حریم شاہ ‘ عبدالقوی اور تھپڑ کی گونج

جمعرات 21 جنوری 2021

Shazia Anwar

شازیہ انوار

جب جب میں عبدالقوی(مفتی لکھنے سے انتہائی معذرت)کے حوالے سے کچھ دیکھتی یا سنتی ہوں تو مجھے تاسف ہوتا ہے کہ ایک ایسا شخص جو مذہب کونہ صرف سمجھتا ہی نہیں بلکہ سمجھانے کی اہلیت رکھنے پر مصر ہے ایسی حرکات کیونکر سرانجام دے سکتا ہے لیکن مجھے آج تک اپنے اس سوال کا جواب کہیں سے بھی اور کسی سے بھی نہیں مل سکا۔ گاہے بگاہے ‘ موصوف کے حوالے سے کچھ ایسی خبریں نظروں سے گزرتی رہتی ہیں کہ دل چاہتا ہے کہ ”لاحول ولاقوة“کہہ کر آگے بڑھ جاؤں اور اکثر اوقات بڑھ بھی جاتی ہوں لیکن اس بار بات برداشت سے باہر ہوگئی۔


عبدالقوی ملتان ‘پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک مذہبی عالم دین ہیں ‘انہوں نے 2013ء میں پاکستان تحریک انصاف میں بطور صدر مذہبی امور شمولیت اختیار کی لیکن ان کی حرکتوں سے تنگ آکر تحریک انصاف نے انہیں اپنی رکنیت سے برخواست کردیا۔

(جاری ہے)

موصوف رویت ہلال کمیٹی کے رکن بھی تھے‘ تاہم اپنی قبیح حرکات منظر عام پر آنے سے قبل یہ کسی بھی حوالے سے مشہور و معروف نہیں تھے لیکن ہوا کچھ یوں کہ جیسے جیسے ان کے کارنامے سامنے آتے گئے ویسے ویسے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوتا گیا کہ یہ کس طرح کا مولوی ہے جو خواتین سے سر عام فلرٹ اور معنی خیز باتیں کرتا ہے؟ یہ کیسا بے حس انسان ہے جس کے کر دار پرلگے پچھلے دھبے ابھی دھلے نہیں اور یہ پھر نکل کھڑا ہوا کسی نئے شکار کی تلاش میں‘ ایک شرمناک کیس میں سات دن تک جوڈیشل ریمانڈ پر رہنے کے بعدبھی بے شرمی سے اپنے نام کے ساتھ” مفتی “لگانے والے اس شخص کا ایک مکالمہ” بس ذرا آکر ایک ملاقات تو کرلو“ خلیل الرحمن قمر کے ”دو ٹکے کی عورت“ سے بھی زیادہ مشہور ہوا ۔

قندیل بلوچ کے قتل کے حوالے سے مشکوک ان موصوف کا نام کافی عرصے سے ٹک ٹاک گرل حریم شاہ کے ساتھ لیا جارہا ہے ‘ کبھی کہا جاتا ہے کہ وہ ان کے نکاح میں ہیں تو کبھی محض دوستی کی بابت بات کی ہے اور حد تو یہ ہے کہ ایک مقام پر عبدالقوی انہیں بہن بھی کہتے نظر آئے ہیں اور پھر اُن ہی کے ساتھ شیرو شکر بھی نظر آئے۔
مختلف چینلوں پر بیٹھے ٹھٹھے لگاتے ہوئے‘ نوجوان خواتین سے اٹکھیلیاں کرتے ہوئے‘ آنے بہانے ان سے کھلی ڈلی گفتگو کرتا ہوا یہ شخص ایسی وارداتوں کا گھاگ اور ماہر فن نظر آتا ہے جو کھل کھیلنے کا شوقین اور عادی مجرم محسوس ہوتا ہے۔

مذہب کا چولا اُوڑھ کر‘ تلقین شاہ بننے کاشوق‘ سوشل میڈیاپر چھائے رہنے کی ہمہ وقت فکر‘ خواتین کی طرف دیکھ کے معنی خیز جملے‘آنکھوں میں بے باکی و ہوسناکی اور پھر خود کو پاکباز سمجھنا”اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا“یاد رہے کہ یہ وہی عبدالقوی ہیں جنہوں نے بھارتی شو میں وینا ملک کی بے باکیوں پر انہیں سخت ہدف تنقید بنایا تھا تاہم خود ان کی لیک کی گئی ویڈیوز اور تصاویر ان کے ’مفتی‘ کے عنوان پر سوالیہ نشان ہیں۔

یہ وہی عبدالقوی ہیں جن کی شراب کی اجازت سے متعلق تبصرے اور غیر شادی شدہ عورتوں کیساتھ جنسی تعلقات کے فتوے ناقابل فراموش ہیں۔
ٹک ٹاکر حریم شاہ کی جانب سے معروف عالم دین اور رویت ہلال کمیٹی کے سابق رکن عبدالقوی کے ہمراہ بنائی گئیں ٹک ٹاک ویڈیوز تسلسل سے سامنے آرہی ہیں۔انہوں نے عبدالقوی کے ہمراہ کسی کمرے میں ہی کیٹ واک کرتے ایک ٹک ٹاک ویڈیو اپنے انسٹاگرام اکاوٴنٹ پر شیئر کی یہی نہیں بلکہ ایک اور ویڈیو میں مفتی قوی اور حریم شاہ کو کسی ریسٹورنٹ میں کھانا کھاتے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

