بلوچستان اسمبلی ، کوئٹہ میں امن و امان کی مخدوش صورتحال سے متعلق تحریک التوا ء بحث کے لئے منظور

کورم کی نشاہدہی کی وجہ سے بحث مکمل نہ ہوسکی،اسمبلی نے پبلک ویلفیئر ہسپتال سوئی ، سینما گھروں میںامتناع تمباکونوشی ،بلوچستان میں کم سنوں کی تمباکو نوشی ، بلوچستان پبلک سروس کمیشن میں ترمیمی، بلوچستان آرٹس کونسل ،بلوچستان کچی آبادی مستقلی اور کچی آبادی کے ڈھانے کی ترقی سے متعلق قوانین منظور کر لئے

پیر اپریل 23:49

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) بلوچستان اسمبلی میں کوئٹہ میں امن و امان کی مخدوش صورتحال سے متعلق تحریک التوا ء بحث کے لئے منظور تاہم کورم کی نشاہدہی کی وجہ سے بحث مکمل نہ ہوسکی،،اسمبلی نے پبلک ویلفیئر ہسپتال سوئی ، سینما گھروں میںامتناع تمباکونوشی ،،بلوچستان میں کم سنوں کی تمباکو نوشی ، بلوچستان پبلک سروس کمیشن میں ترمیمی، بلوچستان آرٹس کونسل ،،بلوچستان کچی آبادی مستقلی اور کچی آبادی کے ڈھانے کی ترقی سے متعلق قوانین منظور کر لئے ایوان میں جنگلات و جنگلی حیات کی کارکردگی اور درپیش مسائل پر غورو خوض کی بابت مجلس کی رپورٹ منظور،،بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر راحیلہ حمید خان درانی کی صدارت میں دور روزہ وقفے کے بعد ایک گھنٹہ بیس منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا، اجلاس میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ و رکن اسمبلی سردار اختر جان مینگل نے تحریک التواء پیش کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ میں امن و امان کی صورتحال مخدوش ہوتی جارہی ہے ہزارہ برادری اور مسیحی برادری کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک کئی بے گناہ جانوں کا ضیاع ہوچکا ہے چونکہ یہ ایک انتہائی اہم نوعیت کا عوامی مسئلہ ہے اس لئے ایوان کی کارروائی روک کر اس اہم نوعیت کے مسئلے کو زیر غور لایا جائے ۔

(جاری ہے)

سردار اختر جان مینگل نے کہا کہ نہتے لوگوں کی جانیں ضائع ہورہی ہیں گلی محلے اور شاہراہیں بہار کے موسم میں پھولوں اور باغات کی خوشبوسے جانی جاتی تھیں لیکن اب ہر گلی محلہ خون آلود ہوچکا ہے کوئی بھی طبقہ ، فرقہ ، قوم محفوظ نہیں ہے اور نہ ہی عبادتگاہیں چاہے مسجد ہو امام بارگاہیں ہوں یا چرچ کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں ہے مارچ اور اپریل کے مہینے میں ٹارگٹ کلنگ کے کئی واقعات رونما ہوئے ہیں گزشتہ روز جان محمد روڈ پر تین بے گناہ شہریوں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا چار مارچ کو ایک شخص کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا ،8مارچ کو کلی جیو میں دو افراد کو نشانہ بنایا گیا یکم اپریل کو قندھاری بازاری میں ٹیکسی پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا جس میں ایک شخص جاں بحق ایک زخمی ہوگیا 18اپریل کو عبدالستار روڈ پر حاجی آصف نامی شخص کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا اور ان کا بیٹا زخمی ہوگیا ۔

