ایک کروڑ نوکریاں فراہم کرنے کے دعویدار حکمرانوں نے قوم کو مہنگائی کے سونامی میں ڈبودیا ،بلاول بھٹو زرداری

اٹھارہویں ترمیم پر حملے ہورہے ہیں، لانگ مارچ کرنے کے لیے بھی تیار ہوں مگر ترمیم پر آنچ نہیں آنے دوں گا،چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی اس ملک کے فیصلے صرف منتخب نمائندے کریں گے اور کوئی نہیں تاہم اس بات کو سمجھنا سلیکٹد وزیر اعظم کے لیے مشکل ہوگا۔گزشتہ ایک سال میں پارلیمان نے اپنی جگہ بالکل پیچھے چھوڑ دی ہے منی بجٹ آنٹی علیمہ اور جہانگیر ترین کا بجٹ ہے، حج پر سبسڈی ختم کرنا، غریبوں کی سبسڈی ختم کرنا، کسان ، مزدور اور نوجوانوں کے لیے کہاں ریلیف ہی چیئرمین پیپلزپارٹی موجودہ حکومت اتنی بزدل ہے کہ نواز شریف کی تقریر تک برداشت نہیں کرسکتی،شیخ رشید احمد پر بات کرنے سے بہتر ہے کہ پنڈی کے گٹروں کے حوالے سے بات کرلی جائے شادی کے حوالے سے اسٹریٹجک پلاننگ جاری ہے، سوچ رہا ہوں کہ ایک شادی کروں یا چار، چاروں صوبوں میں ایک، ایک شادی کرنے کا سوچ رہا ہوں،پریس کلب میں میٹ دی پریس سے خطاب

ہفتہ فروری 19:54

ایک کروڑ نوکریاں فراہم کرنے کے دعویدار حکمرانوں نے قوم کو مہنگائی کے ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 فروری2019ء) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عوام کو ایک کروڑ نوکریاں فراہم کرنے کے دعویدار حکمرانوں نے قوم کو مہنگائی کے سونامی میں ڈبودیا ہے ۔عمران خان کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے سو مرتبہ سوچیں ان کا کوئی بھی یوٹرن ملکی معیشت کو نقصان پہنچاتا ہے ۔وزیراعظم کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ افغان طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے احتیاط برتیں کیونکہ بین الاقوامی دنیا ہم پر طرح طرح کے الزام لگاتی ہے ۔

اٹھارہویں ترمیم پر حملے ہورہے ہیں، لانگ مارچ کرنے کے لیے بھی تیار ہوں مگر ترمیم پر آنچ نہیں آنے دوں گا۔ اس ملک کے فیصلے صرف منتخب نمائندے کریں گے اور کوئی نہیں تاہم اس بات کو سمجھنا سلیکٹد وزیر اعظم کے لیے مشکل ہوگا۔

(جاری ہے)

گزشتہ ایک سال میں پارلیمان نے اپنی جگہ بالکل پیچھے چھوڑ دی ہے، جب باقی ادارے اپنے آپکو طاقت ور بنا سکتے ہیں تو پارلیمان کیوں نہیں عدالتوں کی طرف سے عجیب عجیب فیصلے آرہے ہیں، تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ مختصر اور تفصیلی فیصلوں میں اتنا اختلاف ہو، عدالتوں کے متضاد فیصلوں پر عوام سوال اٹھائیں گے۔

خان کی نیا پاکستان کی مہم سمجھ سے باہر ہے، منی بجٹ آنٹی علیمہ اور جہانگیر ترین کا بجٹ ہے، حج پر سبسڈی ختم کرنا، غریبوں کی سبسڈی ختم کرنا، کسان ، مزدور اور نوجوانوں کے لیے کہاں ریلیف ہی اس ملک کی معیشت کا حل سب سے غریب طبقے پر سرمایہ کاری ہے۔کراچی میں گھروں کو توڑنے کا فیصلہ کوئی سلیکٹڈ حکومت ہی کرسکتی ہے ،پیپلزپارٹی عوامی جماعت ہے جو غریبوں کوبر ا سوچ بھی نہیں سکتی ہے ۔

موجودہ حکومت اتنی بزدل ہے کہ نواز شریف کی تقریر تک برداشت نہیں کرسکتی ہے ۔شیخ رشید احمد پر بات کرنے سے بہتر ہے کہ پنڈی کے گٹروں کے حوالے سے بات کرلی جائے ۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے ہفتہ کو کراچی پریس کلب کے دورے کے موقع پر میٹ دی پریس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ ،مشیر اطلاعات سندھ مرتضی وہاب ،وزیر بلدیات سندھ سعید غنی ،وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی وقار مہدی اور دیگر بھی موجود تھے ۔

اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری نیپریس کلب کے لیے منظور کی گئی گرانٹ کا آدھا حصہ بذریعہ چیک کلب کی باڈی کے حوالے کیا ۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ میں اپنے بچپن میں یہاں (پریس کلب) آیا کرتا تھا، میں ملک بھر کے پریس کلبز کو اپنی سیاست کا مرکز بناؤں گا۔ پریس کلبز کو ادارہ سمجھ کر مضبوط بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مل کر ملک کے اداروں اور جمہوری قوتوں کو مضبوط کرنا ہے۔

ہم کراچی پریس کلب کے ساتھ مضبوط تعلقات چاہتے ہیں ۔جب بھی جمہوریت پر حملہ ہوا کراچی پریس کلب نے اپنا کردار ادا کیا ۔پاکستان میں اگر پریس کلب نہ ہوتے تو اے آر ڈی کی تحریک کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا ۔انہوںنے صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے خلاف آپ نے تنقید بھی کی ہے، یہ اچھی بات ہے، آپ کی تنقید سے ہم طاقت لینا چاہتے ہیں۔

میری والدہ شہید بے نظیر بھٹو نے بھی اخباروں کی تنقید کو برداشت کیا، صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے قومی سطح پر قانون بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی میڈیا ملازمین کے ساتھ کھڑی ہے، وہ قدم بڑھائیں گے تو ہمیں اپنے ساتھ پائیں گے۔ اس وقت میڈیا اور اظہارِ آزادی پر حملے ہو رہے ہیں، تاہم ہمیں اس کی بقا کے لیے جدوجہد کرنی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ذوالفقار علی بھٹو نے ہمیں آئین دیا، محترمہ کی کی سیاست آئین پاکستان کو بحال کرنے کی تھی۔

مل کر ملک کے اداروں اور جمہوری قوتوں کو مضبوط کرنا ہے۔انہوںنے کہا کہ ہم نے ساری جماعتوں کے ساتھ ملکر اٹھارہویں ترمیم کو منظور کیا تھا، پیپلزپارٹی اٹھارہویں ترمیم میں تبدیلی بالکل برداشت نہیں کرسکتی، ہم ہر سطح پر اپنا احتجاج کرنے کو تیار ہیں،انہوں نے کہا کہ میں پورے ملک میں لوگوں کے پاس جاں گا اور انہیں یہ بتاؤں گا 1973 کا آئین انہیں کیا کیا حقوق دیتا ہے، تاہم اگر ان کی ان کوششوں کو کمزور کرنے کی سازشیں کی گئیں تو وہ حکومت کے خلاف لانگ مارچ بھی کر سکتے ہیں۔

اس قانون کی افادیت کا پیغام عوام تک پہنچانا ضروری ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ آخر اٹھارہویں ترمیم پر یہ جھگڑا کیوں ہی سلیکٹڈ حکومت کے سلیکٹڈ وزیر بھی اس پر بات کرتے ہیں، قانون کے معاملات میں متضاد باتیں کیوں سامنے آرہی ہیں۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پچھلے ایک سال میں پارلیمنٹ نے اپنا اختیار بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے، حکومت اور اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ کا کھویا ہوا اختیار واپس لینا ہے، قومی اسمبلی نے کیسے برداشت کرلیا کہ کوئی دوسرا ادارہ عوام پر ٹیکس لگائے، سپریم کورٹ سمیت کسی بھی عدالت کو عوام پر ٹیکس نافذ کرنے کا کوئی اختیار نہیں، یہاں تک سینیٹ کو بھی یہ اختیار حاصل نہیں، یہ صرف قومی اسمبلی کا اختیار ہے، ان کے پاس یہ اختیار کیسے گیا اس پر قومی اسمبلی میں بحث ہونی چاہیے، ایگزیٹیو اختیارات وزیراعظم کو حاصل ہیں جنہیں کوئی دوسرا ادارہ استعمال نہیں کرسکتا، کب تک پارلیمنٹ خاموش بیٹھ کر اس تماشے کو دیکھے گی۔

