کوئی ہے جوکہے۔۔۔مارو تالی

جمعہ نومبر

Umer Khan Jozvi

عمر خان جوزوی

یہ دنیااورہمارایہ نظام کتنا عجیب ہے،جو ٹیڑھا ہو، اسے چھوڑ دیا جاتا ہے اور جو سیدھا ہو، اسے ٹھونک دیا جاتا ہے،مشہور ہے کہ افغانستان کے صدر سردارداؤدکے پاس ایک آدمی آیا اور سردار داؤد سے کہا کہ کابل میں تانگے کا کرایہ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔"سردار داؤدنے فوراً عام لباس پہنا اور بھیس بدل کر ایک کوچوان کے پاس پہنچ کر پوچھا کہ محترم پل چرخی جوافغانستان کاہی ایک علاقہ ہے تک کا کتنا کرایہ لوگے۔

۔؟کوچوان نے سردار داؤد کو پہچانے بغیر جواب دیا کہ میں سرکاری نرخ پر کام نہیں کرتا۔داؤد خان بولا 20روپے لوگے؟کوچوان اوراوپر جا۔داؤد خان 25۔۔؟کوچوان اور اوپر جا۔داؤد خان 30۔۔؟کوچوان اور اوپر جا۔داؤد خان 35۔۔؟کوچوان ۔۔ مارو تالی۔داؤد خان تانگے پر سوار ہوگئے۔

(جاری ہے)

تانگے والے نے داؤد خان کی طرف دیکھا اور پوچھا کہ فوجی ہو۔۔؟داؤد خان اوپر جا۔

کوچوان اشتہاری ہو۔۔؟داؤد خان اور اوپر جا۔کوچوان جنرل ہو۔۔؟داؤد خان اور اوپر جا۔کوچوان مارشل ہو۔۔؟داؤد خان اور اوپر جا۔کوچوان کہیں داؤد خان تو نہیں ہو۔۔؟داؤد خان، مارو تالی۔یہ سنتے ہی کوچوان کا رنگ اڑگیا۔ داؤد خان نے اس سے پوچھاکہ ڈر گئے۔۔؟کوچوان اور اوپر جا۔داؤد خان کانپ گئے۔۔؟کوچوان اور اوپر جا۔داؤد خان شلوار گیلی ہوگئی۔

۔؟کوچوان مارو تالی۔کوچوان نے داؤد خان سے کہا کہ مجھے جیل بھیجوگے۔۔؟داؤد خان اور اوپر جا۔کوچوان جلاوطن کروگے۔۔؟داؤد خان اور اوپر جا۔کوچوان پھانسی پر چڑھاؤ گے؟داؤد خان مارو تالی۔کوچوان نے تالی ماری یانہ اورسردارداؤدخان نے کوچوان کوپھانسی پرچڑھایایانہیں اس کے بارے میں توکوئی پتہ نہیں لیکن ایک بات جوباالکل واضح ہے وہ یہ کہ وہ کوچوان اس واقعے کے بعدزندہ یامردہ سیدھاضرورہواہوگا۔

کیونکہ عوام کے دکھ ،درد،پریشانی اورتکالیف کوسمجھنے والے کسی صدر،گورنر،وزیراعظم،وزیراعلیٰ،وزیر،مشیراورکسی افسرکے حکم پرجب کوئی ناجائزمنافع خور،گرانفروش،چور،ڈاکو،لوٹااورلٹیراتالی مارتاہے تووہ پھرسیدھاہی ہوتاہے۔ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمیں سردارداؤدخان جیساصدر،گورنر،وزیراعظم،وزیراعلیٰ،وزیر،مشیراورکوئی سرکاری افسرآج تک نہیں مل سکا۔

آج اس ملک میں کراچی سے چترال اورگلگت سے سوات تک لوٹ ماراورظلم وستم کاایک بازارگرم ہے مگرکوئی پوچھنے والانہیں ۔گلی محلے کے عام دکاندارسے لے کرپشاور،کراچی،لاہور،کوئٹہ اوراسلام آبادکے نمبرون تاجروں تک ہرشخص اپنی اپنی جگہ عوام کودونوں ہاتھوں لوٹ رہاہے۔مہنگائی،غربت،بیروزگاری،بھوک اورافلاس کے ہاتھوں زندگی کی آخری سانسیں اورہچکیاں لینے والے غریب عوام نہ ڈاکٹروں سے محفوظ ہیں نہ پرائیوٹ ٹیچروں سے۔