22اپریل کو بھی دہشت گردی کے واقعے میںدو افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور ایک اہلکار زخمی ہوگیا ۔ شاہ زمان روڈ پر مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے چار افراد کو نشانہ بنایا گیا 15اپریل کو عیسیٰ نگری میں دو افراد کو نشانہ بنایاگیا سریاب روڈ پر حاجی خیر بخش کو قتل کیا گیا ان تمام تر واقعات کے بعد لوگ سراپا احتجاج ہیں اس سے قبل کئی جنازے اٹھے ہیں، مسخ شدہ نعشیں دیکھنی پڑیں اور توتک میں اجتماعی قبریں دریافت ہوئیں اگر ہمارے ملک میں بیرونی ہاتھ حالات کی خرابی میںملوث ہیں تو ہم نے بھی کسی کو کہیں نہیں چھوڑا ۔

اگر ہمارے ہاں بیرونی ہاتھ آسکتے ہیں تو کونسے ہمسایہ ملک ہیں جن کے ساتھ ہمارے اچھے تعلقات ہوں اور ہم ان میں مداخلت نہ کرتے ہوں جب یہاں سے مداخلت ہوتی ہے تو وہاں سے بھی پھول نہیں آئیں گے اس کے علاوہ جتنے بھی واقعات ہوئے ہیں کیا ان واقعات میں کوئی تفتیش کی گئی جو ثبوت ملے ہیں کیا ان کی تحقیقات ہوئی ہیں جب کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو ہم اس جگہ کو عام ٹریفک کے لئے بند کردیتے ہیں اور کرائم سین کی پٹی لگا کر اسے سیل کردیا جاتا ہے تفتیش کے بعد کتنی گرفتاریاں ہوئی ہیں گزشتہ چار سال کے دوران کئی حکومتیں تبدیل ہوئیں اور پہاڑوں سے لوگوں کو سرنڈر کرکے ان کاکارڈ استعمال کرکے وزارت اعلیٰ تو حاصل کی گئی وزارتیں بھی لی گئیں فوٹو سیشن بھی ہوئے جنہوں نے سنی ، شیعہ ، مسیحی اور کسی اورطبقے کو ٹارگٹ کیا ہے کیا ان میں سے کسی کو سرنڈر کیا گیا کیوں نہیں کرائے جاتے گڈا ور بیڈ کی تمیز کی جارہی ہے روزانہ لوگ ٹارگٹ کئے جارہے ہیں کیا مذہب کے نام پر دہشت گردی کرنے والوں کو گرفتار کیا گیا ہے کیونکہ وہ صرف ایک طبقے یا فرقے کے نہین بلکہ تمام انسانیت کے قاتل ہیں کوئٹہ اور بلوچستان کے حالات اس وقت تک ٹھیک نہیں ہوسکتے جب تک ان لوگوں پر ہاتھ نہ ڈالا جائے جو حقیقی معنوں میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہیں ۔

صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے ایوان میں اظہار خ،ْیال کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال خراب ہے اراکین ایوان میں تنقید کی بجائے تجاویز دیں اور اب یہ جنگ پارلیمنٹ سے ہی لڑنی ہوگی جب پارلیمنٹ ٹھوس تجاویز دے گی تو اس پر ہم آگے جا کر لائحہ عمل طے کرسکتے ہیں سب اراکین اور لوگوں کو پتہ ہے کہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اتنے لوگ مرے ہیں چار سال میں کئی مرتبہ امن وامان ، صحت اور تعلیم سے متعلق بحث کی گئی مگر کسی خاص نتیجے پر نہیں پہنچے اسمبلی نے روڈ میپ دینا ہے حکومت پر تنقید کرنا ہر کسی کا حق ہے مگر ہم سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی اس وقت ختم ہوسکتی ہے جب ہم متحد ہو کر دہشت گردوں کا مقابلہ کریں اور یہ بتایا جائے کہ دہشت گردی کی جنگ کیسے ختم کی جاسکتی ہے جو ہمارے بس میں ہے وہ ہم کریں گے فارن پالیسی پر وفاق سے ہی بات کرسکتے ہیں انہوں نے کہا کہ اس وقت ہم حالت جنگ میں ہیں ایک دوسرے پر تنقید کرنے کی بجائے آج سے لائحہ عمل طے کیا جائے تاکہ ہم اس ناسور کو ختم کرسکیں بعدازاں ایوان نے تحریک التواء کو بحث کے لئے منظور کرلیا ۔

