پیپلز پارٹی الیکشن میں ہار گئی تو بلاول بھٹو زرداری الطاف حسین کی طرح پاکستان واپس نہیں آئے گا، پیر سید علی گوہر شاہ راشدی

اگر ایم کیو ایم والے پی ٹی آئی میں شامل ہوجائیں تو کراچی اور اسلام آباد بھی صوبہ بن جائے گا، میں نہیں سمجھتا کہ الیکشن وقت پر ہوں گے،پی ٹی آئی میں شامل ہونے والوں کو اگر پی ٹی آئی میں ٹکٹ نہ ملی تو یہ واپس مسلم لیگ ق پیپلز پارٹی یا دوسری پارٹیوں میں شامل ہوجائیں گے، نیشنل پریس کلب میں گفتگو

اتوار مئی 19:50

انگھڑ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کے مرکز ی رہنما پیر پگارا کے بھائی پیر سید علی گوہر شاہ راشدی نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی الیکشن میں ہار گئی تو بلاول بھٹو زرداری الطاف حسین کی طرح پاکستان واپس نہیں آئے گا، اگر ایم کیو ایم والے پی ٹی آئی میں شامل ہوجائیں تو کراچی اور اسلام آباد بھی صوبہ بن جائے گا، میں نہیں سمجھتا کہ الیکشن وقت پر ہوں گے، پی ٹی آئی میں شامل ہونے والوں کو اگر پی ٹی آئی میں ٹکٹ نہ ملی تو یہ واپس مسلم لیگ ق پیپلز پارٹی یا دوسری پارٹیوں میں شامل ہوجائیں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو نیشنل پریس کلب کے وفد سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ پیر سید علی گوہر شاہ راشدی نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ الیکشن وقت پر ہوں گے۔

(جاری ہے)

پاکستان کو جنہوں نے گزشتہ 70سالوں سے چلایا ہے اب بھی وہی چلائیں گے۔ عمران خان کو کراچی اور سندھ میں جلسے کرنے سے فائدہ نہیں ہوگا ۔جہاں ان کو زور لگانا چاہیے کے پی کے میں وہاں وہ زور لگانہیں رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی میں جو تیزی دیکھی جارہی ہے شمولیت کے حوالے سے یہ وہ لوگ ہیں جن کو مسلم لیگ نواز۔۔۔پیپلز پارٹی یا دیگر پارٹیوں سے ٹکٹ ملنے کی امید نہیں۔ وہ پی ٹی آئی میں شامل ہورہے ہیں ۔ان کو اگر پی ٹی آئی میں شامل ہونا تھا تو چھ ماہ قبل جاتے ،ابھی جانے کا فائدہ نہیں ہے۔ پی ٹی آئی میں شامل ہونے والوں کو اگر پی ٹی آئی میں ٹکٹ نہ ملی تو یہ واپس مسلم لیگ ق پیپلز پارٹی یا دوسری پارٹیوں میں شامل ہوجائیں گے جو تیزی سے پی ٹی آئی میں شامل ہورہے ہیں۔

ان کو کچھ نظر آرہا ہے جو پاکستان میں نظر آتا ہے ۔وہ ہوتا نہیں ہے ۔جنوبی پنجاب صوبے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بہاولپور صوبے کا مطالبہ تھا اب بہاولپور والے ہی نہیں چاہتے کہ صوبہ بنے تو جنوبی پنجاب کسی بھی صورت میں صوبہ نہیں بن سکتا۔ اگر صوبہ بننا ہوتا تو 1971میں بن جاتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایم کیو ایم والے پی ٹی آئی میں شامل ہوجائیں تو کراچی اور اسلام آباد بھی صوبہ بن جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے دو سال قبل ہی کہہ دیا تھا کہ2018 کے الیکشن کے نتیجے میں نواز شریف اور زرداری حکومت میں نہیں ہونگے بلکہ مجھے تو عمران خان بھی سرکار میں نظر نہیں آرہے ہیں اور نہ ہی وفاق میں پی ٹی آئی نظر آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب میں نی28سال قبل یہ کہا تھا کہ نواز شریف اور ان کی کچن کابینہ مال بنارہی ہے تو مجھے کسی نے سنا تک نہیں تھا۔

آج اگر نوازشریف نے مال بنایا ہے تو عبدالستار ایدھی نے بھی تو مال بنایا ہوگا ۔جس نے چالیس سال سیاست کی ہو۔ انھوں نے ملک کو کچھ تو دیا ہوگا۔ زرداری نے تو مال بٹورا ہے نواز لیگ نے لاہور کو دنیا کا بہترین شہر جبکہ پنجاب کو ماڈل صوبہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالات بتارہے ہیں کہ اگر میں نے اور آپ نے دخل انداز ی نہ کی تو وفاق اور پنجاب میں مسلم لیگ نواز کی حکومت ہوگی۔

اگر آپ اور ہم نہیں چاہیں گے تو پھر نواز شریف کی حکومت نہیں ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ مشرف نی2003میں جو این آر او کیا تھا اس کو ختم کیوں نہیں کیا جاتا اس کو دیکھیں تو پھر کوئی بھی سیاست دان اہل ہوہی نہیں سکتا۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کو کنگری ہاوس میں بنایا گیا تھا میرے والد پیر پاگارا نے اس وقت بھی کہا تھا کہ جو اس کو بنارہا ہے ان ہی کو اس کو ختم کرنا پڑے گا۔