نہ تاجرانہیں چھوڑرہے ہیں نہ پولیس اوروکیلوں کے ہاں ان کے لئے کوئی معافی اورنرمی ہے۔۔انجینئرزان غریبوں کے ناتواں کندھوں پراپنے بلندوبالابلڈنگوں کی تعمیرات کررہے ہیں توواپڈا،گیس اوردیگرسرکاری محکموں سے وابستہ افسران اوراہلکارقصائیوں کی طرح ان کے بدن سے گوشت نوچ رہے ہیں ۔۔ٹرانسپورٹرحضرات تواس بدقسمت طبقے پراپنی گاڑیاں دوڑانے کاکوئی بھی موقع کبھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔

سی این جی،پٹرول اورڈیزل کی قیمتوں میں ایک پیسے کے اضافے پربھی ٹرانسپورٹ کرایوں میں فی سواری پانچ سے پندرہ اوربیس روپے تک اضافہ آرام وسکون سے ہوجاتاہے مگراس اندھیرنگری میں دنوں ،ہفتوں اورمہینوں کی ہڑتال اوراحتجاج کے بعدبھی ٹرانسپورٹ کرایوں میں ایک روپے کمی کافیصلہ کہیں نہیں ہوتا۔کچھ دن پہلے ملک میں سی این جی کی قیمتوں میں جب تھوڑااضافہ ہواتوٹرانسپورٹروں نے اگلے ہی دن اپنی طرف سے کرایوں میں من مانااضافہ کردیا۔

سی این جی کی قیمتیں پھر کم بھی ہوئیں لیکن کرایوں میں ہونے والاوہ اضافہ آج تک واپس ہوانہ کچھ کم،آج اس ملک میں کسی ایک جگہ ،کسی ایک علاقے ،کسی ایک شہراورکسی ایک صوبے میں نہیں بلکہ پورے ملک میں آج کے کوچوان سرکاری نرخ اورریٹ پرمسافرگاڑیاں چلاتے ہیں نہ ٹیکسیاں اورنہ ہی رکشے۔اوراس حقیقت سے آرٹی اے کے ایک ادنیٰ ملازم سے لیکراعلیٰ سرکاری افسران ،وزیروں اورمشیروں تک سب اچھی طرح بخوبی واقف بھی ہیں لیکن اس کے باوجوداس ملک میں کوئی سردارداؤدنہیں نکل رہاجوعام لباس پہن کرکسی ایک کوچوان سے بھی کہے کہ ماروتالی ۔

اس ملک میںآ رٹی اے جیسے سرکاری اداروں کی جانب سے جوسرکاری کرایہ نامہ اورضلعی انتظامیہ کی طرف سے اشیائے خوردونوش کے لئے جو سرکاری نرخ نامہ جاری ہوتاہے اگلے ہی دن ملک کے ہرچوک،چوراہے،گلی ،محلے اورشہرمیں ٹرانسپورٹروں اورتاجروں کی جانب سے سرعام اس کے پرخچے اڑادےئے جاتے ہیں ۔مگرکسی میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ کسی ٹرانسپورٹر،دکانداراورتاجرکوگرانفروشی اورلوٹ مارپرپکڑکرانہیں ہتھکڑیوں اوربیڑیوں کاتحفہ پیش کرتے ہوئے کہے کہ ماروتالی ۔

