ویلڈن ایس ایچ او بہادر

ہفتہ ستمبر

Salman Ahmad Qureshi

سلمان احمد قریشی

پولیس تشدد سے ہلاکت ، جھوٹے پرچے ، رشوت ستانی ، تھانوں میں بد سلوکی ، نجی ٹارچر سیل یہ سنگین الزامات ہمیشہ ہی پولیس پر لگتے رہے ہیں،محکمہ پولیس میں فرض شناس ، ایماندار ، معاملہ فہم ، خدا ترس افسران کی بھی کمی نہیں ، اس کے باوجود عوامی شکایات کم نہیں ہو رہی ۔ پولیس اصلاحات آج کل زیر بحث ہیں اس حوالہ سے درخواست بازی بھی ایک ایسا مسئلہ ہے جس کی طرف توجہ ضروری ہے ۔

ایک درخواست جو کسی عام آدمی کے خلاف تھانے آ جانے پر اس کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس سے آگاہی کیلئے یہ کالم ضبط تحریر کر رہا ہوں۔ 
برادرم رانا محمد عرفان ایک قومی روزنامہ کے بیورو چیف ہونے کے ساتھ اوکاڑہ اور رینالہ خورد میں کاروبار کرتے ہیں۔ صحافتی فرائض کے بجاآوری اور کاروباری مصروفیات دونوں معاملات بطرق احسن انجام پا رہے ہیں۔

(جاری ہے)

حسب سابق ملاقات ہوئی تو موصوف نے بتایا کہ تھانہ سٹی رینالہ خورد سے فون آیا ہے۔ میرے خلاف ایک درخواست آئی ہے تھانہ جانا ہے۔ 
قصہ کچھ یوں ہے میرے شو روم پر کوئی صاحب آئے۔ریٹ پوچھا۔۔۔چلے گئے۔ کچھ دیر بعد پھر واپس آئے کہنے لگے یہاں سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہیں؟ ملازم کا جواب تھا نہیں۔۔۔صاحب بولے میرا پرس یہاں رہ گیا تھا جس میں پچاس ہزار روپے ہیں وہ دے دو۔

۔۔ پرس وہاں ہوتا تو ملتا۔ انکار پر صاحب نے تھانے درخواست دے دی۔ جس پر SHOصاحب کا پیغام آیا ہے۔رانا محمد عرفان اوکاڑہ پریس کلب کے ممبر ہیں۔ صحافتی تعلق ہونے پر ساتھ جانے سے انکار نہ کر سکا۔ بادل نخواستہ جانے کیلئے تیار ہو گیا۔ ویسے ہماری تھانے جانے کی جرات کہاں۔۔۔سن رکھا ہے پولیس سے دوستی اور دشمنی دونوں ہی اچھی نہیں۔ اتنے بااثر اور صاحب حیثیت بھی نہیں کہ تھانے دار صاحب اٹھ کر سلام کریں اور ہمیں یاد رکھیں۔

 روز و شب میں صحافتی کالم لکھنے کیلئے تازہ ترین خبروں سے ہر وقت باخبر رہنے کیلئے DPOصاحب کے PROکے واٹس اپ گروپ میں ایڈ ہوں۔ یوں معاملات چل رہیں ہیں۔ پولیس افسران سے مراسم بھی رسمی ہیں۔ ویسے تو پریس اور پولیس کے تعلقات مثالی ہی ہوتے ہیں کیونکہ آزادی صحافت کو بھی تو برقرار رکھنا ہے اور پولیس کو اپنی کارکردگی بھی عوام الناس کے سامنے لانی ہے۔

پریس اور پولیس کے تعلقات اچھے ہونگے ہی۔ہم ٹھہرے کسی اور نظریات کے حامل، معاملات کو اپنی فہم سے دیکھتے ہیں۔ کچھ دوست تو SHO کی تعیناتی اور تبادلہ تک کروانے کے دعوی دار بھی ہیں۔اپنی اپنی ترجیحات ہیں۔ہمیں اتنا ہی کافی ہے کالم نگاری کا شوق پورا ہوتا رہے۔
ملزم صلاح الدین کے اس فقرے کی گونج پورے پاکستان میں سنائی دے رہی ہے ”تُسیں مارنا کتھوں سکھیا“ پولیس کا امیج کبھی بھی عوامی سطح پر بہترین نہیں رہا۔

