کیا یہ کھلا تضاد نہیں

بدھ مارچ

Engr.Iftikhar Chaudhry

انجینئر افتخار چودھری

آغا اعزاز جعفری کو کون نہیں جانتا صرف وزن میں ہی نہیں بھاری علم و شعور میں بھی بڑی وزن دار شخصیت ہے پنڈی کی شان ہے معدودے چند لوگوں میں ہے جو خان کے حقیقی جاں نثار ہیں آپا یاسمین فاروقی اور علیمہ بی بی جے ساتھ مل کر بڑے کام کیے ہیں۔پی ٹی آئی ہنڈی کا روح رواں۔جعفری نے اس کالم پر تبصرے کے لیے کہا ہے۔کالم پڑھا اور پہلے ہنسا اور پھر دل مغموم سا ہوا سوچا کہ دنیا اس وقت زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے جیو اور جنگ سے جڑے لوگ کس قدر غلاظت کے ڈھیر میں دھنسے ہوئے ہیں ان کم فہم لوگوں کو علم نہیں کہ اس وقت قوم سکتے کی حالت میں ہے لوگ مر رہے ہیں کرونا نے پوری دنیا میں کہرام مچا دیا ہے۔

وہ ہزارے وال کہتے ہیں ’لوک لوکاں نال بوری کندھاں نال‘۔آغااعزازجعفری صاحب آپ نے درست جانا۔

(جاری ہے)

اس شخص نے اعتراف شکست کیا ہے کہ جیو اور جنگ عمران خان کا کچھ نہیں بگاڑ سکے چلو یہ پتہ پھینکتے ہیں۔یہ بد طینت بندہ بڑی دور سے گھما کے لایا ہے اور آخر میں شرلی چھوڑ گیا ہے۔اس کا مربی اندر ہے یہ اسے راضی کر رہا ہے۔

 دوسرے معنوں میں کہہ رہا ہے دیکھا میں نے کیا فتنہ کھڑا کیا ہے۔

اس کا خیال ہے کہ چلو اگر عمران خان کے حامیوں کو بے وقوف بناتا ہوں اور نہیں تو وہ چڑھ دوڑیں گے مولانا پر تو میرا کام ہو جائے گا پی ٹی آئی کے مخالفین کہیں گے کیا بونڈی تجویز ہے اور ساتھ ہی مولانا کے خلاف فائیر شروع ہو جائیں گے۔کہاں گئی جمہوری سوچ؟کیا یہ کھلا تضاد نہیں کہ ایک جانب اس مسند کے لیے کسی نے بائیس سال جد وجہد کی ہے اور قربانیوں کی داستاں رقم کی ہے۔

کہنا تھا نہ بھٹو کو کہ حکومت چھوڑ کر دے دیں سید مودودی کو مولانا مفتی محمود کو۔بھاری بھر کم بھائی جان یہ لد کچی کے پکی نہیں ہے یا مٹھو گول گرم۔یہ شہادت گاہ الفت ہے جناب۔مولانا کا تجربہ ان کی جد و جہد ان کا علم شعور جس شعبے میں ہے وہ اپنی جگہ درجہ ء کمال کو چھو گئے ہیں انہوں نے گلیمر کی دنیا کے لوگوں کو تبلیغ کے راستے میں لایا ہے بہت سے کھلنڈرے نوجوان ادا کارائیں گلو کار ان کے کہنے پر سیدھے راستے پر آئے۔

یہاں وہی بات ہے مقابلہ کیلے کا کیلے سے ہوتا ہے اور سیب کا سیب سے۔
اس شاطر کو علم نہیں کہ اس کے محسن میر شکیل حامد میر سلیم صافی انصار عباسی ہارون الرشید نصرت عاصمہ شیرازی طلعت حسین فہد حسین افتخار احمد سیفما کے ٹٹو اس مرد درویش جس کا نام عمران خان ہے اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکے تو چلو میں دانہ پھینکتا ہوں۔جیو اور جنگ در اصل جنگ ہار چکے ہیں آج کسی کو یاد بھی نہیں کہ میر شکیل اندر ہے یا باہر ہے اس کا کوئی پرسان حال نہیں چند جلوسیاں نکلیں اور پھر ٹائیں ٹائیں فش ہمیں اس سے کیا نیب جانے عدالت جانے یہ کون سا طرم خان یے جس کے کیے ہم۔

پریشان ہیں۔
سچ پوچھیں میں اور آپ دونوں اپنے لیڈر کو جانتے ہیں وہ دل کا سادہ اور بھولا بھالا ہے اس کی مدد اللہ میاں کر رہا ہے نہ تو اسے ہیر پھیر آتا ہے نہ چالبازی وہ اپنے دل کی بات سب کے سامنے کر دیتا ہے۔یہ وقت نہیں ورنہ میں آپ کو تجربات سے آگاہ کرتا کہ عمران خان کس قدر معصوم ہے میں نے ایک وقت گزارا ہے اس میں بہت سی غلطیاں ہوں گی اسے بڑی چیزوں کا علم نہیں لیکن ایک بات کہہ دوں میرا رب اس کی سب غلطیوں کمیوں کوتاہیوں ہر پردہ ڈال رہا ہے اس لیے کہ اس کی نیت صاف ہے ۔