اگر باقی اداروں کا ایکٹوازم (فعالیت) ہوسکتی ہے تو پارلیمانی ایکٹوازم کیوں نہیں ہوسکتی، باقی ادارے خود کو طاقتور بناسکتے ہیں تو پارلیمنٹ خود کو طاقتور کیوں نہیں بناسکتی، اگر حکومت پارلیمنٹ کو سنجیدہ لے اور عوام کے مسائل حل کرے تو کامیاب بھی ہوسکتی ہے، ایک بنیادی فلسفہ ہونا چاہیے کہ پہلے انسان بنو پھر سیاست دان، حکمران یا جج بنو، انسداد تجاوزات کے خلاف عدالتوں اور حکومت کے فیصلے انسانی بنیادوں پر نہیں ہیں، میئر کراچی کو غریب لوگوں کی دکانیں اور گھر گراتے دیکھ کر پریشان ہوجاتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اس ملک کے فیصلے صرف منتخب نمائندے کریں گے اور کوئی نہیں تاہم اس بات کو سمجھنا سلیکٹد وزیر اعظم کے لیے مشکل ہوگا۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یہ کیا بزدلی اور بچکانہ حرکت ہے کے آپ منی بجٹ پیش کرتے ہو اس کے بعد سیشن سے بھاگ جاتے ہو یہ ملک کی معیشت کوئی مذاق کا معاملہ نہیں۔عوام مہنگائی کے سونامی میں واقعی ڈوب رہے ہیں، تحریک انصاف نے وعدہ کیا کہ ہمارے پاس پلان ہے اور 200 ماہرین کی ٹیم ہے، مگر پھر اس کے بعد یوٹرن کیوں لیتے ہو حکومت نے پہلا بجٹ پیش کیا تو فیصلے کیوں نہیں کیی ان کا کوئی معاشی پلان موجود ہی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ خان کی نیا پاکستان کی مہم سمجھ سے باہر ہے، منی بجٹ امیروں کا بجٹ ہے، حج پر سبسڈی ختم کرنا، غریبوں کی سبسڈی ختم کرنا، کسان ، مزدور اور نوجوانوں کے لیے کہاں ریلیف ہی اس ملک کی معیشت کا حل سب سے غریب طبقے پر سرمایہ کاری ہے۔انہوں نے کہا میں پارلیمانی سیاست کرنا چاہتا ہوں، حکومت کو عوام پر ظلم کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا، ہم پورے سندھ میں کینسر ریسرچ سینٹر بنائیں گے۔

این آئی سی وی ڈی ایشیا کا سب سے امراض قلب کا ادارہ ہے ۔جب یہ وفاق کے پاس تھا تو اس وقت چندے پر چلتا تھا ۔ہماری حکومت نے اس کو ایک اچھا ادارہ بنایا ۔ہم سے اس ادارے کو چھینا جانا کس بات کا اشارہ ہے بلاول بھٹو نے کہا کہ عدالتوں کی طرف سے عجیب عجیب فیصلے آرہے ہیں، تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ مختصر اور تفصیلی فیصلوں میں اتنا اختلاف ہو، عدالتوں کے متضاد فیصلوں پر عوام سوال اٹھائیں گے، عدالتیں اس کی کیا منطقی دلیل دیں گے، اتنا بڑا یوٹرن کیسے لے سکتی ہیں، یا کوئی دبا ؤتھا۔

ایک سوال کے جواب میں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ افغان طالبان کے امریکا کے ساتھ مذاکرات پر عمران خان کو مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ وہ اس معاملے پر محتاط رہیں ۔دنیا ہمارے بارے میں مختلف رائے رکھتی ہے ۔ہم سے پہلے ڈو مور کا مطالبہ کیا جاتا ہے جب ہم اس کے لیے اقدامات کرتے ہیں اور معاملات بین الاقوامی کمیونٹی کے مطابق نہ ہوں رہے ہوں تو وہ ہم کومورود الزام ٹھہراتے ہیں ۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کہ جمہوری، انسانی اور معاشی حقوق پر کمپرومائز نہیں کرینگے، عوام اور سیاسی جماعتوں کیساتھ ملکر حقوق کا تحفظ کرینگے، ہم نے جمہوری اسپیس حاصل کی وہ انڈرمائن ہوئی، سانحہ اے پی ایس کے بعد ملٹری کورٹ کی اجازت دی تھی، اینف ازاینف، ہم نے اپنی اسپیس واپس لینی ہے، جمہوری پاکستان کو تحفظ بھی دلائیں گے، اگرکوئی ریڈلائن کراس کرے گا تو بھرپور ردعمل دیں گے۔

بلاول بھٹو نے یہ کہا کہ مانتا ہوں ماسٹر پلان پر فوکس کرنا چاہیے، پرانے ماسٹر پلان کے بجائے نئے ماسٹرپلان پر کام کرنا چاہیے، ہمیں عوام نے مینڈیٹ دیا ہے، عوامی حکومت غریبوں کی دکانوں، گھروں کو نہیں توڑ سکتی، جب ایسا دیکھتا ہوں تومجھے دکھ ہوتا ہے۔وفاقی وزیر شیخ رشید احمد کے حوالے سے پوچھے سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ رانا ثناء اللہ انہیں پنڈی کا شیطان کا کہتے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ شیخ رشید بے غیر انسان ہیں ان پر بات کرنے کی بجائے پنڈی کے گٹروں کی بات کرلی جائے ۔

انہوںنے کہا کہ عمران خان وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو وسیم اکرم سے ملا کر ان کے ساتھ زیادتی کررہے ہیں ۔ہم چاہتے ہیں کہ وزیراعلیٰ پنجاب کو تبدیل کیا جائے ۔اس دوران صحافی نے بلاول بھٹو زرداری سے شادی سے متعلق سوال کیا کہ کیا وہ پہلے شیروانی وزیراعظم کی پہنیں گے یا شادی کی تو بلاول کا کہنا تھا کہ شادی کے حوالے سے اسٹریٹجک پلاننگ جاری ہے، سوچ رہا ہوں کہ ایک شادی کروں یا چار، چاروں صوبوں میں ایک، ایک شادی کرنے کا سوچ رہا ہوں۔