اجلاس میں پبلک ویلفیئر ہسپتال سوئی کا مسودہ قانون مصدرہ2018(مسودہ قانون نمبر18مصدرہ2018)کی بات کمیٹی کی رپورٹ کی مدت میں آج تک توسیع کی تحریک قائم مقائم چیئر مین مجلس قائمہ بر محکمہ صحت عامہ و بہبود آبادی میر مجیب الرحمان محمد حسنی نے ایوان میں پیش کی جس کے بعد وزیر صحت میر عبدالماجد ابڑو نے پبلک ویلفیئر ہسپتال سوئی کے مسودہ قانونمصدرہ2018(مسودہ قانون نمبر18مصدرہ2018)کو کمیٹی سفارشات کی بموجب منظور کرنے کی تحریک پیش کی ایوان نے متفقہ طو رپر مسودہ قانون کو کمیٹی سفارشات کے بموجب منظ.ر کرلیا ۔

سینما گھروں میںامتناع تمباکونوشی کا مسودہ قانون مصدرہ2018(مسودہ قانون نمبر19مصدرہ2018))بلوچستان منسوخی بارے کمیٹی کی رپورٹ کی مدت میں توسیع کی تحریک قائمقام چیئر مین مجلس قائمہ بر محکمہ صحت ،،بہبود آبادی میر مجیب الرحمان محمد حسنی نے ایوان میں پیش کی جبکہ کمیٹی سفارشات کے بموجب سینما گھروں میںامتناع تمباکونوشی کا مسودہ قانون مصدرہ2018(مسودہ قانون نمبر19مصدرہ2018))بلوچستان منسوخی بارے تحریک وزیر صحت میر عبدالماجد ابڑو نے پیش کی ۔

ایوان نے مذکورہ مسودہ قانون کو بھی کمیٹی سفارشات کے بموجب منظور کرلیا ۔۔بلوچستان میں کم سنوں کی تمباکو نوشی کا مسودہ قانون مصدرہ2018(مسودہ قانون نمبر20مصدرہ2018) بلوچستان منسوخی کی بابت کمیٹی کی رپورٹ میں توسیع کی تحریک قائمقام چیئر مین مجلس قائمہ برائے محکمہ صحت عامہ و بہبود آبادی میر مجیب الرحمان محمد حسنی نے ایوان میں پیش کی جبکہ کمیٹی سفارشات کے بموجب بلوچستان میں کم سنوں کی تمباکو نوشی کا مسودہ قانون مصدرہ2018(مسودہ قانون نمبر20مصدرہ2018) بلوچستان منسوخی کی تحریک وزیر صحت میر عبدالماجد ابڑو نے ایوان میں پیش کی جس کی ایوان نے منظوری دے دی ً’’ بلوچستان مالی مسودہ قانون مصدرہ2018ء (مسودہ قانون نمبر13مصدرہ 2018ئ) بابت کمیٹی سفارشات کو زیر غور لانے اور کمیٹی سفارشات کے بموجب اس کی منظوری کی تحاریک میر عبدالماجد ابڑونے ایوان میں پیش کی جس کے ایوان نے منظوری دے دی ۔

بلوچستان کچی آبادی مستقلی اور کچی آبادی کے ڈھانے کی ترقی کا مسودہ قانون مصدرہ2018(مسودہ قانون نمبر23مصدرہ2018)بابت ایوان کی قائمہ کمیٹی کی رپورٹ میں توسیع کی تحریک کمیٹی کی رکن معصومہ حیات نے ایوان میں پیش کی جس کے بعد صوبائی وزیر میر غلام دستگیر بادینی نے بلوچستان کچی آبادی مستقلی اور کچی آبادی کے ڈھانے کی ترقی کا مسودہ قانون مصدرہ2018(مسودہ قانون نمبر23مصدرہ2018)کو کمیٹی سفارشات کے بموجب منظور کرنے کی تحریک پیش کی ایوان نے کمیٹی سفارشات کے بموجب مذکورہ بالا مسودہ قانون کو بھی متفقہ طور پر منظور کرلیا ۔

