پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا، قائداعظم کی پالیسی پر عملدرآمد جاری ہے، دفترخارجہ

جمعہ 8 اگست 2025 23:12

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 08 اگست2025ء)پاکستان نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا، بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی پالیسی پر عملدرآمد جاری ہے جبکہ ترجمان دفتر خارجہ نے افغان ناظم الامور کو سفیر کے مساوی پروٹوکول دینے کی تصدیق کردی۔ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بتایا کہ ایرانی صدر نے 2 اور 3 اگست کو پاکستان کا دورہ کیا، ایرانی صدر ایک اعلی سطح کے وفد کے ہمراہ صدر آصف علی زرداری کی دعوت پر پاکستان آئے، اس دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور سفارتی معاہدے طے پائے۔

ترجمان کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے ایران پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کی، جبکہ ایرانی صدر نے وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف زرداری سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔

(جاری ہے)

وزیراعظم نے ایران اور اسرائیل کی جنگ میں اعلی فوجی افسران اور سائنس دانوں کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا، ترجمان نے کہا کہ پاکستان بیت المقدس میں اسرائیلی وزیروں کے اشتعال انگیز اقدامات اور فلسطین میں جاری ظلم کی سخت مذمت کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کی شدید مذمت کرتا ہے، پاکستان بین الاقوامی قوانین کے مطابق کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کا مطالبہ کرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں کتابوں کی ضبطی اور بک اسٹورز پر چھاپے افسوسناک ہیں اور بھارت کشمیر کی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

افغانستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان نے باہمی معاہدے کے تحت اپنے ناظم الامور کو سفیروں کے مساوی اپ گریڈ کیا ہے اور اس حوالے سے نئے سفارتی اسناد کی طلبی کو ضروری نہیں سمجھا گیا، کابل میں پاکستانی ناظم الامور بھی سفیر کے طور پر فرائض انجام دے رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ افغان عبوری وزیر خارجہ ملا امیر متقی کے دورہ پاکستان کی تاریخوں پر کام جاری ہے، بلوچستان میں غیر ملکی اسپانسرڈ دراندازی کے بارے میں سوال پر ترجمان نے کہا کہ اس کے انسداد کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

اسرائیل کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور پاکستانی شہری اپنے پاسپورٹ پر اسرائیل کا سفر نہیں کر سکتے، انہوں نے کہا کہ بانی پاکستان محمد علی جناح نے بھی اس معاملے پر واضح پالیسی دی تھی، جس پر آج بھی عمل درآمد جاری ہے۔پاکستان نیروس-یوکرین تنازعہ میں پاکستانیوں کے مبینہ ملوث ہونے کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ترجمان دفترخارجہ شفقت علی خان نے کہا ہے کہ ابھی تک یوکرینی انتظامیہ نے اس ضمن میں نہ تو پاکستان سے رابطہ کیا ہے اور نہ ہی معتبر شواہد پیش کیے ہیں، پاکستان معاملے کو یوکرین کے ساتھ اٹھائیگا اور وضاحت طلب کریگا۔