سندھ اسمبلی نے صوبے کی تقسیم اور نئے صوبوں یا انتظامی اکائیوں کے قیام کی تمام بیرونی کوششوں کو متفقہ طور پر مسترد کرکے تاریخی قرارداد منظور کرلی

سندھ کی جغرافیائی وحدت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور صوبے کی تقسیم سے متعلق کوئی بھی اقدام سندھ کے منتخب ایوان کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں، وزیراعلیٰ سندھ آج پتہ چل جائے گا کون سندھ کی تقسیم چاہتا ہے کون مخالف ہے، اپوزیشن لیڈر لمبی چوڑی تقریر جھاڑ کر چلے گئے۔ اتنا بڑا دوغلا پن میں نے کبھی نہیں دیکھا جب ہمارے اراکین نے بولنا شروع کیا تو سب مکر گئے کہ ہم صوبہ نہیں بنانا چاہتے، اپوزیشن اگر اپنے الفاظ کیساتھ سچی ہوتی تو بھاگتی نہ، ایوان میں خطاب تاریخ کسی کو معاف نہیں کرتی اور تاریخ واقعات کو ہمیشہ یاد رکھتی ہے، سندھ کے معاملے پر آج کیے جانیوالے فیصلے تاریخ میں یاد رکھے جائینگے، فریال تالپور سندھ کی تقسیم کا معاملہ کسی ایک سیاسی جماعت یا کسی ایک لسانی طبقے تک محدود نہیں، پورے سندھ کے عوام کا مشترکہ مسئلہ ہے، وزیر اطلاعات شرجیل میمن ہمارا واضح مؤقف ہے سندھ ایک ہے ،ایک ہی رہیگا، موجودہ جغرافیائی وحدت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی ہرگز قبول نہیں کی جائے گی، وزیر داخلہ سندھ

جمعرات 3 ستمبر 2026 22:00

�راچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 03 ستمبر2026ء) سندھ اسمبلی کے ایک طویل اور تاریخی اجلاس میں صوبے کی تقسیم اور نئے صوبوں یا انتظامی اکائیوں کے قیام کی تمام بیرونی کوششوں کو متفقہ طور پر مسترد کرتے ہوئے ایک تاریخی قرارداد منظور کرلی۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ کی وحدت کے دفاع کا اعلان کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ سندھ کی جغرافیائی وحدت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور صوبے کی تقسیم سے متعلق کوئی بھی اقدام سندھ کے منتخب ایوان کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں، سندھ اسمبلی اپنے آئینی حق سے دستبردار نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ آئین میں ترمیم کرکے قومی اسمبلی کو صوبوں کی حدود سے متعلق قانون سازی کا اختیار دیا گیا اور صدرِ مملکت کی منظوری کے لیے دو تہائی اکثریت کی شرط رکھی گئی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے یہ بات جمعرات کو سندھ اسمبلی میں ملک میں نئے صوبوں کی تشکیل سے متعلق نثار کھوڑو کی تحریک التوا پر گزشتہ چار روز سے جاری بحث کے اختتام پر اپنے کلیدی خطاب میں کہی۔

انہوں نے بڑے جذباتی انداز میں اپنے خطاب میںکہا کہ آج پتہ چل جائے گا کہ کون سندھ کی تقسیم چاہتا ہے اور کون اس کا مخالف ہے۔انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ تحریک التوا نہیں آنی چاہیے تھی، لیکن ہماری پارلیمانی پارٹی نے فیصلہ کیا کہ اس ایشو پر ایوان میں بات ہو۔ انہوں نے اپوزیشن لیڈر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا وہ لمبی چوڑی تقریر جھاڑ کر چلے گئے۔

اتنا بڑا دوغلا پن میں نے کبھی نہیں دیکھا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ بحث نثار کھوڑو نے نہیں چھیڑی، وہ اسے صرف صحیح جگہ پر لائے ہیں۔ لاہور میں ایک تقریر کے دوران وفاقی وزیر کے نئے صوبوں اور ایڈمنسٹریٹو یونٹس کے بیان کے بعد دھڑا دھڑ جلسے اور ٹی وی پروگرام ہوئے لیکن جہاں بات ہونی چاہیے تھی وہاں نہیں ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی اس پر قرارداد منظور کرچکی ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ سب سے پہلے 1938 میں مسلم لیگ سندھ شاخ نے وہ قرارداد پاس کی جو قراردادِ پاکستان کی بنیاد بنی۔ 1947 میں برطانوی پلان کے بعد سندھ اسمبلی نے 26 جون کو اسپیشل سیشن بلا کر سب سے پہلے بھارت سے علیحدگی کی قرارداد دوبارہ پاس کی۔ اس وقت کے اسپیکر کے الفاظ تھے "پاکستان کی تخلیق میں سندھ سب سے سرفہرست ہی"۔انہوں نے کہا کہ فروری 1948 میں کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کے خلاف بھی قرارداد آئی۔

