے بہت بعد شروع ہوا، اسلامی احکام کے مطابق صرف ایک دن کی مزدوروں کا عالمی یوم نہیں منایا جاتا بلکہ یہ احکام آجر اور اجیر کے مابین اشتراک عمل محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کی غرض سے ہمہ وقت ہرسطح پر نافذالعمل ہیں۔

ہمارے نبی حضرت محمدﷺ نے خود بکریاں چرائیں، لوگوں کا سامان ?اُٹھایا۔جنگ خندق کی کھدائی میں حصہ لیا۔ حتیٰ کہ مسلمانوں کے عظیم سپہ سالار ہونے کے باوجود کپڑوں میں پیوند لگائے، یہاں تک کہ بھوک کے موقع پر اپنے پیٹ پر پتھر باندھے۔ آج کے دن ہمیں یہ عہد کرنا ہے کہ ملک اور مزدور کے درمیان ہم آہنگی زندگی کے ہر شعبے میں اسلامی اصولوں کے مطابق بنانی ہے۔ لہذا مزدور بھائیوں کو چاہیے کہ اپنے حقوق کی بات کیلئے کی یونین لیڈر کی بجائے اپنے نبی مکرمﷺ کی ذات بابرکات سے رہنمائی حاصل کریں۔ اسلای اصولوں کو خود بھی اپنائیں اور اپنے معاشرے کو بھی اسلامی بنانے کی کوشش کریں اسی میں ہمارے مسائل کاحل ہے اور اس ہماری دنیا اور آخرت کی کامیاب کا انحصار ہے۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

youm e May mehnat kashoo ka aalmi din is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 30 April 2018 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.