حالیہ پولیس تشدد کے واقعات سامنے آنے پر SHOصاحبان کی دھاک مکمل طور پر بیٹھ چکی ہے۔اس لئے رانا عرفان صاحب کے ساتھ جانے سے پہلے ایک وکیل صاحب کو بھی ساتھ لے لیا۔ 
برادرم رانا عرفان کے ہمراہ تھانہ سٹی رینالہ خورد کے لئے نکل پڑے، اوکاڑہ پریس کلب سے تھانہ سٹی تک پہنچنے میں 20منٹ درکار تھے۔ ریلوے لائن جو دیوار برلن کی طرح اوکاڑہ شہر کو دو حصوں میں تقسیم کرتی ہے، کراسنگ ایک بڑا مسئلہ ہے، ٹرین آنے کی صورت میں ریلوے پھاٹک کی بندش سے ٹریفک جام ہو جاتا ہے۔

شومئی قسمت پھاٹک بند ملا۔نتیجتاً تھانہ پہنچنے میں تاخیر ہوئی، راستہ میں فون کالزکا لامتناہی سلسلہ جاری رہا۔ پہنچے کیوں نہیں ابتک۔۔۔FIRدرج کر دونگا۔۔۔ اس دوران تھانے دار ظفر نے بھرے بازار میں پولیس موبائل میں چکر لگا کر اپنا کام مکمل کر دیا۔ اب پولیس کے آنے کی وضاحتیں دینے کیلئے ایک اور مشکل کھڑی ہو گئی۔ 
اوکاڑہ بار کے سابق جنرل سیکریٹری چوہدری شاہد محمود ایڈووکیٹ ہمراہ تھے اس لئے حوصلہ کر کے SHOکے سامنے پیش ہو گئے۔

تاخیر سے پہنچنے پر معذرت کی۔ SHOتھانہ سٹی رینالہ خورد صاحب کا حکم تھا کہ مدعی پارٹی کو مطمئن کر لیں بصورت دیگر FIRدرج کر لی جائیگی۔ مدعی خود وکیل تھے قانون کے مطابق اچھی درخواست لکھنا جانتے تھے۔ ہمارے ساتھ ایک وکیل جبکہ مدعی اپنے وکلا دوستوں کے ہمراہ FIRدرج کروانے کیلئے موجود تھے۔ تقاضا تھا کہ رقم دے دیں یا پرچے کیلئے تیار ہو جائیں۔

۔۔ ابھی گرفتاری ہو گی اور SHOصاحب سب کچھ منوا لیں گے۔الزام تھا۔۔۔پرس کی گمشدگی۔۔۔کم فہمی اور لا علمی میں اسی سوچ میں مبتلا تھے اب کونسی دفعہ لگے گی، پرس چوری نہیں کیا، ڈکیتی نہیں ہوئی، پرس کسی کے ہاتھ میں نہیں دیا، پھر وکیل صاحب کے الزام کی صداقت کا معیار کیا ہو سکتا ہے۔۔۔؟
 رانا عرفان کے بھائی اور دیگر ملازمین پرس سے لاعلم ہیں، وکیل صاحب کو گمشدگی کی جگہ پر غلط فہمی بھی تو ہو سکتی ہے۔

معاملہ صفائی دینے پر ختم ہو جائے گا، قانونی داؤ پیچ کی نوبت نہیں آئیگی۔ گفتگو کے بعد ایس ایچ او صاحب نے فیصلہ دیا دونوں فریقین متفقہ طور پر مقامی انجمن تاجران کے پاس چلے جائیں اور رانا عرفان صاحب اپنی بے گناہی کی تحریر انجمن تاجران سے لے کر آئیں۔ انجمن تاجران کے عہدیداران کے ساتھ تعلق نہ ہونے پر ایس ایچ او صاحب نے رانا عرفان کو مشکوک قرار دے دیا۔

