بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کے باعث تربوز کی فصل متاثر ہونے کا خدشہ

جمعرات 26 مارچ 2026 21:08

پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 26 مارچ2026ء) بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کے باعث تربوز کی فصل متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ ضلع صوابی کے 45 سالہ کسان نصیر خان بھی ان خدشات کا اظہار کر رہے۔ صوابی_سوات موٹروے کے ساتھ واقع گاؤں شیخ جانہ میں انہوں نے پانچ ایکڑ کھیتوں پر تربوز کی فصل کاشت کی ہے جو کٹائی کےلیے تقریباً تیار ہے لیکن نصیر اور دیگر کسانوں میں بے چینی پائی جاتی ہے جس کی وجہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں پانی کی قلت کے خدشات ہیں۔

کاندھے پر کدال رکھے ایک لمحے کو رک کر نصیر پانی کے بہاؤ کو دیکھتا ہے، اسے یقین نہیں کہ نہر سے یہ پانی کب تک اس کے کھیتوں تک پہنچتا رہے گا۔ وہ کہتا ہے کہ پانی کی مسلسل فراہمی کے بغیر یہ فصل زندہ نہیں رہ سکتی۔

(جاری ہے)

وہ دریاؤں کے بہاؤ میں خلل پر بڑھتے ہوئے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ تربوز موسم گرما میں بہت ضروری پھل ہے کیونکہ یہ ہائی بلڈ پریشر اور ہیٹ اسٹروک کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے لیکن یہ پانی پر بہت زیادہ انحصار کرنے والی فصل بھی ہے۔

نصیر کیلئے تربوز کی کاشت محض ایک موسمی کاروبار نہیں بلکہ ایک خاندانی ورثہ ہے۔ اس کے والد اسی زمین پر کاشتکاری کرتے تھے اور آج اس کا بھائی اور بیٹا اس کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں اور غروبِ آفتاب سے پہلے کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں۔ ان کا مستقبل درست وقت، دیکھ بھال اور پانی کی بلا تعطل فراہمی پر منحصر ہے۔ زرعی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تربوز ایک ایسی فصل ہے جسے بہت زیادہ پانی چاہیے ہوتا ہے۔

خیبر پختونخوا کے محکمہ زراعت میں پلانٹ پروٹیکشن کے سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد خان کے مطابق پانی کی تھوڑی سی بندش کے بھی دیرپا اثرات ہو سکتے ہیں۔ پھول آنے کے دوران پانی کی کمی سے پیداوار میں نمایاں کمی آسکتی ہے۔ پھل چھوٹا، بدشکل اور کم میٹھا ہو جاتا ہے جس سے اسے مارکیٹ میں بیچنا مشکل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تربوز کی پیداوار میں پاکستان کا عالمی سطح پر 30واں نمبر ہے جو عالمی پیداوار میں تقریباً 0.3 فیصد حصہ ڈالتا ہے۔

یہ فصل ریتلی یا سیلٹ والی چکنی مٹی میں 18 سے 35 ڈگری سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت میں پروان چڑھتی ہے۔ خیبر پختونخوا اور وسطی پنجاب میں اس کی بوائی کے لیے فروری، مارچ اور جولائی بہترین وقت ہیں۔ طبی ماہرین نے بھی اس پھل کی غذائی اہمیت پر زور دیا ہے۔ پبی، نوشہرہ کے ایک سرکاری ہسپتال کے میڈیکل آفیسر ڈاکٹر ملک ریاض نے بتایا کہ تربوز تقریباً 92 فیصد پانی پر مشتمل ہوتا ہے اور وٹامن A، B6، اور C کے ساتھ ساتھ اینٹی آکسیڈنٹس اور امینو ایسڈز سے بھرپور ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا یہ چکنائی سے پاک ہے، اس میں سوڈیم کم ہے اور ایک کپ میں صرف 40 کیلوریز ہوتی ہیں۔ اس کا باقاعدہ استعمال بلڈ پریشر کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور ہیٹ اسٹروک سے بچاتا ہے تاہم ماہرینِ اقتصادیات اور پالیسی تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ پانی کی دستیابی میں کمی کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ پشاور یونیورسٹی کے ڈاکٹر نعیم خٹک نے خبردار کیا کہ دریاؤں کے بہاؤ میں نمایاں کمی ملک بھر میں زراعت، لائیو اسٹاک اور غذائی تحفظ کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں کمی کی حالیہ رپورٹس نے آزاد کشمیر اور پنجاب میں تربوز، گندم اور چاول کے کاشتکاروں کی تشویش بڑھا دی ہے۔ حکام نے دسمبر 2025 کی سیٹلائٹ تصاویر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بگلیہار ڈیم کے قریب پانی روکنے کی نشاندہی ہوئی ہے جس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس سے مرالہ ہیڈ ورکس پر پانی کا بہاؤ کم ہوا ہے۔

ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ پانی کی طویل قلت پاکستان کی زرعی پیداوار کو 40 فیصد تک متاثر کر سکتی ہے جس میں گندم اور چاول جیسی بنیادی فصلیں اور تربوز و خربوزے جیسی موسمی پیداوار شامل ہیں۔قانونی اور بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ علاقائی استحکام کےلیے پانی کی تقسیم کے معاہدے انتہائی اہم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دریاؤں کے بہاؤ میں کسی بھی قسم کا خلل آبپاشی کے نظام، پن بجلی کی پیداوار اور ان لاکھوں خاندانوں کے روزگار کو متاثر کر سکتا ہے جن کا انحصار دریائے سندھ کے نظام پر ہے۔

یہ نظام خطے کے تقریباً 30 کروڑ لوگوں کی کفالت کرتا ہے جس کی وجہ سے غذائی تحفظ اور معاشی استحکام کے لیے پانی کا مستقل بہاؤ ناگزیر ہے۔خیبر پختونخوا، پنجاب اور سندھ بھر میں ہزاروں خاندان موسمی پھلوں کی کاشت پر انحصار کرتے ہیں۔ فصل کی کمزوری مقامی معیشت پر اثر انداز ہوسکتی ہے جس سے کھیتوں کے مزدور، ٹرانسپورٹرز اور مارکیٹ کے دکاندار متاثر ہوں گے۔ صوابی میں تربوز کے کھیت فی الحال سبز ہیں لیکن نصیر کی طرح دیگر کسانوں کو بھارتی گھناؤنی آبی جارحیت سے خطرات لاحق ہیں اور سند طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں پر وہ شدید خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