۔فوڈانسپکٹر،محکمہ خوراک کے افسران ،آرٹی اے کے حکام اورچیک اینڈبیلنس رکھنے کے لئے قومی خزانے سے ماہانہ بھاری تنخواہیں لینے والے ذمہ داران ہفتے یامہینے میں ایک دوباراپنے اوپرباہرکی ہوالگاکرگرانفروشوں،ذخیراندوزوں،ناجائزمنافع خوروں اورخداکی بے زبان مخلوق کودونوں ہاتھوں سے لوٹنے والے ظالموں پرمعمولی جرمانے کرکے اپنے فرائض اورذمہ داریوں سے پھراگلے چھاپوں اورنام نہادکارروائیوں تک ضرور دستبردارہوجاتے ہیں مگربے چارے عوام کو24گھنٹے نان سٹاپ لوٹنے والے گرانفروش،ذخیرہ اندوزاورناجائزمنافع خور اپنے سیاہ کرتوتوں سے ایک لمحے کے لئے بھی دستبردارنہیں ہوتے۔

ماہانہ چھاپوں اورمعمول کے مطابق جرمانوں نے ٹرانسپورٹروں سے لے کرتاجروں اورڈاکٹروں سے پرائیوٹ تعلیمی اداروں کے بدمست مالکان تک سب کوخراب حدسے زیادہ خراب کردیاہے۔معمولی جرمانے جمع کرنے کے بعدفوڈافسران ،انسپکٹراورضلعی انتظامیہ کے عہدیدارتوگھروں اوردفاترکی راہ لے لیتے ہیں لیکن پھریہی گرانفروش،ذخیرہ اندوزاورناجائزمنافع خور جرمانوں والااپناغصہ اسی وقت اوراسی دن غریب عوام کودونوں ہاتھوں سے لوٹ کرنکال لیتے ہیں اورانہیں پھرنہ کوئی پوچھنے والاہوتاہے اورنہ ہی اس ظلم اورلوٹ مار کی کسی کوکوئی پرواہ ہوتی ہے۔

اورپرواہ ہوبھی کیسے ۔۔؟کیونکہ حکمرانوں ،سیاستدانوں اورمنتخب ممبران کی کیا،کوئی چیزمہنگی ہویاسستی ،انہوں نے کونسے اپنے پیسوں سے خریدنی ہیں،ان کوتوسب کچھ گھرکے اندرمل ہی جاتاہے ۔ان کوتویہ بھی نہیں پتہ ہوتاکہ ٹماٹرکاکیانرخ ہے۔۔؟چینی کتنے روپے میں کلوفروخت ہورہی ہے۔۔؟یاگوشت اوردال کے کیاباؤچل رہے ہیں ۔۔؟ اسی وجہ سے ملک میں اندھیرنگری کاسماں ہے۔

جس کی جس طرح مرضی وہ غریبوں کی چمڑی ادھیڑے،ان کوچونالگائے،دووقت کی روٹی کے لئے تڑپنے والوں کودونوں ہاتھوں سے لوٹے۔فوڈانسپکٹر،ڈرگ انسپکٹرسمیت اس ملک میں ہرگناہ گارکوسیدھاکرنے کے لئے سرکاری سطح پرکوئی نہ کوئی انسپکٹر،اہلکاراورافسرتوضرورمقررہے مگراس کے باوجودسرکاری سطح پرقوم اورغریب دشمنوں کولگام دینے کی کارکردگی صفربرابرہے صفرہی ہے۔

آج ہی اگراس ملک میں کوئی حکومتی عہدیدار،وزیر،مشیریاکوئی اعلیٰ سرکاری افسرسردارداؤدبن کرصرف ایک بارکسی گرانفروش،کسی ذخیرہ اندوز،کسی ناجائزمنافع خوراورعوام کودونوں ہاتھوں سے لوٹنے والے کسی لٹیرے کوصرف ایک بارعبرت کانشان بناتے ہوئے ان سے کہے کہ اب ماروتالی ۔توہمیں سوفیصدیقین ہے کہ اس ایک تالی مارنے سے اس ملک کے سارے گرانفروش،ذخیرہ اندوزاورناجائزمنافع خورخودبخودٹھیک اورملک میں برسوں سے جاری ظلم وستم اورلوٹ مارکاسلسلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے گامگرشرط یہ ہے کہ کوئی توصحیح معنوں میں سردارداؤدبن کرمیدان میں آئے ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Koi Hai Ju Kahe Column By Umer Khan Jozvi, the column was published on 02 November 2018. Umer Khan Jozvi has written 301 columns on Urdu Point. Read all columns written by Umer Khan Jozvi on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.