یاد رہے کہ متوقع عوامی ردعمل کے پیش نظر حریم شاہ کی جانب سے شیئر کی گئیں ویڈیوز میں کمنٹس کا سیکشن بند ہے۔ساتھ ہی ساتھ حریم شاہ نے اپنے انسٹاگرام پر عبدالقوی کو تھپڑ مارنے کی ویڈیو شیئر کی تھی جو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگئی تھی۔
اس حوالے سے عبدالقوی کاموقف ہے کہ ایک ٹی وی پروگرام کیلئے انہیں اور حریم شاہ کوکراچی بلوایا گیا تھا‘ وہ ہوٹل میں بیٹھے فون استعمال کررہے تھے کہ حریم شاہ اچانک آئیں اور انہیں تھپڑ مار کر چلی گئیں)وہی تھپڑ جس کی گونج پورے پاکستان نے سنی( تاہم میں یہ معاملہ اللہ پر چھوڑ رہا ہوں ‘ حریم شاہ نے یہ سب ”سستی شہرت“حاصل کرنے کیلئے کیا۔

)ویسے حریم شاہ کے پاس سستی شہرت کی کوئی کمی تو نہیں ہے (
 ٹک ٹاکر حریم شاہ کی جانب سے الزام عائد کیا گیا کہ”مفتی صاحب نے ان سے مختلف اقسام کے نشے اور دیگر نازیبا باتیں کیں‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ میرے بہت بڑے بڑے لوگوں سے تعلقات ہیں اور تم بھی چاہو توایک دن کے 10‘ 12 لاکھ کما سکتی ہو۔حریم کا دعویٰ ہے کہ وہ مجھ سے ایسے بات کر رہے تھے جیسے وہ مجھے خریدنا چاہتے ہوں۔

ایسی فضول گوئی کے بعد جب انہوں نے مجھے جنسی طور پر ہراساں کرنے کی کوشش کی تو پھر میں نے انہیں تھپڑ دے مارا ۔“انہوں نے یہ تمام باتوں کے ویڈیو ثبوت ہونے کا دعوی کیا ہے جو وہ ”مناسب موقع“ پر منظر عام پر لائیں گی۔
یہ ایک انتہائی حیرت انگیز بات ہے کہ حریم شاہ اور مفتی قوی کے درمیان ماضی میں بھی مختلف معاملات پر اختلافات کا سلسلہ سامنے آتا رہا ہے اس کے باوجود دونوں ایک دوسرے کے ساتھ مختلف فورمز‘ ہوٹلز اور ریستوران میں اکٹھے پائے بھی جاتے ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ انتہائی ڈھٹائی سے سوشل میڈیا پر تصاویر و ویڈیوز شیئر بھی کردیتے ہیں۔


اپنی بات کو آگے بڑھانے سے قبل میں چاہوں گی کہ قارئین ”مفتی “کی حیثیت سے روشناس ہوجائیں۔ ایک ایسا فرد جو عالم کتاب وسنت ‘آثار صحابہ ‘اصول فقہ ،قواعد فقہ اور فقہی جزئیات کے ذخیرہ پر نظر رکھتے ہوئے پیش آمدہ مسائل کو مذکورہ علوم کی روشنی میں حل کرنے کی اہلیت رکھتا ہو اسے مفتی کہتے ہیں تاہم فتوی دینے کیلئے تقوی کا پایا جا نا ضروری ہے۔

“ اس تشریح کی روشنی میں عبدالقوی کو ”مفتی“کے مقام سے خارج کئے جانے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ۔
اورمیں اس تعریف کی روشنی میں عبدالقوی کے نام کے ساتھ لگا” مفتی“ حذف کرنے میں خود کو حق بجانب سمجھتی ہوں( یہ میرے جذبات ہیں قارئین پر سمجھنے اور سمجھانے کی کوئی قید نہیں۔)میرا ماننا ہے کہ ایک ایسا شخص جو مذہب کا علم دیگر سے زیادہ رکھتا ہو اور اس بنیاد پر مختلف ذمہ دار عہدوں پر فائز بھی رہا ہو‘ جب اپنے نفسانی خواہشات کے آگے بند نہ باندھ سکے تو اُسے عزت کیساتھ ایسے ہر معاملے سے علیحدہ ہوجانا چاہئے‘ اس کے بعد وہ بحیثیت عام انسان بے ستر بھی گھومے تو اسے کوئی کچھ نہیں کہے گا لیکن کسی بھی شخص کو مذہب کی آڑ میں معاشرتی بگاڑ پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے البتہ بحیثیت انسان دیکھا جائے یہ عبدالقوی کا ذاتی فعل ہے‘رہی بات حریم شاہ کی تو وہ جس شعبے سے تعلق رکھتی ہیں اس کے پیش نظر ان کے کردار پر بحث وقت کا زیاں ہے‘ وہ سستی شہرت کے حصول کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتی ہیں لیکن عبدالقوی کو اپنے نفس کے ساتھ اپنے عہدے اور مرتبے کا ضرور خیال رکھنا چاہئے۔