بلوچستان اسسمنٹ اینڈ ایگزامینیشن کا مسودہ قانون مصدرہ2018ء (مسودہ قانون نمبر14مصدرہ 2018ء ) صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے صوبائی وزیر تعلیم کی عدم موجودگی پر ایوان میں پیش کی جسے سپیکر نے ایوان کی متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کرنے کی رولنگ دی ۔وزیر تعلیم کی ایوان میں عدم موجودگی پر صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے بلوچستان پبلک سروس کمیشن کا ترمیمی مسودہ قانون مصدرہ2018ئ(مسودہ قانون نمبر22مصدرہ2018ئ)ایوان میں پیش کیا ۔

جس کے بعد ایوان کی مشاورت سے اسے بلوچستان اسمبلی کے قواعد و انضباط کار سے مستثنیٰ قرار دینے کی تحریک پیش ہوئی بعدازاں مذکورہ مسودہ قانون پراختلافی رائے آنے کے بعد رائے شماری کرائی گئی جس پر 22ارکان نے مسودہ قانون کے حق میں جبکہ9نے مخالفت میں ووٹ دیا جس پر سپیکر نے مذکورہ مسودہ قانون کو منظور کرنے کی رولنگ دی ۔ بلوچستان آرٹس کونسل کا مسودہ قانون مصدرہ2018ئ(مسودہ قانون نمبر24مصدرہ2018ئ)صوبائی وزیر سید آغا رضا نے صوبائی اسمبلی کے ایوان میں پیش کیا ۔

اجلاس میں چیئر پرسن مجلس قائمہ برائے محکمہ آبپاشی ، توانائی ، ماحولیات ، جنگلات و جنگلی حیات یاسمین لہڑی نے جنگلات و جنگلی حیات کی کارکردگی اور درپیش مسائل پر غورو خوض کی بابت مجلس کی رپورٹ ایوان میں منظوری کے لئے پیش کی جس کی ایوان نے منظوری دے دی ۔اجلاس میں پشتونخوا میپ کی رکن عارفہ صدیق نے پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ پریس کلب کے باہر ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والی خواتین بھوک ہڑتالی کیمپ میں احتجاج کررہی ہیں ایوان اس پر کمیٹی بنا کر ان سے مذاکرات کرے کیونکہ اس وقت ان کے پیارے ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے ہیں نیشنل پارٹی کی رکن اسمبلی ڈاکٹر شمع اسحاق نے کہا کہ دھرنے میں خواتین اور بچے موجود ہیں جن کے بچے اور اہلخانہ ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ ہوگئے جب خواتین سڑکوں پر آتی ہیں تو ہمیں ان سے ہر حال میں مذاکرات کرنے چاہئیں ۔

صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ صرف ہزارہ خواتین نہیں بلکہ پشتین تحریک کے لوگ بھی وہاں بیٹھے ہوئے تھے وہ خواتین جن کے پیارے ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے ہیںا ن کے پاس ہم کل بھی گئے تھے اور آئندہ بھی جائیں گے ان کا مطالبہ صوبائی حکومت سے نہیں بلکہ فوج سے ہے جب پارا چنار میں اس طرح واقعہ ہوا تھا تو اس وقت کے آرمی چیف گئے تھے اور ان کے مطالبات تسلیم کئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ جن لوگ شہید ہوئے کیمپ میں ان سے زیادہ اور لوگ بیٹھے ہوئے تھے اور یہ ایک قوم پرست جماعت کے ورکر بھی بیٹھے ہوئے تھے جہاں کوئی دھرنے پر ہے ہم مذاکرات کے لئے جائیں گے مگر وہاں پر ماحول کچھ اور ہے وہ مذاکرات کے لئے تیار ہی نہیں ۔ صوبائی وزیر قانون سید آغا رضا نے کہا کہ احتجاجی کیمپ میں بیٹھی ہوئی خواتین سے مذاکرات کے لئے کمیٹی بنائی جائے کیمپ میں مقامی سے زیادہ غیر ملکی لوگ ہیں جنہوں نے کیمپ کو ہائی جیک کیا ہے ملک ،،فوج اور ریاست کے خلاف کچھ برداشت نہیں کریں گے ہم شیعہ ہزارہ پاکستانی ہیں اور اس سرزمین کے مالک ہیں ہم ملکی قوانین کے تحت یہاں رہنا چاہتے ہیں ہمیں جینے کا حق دیا جائے ڈاکٹر حامدخان اچکزئی نے کہا کہ اگر کیمپ میں غیر ملکی بیٹھے ہیں تو ان کو گرفتار کیوں نہیں کیا جاتا پشتونخوا میپ کسی بھی صورت ملک کے خلاف نہیں بولتی مگر جہاں ظلم ہوگا وہاں ہم ضروربات کریں گے چاہے ظلم جس نے بھی کیا ہے ہم خاموش نہیں رہیں گے ۔