سندھ کو شروع سے ہی اس صورتحال کا سامنا ہے۔ ون یونٹ اس وقت بھی غلط تھا، آج بھی ہم اسے غلط کہتے ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے آئین دیا۔ اس آئین میں صوبوں کی تقسیم کا اختیار قومی اسمبلی کو بھی نہیں تھا۔ بعد میں جنرل ضیا نے ترمیم کر کے یہ اختیار قومی اسمبلی کو دیا لیکن شرط رکھی کہ صدر دو تہائی اکثریت کے بغیر دستخط نہیں کریں گے۔

اسی لیے ہم بار بار قومی اسمبلی کو خبردار کرتے ہیں کہ خبردار سندھ کی تقسیم پر بات بھی نہ کرنا۔ایم کیو ایم پر تنقیدمراد علی شاہ نے کہا کہ جب ہمارے اراکین نے بولنا شروع کیا تو سب مکر گئے کہ ہم صوبہ نہیں بنانا چاہتے۔ اپوزیشن اگر اپنے الفاظ کے ساتھ سچی ہوتی تو بھاگ نہیں جاتی۔انہوں نے مصطفی کمال، خالد مقبول صدیقی اور فاروق ستار کے بیانات کا حوالہ دیا۔

کہا کہ مصطفیٰ کمال نے ایڈمنسٹریٹو یونٹس اور ڈویڑنز کو صوبہ بنانے کی بات کی۔ خالد مقبول صدیقی نے امریکا میں بیٹھ کر کہا کہ صوبے بننے چاہئیں۔ فاروق ستار نے کہا کہ نئے یونٹس بنا دیں، اگر وزیراعلیٰ نہیں کہنا تو چیف ایگزیکٹو کہہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کس کو بے وقوف بنا رہے ہیں ہم ان کی باتوں میں نہیں آئیں گے۔ اگر ایم کیو ایم کہتی ہے کہ ہم سندھ کا بٹوارہ نہیں چاہتے تو کہہ دیں کہ مصطفی کمال ہمارا نہیں ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان تمام بیانات کے بعد ہی نثار کھوڑو صاحب تحریک التوالے آئے تاکہ بحث ایوان میں ہو۔انہوں نے کہا کہ ہم قومی اسمبلی کو پہلے ہی خبردار کرچکے ہیں کہ سندھ کے ٹکڑے کرنے یا حصے کرنے کی بات قابلِ قبول نہیں ہے۔ سندھ اسمبلی اپنے آئینی حق سے دستبردار نہیں ہوگی۔ سندھ کے معاملات پر فیصلے سندھ کے منتخب نمائندوں کے ذریعے ہی ہونے چاہئیں۔

انہوں نے کہا۔ بحث میں اپوزیشن اراکین سمیت ایم کیو ایم کے رکن ریحان اکرم، راشد خان، افتخار عالم اور علی خورشیدی نے بھی سندھ کی تقسیم کی مخالفت کی۔بحث کے دوران اپوزیشن کے اراکین نے بھی واضح کیا کہ وہ سندھ میں نئے صوبے کے قیام کے مخالف ہیں۔ راشد خان نے کہا کوئی نہیں چاہتا کہ سندھ ٹوٹے اور ہم سندھ کو ٹوٹنے نہیں دیں گے۔ افتخار عالم نے کہا سندھ ہماری شناخت ہے۔

۔ انہوں نے خیبرپختونخوا اسمبلی کی حالیہ قرارداد کا بھی حوالہ دیا جس میں نئے صوبوں کے قیام کی مخالفت کی گئی۔"انتظامی یونٹس" کی تجویز پرانہوں نے 30 جولائی کو ایم کیو ایم کی جانب سے دی گئی تجویز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مصطفی کمال نے موجودہ ڈویڑنوں کو انتظامی یونٹس کا درجہ دینے کی حمایت کی تھی۔ سندھ میں 7، خیبرپختونخوا میں 7، پنجاب میں 10 اور بلوچستان میں 8 ڈویڑن موجود ہیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا سندھ میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں، لیکن اصل مو ٴقف واضح ہونا چاہیے۔ ایک طرف کہا جا رہا ہے کہ سندھ کی تقسیم نہیں چاہتے اور دوسری طرف انتظامی یونٹس کے نام پر نئے صوبائی ڈھانچے کی بات کی جا رہی ہے۔ اگر نئے انتظامی یونٹس میں نئی اسمبلیاں اور نئے عہدے قائم کرنے ہیں تو اسے محض انتظامی تبدیلی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

