Live Updates

پاکستان کی تاریخ کے بڑے فضائی حادثے جو اہم شخصیات سمیت ہزاروں جانیں نگل گئے

ملکی تاریخ کا پہلا ہوائی حادثہ پیش آیا جب 20 مئی 1965 ءکو پی آئی اے کی فلائٹ نمبر 705 بوئنگ 720 کو قاہرہ ائیر پورٹ پر لینڈنگ کرتے ہوئے تباہ ہو گئی اس حادثے میں 124 افراد جاں بحق ہوئے تھے

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعہ مئی 18:51

پاکستان کی تاریخ کے بڑے فضائی حادثے جو اہم شخصیات سمیت ہزاروں جانیں ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔22 مئی۔2020ء) پاکستان کی تاریخ میں اب تک کئی فضائی حادثات رونما ہوچکے ہیں اور ان میں درجنوں افراد اپنی زندگی کی بازی ہار چکے ہیں ملکی تاریخ کے کچھ ایسے فضائی حادثے بھی ہیں جنہیں کئی سال گزر جانے کے باوجود عوام آج تک نہیں بھلا پائے. پاکستان کے لیے 22 مئی کا دن بھی کچھ اسی طرح کی بری خبر سامنے لایا جب کہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور سے سندھ کے دارالحکومت کراچی آنے والا پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کا مسافر طیارہ تکنیکی خرابی کی وجہ سے گر کر تباہ ہوا لیکن اس واقعے سے قبل بھی پاکستان میں متعدد فضائی حادثات ہوچکے ہیں‘آج 22مئی کو لاہور سے کراچی آنے والا پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کا مسافر طیارہ کراچی ایئرپورٹ کے قریب رہائشی علاقے میں گر کر تباہ ہوگیا پی آئی اے کے ترجمان عبد الستار نے واقعے کی تصدیق کی اور بتایا کہ طیارہ اے-320 میں 90 مسافر سوار تھے جو لاہور سے کراچی آرہے تھے.

اس واقعے کے فوری بعد سامنے آنے والی فوٹیجز میں حادثے کے مقام سے دھواں اٹھتے دیکھا گیا. پاکستان کی تاریخ کا پہلا ہوائی حادثہ بیرون ملک 20 مئی 1965 ءکو پیش آیا۔

(جاری ہے)

اس حادثے کا شکاوہونے والی پی آئی اے کی فلائٹ نمبر 705 بوئنگ 720 براستہ قاہرہ لندن کے افتتاحی روٹ پر تھی یہ جہاز قاہرہ ائیر پورٹ پر لینڈنگ کرتے ہوئے تباہ ہو گیا تھا اس حادثے میں 124 افراد جاں بحق ہوئے تھے ، جن میں 22 صحافی بھی شامل تھے.

دوسرا حادثہ فوکر طیارے F27 کا تھا جو 6 اگست 1970 کو جیسے ہی اسلام آباد ائیر پورٹ سے بلند ہوا، طوفان میں گھر گیا اور راولپنڈی سے گیارہ میل دور ”راوت“ کے مقام پر گر کر تباہ ہو گیا اس حادثے میں تمام 30 افراد جاں بحق ہو گئے تھے. 8 دسمبر 1972 کو فوکر طیارہ F27 (فلائٹ نمبر 631) اسلام آباد سے اڑنے کے بعد راولپنڈی کے قریب گر کر تباہ ہو گیا تھا جہاز میں سوار 26 مسافر جان کی بازی ہار گئے تھے.

26 نومبر 1979 کو پی آئی اے کا بوئنگ 707 فلائٹ نمبر740 جدہ ائیر پورٹ سے حاجیوں کو لے کر وطن واپس آ رہا تھا کہ طائف کے قریب اس کے کیبن میں آگ لگ گئی اور جہاز جل کر تباہ ہو گیا اور 145 مسافر اور عملے کے گیارہ افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے. 23 اکتوبر 1986 کو پی آئی اے کا فوکر F27 پشاور کے قریب گر کر تباہ ہو گیا‘ جہاز میں سوار 54 افراد میں سے 13 جاں بحق ہوئے‘17 اگست 1988 کو امریکی ساختہ ہرکولیس C-130 فوجی طیارہ بہاولپور کے قریب گر کر تباہ ہو گیا تھا جس کے نتیجے میں فوجی سربراہ اور صدر مملکت جنرل ضیال الحق، مزید 30 فوجی جرنیل اور امریکی سفیر ہلاک ہو گئے تھے.