سفید گائے کا نام اب ہر کوئی لے گا۔ سید لیاقت آغا نے کہا کہ پشتونخوا میپ مذکورہ دھرنے کا حصہ نہیں تاہم بحیثیت پارٹی ہم ہر مظلوم کے ساتھ ہیں ملک کے خلاف کوئی بھی لفظ ہم برداشت نہیں کریںگے ۔ سپیکر نے میر سرفراز بگٹی کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی جس میں نواب ایاز خان جوگیزئی ، مولانا عبدالواسع ، سید آغا رضا ، عارفہ صدیق اور ڈاکٹر شمع اسحاق شامل ہوں گے مذکورہ کمیٹی احتجاج پر بیٹھی ہوئی خواتین سے جا کر مذاکرات کرے گی ۔

اجلاس میں نیشنل پارٹی کی رکن یاسمین لہڑی نے کہا کہ اس وقت اگلے مالی سال کے بجٹ کی تیاری کا عمل جاری ہے جنگلات و جنگلی حیات کے لئے فنڈز مختص کیا جائے ایک درخت کاٹنے کی سزا صرف پچاس روپے ہے ایکٹ منظ.ر کیا جائے تاکہ کوئی درخت نہ کاٹے ۔ سپیکر نے کہا کہ اسمبلی میں درختوں کی کٹائی نہیں ہورہی سوشل میڈیا پر اس حوالے سے واویلا کیا جارہا ہے کہ درختوںکی کٹائی کی جارہی ہے درختوں کی کٹائی نہیں بلکہ مذکورہ درختوں کو کسی اورجگہ شفٹ کیا جائے لیکن ابھی تک صوبے میں ایسی کوئی مشین نہیں جو درخت کو کاٹ سکے رکن صوبائی اسمبلی سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ سوشل میڈیا کہاں سے پاور فل ہوگیا جہاں دیکھا اس کے خلاف بولتے ہیں دنیا میں جدید مشینری آگئی ہے وزیراعلیٰ سے گزارش ہے کہ وہ نئی مشینری کے لئے فنڈز مہیا کرے تاکہ درختوں کی کٹائی نہ ہو ۔

بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا کہ جنگلات و جنگلی حیات کے تحفظ کی بات تو ہم کرتے ہیں اس وقت صوبے میں تین نیشنل پارکس ہیں ۔ ہنگول ، زیارت اور چلتن پارک ہیں ۔ا سی ایوان نے پانچ منٹ میں ہنگول پارک کی سولہ ہزار ایکڑ اراضی سپارکو کو الاٹ نہیں کی جنگلات و جنگلی حیات کیا اس میں نہیںتھے ۔ وہاں کریش پلانٹ لگایا گیا اسی طرح کوئٹہ کی خوبصورت وادی کو بھی کریش پلانٹس کی نذر کردیا گیا جس کی وجہ سے لوگ مختلف بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں ۔