وزیراعلیٰ نے نئے صوبوں کی بحث کو صرف آبادی سے جوڑنے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہصوبے آبادی کے حساب سے نہیں بلکہ ضرورت اور انتظامی تقاضوں کے مطابق بنتے ہیں۔ سندھ ایک متحد صوبے کی حیثیت سے پاکستان میں شامل ہوا تھا۔انہوں نے کہا کہ اگر بات گورننس کی ہے توپھر گورننس بہتر بنانے کے لیے انتظامی اصلاحات پر بات ہونی چاہیے۔وزیراعلیٰ نے اسپیکر سے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ تحریک التوا ایک متعین معاملے سے متعلق ہوتا ہے اور غیر متعلقہ گفتگو سے گریز کیا جانا چاہیے لیکن ایم کیو ایم کے رہنماو ٴں کی جانب سے مختلف اوقات میں مختلف سیاسی بیانیے سامنے آتے رہے۔

سیاسی جماعتوں کو اپنے مو ٴقف کا عملی ثبوت بھی دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے تمام اراکین سندھ کی وحدت کے مو ٴقف پر قائم ہیں اور جو لوگ بظاہر ایک بات کر رہے تھے وہ بعد میں ایوان سے اٹھ کر چلے گئے۔ انہوں نے کہاکہ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ نام نہاد پی ٹی آئی والے ہدایات کہاں سے لے رہے ہیں۔کل رات تک پی ٹی آئی والے کہہ رہے تھے کہ ہم آپ کیساتھ ہیں اور آج غائب ہیں۔

پی آئی والے اگر لوگوں کے ووٹ سے منتخب ہوتے تو یہ حرکت نہ کرتے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایم کیو ایم والے منت سماجت کرکے منتخب ہوئے ہیں وہ اب تک نفرتوں کی سیاست کر رہے ہیں اسی لیے ان کا ووٹ بینک ختم ہوگیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ بلدیاتی نظام کی بات کرتے ہیں لیکن بلدیاتی انتخابات کے موقع پر ہم نے ان کی منتیں کی تھیں کہ انتخاب لڑلیں مگریہ لوگ کہہ رہے تھے کہ ہمیں ووٹ کوئی نہیں دے گا۔

ایم کیو ایم والے بھی ہدایات کہیں اور سے لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایڈمنسٹریٹو یونٹ بنانا ہمارا کام ہے، جب ضرورت ہوگی نئے ضلع اور ڈویڑنز بنادیں گے اس وقت یہ موضوع نہیں ہے۔انہوں نے بتایا کہ ہم نے اس کے لئے ایک قرارداد ڈرافت کی انہوں نے کہا کہ ہم اس میں کچھ اضافہ کرنا چاہتے ہیں، اضافہ کیا تھا کہ نئے انتظامی یونٹس اور اختیارات کی تقسیم کو بھی شامل کیا جائے، جس پرہم نے کہا اس کے لئے الگ قرارداد لائی جا سکتی ہے، قانون کے مطابق قرارداد ایک ہی نکتے پر ہونی چاہیے، وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ایم کیو ایم نے لیکن بدنیتی دکھانی تھی، وہ انہوں نے دکھادی اور واک آوٹ کرگئے۔

انہوں نے کہا کہ یہ لوگ اسمبلی میں آکر کہتے ہیں کہ سندھ کی تقسیم نہیں چاہتے لیکن باہر جا کر کہتے ہیں کہ ایڈمنسٹریٹو یونٹس بن جائیں تو کیا فرق پڑتا ہے۔قبل ازیں ایوان میں خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما اور رکن سندھ اسمبلی فریال تالپور نے کہا ہے کہ آنے والی نسلیں اراکین اسمبلی سے ضرور سوال کریں گی کہ سندھ کے حق میں ووٹ کیوں نہیں دیا گیا۔

نہوں نے کہا یہ بھی سوال کیا جائے گا کہ آپ نے سینیٹ میں سندھ سے متعلق قرارداد کی حمایت کیوں نہیں کی فریال تالپور نے کہا کہ تاریخ کسی کو معاف نہیں کرتی اور تاریخ واقعات کو ہمیشہ یاد رکھتی ہے۔ سندھ کے معاملے پر آج کیے جانے والے فیصلے تاریخ میں یاد رکھے جائیں گے۔ اراکین اسمبلی کو سندھ کے معاملے پر اپنے فیصلے کی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے۔

