وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا بسنت کی خوشیاں منانے کیلئے شاندار ردعمل دینے پر عوام کا شکریہ،بسنت کے دوران حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی اپیل
منگل 3 فروری 2026 23:40
(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ1250 میں شروع ہونے والا تہوار،بسنت بہار کی آمد کی نمائندگی کر تی ہے۔
خوشی منائیں مگر اپنی سلامتی کا بھی خیال کریں، آس پاس کے لوگوں کا تحفظ بھی ملحوظ خاطر رکھیں۔ پنجاب میں بسنت کو فول پروف بنانے کیلئے ہر ڈیپارٹمنٹ نے بھرپور کوشش کی۔ تفکرات کو ذہن سے نکالیں، پریشانیاں بھول کر بھرپور خوشی منائیں۔ ہر روٹ پر ٹرانسپورٹ مفت ہوگی، بائیک کی بجائے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کریں۔بسنت کے تہوار پر عوام کو60ہزار سے زائد رائیڈز مہیا کریں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ 419بسیں، میٹروبس،اورنج لائن ٹرین اور 6 ہزار یانگو رکشوں پر سفر بالکل مفت ہوگا۔لاہور میں 7 لاکھ سے زائد بائیکس پر سیفٹی راڈ لگائے گئے ۔ صرف نو دھاگوں پر مشتمل کاٹن کی ڈور کا پنا استعمال ہوگا، چرخی، دھاتی تار، تندی اور بلٹ پروف میٹریل وغیرہ منع ہے۔ ممنوعہ اشیا کے استعمال پر قانون حرکت میں آئے گا۔ انہوں نے کہاکہ لاہور میں ضرورت کے تحت باہر سے بھی پتنگیں اور ڈور منگوانے کی اجازت دی گئی ہے۔ سول ایوی ایشن ایریاز میں پتنگ بازی کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ مفت سیفٹی راڈ مہیا کرنے کیلئے کیمپ قائم ہیں، 7 لاکھ راڈ لگ چکے ہیں۔سیفٹی راڈ لگواکر بائیک سوار نقصان اور جرمانے سے بچ سکتے ہیں۔ سیفٹی راڈ کی پابندی کا اطلاق موٹر سائیکل رکشے اور لوڈر رکشے پر بھی ہوگا۔رجسٹرڈ مینو فیکچرز، سیلر، ٹریڈرز اور ایسوسی ایشن ہی کیو آر کوڈ سے مزین پتنگیں اور ڈور وغیرہ مہیا کر سکیں گے۔ انہوں نے کہاکہ حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کیلئے 90ہزار شورٹی بانڈ لیے گئے ہیں۔ ہر علاقے میں تھرمل ڈرون سرویلنس ہورہی ہے، رات کو بھی نگرانی کریں گے۔ لاہور میں بوسیدہ اورخطرناک عمارتوں کا سروے مکمل ہوچکا ہے، سب سے فٹنس سرٹیفکیٹ لیے گئے ہیں۔کھلی چھت پرچار دیواری نہیں ہوگی تو سیفٹی کیلئے پتنگ بازی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ہر چھت کو چاروں طرف سے نائیلون کی رسی سے محفوظ بنایا جائے۔ پتنگیں لوٹنے والے بچوں کا بھی خیال رکھا جائے۔انہوں نے کہا کہ لاہور کی ہرتحصیل میں اسسٹنٹ کمشنر کی سربراہی میں 15رکنی کوئیک رسپانس ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ ایمرجنسی کی صورت میں 51ایمبولینس، 30فائر بریگیڈ اور300موٹرسائیکل ایمبولینس موجود ہوں گی۔ منسٹری آف واٹر اینڈ پاور سے اپیل کرتی ہوں کہ لٹکتے ہوئے تاروں کے گچھے ہٹانے کا انتظام کریں۔بھاٹی گیٹ، موچی گیٹ، فورٹ روڈ، شیرانوالہ گریڈ سٹیشن پر حفاظتی اقدمات مکمل کر لیے گئے ہیں۔لاہور میں ہر ایک کو سیف سٹی کیمروں سے دیکھا جارہا ہے۔ پتنگ بازی قوانین کی پابندی نہ کرنے والوں کے خلاف کال کرکے یا پورٹل پر وسل بلوئیر / مخبری یا اطلاع دینے کانظام بھی قائم کیا گیا ہے۔ دھاتی ڈور بنتی، بکتی یا استعمال ہوتے دیکھیں تو فورا کال کریں۔ انہوں نے کہا کہ سزا نہیں دینا چاہتے لیکن عوام کے تحفظ کے لئے قانون کا نفاذ ضروری ہے۔ہر پتنگ اور ڈور کے پنے پر کیو آر کوڈ درج ہے، رئیل ٹائم مانیٹرنگ کی جائے گی۔ پنجاب ریگولیشن آف کائیٹ فلائننگ ایکٹ رولز ریگولیشن اور نوٹیفکیشن جاری ہوچکا ہے۔ رولز کی خلاف ورزی پر پانچ سے سات سال قید، اور 50 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ لاہور کو تین زونز میں تقسیم کیا گیاہے،ہائی رسک زون میں 48، ییلو زون میں 32 اور گرین زون میں 20کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔داخلی اور خارجی راستوں کی ڈیجیٹل مائپنگ کی جارہی ہے، 10ہزار سے زائد پولیس اہلکار اور 2342ٹریفک پولیس تعینات ہے۔ لبرٹی راونڈ ابائوٹ پر سب سے بڑی پتنگ اور لیزر لائٹس وغیر ہ کا شو ہوگا۔ محفوظ پتنگ بازی کا موقع دیا گیاہے تو ذمہ دار شہری کے طور پر اپنے فرائض سرانجام دیں۔ حکومت پنجاب نے عوام کی حفاظت کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ لوگ محفوظ ہوں گے تو مجھے خوشی ہوگی،بائیک والے ہیلمٹ پہن رہے ہیں اور ریڈ لائن پر ٹریفک رک جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ 90فیصد موٹر سائیکل پر سیفٹی راڈ لگے ہوئے تھے، سب قیاس آرائیاں غلط ثابت ہوگئیں۔ گٹر کے ڈھکن چوری نہیں ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون سازی کررہے ہیں، گٹر کے ڈھکن چوری کرنے والے، بیچنے اور خریدنے والے کو ایک سے 10سال قید اور جرمانہ ہوگا۔ گٹر کا ڈھکن نہ ہونے سے کوئی ڈیتھ ہوئی تو ذمہ دار کو دس سال قید اور 30لاکھ جرمانہ ہوگا۔ پانی کے ہر گندے جوہڑ پر چار دیواری بنانا آسان نہیں، والدین کو بچوں کا خیال رکھنا پڑے گا۔ عوام کو بہتر تبدیلی مل رہی ہے، اب جھوٹے بیانیہ کے ساتھ نہیں بلکہ پرفارمنس کے ساتھ ہیں۔ بنیان مرصوص میں لوگوں نے فتح کا جشن منایا، دلوں میں ملک کیلئے محبت ہے۔ بسنت میں اربوں کی معاشی سرگرمیاں بڑھیں، کائیٹ مینوفیکچرنگ، ہوٹل، ریسٹو رنٹ بک ہوچکے ہیں۔ پنجاب سے پتنگ بازی کی ڈیمانڈ پوری نہیں ہوسکی تو باہر سے لانے کی اجازت دے دی۔ لوگ کے پی کے سے آکر پتنگیں وغیرہ بیچ رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بسنت کو محفوظ ماحول میں منانا چاہتے ہیں، دنیا بھر سے لوگ بسنت منانے کیلئے آرہے ہیں۔ نوجوانوں کو پنجاب کے ثقافتی ورثے سے متعارف کرانا چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنی زبان اور ثقافت پر فخر محسوس کریں۔ پنجاب کی اپنی خوبصورت اقدار ہیں، پنجابی شاندار زبان ہے، ہم نے جگہ جگہ پنجابی زبان کے بورڈ لگائے۔ بسنت ملکی یا صوبائی سطح کا تہوار نہیں بلکہ انٹرنیشنل فیسٹیول بن چکا ہے۔ پنجاب کے کلچر کو متعارف کرواکر پاکستان کی بہترین تصویردکھانا چاہتے ہیں۔ کئی دہائیوں سے سن رہے تھے ملک نازک اور خطرناک حالات سے گزررہا ہے۔ اب ملک آگے بڑھ رہا ہے، پنجاب ترقی کررہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پنجاب کی ماں، بہن اور بیٹی ہوں،سب کیلئے آسانیاں اور سکھ چاہتی ہوں۔ پنجاب میں سوا لاکھ سے زائد لوگوں کو اپنا گھر مل گیا، ہزاروں کلو میٹر سڑکیں بن گئیں۔ اربوں روپے کی گرین بسیں آرہی ہیں، فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں بھی میٹرو بس بن رہی ہے۔ محمد نواز شریف کے دور میں بسنت زور و شور سے منائی جاتی تھی، انہوں نے بسنت تہواربحال کرنے کا کہا۔ لاہوروالے ایسے خوشی منارہے ہیں جیسے عید کا چاند نظر آگیا ہو۔علاقائی زبانیں بھی بچوں کو سیکھائیں، یہ شرمندگی نہیں فخر ہے۔ پنجاب میں بیوٹیفکیشن کے سینکڑوں پراجیکٹ چل رہے ہیں۔ پہلے کہتے تھے، پرفارمنس نہیں بیانیہ ہونا چاہیے، اس سوچ کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ لاہور کے تین تین چکر لگا کر چلے گئے، کسی نے بات نہیں سنی، پختونوں کے علاقے میں بھی گئے کوئی باہر نہیں آیا۔