جانور انسان کی بات برداشت نہیں کرتے تو جنگی جہاز کی آوازیں کیسے برداشت کریں گے ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے ایوان کو بتایا کہ درختوں کو کسی اور جگہ شفٹ کرنے کے لئے جدید مشینری خریدنے کے لئے لیٹر متعلقہ محکمے کو ارسال کردیاگیا ہے تاہم بلوچستان ہائیکورٹ میں ایس ڈی آئی کے فنڈز سے متعلق کیس کے باعث ہم کچھ نہیں کرسکتے تاہم پنجاب سے دو مشینیں کرائے پر لائی جارہی ہیں ۔

ماضی میں کچھ نہیں کیا گیا ۔گزشتہ اجلاس میں کورم پورا نہ ہونے کے باعث موخر ہونے والی تحریک التواء پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے اے این پی کے انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ پچھلے سال بھی ضلع قلعہ عبداللہ میں بارشوں سے فصلیں تباہ ہوئی تھیں لیکن ان کا امدادی سامان صرف ایک تحصیل میں بانٹ دیاگیا میری تجویز ہے کہ متاثرہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز سے رپورٹ طلب کی جائے اور اسی حوالے سے انصاف کی بنیاد پر امدادی سامان تقسیم کیا جائے اور ژالہ باری سے متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دیا جائے ۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے ڈاکٹر حامدخان اچکزئی نے کہا کہ ہم زمینداری کے لئے زیر زمین پانی پر انحصار کرتے ہیں جو دن بدن کم ہوتاجارہا ہے کان مہترزئی،زیارت سمیت دیگر علاقوں میں ژالہ باری اور برفباری ہوئی اس سے کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں جس کی وجہ سے زمینداروں کو شدید نقصان ہوا ہے لہٰذا ان کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے ۔ بی این پی کے سردار اختر جان مینگل نے کہا کہ بلوچستان کے سرد علاقوں میں ژالہ باری سے نقصانات ہوئے ہیں قلات ، منگچر ، سوراب میں بھی نقصانا ت ہوئے مخصوص علاقوں کی بجائے تمام علاقے جن میں نقصانات ہوئے ہیں ان کی جامع رپورٹ مرتب کرکے نقصانات کا ازالہ کیا جائے ۔

بلوچستان قدرتی ، سرکاری اور انسانی آفات کا شکار ہے لیکن یہاں لوگو ں کو معاوضہ نہیں مل رہا آواران کے لوگ آج بھی کھلے آسمان تلے زندگی گزار رہے ہیں ۔ شاہ نورانی سیلاب کے متاثرین کو بھی امداد نہیں دی گئی وزیرداخلہ و پی ڈی ایم اے سے گزارش ہے کہ اگر کسی کو امدادی سامان دیا جاتا ہے تو اس کی جانچ پڑتال بھی کی جائے ۔ جمعیت العلماء اسلام کے مولانا عبدالواسع نے کہا کہ موجودہ حکومت نے پانچ سالوں میں زمینداروں سے کوئی تعاون نہیں کیا انہیں تین دن میں صرف تین گھنٹے بجلی ملتی ہے حکومت زمینداروں کے ساتھ تعاون کرے ۔

صوبائی وزیر داخلہ و پی ڈی ایم اے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ میں اراکین اسمبلی کی تجاویز کی مخالفت کرتا ہوں ژالہ باری سے میں بھی متاثر ہوا ہوں لیکن اگر اس طرح کے نقصانات کے ازالوں میں لگ گئے تو پورا بجٹ یہیں خرچ کرنا پڑ جائے گا اگر ہم ازالے کے لئے محکمہ ریونیو کو لکھیں گے تو وہ پہلا سروے کرے گا پھر وزیراعلیٰ کو سفارش کرے گا جس کے بعد مزید لمبا چوڑا طریقہ کار ہے ایسا کرنا ممکن نہیں اگر بجٹ میںخصوصی طو رپر کوئی فنڈقائم کیا جائے تو اس پر اعتراض نہیں اور ان علاقوں کو آفت زدہ بھی قرار نہیں دیا جاسکتا ۔

