اکائیوں کے اعتماد کے بغیر بجٹ پیش کر کے صوبوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا گیا، شیری رحمن

ووٹ کی عزت کا منبع صرف پارلیمنٹ،بغیر مینڈیٹ کے چھٹا بجٹ پیش کرنا جمہوری اور سیاسی طرز عمل سے کھلواڑ ہے، اپوزیشن لیڈر کی سینیٹ میں اظہار خیال معیشت کو سیاست سے بالاتر رکھنا چاہیے، تمام اعداد وشمار کو رد کرنا غیر منطقی ،معاشی ایمرجنسی کی باتیں کرنا ملک کے مفاد میں نہیں،مشیر ریونیوو اقتصادی امورہارون اختر

پیر اپریل 22:48

اکائیوں کے اعتماد کے بغیر بجٹ پیش کر کے صوبوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا گیا، ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ وفاقی اکائیوں کی رضا مندی کے بغیر حکومت نے وفاقی بجٹ پیش کر کے صوبوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا گیا،آٹھواں این ایف سی کے بغیر بجٹ پیش کیا گیا مگر صوبوں سے پوچھا تک نہیں گیا،بنیادی باتوں کو نظر انداز کر کے پارلیمنٹ کو بے توقیر کیا گیا،سڑکوں اور عدالتوں میں ووٹ کی تقدس کی بات کی جاتی ہے،سوائے پارلیمنٹ کے ووٹ کی تقدس کا کوئی منبع نہیں۔

پیر کوسینیٹ بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے شیری رحمن نے سوال اٹھایا کہ کس طرح حکومت ایک سال کیلئے پاکستان کی مستقبل کی راہ متعین کر سکتی ہی کون کہ سکتا ہے ،،بجٹ دے سکتا ہی بغیر مینڈیٹ کے چھٹا بجٹ کیسے پیش کیا یہ طرز عمل جمہوری اور سیاسی طرز عمل سے کھلواڑ ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے ایوان میں وزراء کی غیر حاضری پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکمران گلیو ں میںدھونس، دھاندلی سے ووٹ کی تقدس کی بات تو کرتے ہیں مگر وزراء ایوان سے غیر حاضر رہتے ہیں،،ووٹ کی تقدس کرنے والوں نے راتوں رات آرڈیننس لا کر ووٹ کے تقدس کو بلڈوز کیا،رانا افضل بجٹ پیش کرسکتا تھا مگر غیر منتخب شخص کے ذریعے بجٹ پیش کرایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ صوبوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈال کر پیش کیے بجٹ کو منظور نہیں ہونے دیں گے،ہم چاہتے ہیں پاکستان ترقی کرے مگر آنے والی حکومت کا حق چھیننا جمہوری رویہ نہیں،یہ بجٹ پاکستان کی بربادی والا بجٹ ہے،اگلی حکومت مشکلات سے دوچار ہوگی،سرمایہ داروں کو ریلیف دیا گیا، عام آدمی کیلئے بجٹ میں کچھ نہیں،اس بجٹ کے ذریعے عوام پرپیڑول بم گرایا گیا،پیڑول 200 فیصد،مٹی کا تیل400 فیصد اور ہائی اوکٹین تیل100 فیصد مہنگا ہوگا،موٹر سائیکلز، فریج اور گاڑیوں کر تالے لگ جائیں گے،اس بجٹ سے غریب آدمی کا چولہا بجھے یا نہیں بجھے اس میں میرے گھر کا چولہا بجھتے ہوئے ضرور دیکھ رہی ہوں۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ملک میں150 سے زائد ٹیکسٹائل ملز بند ہو چکی ہیں،جتنی گیس نکلتیں ہیں ان پر ٹیکس لگا یا گیا،،وزیراعظم ایل این جی معاہدے سے متعلق ایوان کو تفصیلات سے کیوں آگاہ نہیں کررہی حکومت بجلی کے ٹیرف بھی نہیں دے رہی،ملک میں پانی کا سنگین بحران ہے مگر حکومت کے پاس اس سے نمٹنے کیلئے کوئی پالیسی نہیں۔انہوں نے کہا کہ ایوان صدر کا روزانہ خرچہ98 لاکھ روپے ہیں،،زرداری دور میں صرف6لاکھ روپے تھا، زرداری نے تمام اخراجات کو کم کیے، جتنے بھی چائے ایوان میں پلائے جاتے تھے سب کے خرچے شریک چیئرمین نے اپنے جیب سے ادا کیے،پبلک اکائونٹس کمیٹی میں خورشید شاہ کھلاتے ہیں اور میں اپنی کافی خود لیکر آتی ہوں،صدر ممنون اتنا معصوم ہے کہ ان کو پتہ ہی نہیں۔