آج تاریخ شاہد ہے کہ جنہوں نے ایم کیو ایم کو بنایا تھا انھوں نے ہی ایم کیو ایم کو ختم کردیا ہے۔ کراچی پہلے بھی عوام کے پاس تھا اب بھی عوام کے پاس ہوگا۔ کراچی سے مسلم لیگ اور جماعت اسلامی کامیاب ہوگی جبکہ کے پی کے میں ایم ایم اے کامیاب ہوکر صوبائی حکومت بنائے گی۔ جی ڈی اے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ فنکشنل والے اگر اپنے کارڈ درست انداز میں کھیلتے توجی ڈی اے والے فنکشنل لیگ میں آجاتے ان کا کہنا تھا کہ جب میں14سال تک پیپلز پارٹی کا چیف پولنگ ایجنٹ تھا یہی قوتیں مسلم لیگ ق و دیگر پارٹیوں کو سپورٹ کرتی تھیں جو اب پیپلز پارٹی کو سپورٹ کررہی ہیں ان کا کہنا تھا کہ جی ڈی اے پرانے سسٹم کے مطابق الیکشن لڑے تو پیپلز پارٹی سندھ میں ان سے الیکشن جیت نہیں سکتی پیروں کے اتحاد کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں پیر صرف ایک ہی ہے شاہ محمود قریشی بہاولپور سے بھی جیت نہیں پائیں گے اس بار الیکشن مخدوم جمیل الزماں اور پیرپاگار ایک پلیٹ فارم پر الیکشن لڑیں ایسا ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ ایک میان میں دو تلواریں نہیں رہ سکتیں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بھی اس الیکشن میں حکومت ان کی بنے گی جو ہمیشہ سے حکومت کرتے ہوئے آرہے ہیں نواز شریف اور زرداری کسی بھی صورت میں دوبارہ حکومت میں نظر نہیں آرہے یہ لوگ شکرکریں اسٹیبلشمنٹ کا جنہوں نے ہاتھ ہلکا رکھا ہوا ہے ورنہ یہ لوگ اب تک جیل میں ہوتے الیکشن سے قبل اگر احتساب نہ ہوا تو یہ ملک اور قوم کے ساتھ بڑا ظلم ہوگا پیپلز پارٹی کی جانب سے بجلی و پانی پر احتجاج پر ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کو 40سال ہوگے حکومت کرتے ہوئے انھوں نے آج تک کیا کیا جو آج احتجاج کررہے ہیں قوم پرستوں کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ قوم پرستوں نے جب بھی کام کیا اپنی ہی کلہاڑی اپنے پائوں پر ماری ہے قوم پرستوں کا کوئی بھی مستقبل نہیں ہے بلاول بھٹو زرداری کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ وزیر تک نہیں بن سکتے اس بار پیپلز پارٹی الیکشن ہار گئی تو بلاول بھٹو زرداری بلاول ہاوس چھوڑ کر الطاف حسین کی طرح دوبارہ پاکستان نہیں آئیں گے ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو این آر او نہیں مل سکتا ان کا کہنا تھا کہ فی الحال مریم نواز کا ٹائم نہیں ہے چوہدری نثار کی حیثت صرف ایک ایم این اے جیسی ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے باغی کو پارٹی سے باہر جاکر اپنی حیثت کا پتہ چل گیا اس لئے دوبارہ واپس آگئے ہیں 1992میں ہمارے والد صاحب پیر پاگارا نے کہا تھا کہ الطاف حسین لندن جاکر دوبارہ واپس نہیں آئیں گے اس وقت لوگوں نے بہت ساری باتیں بنائی کراچی کو صوبہ بننے کے حوالے سے کہا کہ ایم کیو ایم والے پاکستان میں آئے تھے کراچی میں نہیں اگر انھوں نے صوبہ بنانا ہے تو پاکستان میں صوبہ بنائیں کراچی میں کیوں اگر آپ کے گھر میں کوئی مہمان آئے اور آپ اس کو ڈرائنگ روم میں بیٹھائیں تو کیا وہ ڈرائنگ روم پر قبضہ کرلیں انھوں نے کہا کہ کسی کے گھر میں صوبہ کیوں بنائیں اگر صوبہ بنانا ہے تو پاکستان کے چاروں صوبوں میں سی25.25فیصد رقبہ لیکر نیا صوبہ بنالیں ایم کیو ایم جنرل ضیاء الحق نے بنائی تھی اس کا برملا اظہار سید غوث علی شاہ نے اپنے ٹی وی بیان میں کرچکے ہیں سندھ میں ہندو برادری کے لوگ رہتے تھے کراچی میں تو ہندو آباد نہیں تھے اگر انھوں نے سندھ میں رہنا ہے تو آئیں سانپ چوہوں اور بچھوئوں میں رہیںایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ آج سے چار سال پہلے میں نے کہا تھا کہ سی پیک سے پاکستان کو کیا فائدہ ہوگا ٹرک ڈرائیور اور ہوٹل والے کو فائدہ ہوگا پاکستان بناتا ہی کیا ہے جو فروخت کرے گا خورشید شاہ کے اس بیان پرکہ ترقی دیکھنی ہے تو سندھ میں آکر دیکھیں پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خورشید شاہ اپنے ہی علاقوں میں گندے گٹر ابل رہے ہیں جس سے ترقی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے جبکہ خورشید شاہ نے اپنا گھر اچھا بنایا ہوا ہے جبکہ لوگوں کے گھروں میں گندا پانی داخل ہورہا ہے۔