انہوں نے شہداء کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہاآج بھی تاریخ میں ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی قربانیوں کو یاد کیا جاتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو نے اپنی زندگیاں ملک اور عوام کے لیے قربان دیں۔فریال تالپور نے کہا "شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی قربانی آج بھی ہمارے لیے حوصلے اور جدوجہد کی علامت ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر اطلاعات و ٹرانسپورٹ شرجیل میمن کا سندھ اسمبلی میں تاریخی خطاب، کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کی تقسیم کا معاملہ کسی ایک سیاسی جماعت یا کسی ایک لسانی طبقے تک محدود نہیں، بلکہ یہ پورے سندھ کے عوام کا مشترکہ مسئلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج ہونے والی بحث کو سندھ اسمبلی کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ایوان کی کارروائی کو کتابی شکل میں شائع کر کے محفوظ کیا جائے گا تاکہ تاریخ کو مسخ ہونے سے بچایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ عوام تقسیم نہیں، اتحاد چاہتے ہیں۔شرجیل میمن نے کہا کہ انہیں محسوس ہوا کہ بعض اراکین کی گفتگو اور ان کے حقیقی جذبات میں واضح فرق ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کے اردو اور سندھی بولنے والے عوام کے درمیان محبت اور بھائی چارہ قابلِ تحسین ہے۔ سندھ کے عوام کی باہمی محبت ہی ان سیاسی اختلافات سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ سندھ میں بسنے والے اردو بولنے والے عوام بھی سندھ کی تقسیم نہیں چاہتے۔سندھ میں رہنے والا ہر شخص، چاہے کسی بھی زبان یا قومیت سے تعلق رکھتا ہو، سندھ کی تقسیم نہیں چاہتا۔

سینئر وزیر نے کہا کہ جن سیاسی قوتوں کی پالیسیاں مسترد ہوچکی ہیں، وہ شاید ووٹ بینک کے لیے لسانی کارڈ استعمال کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض عناصر اپنے سیاسی مفادات کے لیے لسانی سیاست کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوش کررہے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہنئے صوبوں کا معاملہ قطعی طور پر لسانی مسئلہ نہیں ہے۔ سندھ میں یہ سندھی اور مہاجر کا مسئلہ بھی نہیں ہے۔

شرجیل میمن نے 2014 سے 2018 تک ایم کیو ایم کی قیادت کی جانب سے سندھ کی تقسیم اور نئے صوبے کے مطالبے سے متعلق بیانات کا حوالہ بھی دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ بات سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے نہیں بلکہ سابقہ بیانات اور واقعات کے تناظر میںکر رہے ہیں۔فیصلہ اسمبلیاں کریں گی پ۔یپلز پارٹی کے مو ٴقف کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا واضح مو ٴقف ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کا فیصلہ متعلقہ اسمبلیوں کو کرنا چاہیے۔

ہر صوبے کے مستقبل سے متعلق فیصلہ اسی صوبے کی منتخب اسمبلی کے ذریعے ہونا چاہیے۔ آئین کے آرٹیکل 239 کی ذیلی شق 4 میں صوبے کی حدود میں تبدیلی کے حوالے سے صوبائی اسمبلی کے کردار کو واضح کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے کی تقسیم یا انتظامی تبدیلی کا فیصلہ سڑکوں، جلسوں اور جلوسوں میں نہیں بلکہ آئینی فورم پر ہونا چاہیے۔ اگر سندھ کے مستقبل کا فیصلہ ہونا ہے تو وہ سندھ اسمبلی کے فلور پر ہونا چاہیے۔

پاکستان ہماری ریڈ لائن ہے۔شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کے عوام پاکستان سے جتنی محبت کرتے ہیں، اپنی صوبائی اکائی سے بھی اتنی ہی محبت کرتے ہیں۔ پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری ہمارے لیے ریڈ لائن ہے۔ پاکستان کی آئینی حیثیت اور قانونی حیثیت ہمارے لیے ناقابلِ سمجھوتہ ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو حساس سیاسی معاملات پر صبر، تحمل اور ذمہ داریکا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی ماضی میں بھی سندھ کی وحدت کے حوالے سے متعدد قراردادیں منظور کرچکی ہے اور آج تحریک التواء کے بعد وحدت کے حوالے سے ایک اور قرارداد بھی ایوان میں آنے کی توقع ہے۔وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے سندھ اسمبلی میں تحریک التواء پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا واضح مؤقف ہے کہ سندھ ایک ہے اور ایک ہی رہے گا، سندھ کی موجودہ جغرافیائی وحدت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی ہرگز قبول نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق باتوں نے عوام میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، ایک طرف سندھ کی تقسیم سے انکار کیا جارہا ہے اور دوسری جانب نئے انتظامی یونٹس کی بات کی جارہی ہے، جس سے عوام میں مختلف تاثر پیدا ہورہا ہے۔پیپلز پارٹی نے اس معاملے پر اپنا واضح اور دوٹوک مو ٴقف عوام کے سامنے رکھ دیا ہے۔