جس کے بعد چیئر پرسن یاسمین لہڑی نے کہا کہ چونکہ وزیرداخلہ نے اراکین کے موقف کی حمایت نہیں کی اور ان علاقوں کو آفت زدہ بھی قرار نہیں دیا جاسکتا لہٰذا تحریک کو نمٹادیاجاتا ہے ۔ اجلاس میں بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل کی جانب سے لائی گئی تحریک التواء پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے مجلس وحد ت المسلمین کے رکن و صوبائی وزیر سید آغا رضا نے کہا کہ ہمارے پاس دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کرتے کرتے الفاظ ختم ہوگئے ہیں ہزارہ قوم جمہوری لوگ ہیں جب ہم نے چیف آف آرمی سٹاف کو بلانے کا مطالبہ کیا ہے تو یہ اسمبلیوں کے لئے تشویشناک بات ہے کیونکہ لوگ نظام سے مایوس ہورہے ہیں یہ لوگ وزیراعظم اور صدر کو بھی بلاسکتے تھے مگر انہیں اداروں پر اعتبار ہے انہوں نے کہا کہ دشمن نے ملک کو ہمیشہ کمزور کرنے کے لئے شیعہ برادری کو نشانہ بنایا ہے شیعہ نے نہ تو آج تک فوجیوں کو مارا نہ قائداعظم ریذیڈنسی جلائی نہ مسلح لشکر بنائے اور انہیں اسی بات کی سزا دی جارہی ہے کہ وہ پاکستانیت کی بات کیوں کرتے ہیں ہمیں سیکورٹی کے نام پر ڈیڑھ اور دو کلو میٹر کے علمدار روڈ اور ہزارہ ٹائون میں قید کردیاگیا ہے جس سے ہماری نہ صرف سماجی بلکہ معاشی زندگی بھی شدید متاثرہوئی ہے انہوں نے کہا کہ آخر کب تک ریاست سعودی عرب اور امریکہ کو خوش کرنے کے لئے ہمارا خون بہنے دے گی دھرنے میں موجود کچھ لوگوں نے یہ تقریر کی کہ وہ اسلام آباد جا کر اقوام متحدہ سے مدد طلب کریں گے میں اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں آٹھ رکنی تنظیم کے لوگ بچگانہ باتیں کررہے ہیں کیا یہ کشمیر ہے کہ ہم اقوام متحدہ سے مدد لیں گے ہمیں اپنی سیکورٹی فورسز پر اعتماد ہے اور ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ ہمارے قاتلوں کو عدالتوں سے سزا دی جائے ہم محب وطن ہیں اور مختلف ممالک کے ایجنڈے پر کام کرنے والے لوگوں سے لاتعلقی کااظہار کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ایران ، شام ،، عراق ،ا فغانستان یا کہیں بھی کچھ ہو تو ہمارا قتل عام شروع ہوجاتا ہے ہمیں کتنی بار یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ہم پاکستانی ہیں شیعہ اور ہزارہ برادری کا قتل عام روکنے کے لئے داخلہ اور خارجہ پالیسی تبدیل اور ریاست کو امریکہ و سعودی عرب کے لئے استعمال کرنا بند کرنا ہوگا انہوں نے کہا کہ جب سے سی پیک شروع ہوا ہے دہشت گردی کے واقعات رونما ہورہے ہیں ہم چاہ بہار کی بجائے گوادر کی بات کرتے ہیں ہم بلوچستان اور پاکستان کی ترقی کے خواہاں ہیں لیکن کچھ خریدے ہوئے لوگوں کو ہم پر مسلط کیا جارہا ہے جس کی کسی صورت اجازت نہیں دیں گے انہوں نے مطالبہ کیا کہ جب تک آرمی چیف دھرنے میں آکر ہم سے بات نہیں کریں گے تب تک دھرنا جاری رہے گا۔