چلیں ایک واقعہ سناتا ہوں جن دنوں نبی پاک کے خاکے نکالے گئے انہی دنوں عمران خان نے بنی گالہ میں پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے اس موضوع کو نہیں چھیڑا بلکہ این اے 122 کے حلقے میں کی گئی انتحابی دھاندلیوں جا تذکرہ کیا سوال و جواب ہوئے لیکن کسی نے عمران خان سے اس موضوع پر سوال نہیں کیا اس پریس کانفرنس میں جہانگیر ترین شریں مزاری اور بہت سے لیڈران موجود تھے۔

جیسے ہی پریس کانفرنس ختم کوئی میں نے ٹکا خان ثانی سے کہا کہ یار آپ لوگ بھی عجیب ہیں جو سوال کرنے والا ہے وہ کرتے نہیں ہیں اور جو ادھر ادھر کی بات ہے وہ پوچھ لیتے ہیں۔میں نے یہ بھی کہا کہ آپ نے نبی پاک کے خاکوں کی بات کرنی تھی تا کہ عمران خان اس کا جواب دے دیتے۔ہم دونوں نے مشورہ کیا اور فیصلہ ہوا کہ ٹکا خان عمران خان کو روکے گا جو دیگر لیڈران کے ساتھ اوپر رہائشی ایریا میں جا رہے تھے۔

مجھے 2014 کے حج میں پاؤں کی ہڈی میں شدید تکلیف تھی میں کچھ دیر بعد چڑھائی پر پہنچا اور ان سے کہا جناب چیئرمین آپ۔مدینہ منورہ جا رہے ہیں کیا میرے آقا آپ سے یہ پوچھیں گے کہ این اے 122 میں کتنی دھاندلی ہوئی بلکہ سوال یہ ہو گا کہ میرے خاکے تھے اور آپ خاموش تھے۔آپ کو اس موضوع پر بات کرنی چاہیے تھے خان نے تھوڑی دیر سوچا اور کہنے لگے افتخار صحافی تو اٹھ گئے ہیں میں نے کہا نہیں خان صاحب آپ تشریف رکھیں اور نبی پاک کے خاکوں کے موضوع پر بات کریں اور عمران خان واپس گئے اور ڈیڑھ گھنٹہ اس پر بات کی۔

یہ اللہ کا کرم ہے اور توشہء آ خرت بھی۔ یہ ہے عمران خان کل جب صحافی ان پر جھپٹ رہے تھے تو مجھے نواز شریف بھی یاد آ گئے اور جنرل اسد درانی بھی۔اللہ پاک کبھی اس ملک پر مارشل لاء نہ لائے میں نے مجلس والدین کی ایک تقریب میں آٹھ کر جنرل اسد درانی سے سوال کیا تھا اور بس یہ پوچھا تھا کہ یہ ساتھ مسعود جاوید کو کیوں بٹھایا یے تو اس نے کہا بیٹھ جاؤ جس پر میں نے جدہ قونصلیٹ سے بائییکاٹ کیا تھا جس کے نتیجے میں مجھے 19 مارچ 2002 کو دفتر سے اٹھا کر جدہ ترحیل میں بندھ کر دیا تھا۔

یہ جمہوریت ہی ہے جو برداشت کرتی ہے۔نواز شریف کا جواب بھی آپ کے سامنے ہے عمران خان کا بھی اور ایک ریٹائیرڈ جرنیل کا بھی جو سعودی عرب میں سفیر تھا۔اس میں عمران خان نمبر لے گیا۔صحافی عمران خان اگرچہ سچ کہہ رہا تھا کہ ہم اپنے نوجوان ڈاکٹروں اور دیگر سٹاف کو پہلے حفاظت دیں اور پھر ان سے توقع کریں لیکن رؤف کلاسرا،مالک،ارشاد بھٹی Paid contentپڑھ رہے تھے کرونا کے حوالے سے عمران جو اینکر پرسن ہیں ان کا سوال بڑا معتبر تھا لیکن باقی جو میر شکیل کی رٹ لگا رہے تھے اس کا کیا تک بنتا ہے۔

محمد مالک گریبان پکڑنے کی بجائے اپنے گریبان میں جھانکیں کہ کیا ان کا طرز تکلم درست تھا سچ کہا عمران خان نے کہ باہر کے ملکوں میں اخبار اور چینل بند ہو جاتے۔یہ جو منہ پھاڑے کے باتیں کرتے ہیں۔ان جیسے کئی ہگیاڑ عمران کی زندگی میں آئے اور آ کر چلے گے۔وہ لوگوں کو معاف کرنے کا فن جانتا ہے اسے بھول جانے کی بھی عادت ہے وہ برداشت کر جاتا ہے۔