25 اگست 1989 کو پی آئی اے کا فوکر طیارہ PK-404 گلگت کے قریب برف پوش پہاڑوں میں لاپتہ ہو گیا 21 سال گزرنے کے باوجود جہاز کا ملبہ اور لاشیں نہیں مل سکی ہیں جہاز کی تلاش میں 73 امدادی مشنز بھیجے گئے جو ناکام رہے‘واضح رہے کہ طیاروں کے ایئر کرافٹ کریشز ریکارڈ آفس اور دیگر اداروں نے لاشیں اور جہاز کا ملبہ نہ ملنے کے باعث اسے ابھی تک حادثہ تسلیم نہیں کیا.

28 ستمبر 1992 کو پی آئی اے کی ائیر بس A300 فلائٹ نمبر268 نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو سے صرف چندمنٹ کی دوری پر بادلوں سے ڈھکے ہوئے پہاڑوں سے ٹکراکر تباہ ہو گئی عملے کے بارہ افراد سمیت 155 مسافر ہلاک ہو گئے‘اس حادثے کی وجہ جہاز کی مقرر کردہ بلندی سے تقریبا 1600 فٹ نیچی پرواز تھی یہ پاکستان کی تاریخ کا بیرون ملک مسافر بردار ہوائی جہاز کا سب سے بڑا حادثہ تھا.

پاک فضائیہ کا فوکر طیارہF27 کوہاٹ کے قریب دھند کے سبب گر کر تباہ ہو گیا تھا جس کے سبب پاک فضائیہ کے سربراہ مصحف علی میر، ان کی بیوی اور دیگر 15 افراد جاں بحق ہو گئے تھے. اس واقعے کے پانچ دن بعد افغانستان کی کانوں اور صنعتوں کے وزیر جمعہ محمد محمدی، چار افغان آفیشلز، چین کے کان کنی کے اعلیٰ عہدیداروں کو لے جانے والا چارٹرڈ جہاز کراچی کے قریب بحیرہ عرب میں گر کر تباہ ہو گیا تھا.

جولائی 2006 کو پی آئی اے کا فوکر طیارہ F27 فلائٹ نمبر 688 فضا میں بلند ہونے کے دس منٹ بعد ملتان کے قریب گندم کے کھیتوں میں گر کر تباہ ہو گیا لاہور جانے والی اس فلائٹ میں عملے کے چار ارکان کے علاوہ 41 مسافر جاں بحق ہوئے تھے۔ حادثے کی وجہ فنی خرابی قرار دی گئی. 28 جولائی 2010 کو نجی ائیر لائن ائیر بلو کا جہاز ائیر بس A321 اسلام آباد کے قریب شمال مشرق میں مارگلہ میں پہاڑیوں میں گر کر تباہ ہو گیا تھا‘کراچی سے روانہ ہونے والی اس فلائٹ میں عملے کے چھ افراد سمیت تمام 152 افراد جاں بحق ہو ئے.

20 اپریل 2012 کو پاکستان کا بھوجا ایئر بوئنگ طیارہ 737 کراچی سے اسلام آباد آتے ہوئے حادثے کا شکار ہوا۔ اس حادثے میں 121 مسافر اور عملے کے چھ ارکان ہلاک ہو گئے تھے‘پاک فوج کا ہیلی کاپٹر وادی گلگت میں گر کر تباہ ہو گیا تھا جس میں ناروے، فلپائن اور انڈونیشیا کے سفیر اور ملائیشین اور انڈونیشین سفیروں کی بیگمات سمیت 8 افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ حادثے کے نتیجے میں وادی کے ایک اسکول کی عمارت میں آگ لگ گئی تھی.

چار سال قبل دسمبر 2016 میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کا چترال سے اسلام آباد آنے والا مسافر طیارہ حویلیاں کے قریب گر کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں جہاز کے عملے سمیت 48 افراد جاں بحق ہوگئے تھے‘جاں بحق ہونے والے افراد میں معروف نعت خواں اور سابق گلوکار جنید جمشید بھی شامل تھے. گزشتہ 4 سال میں اسی حادثے کو سب سے بڑا فضائی حادثہ قرار دیا جا رہا تھا‘گزشتہ برس 30 جولائی کو پاک فوج کا طیارہ راولپنڈی کے علاقے موہڑہ کالو میں گر کر تباہ ہوگیا تھا جس کے نتیجے میں 17 افراد جاں بحق ہوگئے جن میں 2 فوجی افسران سمیت عملے کے 5 افراد بھی شامل تھے.

