کراچی کیلئے وفاق سے چالیس ارب روپے حاصل کر لیے جس میں سے بیس ارب ٹرانسفر بھی ہو چکے ہیں،گورنر سندھ کا دعویٰ

کراچی میں ہر شخص لفافہ مانگ رہا ہے، کراچی کو داراللفافہ کہاجائے تو غلط نہیں ہوگا،ایم کیو ایم والوں کو تقریبات میں صاحب کہا جاتا ہے، ایم کیو ایم والے جب صاحب سے بھائی بن جائیں گے تو کراچی کے حالات ٹھیک ہو جائیں گے،کامران ٹیسوری کراچی پاکستان کی معیشت کا حب ہے،کراچی کامقدمہ لڑنے کی نہیں ،فیصلے کی ضرورت ہے،کراچی کا مقدمہ تو کئی سالوں سے لڑ رہے ہیں،ایکسپو سینٹر میں مائی کراچی نمائش سے خطاب

اتوار 3 اگست 2025 22:00

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 03 اگست2025ء)گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے دعوی کیا ہے کہ کراچی کیلیے وفاق سے چالیس ارب روپے حاصل کر لیے جس میں سے بیس ارب ٹرانسفر بھی ہو چکے ہیں، کراچی میں ہر شخص لفافہ مانگ رہا ہے، کراچی کو داراللفافہ کہاجائے تو غلط نہیں ہوگا،ایم کیو ایم والوں کو تقریبات میں صاحب کہا جاتا ہے، ایم کیو ایم والے جب صاحب سے بھائی بن جائیں گے تو کراچی کے حالات ٹھیک ہو جائیں گے، کراچی پاکستان کی معیشت کا حب ہے،کراچی کامقدمہ لڑنے کی نہیں ،فیصلے کی ضرورت ہے،کراچی کا مقدمہ تو کئی سالوں سے لڑ رہے ہیں۔

ایکسپو سینٹر میں مائی کراچی نمائش سے خطاب کرتے ہوئے گورنر سندھ نے کہا کہ سوچ رہا ہوں کہ ایم کیو ایم تبدیل کیسے ہو گئی، جب یہ دوبارہ بھائی بنیں گے تو سب کچھ بہتر ہو جائے گا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ منتخب اراکین نے کراچی کے مسائل کو اسمبلیوں میں بھرپور طریقے سے اٹھایا، کے الیکٹرک کے لیے نیپرا کی 50 ارب روپے وصولی کا معاملہ وزیرِ اعظم کے سامنے اٹھائیں گے۔

گورنر سندھ نے کہا کہ کراچی چیمبر کے مسائل ایم کیو ایم کے بھی ہیں، چیمبر ایم کیو ایم میں ضم ہو جائے، ہمارے سب کے مسائل اور فریاد ایک ہیں، دیگر ملکوں میں تاجروں اور صنعت کاروں کو 200 فیصد مراعات ملتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کراچی کا تاجر و صنعت کار بجلی، پانی، گیس اور امن و امان مانگ رہا ہے تو کیا غلط ہی اگر تاجروں اور صنعت کاروں کو سہولت نہیں مل پا رہی تو آپ کو ایم کیو ایم کے اراکین کو مضبوط کرنا ہو گا۔

گورنرسندھ نے کہاکہ کراچی کا مقدمہ ایم کیو ایم سے بہتر کوئی نہیں لڑ سکتا،صنعتکار بجلی مانگ رہا ہے تو کیا غلط ہے،آج بھی اس شہر کے 80فیصد ایم این ایز اور ایم پی ایز کا تعلق ایم کیو ایم سے ہے۔کراچی کی ترقی میں پاکستان کی ترقی ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں بجلی،پانی اور امن مانگا جارہا ہے تو کیا یہ غلط ہی کراچی کا تاجر اور صنعتکار گیس مانگ رہا ہے تو کیا یہ غلط ہی انہوں نے کہا کہ یہ تو وہ مطالبات ہیں جو آج دنیا کے کئی ممالک اپنے ملک میں صنعت لگانے والوں کو زمین دے کر بلا رہے ہیں، لیکن اگر کراچی ان بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہے، تو پھر ان ایم این ایز اور ایم پی ایز کو آپ کو مضبوط کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں ہر شخص لفافہ مانگ رہا ہے، کراچی کو داراللفافہ کہاجائے تو غلط نہیں ہوگا۔کامران ٹیسوری نے کہاکہ وفاقی حکومت میں ہماری شمولیت ہے،ہمارے پاس 2وزارتیں ہیں،ایم کیو ایم نے وفاق سے کراچی کیلئی40ارب روپے حاصل کر لیے، 20ارب روپے ٹرانسفر ہوگئے ہیں جو کراچی میں خرچ ہوں گے۔گورنر کامران خان ٹیسوری نے کہا کہ تاجر برادری صنعتی علاقوں تجارتی مراکز میں ترقیاتی کاموں کے لیے اراکین سے رابطہ کریں، فاروق ستار نے کے 2 پراجیکٹ کراچی کو دیا، اس منصوبے سے شہر کو 10 کروڑ گیلن پانی ملا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مصطفی کمال نے کے تھری کے تحت 10 کروڑ گیلن پانی دیا۔کے فور سی26کروڑ گیلن پانی چاہئے تو اگلا میئر کراچی ایم کیو ایم کا منتخب کرنا پڑیگا۔آئیں مل کر کے فور کو آگے بڑھاتے ہیں،ویسے مائی کراچی لیکن پیسہ خرچ کرنے کی بات آئے تو کہتے ہیں وائے کراچی۔گورنر سندھ نے کہا کہ تاجروں اور صنعت کاروں کو بنیادی سہولتیں فراہم نہیں کی جا رہیں، دو وفاقی وزارتیں اور قائمہ کمیٹیوں کی چیئرمین شپ ایم کیو ایم کے پاس ہے، نوجوان مصنوعی ذہانت سیکھیں، مستقبل اسی سمت میں جا رہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کریں، ان کا حوصلہ بڑھائیں اور کامیابی میں ساتھ دیں، ادارے کی تعلیمی، سماجی، ترقیاتی خدمات لائقِ تحسین ہیں، ہم نہ کسی سے کم ہیں نہ کم تر، وقتِ ضرورت قوم نے دشمن کو شکست دی۔گورنر سندھ نے کہا کہ کے فور منصوبہ مکمل کرنے کے لیے اگلا میئر ایم کیو ایم کا لانا ہو گا، کراچی کا مقدمہ صرف ایم کیو ایم والے ہی لڑ سکتے ہیں، ایم کیو ایم میں وڈیرانہ اور جاگیردارانہ سوچ نہیں ہے۔

گورنر کامران ٹیسوری نے کہا کہ کراچی کی معیشت کو ٹھیک کرنے کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہو گا، کراچی آج جس حالت میں ہے اس پر صرف ہی افسوس کیا جا سکتا ہے، کراچی پہلے کیا تھا اور اب کیا ہو گیا ہے، ووٹ کے وقت کراچی یاد آتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ معرکہ حق میں بھارت کو ہم نے دھول چٹائی ہے، خطے میں پاکستان کی بالادستی قائم ہوچکی ہے،میں تمام فورسز کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں،جشن آزادی بھرپور طریقے سے منائیں گے۔ہم پاکستان بنانے والوں کی اولادیں ہیں،ہم سب اس پرچم کے سائے تلے ایک ہیں،بھارت ہماری سالمیت پر ہاتھ اٹھائیگا تو پوری قوم سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہو گی،گورنر ہاس میں جشن آزادی کی تقریبات جاری ہیں۔