اب نیا سال ہارس اینڈ کیٹل شو، میلہ چراغاں کوتہوار کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اب لوگ جلائو گھیرائو کی کال پر کان نہیں دھرتے، لبرٹی چوک کبھی بد تہذیبی کا مرکز تھا، اب کلچرل سنٹر ہے۔ جیل کے باہر ضرور بیٹھیں مگر کے پی کے کے کروڑوں لوگوں کا بھی خیال کریں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں خوف و ہراس سے فائدہ صرف دشمن ملک ہی اٹھاتا ہے۔ لوگ روزگار اور پریشانیوں میں الجھے ہوئے ہیں،خوشی کا بھی وقت ملنا چاہیے۔ہرگھر میں باغ نہیں ہوتا اس لیے ہر شہر میں فیملی پارک بنائے جارہے ہیں۔ مریم نواز شریف نے کہا کہ کہتے تھے جو ہمارے ساتھ ہے وہ نیک ہے اور باقی سب چور اور ڈاکو ہیں۔ یہ لوگ املاک کو جلانا سیاست سمجھتے ہیں،گلی محلے میں منفی سوچ پھیلاکر عوام کو سٹریس کا شکار کیا گیا۔ لوگوں کو آگ لگانے، نشانہ بنانے اور آوازیں کسنے کا درس دیا گیا، اپنے بچے باہر بیٹھے تھے، دوسروں کے بچوں کو توڑ پھوڑ سکھائی۔ ہر وقت امن وامان اور برے حالات کا رونا رویا جائے تو ملک دشمن خوش ہوں گے۔ لوگ سرمایہ کاری کیلئے آنا چاہتے ہیں، ہمیں مثبت تصویر پیش کرنی چاہیے۔وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب ٹیکنالوجی اور اے آئی میں لیڈ کررہا ہے۔لاہور کے ہوٹل میں آتشزدگی کا واقعہ سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے خود مانیٹرکیا۔پنجاب کا ہر شہر سی سی ٹی وی مانیٹرنگ کی وجہ سے سیف سٹی بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوبر چلانے والی بچی نے کہا اتنے محفوظ ماحول کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی، یہ میرے لیے میڈل ہے۔ امن وامان کی صورتحال میں 70 فیصد بہتری آچکی ہے۔ہر گلی محلہ صاف کررہے ہیں، دروازے پر جاکر دوائیاں دیتے اور علاج کرتے ہیں۔پنجاب میں مختصر عرصے کے دوران 10ہزار بچوں کی ہارٹ سرجری ہوچکی ہے۔ ٹریفک رولز کا نفاذ کیا تو شور اٹھا یہ کسی ایک کی نہیں، ہم سب کی بہتری کے لئے ہیں۔حکومت عوام کی بہتری کے لئے قوانین نافذ کرتی ہے۔مزید قومی خبریں
-
گورنر خیبر پختونخوا کی شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی شیرینگل میں پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے طلبہ پر تشدد کی مذمت
-
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ساجد طوری اور مرتضیٰ سیٹھی کی ملاقات
-
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے تھائی لینڈ انٹرنیشنل تائیکوانڈو چیمپئن شپ کے گولڈ میڈلسٹ احسان اللہ محسود کی ملاقات
-
پنجاب سے 4.5 ملین میٹرک ٹن گندم غائب ہونے کا تاثر بالکل بے بنیاد ،حقائق کے برعکس قرار
-
تاریخ مسخ نہیں کرنی چاہیے، بچوں کو سچ بتانا ہوگا، سعید غنی
-
سوشل میڈیا پر اسلحہ کی نمائش کرنے والا ملزم گرفتار
-
پولیس حملہ کیس،فلک جاوید کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14دن کی توسیع
-
اتحادیوں سے مشاورت کے بعد قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس 17 اگست کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری
-
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کا سپیکر بلوچستان اسمبلی کے صاحبزادے کے انتقال پر اظہار تعزیت
-
لاہور کے 84 تھانوں میں خواتین افسران کی 24 گھنٹے موجودگی کا فیصلہ
-
کوڑا ٹیکس کی وصولی،محکمہ ایکسائزنے سروس لیول ایگریمنٹ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کو بھجوادیا
-
خانیوال ، پسند کی شادی کا المناک انجام، نو بیاہتا دلہن غیرت کے نام پر قتل
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.