اللہ کا فضل

پیر جون

Javed Ali

جاوید علی

ان دنوں ایک بڑی بحث چھڑی ہوئی ہے کہ دنیا مادہ پرستی کی طرف جا رہی ہے, ہم لالچی ہو رہے ہیں, ہم روپے پیسے کے پیچھے بھاگنا شروع کردیا ہے لیکن میں اس بات سے کچھ زیادہ متفق نہیں کیونکہ میں اپنی زندگی کے دو عشروں کے مزے لے چکا ہوں میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے یہی سنتا اور دیکھتا آ رہا ہوں- اس دوران تقریبا ہر قسم کے لوگوں سے ملا ہوں- اس دوران عام روٹین سے ہٹ کر کچھ تجربات ہوۓ- عام طور پر ہمارا یہ خیال ہوتا ہے کی ڈاکٹر کے پاس جائیں تو وہ مرض کی تشخیص کر سکے یا نہ کر سکے- اس نے دوا ضرور دینی ہوتی ہے اسی سال جون ستائیس کی بات ہے کہ میں اپنی والدہ کے ساتھ ایک ڈاکٹر کے پاس دوا لینے گیا تو اس نے تمام ضروری میڈیکل ٹیسٹ کرنے کے بعد بتایا بہت پرانا ٹائیفائیڈ بخار ہے لیکن میں آپ کو دوا نہیں دوں گا کیونکہ اس سے جلدی ٹھیک ہوں گے اس لیے آپ انگریزی دوا سے بچیں- آپ لوگ کسی اچھے دیسی حکیم کے پاس چلے جائیں اس سے دوا لیں آپ جلد ٹھیک ہو جائیں- اگر کسی اچھے حکیم کے پاس نہیں جاتے تو میں آپ کو کچھ نسخے لکھ دیتا ہوں وہ آپ استعمال کریں-
پچھلے دنوں میں اپنے ایک دوست ڈاکٹر کے پاس بیٹھا تھا جو لگ بھگ ساٹھ سال سے بڑے ہیں آدمی کمال کے ہیں- صبح کا وقت تھا انہوں نے اللہ کے فضل کی بات چھیڑ دی کہتے ہیں میں نے کل ایک اللہ کے فضل کی نئی تعریف (definition) سنی ہے کہ ایمان اللہ کا رزق ہے اس لئے ہمیں ایمان کا رزق مانگنا چاہیے- میرے لئے بھی یہ ایک نئی بات تھی تو میں نے اس کی کھوج لگانا شروع کی تو مجھے حیرانی ہوئی کہ میں تو اللہ کے فضل کو بھی ایک دائرہ میں رہ کر دیکھتا اور سوچتا کہ رزق اللہ کا فضل ہے اللہ نے مجھے ایک انسان بنایا اور پورا سٹریکچر(structure) عطا کیا- یہ ہی جو ہم عام طور پر تصور کرتے ہیں-
رب کریم اللہ تعالی نے قرآن مجید کے اندر ارشاد فرمایا ہے " پھر جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو" (الجمعہ ) اس آیات کریمہ کا مفہوم یہی سمجھتا تھا جمعہ کی نماز ادا کرو اور اپنے کاروبار میں لگ جاؤ لیکن جب میں نے جانچ پڑتال کی تو معلوم ہوا کہ اللہ کا فضل تو بڑا وسیع ہے جس کی اتنی چھوٹی تعریف بیان کرنا ہماری کم عقلی ہے- اللہ کا فضل تو بہت وسیع ہے ہمارا سانس لینا, سب سے بڑھ کر آکسیجن جو ہمیں مفت میں مل رہی ہے جو ہم منوں کے حساب سے استعمال کرتے ہیں ہمارے ذمہ کوئی نہیں آتا جو ہم نے ادا نہ کیا تو ہمارا کنکشن ختم کر دیا جاۓ گا اور پانی جو ہم ہر روز استعمال کرتے ہیں اور بے حساب کرتے ہیں اور بارش جسے اللہ کی رحمت کہتے ہیں کیا ہماری حکومتیں یا ہم سب مل کر اس طرح کی ایک بارش برسا سکتے ہیں ایسا ہونا نا ممکن ہے ہمیں انسان پیدا کرنا کیا فضل نہیں ہے- اگر اللہ ہمیں انسان نہ پیدا کرتا تو ہم کیا کر سکتے  یہ سب تو اللہ کا فضل ہے- آج میں اشفاق صاحب کی کتاب "زاویہ" پڑھ رہا تھا کہ میں نے ایک واقعہ پڑا- اشفاق صاحب لکھتے ہیں کہ میں جمعہ کی نماز پڑھا کرتا ہوں تو مجھے مسجد میں میرے  ہم عمر شخص سے ملاقات ہوئی میں نے اس سے پوچھا کہ آپ کیا کرتے ہیں- اس نے بتایا میں ریٹائرڈ ٹیچر ہوں اور پوچھا کہ اب اپنے کاروبار کی طرف جارہے ہو تو اس نے جواب دیا اللہ کے فضل کی تلاش میں جا رہا ہوں- میں نے بھی اس کے ساتھ چلنا شروع کیا ہم دونوں چنگڑوں کے جھگیوں کی طرف چلے گئے- بچے کھیل رہے تھے تو سیٹی بجائی تو آٹھ دس بچے بیٹ اور کیند لے کر قطار میں بڑے نظم و ضبط سے کھڑے ہو گئے تو اب میچ شروع ہو گیا اور وہ امپائر بن گیا یہ بڑا سخت امپائر تھا جس کے اس دنیا سے الگ رولز تھے وہاں چھکے کی اجازت نہیں تھی کیونکہ ساتھ بلڈنگز وغیرہ کے شیشہ وغیرہ ٹوٹنے کا خطرہ تھا اگر کسی کا چھکہ لگ جاۓ تو وہ چھکہ ہی گنا جاتا اور دونوں ٹیمیں من و عن امپائر کا فیصلہ مانتی- میں نے پوچھا کہنے لگا کہ یہ بھی اللہ کا فضل ہے جو ہر جمعہ کی نماز کے بعد میں تلاش کرنے نکل پڑتا ہوں- اس نے بتایا جب میری والدہ میری ہونے والی بیگم دیکھنے گئی تو انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ بھینگی ہے جب میں نے نکاح کے بعد اسے دیکھا تو بہت زیادہ حسین و جمیل تھی تو میں نے کہا اماں نے اچھا مزاق کیا تو کہنے لگی یہ تجھ پر اللہ کا فضل ہے-
اللہ کا فضل ہر رنگ, ہر انداز, ہر وقت اور ہر جگہ موجود ہے اگر آپ اسے تاش کرو تو آپ کے سامنے راستے کھلتے جائیں گے جن پر آپ چل کر اس کا فضل تلاش کر سکتے ہیں اس کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ ختم نہ ہونے والا ہوتا ہے-
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

Your Thoughts and Comments

Urdu Column ALLAH Ka Fazal Column By Javed Ali, the column was published on 29 June 2020. Javed Ali has written 10 columns on Urdu Point. Read all columns written by Javed Ali on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.