یادش بخیر مرحومہ قندیل بلوچ سے ملاقات کو انہوں نے خالص و خالصتاَ مذہبی تربیت قرار دیا جبکہ قندیل بلوچ کی جانب سے جو ویڈیو منظر عام پر آئی تھی اس میں عبدالقوی جس صوفے پر بیٹھے تھے قندیل بلوچ اسی صوفے کے ہتھے پر کیمرہ پکڑے ناز و انداز سے ملاقات کی نوعیت کی عکاسی شوٹ کررہی تھیں ۔اب یہ بات بعید از عقل ہے کہ دینی تربیت کے خواہشمند وں کو کب کسی نے اس انداز و حرکات میں دیکھا ہے ۔

اس ملاقات میں دین کو سمجھنے کا نہ وہ شوق دکھائی دیا اور نہ ہی جذبہ‘ باقی زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھئے ۔قندیل بلوچ کے معاملے کے سامنے آنے کے بعد حکومت کی جانب سے عبدالقوی کو رویت ہلال کمیٹی اور علماء مشائخ کونسل کی رکنیت معطل کردی گئی کہ وہ اپنا گند اپنے ہی دامن میں سمیٹیں‘ حکومت کا ان سے کوئی سروکار نہیں۔
ماضی میں عبدالقوی کی ایک خاتون کے ساتھ رقص و سرور کی محفل کے علاوہ مختلف النوع خواتین اورایک مخنث کے ساتھ کھنچوائی گئی تصاویر یقینا آپ کی نظروں سے بھی گزری ہوں گی۔

کافی عرصے سے حریم شاہ اور عبدالقوی کے معاملات میڈیا کے ذریعے سامنے آرہے ہیں اور دونوں جانب سے متنازعہ بیانات بھی دیئے جاتے رہے ہیں۔ حالیہ وڈیو کے حوالے سے دونوں جانب سے جو وضاحتیں کی گئی ہیں وہ سمجھ سے بالاتر ہیں‘ اگر کسی چینل کی جانب سے انہیں کراچی مدعو بھی کیا گیا تھا تو ہوٹل میں ایک دوسرے کے کمروں میں اتنی آزادانہ رسائی سمیت دیگر معاملات نظرانداز نہیں کئے جاسکتے۔


# ٹک ٹاک کے ذریعے معاشرے کو آلودہ کرنے والی ان خاتون کا تو ذریعہ معاش ہی یہ ہے )انتہائی معذرت کیساتھ لیکن یہ اُنگلی اٹھانے کی نہیں بلکہ بالکل سامنے کی بات ہے)لیکن عبدالقوی عمر کے جس حصے میں ہیں‘ جس شعبے سے تعلق رکھتے ہیں انہیں یہ زیب نہیں دیتا کہ اپنی بیٹی کی عمر کی لڑکی کے ساتھ نازیبا گفتگو کریں‘ ان کی جانب سے کی گئی معترضہ گفتگو منظر عام پر آئے اور سوشل میڈیاکے ذریعے ہر گھر تک اس کے مضر اثرات پہنچیں ۔

ایک عام انسان سے زیادہ عبدالقوی اس حقیقت سے آگاہ ہیں لیکن اگر وہ احتیاط کا دامن نہیں تھام رہے تو کیا یہ سمجھا جائے کہ وہ بھی ”سستی شہرت“ کے حصول کے خواہاں ہیں۔
ہم جس مذہب کے پیروکار ہیں وہ ہمیں اپنے علمائے دین کی عزت کرنے کا درس دیتا ہے‘ ہمارے والدین نے ہمیں اور ہم اپنے بچوں کو ان مولویوں کی عزت و تکریم کرنا سکھاتے ہیں جو ہمیں قرآن کریم پڑھنا سکھاتا ہے‘ ہمارے معاشرے میں مفتیوں‘ مجتہدیوں اورمولویوں کا ایک خاص مقام ہے لیکن ان ہی میں سے کوئی کالی بھیٹر اپنے منہ پر کالک پوت کر پورے معاشرے کو خراب کرے‘ اس کی اجاز ت کسی کو بھی نہیں دی جانی چاہئے۔


ایک استدعا چینلوں سے بھی ہے کہ محض ریٹنگ کیلئے ایسے افراد کو اپنے پروگرامز میں مدعو کرنے کا سلسلہ بند کردیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے ذریعے آپ کے پروگرام کی ریٹنگ تو آجائے گی لیکن ہمارے دلوں سے علمائے کرام کی عزت و تکریم کے رخصت ہونے کا اندیشہ ہے ۔

ادارہ اردوپوائنٹ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Hareem Shah Abdul Qavi Or Thappar Ki Gonj Column By Shazia Anwar, the column was published on 21 January 2021. Shazia Anwar has written 26 columns on Urdu Point. Read all columns written by Shazia Anwar on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.