اس موقع پر چیئر پرسن یاسمین لہڑی نے وزیراعظم سے متعلق ان کے کہے گئے الفاظ کارروائی سے حذف کرادیا ۔بحث میں حصہ لیتے ہوئے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے ولیم جان برکت نے کہا کہ ہم ہزارہ برادری کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی مذمت کرتے ہیں مسیحی برادری کے ساتھ بھی دہشت گردی کا یہ سلسلہ گزشتہ کچھ عرصے سے جاری ہے میں نے 16اپریل کو تحریک التواء جمع کرائی تھی مگر وہ آج تک ایوان میں نہ آسکی انہوں نے کہا کہ گزشتہ دسمبر سے لے کر اب تک مختلف واقعات میں درجنوں مسیحی ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں میں اپنی جانیں گنوا چکے ہیں امن وامان کے قیام کے لئے اعلانات کی بجائے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے مسیحی برادری کے ساتھ پیش آنے والے مختلف واقعات کے بعد میں وزیراعلیٰ اور وزیر داخلہ کے پاس گیا کہ وہ ہمارے لوگوں سے ملاقات کریں مگر آج تک انہوں نے کوئی ملاقات نہیں کی بلکہ ضلعی انتظامیہ کے کسی افسر نے بھی آنے کی زحمت نہیں کی جس سے ہماری مسیحی برادری مایوسی کا شکار ہے ۔

وزیرداخلہ نے 24اپریل کے اجلاس میں اراکین کو امن وامان پر ان کیمرہ بریفنگ دینے کی یقین دہانی کرائی تھی مگر آج تک بریفنگ نہیں دی گئی صرف یہ کہہ دینا کہ دہشت گردی میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے کافی نہیں جو بھی ہیں انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے ۔ صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کیمرہ بریفنگ میری ذمہ داری ہے مگر اس کااہتمام کرنا سپیکر کی ذمہ داری ہے تاریخ کا تعین کرکے مجھے بتایا جائے ۔

میں بریفنگ دینے کے لئے تیار ہوں یہ میرے لئے فخر کی بات ہوگی ۔ پشتونخوا میپ کے رکن ڈاکٹر حامد خان اچکزئی نے کہا کہ ہم حالات کو جانتے ہوئے بھی سمجھنے سے انکار کررہے ہیں ہم بڑے خطرناک حالات کا شکار ہیں دوسری جانب پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی کو بدنام کرنے کی کوشش ہورہی ہے انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں مسیحی برادری کے ساتھ جو رویہ رکھا جارہا ہے وہ افسوسناک ہے پوری دنیا میں اقلیتوں کو جو مقام دیا جاتا ہے وہ مسیحی برادری کو یہاں حاصل نہیں دوسری جانب دہشت گردی سے ملک میں آباد کوئی قوم یا مذہب محفوظ نہیں ہمارے اکابرین نے عوام کو ووٹ دینے کا مطالبہ کیا تو انہیں غدار قرار دیا گیا اب نواز شریف قوموں کے حقوق کی بات کررہے ہیں تو ان کے ساتھ بھی وہی سلوک ہورہا ہے ہم جب کسی بھی ادارے پر تنقید کرتے ہیں تو اسے اپنے ملک کا ادارہ سمجھ کر درستگی کے لئے کرتے ہیں اسے غلط نہ لیا جائے ۔

حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لئے سنجیدہ اقدامات کرے ہم ہر ممکن تعاون کریں گے اس کے لئے ملک کی خارجہ اور داخلہ پالیسی تبدیل اور ہمسایہ ممالک میں عدم مداخلت کی پالیسی اختیار کرنا ہوگی انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت نے سب سے پہلے فرقہ واریت کے خلاف آواز بلند کی تھی ۔اس موقع پر اپوزیشن رکن عارفہ صدیق نے کورم کی نشاندہی کی جس پر چیئر پرسن نے کورم کے لئے پانچ منٹ تک گھنٹیاں بجانے کی ہدایت کی تاہم کورم پورا نہ ہوسکا جس کے بعدا نہوں نے اجلاس غیر معینہ مدت تک کے لئے ملتوی کردیا ۔