مشیر ریونیوو اقتصادی امور سینیٹر ہارون اختر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ معیشت کو سیاست سے بالاتر رکھنا چاہیے، تمام اعداد وشمار کو رد کرنا غیر منطقی ہے،معاشی ایمرجنسی کی باتیں کرنا ملک کے مفاد میں نہیں،اعداد و شمار کو رد کرنے سے پہلے ان کو سمجھنا چاہیے،آٹے کی قیمت بڑھنے سے معیشت کی ترقی کا اندازہ نہیں ہوتا ، معیشت کی ترقی کی اکنامک انڈیکیٹرز سے ہوتی ہیں۔

مشیر ریونیو و اقتصادی امور نے کہا کہ ملک کے جی ڈی پی میں 5.8 کی گروتھ ہوئی ہے جو کہ2013 میں3.68 پر تھی،انڈسٹری کی گروتھ2013 میں0.0 فیصدتھی جبکہ آج5 فیصد پر پہنچ گئی ہے، زراعت2013 میں2.68 فیصد گروتھ پر تھی جبکہ آج3.81 فیصد پر پہنچ چکی ہے،سروسز 2013 میں5.13 فیصد تھی جبکہ آج6.43 فیصد تک پہنچ چکی ہے،لارج مینوفیکچرنگ سکیل میں6.2 فیصد تک اضافہ ہواہے،گندم24.21 بلین ٹن سے بڑھ کرساڑھے پچیس بلین ٹن تک پہنچ چکی ہیں،گنا63.7 فیصد سے بڑھ کر81.8 فیصد تک پہنچ چکی ہے، مہنگائی میں کمی واقع ہوئی ہے،فی کس آمدنی 2013 میں1333 ڈالر تھی جبکہ آج 1640 ڈالر چھوڑ کر جا رہے ہیں،بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئی2013 میں 46.6 بلین رکھے گئے جبکہ آج120 بلین رکھے گئے ہیں،بیروزگاری کی شرح میں6.20 سی5.9 فیصد پر آگئی ہے،سٹاک مارکیٹ 2013 میں19 ہزار 916 پر تھی جبکہ آج45 ہزار828 پر پہنچ چکی ہے۔

انہوں نے عمران خان کی تقریر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک تقریر میں 8ارب روپے جمع کرنے کے بارے میں سنا ہم نے تو جمع کیا اور دے کر بھی جارہے ہیں،،نواز شریف کے وژن کے مطابق چین پاکستان اقتصادی راہداری جیسے منصوبے کا آغاز ہوا،بارہ ہزار نئی بجلی سسٹم میں شامل کیے ہیں،مشیر ریونیو نے کہا کہ ہم نے تنخواہ دار طبقہ کو آڈٹ سے باہر نکالا اور بجٹ بھی تین سال میں کرانے کا فیصلہ کیا،بائیں فلاحی اداروں کو ٹیکس نیٹ سے مستثنیٰ کیا،ہم نے ہر سیکٹر کو ریلیف دیا، اس بجٹ کی تیاری میں200 ایسو سی ایشنز اور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کو اعتماد میں لیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر دس سال تک معیشت کی پالیسی یکساں رہی تو آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔سینیٹر سکندر میندھرو نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے پاس سال کا بجٹ پیش کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا، یہ کہا گیا کہ اگلی حکومت بجٹ میں تبدیلی کرسکتی ہے، اس کا مطلب حکومت کو یقین نہیں تھا کہ اگلی حکومت دوبارہ ان کی ہوگی،حکومت نے ایک ہاتھ سے ریلیف دے کر دونوں ہاتھوں سے غریبوں کو لوٹا ہے۔قبل ازیں قائدایوان سینیٹر راجہ ظفر الحق نے سینیٹ کی قائمہ اور خصوصی کمیٹیوں کے انتخاب کی تحریک پیش کی، سینیٹ کا جلاس بدھ کے دوپہر 3:00 تک ملتوی کردی۔