جعفری صاحب جب پنجاب یونیورسٹی میں میرے اور آپ کے لیڈر ہر جمعیت نے تشدد کیا تو ڈیرہ غازی خان جاتے ہوئے لیڈر نے کرنل یونس رضا سے کہا تھا کہ اس لڑائی کو جماعت اور پی ٹی آئی کی لڑائی نہ بنانا کرنل صاحب نے مجھے کہا اس وقت سیکرٹری اطلاعات بھی میں ہی تھا اور ڈپٹی بھی اس لیے کہ سیکرٹری اطلاعات لاہور میں تھے میں نے خبر ڈرافٹ کی اور اسے جس پر کہا گیا تھا اس ہر ڈال دیا۔

یہ اسکی قاضی صاحب سے محبت تھی۔بعد میں ذکر ہوا اور میں نے کہا کہ اپ۔کو یاد ہے پنجاب یونیورسٹی اور آپ ہر تشدد کہنے لگے افتخار چھوڑو اس میں ایک ملتانی کا ہاتھ تھا جو نواز شریف کے ہاتھوں میں کھیل رہا تھا۔میں قاضی صاحب کے منہ کی وجہ سے چپ ہوں۔یہ ہے عمران خان اسی لیے قاضی حسین اس دن رویے تھے اور لڑکوں کو جمعیت سے نکالا بھی تھا۔سہیل وڑائیچ جیسے خرانٹ لوگ جتنا چاہیں کر لیں وہ مولانا طارق جمیل اور عمران خان کے درمیان دراڑ نہیں ڈال سکتے۔

یاد رکھیے گا عمران خان کبھی مولانا سے یہ بھی نہیں کہے گا کہ نواز شریف اور شہباز شریف سے نہیں ملنا۔حد ہو گئی ہے قوم کرونا میں پھنسی ہوئی ہے بد نیتوں کے حامل لوگ کیافتنے چھوڑ رہے ہیں جو مرضی کر لیں۔اللہ پاک عمران خان کو عزت دے رہا ہے مزید دے گا۔جیو جنگ والے زخم چاٹ رہے ہیں انہیں چاٹنے دیں بلکہ یہ ایک گردش میں اپنی ہی دم کاٹ کے کھا رہے ہیں۔

ان دم ٹکوں کو چھوڑیں اپنا اور دوستوں کا خیال کریں۔گھروں میں رہیں دعا کریں اللہ خیر سے ملوانے زں دہ رہے تو 502 کی رونقوں میں پھر ملاقات ہو گی۔ 
ابھی پیارے دوست شمشاد مانگٹ سے بات ہوئی یے خیریت دریافت کی پوچھا کیا حال ہے جو جواب ملا اس پر ان سب کے کیے دلی دعائیں جو دفتروں میں کام۔کر رہے ہیں۔یقین کیجیے کپڑے اور کاغذ کے ماسک بس اتمام حجت ہے N95ماسک ہی کام کرتا ہے اور وہ بھی صرف چند گھنٹوں کے لیے۔

گھر میں بند ہونا ہی علاج ہے۔کسی نے کہا ہے غریب اور سفید پوش کے لیے موت ہی موت ہے باہر نکلے گا تو بیماری سے مارا جائے گا گھر بیٹھے گا تو بھوک سے مرے گا۔لیکن میں دیکھ رہا ہوں پاکستانیوں میں جذبہ ء ہمدردی جاگ رہا ہے انشاللہ بھوک سے کوئی نہیں مرے گا۔مجھے واٹس ایپ کریں00923358045464 میں مدد کرواؤں گا۔پی ٹی آئی کے چیف آرگنائزر سیف اللہ نیازی نے تو ٹیمیں فعال کر دی ہیں۔

شمسلی کناج جی ٹیم بھی متحرک ہے ہماری میڈیا ٹیم نے تو یو سی لیول پر کام شروع کر دیا ہے میرے قاری مدد کو آئیں گے کچھ لوگوں نے پیش کش بھی کی ہے لیکن کسی کو ضرورت ہے تو ضرور رابطہ کرے۔
 جناب والا آپ کا یہ مشورہ اسوقت کہاں تھا جب پاکستان کے صدر ممنون حسین تھے اور وزیر اعظم نواز شریف اسوقت جب پاکستان کا سب سے زیادہ پڑھا لکھا شخص صدر اور درد مند عمران خان وزیر اعظم ہے ایسے میں اس قسم کا مشورہ کیا یہ کھلا تضاد نہیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Kya Yeh Khula Tazad Nahi Column By Engr.Iftikhar Chaudhry, the column was published on 25 March 2020. Engr.Iftikhar Chaudhry has written 17 columns on Urdu Point. Read all columns written by Engr.Iftikhar Chaudhry on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.