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے جاری بیان کے مطابق پاکستان آرمی ایوی ایشن کا طیارہ تربیتی پرواز پر تھا کہ حادثے کا شکار ہوا اور راولپنڈی میں شہری آبادی والے علاقے موہڑہ کالو میں گر گیا آئی ایس پی آر کے مطابق طیارے کے حادثے میں 2 پائلیٹ سمیت عملے کے 5 اہلکار شہید ہوگئے. مذکورہ فضائی حادثات کے علاوہ بھی پاکستان میں متعدد حادثات ہوئے، تاہم ان میں اموات کم ہوئیں اور وہ حادثات چھوٹے پیمانے کے تھے‘پاکستان میں فوجی اور تربیتی طیاروں کے تباہ ہونے کے بھی متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں، تاہم ایسے حادثات میں 2 سے 5 افراد کی اموات ہوتی رہی ہیں.

پاکستان کے علاوہ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی فضائی حادثات ہوتے رہتے ہیں اور عام طور پر تکنیکی خرابی یا پھر خراب موسم کے باعث طیاروں کے تباہ ہونے کے واقعات پیش آتے ہیں‘صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں 22 مئی کی سہ پہر کو پنجاب کے دارالحکومت لاہور سے آنے والا پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کا طیارہ گر کر تباہ ہوگیا جو کہ کراچی میں اپنی نوعیت کا پہلا بڑا حادثہ تھا.

لاہور سے کراچی آنے والا طیارہ پی کے 8303 کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر اترنے سے کچھ منٹ قبل ہی تکنیکی خرابی کے باعث قریبی آبادی میں گر گر تباہ ہوا ابتدائی رپوٹس کے مطابق طیارے میں 90 مسافر اور عملے کے 8 ارکان سوار تھے جن میں کم عمر بچے اور خواتین بھی شامل تھیں. طیارے میں سوار افراد میں سے زیادہ تر کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں، تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ حادثے میں کتنے افراد جاں بحق ہوئے اگرچہ مذکورہ حادثے سے قبل بھی کراچی سمیت سندھ کے دیگر شہروں کے قریب فضائی حادثات رونما ہوچکے ہیں، تاہم بد قسمتی سے 22 مئی کی سہ پہر ہونے والا حادثہ اب تک کا کراچی میں ہونے والا بڑا اور بدترین حادثہ سمجھا جا رہا ہے.

اس حادثے سے قبل اگرچہ کراچی سے اڑان بھر کر دوسرے شہروں کے لیے روانہ ہونے والے طیارے پہلے بھی تباہ ہوچکے ہیں، تاہم پہلی بار دوسرے شہروں سے کراچی والی پرواز لینڈنگ سے کچھ منٹ قبل ہی گر کر تباہ ہوئی‘ملکی تاریخ کا سب سے بدترین فضائی حادثہ ایک دہائی قبل جولائی 2010 میں دارالحکومت اسلام آباد کے قریب مارگلہ پہاڑیوں کے دامن میں طیارے کے گرنے سے پیش آیا تھا.

جولائی 2010 میں کراچی سے ہی اسلام آباد کے لیے جانے والے نجی ائیر لائن اییئر بلیو کا طیارہ اے 321 مارگلہ پہاڑیوں کے دامن میں کر تباہ ہوگیا تھا، جس سے 152 افراد جاں بحق ہوگئے تھے اس بدقسمت طیارے نے بھی اگرچہ کراچی سے اڑان بھری تھی، تاہم اس کے ساتھ حادثہ کراچی کی حدود میں پیش نہیں آیا، اسی طرح ملکی تاریخ کے دوسرے بڑے فضائی حادثے میں تباہ ہونے والے بدقسمت طیارے نے بھی کراچی سے اسلام کے لیے اڑان بھری تھی اور وہ بھی اسلام آباد کی حدود میں کر گر تباہ ہوگیا تھا.

ملکی تاریخ کا دوسرا بڑا فضائی حادثہ بھوجا ایئر کے 2012 میں ہونے والے حادثے کو سمجھا جاتا ہے جس میں 121 مسافر اور عملے کے چھ ارکان جاں بحق ہو گئے تھے ‘بھوجا ایئر کا طیارہ بوئنگ 737 کراچی سے اسلام آباد روانہ ہوا تھا مگر وہ بھی مارگلہ پہاڑوں کے قریب حادثے کا شکار ہوا. اسی طرح اگرچہ ملک کی 74 سالہ تاریخ میں اور بھی بڑے فضائی حادثے پیش آ چکے ہیں مگر یہ 22 مئی کو پہلی بار کراچی میں بڑا فضائی حادثہ پیش آیا سہ پہر کو طیارے کے گر کر تباہ ہونے کے فوری بعد امدادی کارروائیاں فراہم کرنے والے ادارے جائے وقوع پر پہنچ گئے تھے اور انہوں نے امدادی سرگرمیاں شروع کردی تھیں حادثے سے مقامی آبادی کو بھی نقصان پہنچا اور متعدد گھروں اور گاڑیوں میں آگ بھی لگ گئی.
چین کی کرونا کو شکست سے متعلق تازہ ترین معلومات