الیکشن کمیشن کیسے اپنے اختیارات کسی دوسرے کو تفویض کرسکتا ہے رضا ربانی،

انتخابات سے 15دن قبل دفعہ 144 نافذانتخامی مہم متاثر ہو گی،مصدق ملک 8 ء کے انتخابات کیلئے ایک بار پھرIJI بنائی جارہی ہے، شیری رحمن،سیاسی جماعتوں کو بدگمانیاں پھیلانے کی بجائے عوام کو جواب دینا ہوگا،شبلی فراز پوری قوم کی نظریں سینیٹ پر پڑی ہیں،رحمن ملک، انتخابات میں سیاسی جماعتوں کے مابین نہیں، اسٹبلشمنٹ اور سیاسی جماعتوں کے مابین مقابلہ ہے،عثمان کاکڑ لاشوں کی سیاست کہنا شہیدوں کی خون کی توہین ہے،ستارہ ایاز،نیو اسلام آباد ائیر پورٹ میں سہولیات کا فقدان ہے،مولا بخش چانڈیو ودیگر کا سینیٹ میں اظہار خیال

جمعرات جولائی 17:08

الیکشن کمیشن کیسے اپنے اختیارات کسی دوسرے کو تفویض کرسکتا ہے رضا ربانی،
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جولائی2018ء) سابق چیئرمین سینیٹ و رہنما پاکستان پیپلز پارٹی سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ کس نے سیکرٹری الیکشن کمیشن کو اپنے بیان سے مکرنے پر مجبور کیا، سیکرٹری نے پہلے کہا تھا کہ بہت سے بیرونی ہاتھ الیکشن کو کامیاب نہ ہونے دینے کیلئے سرگرم ہیں،میں نے ایک خط الیکشن کمیشن کو لکھا جس کا اب تک کوئی جواب نہیں آیا،انتخابات کو25 جولائی سے آگے لے جانے یا متنازعہ بنانے کی سازش کی جارہی ہے۔

جمعرات کو سینیٹ میں مفاد عامہ کے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ 30 مئی کو اچانک بلوچستان اسمبلی میں انتخابات کو ملتوی کرانے کیلئے اچانک قرارداد لائی گئی،ہائی کورٹ میں انتخابات کو ملتوی کرنے کیلئے درخواست دائرکی گئی،الیکشن ایکٹ2017 ء میں نہ ہونے کے باوجود سپریم کورٹ کے حکم پر بیان حلفی معاملہ سامنے آیا،الیکشن کمیشن نے کس قانون کے تحت نگران حکومت کو تقرروتبادلے کا اختیار دیا ،ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں میڈیا کے خلاف کریک ڈائون کی رپورٹ شائع ہوئی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ قصور میں ایک کمانڈر ڈی آر او کو اجلاس کیلئے اپنے دفتر بلاتے ہیں،آئین میں الیکشن کمیشن آزادانہ انتخابات کروانے کی ذمہ داری ہے ، کمیشن اپنے اختیارات کسی دوسرے کو تفویض نہیں کرسکتا،جی ایچ کیو نے اس غلطی کو تسلیم بھی کیا، امیدواروں کو وفاداریاں بدلنے پر مجبور کیا جارہا ہے،اس ایوان کو مداخلت کے بارے میں بتایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ نیب کے پاس جو چشمہ ہے اس سے صرف دو پارٹیاں دکھائیں دیتی ہیں،اسے تیسری جماعت نظر نہیں آتی،کیاجو لوٹے دوسرے جماعتوں میں چلے گئے وہ صاف ہو گئے ہیں الیکشن کمیشن نے فوج کے لئے کیا احکامات دیئے ہیں الیکشن کمیشن نے میڈیا پر قدغنوں کیخلاف کیا اقدمات کیے ہی لوگوں کو مخصوص چینلز دیکھنے یا نہ دیکھنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔

اپوزیشن لیڈر سینیٹر شیری رحمن نے کہا کہ میں کالز آئیں،میڈیا پر غیر اعلانیہ سنسرشپ ہے، ایوان کی پچھلی کارروائی میں اہم امور پر بحث ہوئی مگر میڈیا میں مکمل بلیک آئوٹ ہوا، لاہور میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پریس کانفرنس کو بھی میڈیا میں نہیں دکھایا گیا، جن تین چینلز نے دکھایا انہیں بعدیک اخبار کی سرکولیشن میں طویل عرصہ سے تعطل آرہا ہے، صرف ترقی پسندجماعتوں کے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے،2018 ء کے انتخابات کیلئے ایک بار پھرIJI بنائی جارہی ہے،پچھلے انتخابات میں سلمان تاثر اور عین انتخابی وسط کے دوران سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کو اغوا کیا گیا۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیٹر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ بھٹو خاندان نے دو نسلوں کی لاشیں اٹھائیں، پھر کہتے ہیں لاشوں کی سیاست نہ کرے،بلور خاندان نے بے شمار جانوں کی قربانیاں دیں، پھر کہتے ہیں لاشوں کی سیاست نہ کرے، پچھلے انتخابات میں ثناء اللہ زہری کے خاندان نے لاشیں اٹھائیں پھر کہتے ہیں لاشوں کی سیاست نہ کرے،کب تک خاموش رہیں گے،اخبارات میں آرٹیکلز چھاپنے سے روکا جارہا ہے،یہ بتایا جائے کہ فوج کو مجسٹریٹ کے اختیارات دیئے گئے یہ صرف پولینگ اسٹیشز تک محدود ہیں یا گلی ، محلوں اور گھروں میں بھی آکر گرفتار کیا جائے گا،انتخابات سے پندرہ دن قبل دفعہ 144 نافذ کرنا غیر قانونی ہے، تین تین کی ٹولیوں میں امیدوار کس طرح انتخابی مہم چلائیں گئے،پنڈی اور لاہور میں لوگوں کی پکڑ دھکڑ شروع ہو چکی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ کچھ لوگ یہ تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں یہ سب ایک پارٹی کو جتوانے کیلئے ہے،ہم انشاء اللہ کامیاب ہوں گے اور اگلی حکومت ہماری ہی ہو گی ، اس ملک میں جس کا جو دل کرے وہ کرے ایسا نہیں ہو گا، اس جمہوریت کا کوئی فائدہ نہیں جس میں احتساب نہ ہو،کرپشن کے خاتمہ کیلئے پی ٹی آئی کا بیانہ مقبول ہوا ہے،تیس ،تیس سال تک حکومت میں رہنے والی پارٹیوں کو بدگمانیاں پھیلانے کی بجائے عوام کو جواب دینا ہوگا،ساری جماعتوں کو لیول پلینگ فیلڈ ملنی چاہیے۔

متحدہ قومی موومنٹ کے سینیٹر بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر صرف پیپلز پارٹی کے قائد کو جلسے سے روکنے کے خلاف آواز اٹھاتی ہیں، ایم کیو ایم کے خلاف بھی زیادتیاں ہوئیں ، اس کے بارے میں کبھی آواز بلند نہیں کی۔عوامی نیشنل پارٹی کی پارلیمانی لیڈر سینیٹر ستارہ ایاز کا کہنا تھا کہ اے این پی اور بلور خاندان سینیٹ اور تمام پاکستانیوں کا جنہوں نے ہارون بلور کی شہادت پر تعزیت کی کا شکار گزارہے،ایک فریق لاشیں اٹھائے اور دوسرا فریق لاشیوں کی سیاست کی بات کرے تو دکھ کی بات ہے،لاشوں کی سیاست کہنا شہیدوں کی خون کی توہین ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر رحمن ملک نے کہا کہ پوری قوم کی نظریں سینیٹ پر پڑی ہیں،آج سینیٹ نے میڈیا کی آواز کو سنا،سپریم کورٹ نے آصف زرداری اور فریال تالپور کے ناموں کو ای سی ایل میں ڈالنے کی تردید کی، اس پر حکومت کو وضاحت دینی چاہیے،ایک کروڑ کی رقم کو 42 کروڑ بتائی گئی،پیپلز پارٹی کو پوری دنیا میں بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔

پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ اس ملک کا سب سے اہم مسئلہ عوام کی رائے کو اہمیت دینا ہے،اس انتخابات میں سیاسی جماعتوں کے مابین نہیں بلکہ اسٹبلشمنٹ اور سیاسی جماعتوں کے مابین مقابلہ ہے،الیکشن کمیشن عملی طور پر معطل ہے ،میڈیا پر بد ترین سنسرشپ موجود ہے،تمام جماعتوں کو جی ایچ کیو سے ہدایت لینے پر مجبور کیا جارہا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے کہا ہے کہ اسلام آباد کے نیو ائیر پورٹ کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے بغیر افتتاح کرنے کی ضرورت کیا تھی،پورے ائیر پورٹ میں صرف دو واش روم ٹھیک ہے،صرف بڑی بڑی گاڑی والوں کیلئے کھولا گیا، ٹیکسی تک میسر نہیں،ہال میں داخل ہونے کیلئے بھی 500 روپے لیتے ہیں۔سینیٹ اجلاس کے دوران میڈیا پر غیر اعلانیہ سنسرشپ کے خلاف صحافیوں نے پریس گیلری سے واک آئوٹ کیا، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات بیرسٹر سید علی ظفر اور سینیٹر رحمن ملک کے ساتھ مذاکرات اور مسئلہ کے حل کیلئے فوری اقدامات کی یقین دہانی کے بعد صحافیوں نے احتجاج ختم کیا۔