انکا کہنا تھا رانا صاحب کیسے مارکیٹ میں کاروبار کر رہے ہیں انکا مارکیٹ میں کسی سے تنظیمی تعلق کیوں نہیں۔ یہ بات ایسے ہی ہے جیسے جرم ثابت ہو گیا۔ اب رانا صاحب کی عزت انجمن تاجران کے فیصلہ سے مشروط ہے۔ 
انجمن تاجران کے عہدے داران صدر چوہدری شکیل اور جنرل سیکریٹری شیخ حماد صاحب کسی کام کے سلسلہ میں خودہی تھانے تشریف لے آئے۔انہیں معاملے سے آگاہ کیا گیا، کسی نتیجہ پر پہنچنے کیلئے انجمن تاجران نے وقت مانگااور ہمیں تھانے سے جانے کی اجازت مل گئی۔

انجمن تاجران کا ابھی تحریری فیصلہ سامنے نہیں آیا کہ ایس ایچ او صاحب نے جتنی جلدی ملازمین کو اٹھا کر تھانے لانے کی کوششوں میں دکھائی دی FIRکے اندراج میں بھی انجمن تاجران کے فیصلے کا انتظار نہ کیا اور زیر دفعہ 380ایف آئی آر درج کر دی۔ معلوم ہوا کہ ایس ایچ او صاحب مبینہ طور پروکلا کے دباؤ میں تھے ایک طرف چند وکلا اور دوسری طرف معمولی تاجر اور میڈیا سے منسلک احباب۔

کاروباری طبقہ ویسے بھی مقدمہ بازی پسند نہیں کرتا، جبکہ کاروباری مقام پر پولیس موبائل کا ایک چکر ہی رسوائی کیلئے کافی ہے۔ایف آئی آر کا اندراج قانونی ہے مگر درخواست بازی بھی ہماریے معاشرہ میں نئی بات نہیں۔
فوری پرچہ کے انداج نے ایس ایچ او صاحب کی صلاحیتوں کو بھی عیاں کر گیا۔ایس ایچ او کا کردار اتناکمزور ہے کہ وہ کسی کو انصاف نہیں دلوا سکتے تاجر برادری تو عدم تحفظ کا شکار ہے تو رہے۔

میڈیا پرسن کی کیا حیثیت ہے ہمارے ایس ایچ او بہادر کے سامنے، کمزور طبقہ تو پولیس کے موٹو ”حفاظت اور خدمت“ پر ویسے بھی یقین نہیں رکھتا۔سب جانتے ہیں ایس ایچ او صاحب کمزور کے سامنے بہادر اور طاقت ور کے سامنے بے بس ہیں۔ یہاں تو معاملہ کچھ یوں ہے طارق محمود ڈوگر قوت فیصلہ کی صلاحیت سے بھی عاری ہیں، تحقیقی صحافت کے قائل رانا طاہر یعقوب نے وعدہ کیا صرف ایک ہفتہ میں تمام ایسی درخواستیں سامنے لاوں گا جن پر SHOصاحب کاروائی پر تیارنہیں اور تاخیری حربے استعمال ہو رہے ہیں۔

سائلین وکیل نہیں اس لیے شنوائی نہیں ہورہی۔ 
اب خدا خیر کرے رینالہ خورد کے تاجران اور عام شہریوں پر اسی طرح کوئی اور درخواست بازی نہ ہو۔ ایس ایچ او صاحب میں تو انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی صلاحیت نہیں، معاملہ صرف دباؤ کا ہی ہے یا کچھ اور۔۔۔ اللہ بہتر جانتا ہے۔۔۔۔ویلڈن ایس ایچ او بہادر، انجمن تاجران نے اگر شٹر ڈاؤن کر دیا تو آپ کی صلاحیتیں ڈی پی او صاحب تک بھی پہنچ جائینگی،عام عوام تو آپکی انتظامی صلاحیتوں سے باخوبی آگاہ ہیں۔۔۔ دولت، شہرت اور دباو فیصلہ سازی پر اثر انداز ہوتے ہیں تو، غریب کا اللہ حافظ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Well Done SHO Bahadur Column By Salman Ahmad Qureshi, the column was published on 21 September 2019. Salman Ahmad Qureshi has written 10 columns on Urdu Point. Read all columns written by Salman Ahmad Qureshi on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.