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ سندھ کی جغرافیائی حدود اور وحدت ایک انتہائی حساس معاملہ ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ کو انتظامی یونٹس کے نام پر تقسیم کرنے کی کوئی تجویز قابل قبول نہیں۔ اگر کسی علاقے کا انتظامی طور پر انتظام سنبھالنے یا کسی انتظامی تبدیلی کی ضرورت ہے تو اس کے لیے آئینی اور قانونی راستہ موجود ہے، متعلقہ صوبائی اسمبلی سے قرارداد یا قانون کے ذریعے معاملہ آگے بڑھایا جانا چاہیے۔

کسی علاقے پر محض انتظامی بنیاد پر اختیار قائم نہیں کیا جاسکتا۔۔انہوں نے کہا کہ سندھ کی جغرافیائی حدود سے متعلق حساس معاملات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ایسے معاملات کو چھیڑنے سے عوامی ردعمل اور امن و امان کی صورتحال متاثر ہونے کا خدشہ موجود رہتا ہے۔ملک اور بالخصوص بلوچستان کی موجودہ صورتحال کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے اور ایسے حساس معاملات سے گریز کرنا چاہیے جو کسی بھی طور پر امن و استحکام کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں۔

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ سندھ کے عوام اپنی دھرتی، تاریخی حدود اور جغرافیائی وحدت سے گہری وابستگی رکھتے ہیں،اس معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ ہمارا مقصد پاکستان کی وحدت کے اندر ایک بہتر، پرامن،مستحکم اور خوشحال سندھ ہے اور سندھ کی ترقی کے لیے سیاسی استحکام اور امن کا برقرار رہنا ضروری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کی تقسیم کے خلاف قرارداد ایوان میں آئے تو اسے سپورٹ کیا جانا چاہیے۔

جو سیاسی جماعتیں سندھ کی تقسیم کی مخالفت کا مو ٴقف رکھتی ہیں، انہیں انتظامی یونٹس سے متعلق اپنی تجاویز اور مو ٴقف بھی واضح کرنا چاہیے تاکہ کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہے۔کراچی کے ٹریفک مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ شہر میں ٹریفک کا نظام بہتر نہ ہونے کے باعث حادثات اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کے واقعات پیش آرہے ہیں۔

سندھ حکومت کراچی میں ٹریفک نظام کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی سیف سٹی منصوبے کے پہلے مرحلے میں 6 ارب روپے خرچ کیے گئے ہیں جبکہ دوسرے مرحلے میں 9 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔ سیف سٹی منصوبے کا مقصد شہریوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ٹریفک نظام کو بھی بہتر بنانا ہے۔وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ کراچی ایک بین الاقوامی شہر ہے، اس کے لیے جدید اور مو ٴثر ٹریفک مینجمنٹ سسٹم ناگزیر ہے۔

کراچی کے بعد حیدرآباد اور میرپورخاص میں بھی ٹریفک نظام کی بہتری کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں، جبکہ لاڑکانہ میں بھی ٹریفک نظام کو بہتر بنانے پر توجہ دی جارہی ہے۔وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ اسمبلی کی رکنیت،یہ وزارت، یہ سیاست یہاں تک کے ہماری یہ زندگی سندھ کی وحدانیت سے بڑھ کر نہیں ہے۔ اگر سندھ کی تقسیم کی بات ہوگی تو اس وزارت، اسمبلی کی رکنیت اور سیاست کو لات مار دیں گے اور وقت پڑا تو جان بھی دے دیں گے لیکن سندھ کی تقسیم نہیں ہونے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی سندھ کی تقسیم کی آوازیں اٹھیں اور اسی سندھ اسمبلی نے ہر بار آئین کے دائرے میں اپنا کردار ادا کیا ، ایم کیو ایم کے ارکان اب کہتے ہیں سندھ کی تقسیم نہیں چاہتے لیکن یہ لوگ غلط بیانی کررہے ہیں۔ مصطفیٰ کمال، خالد مقبول صدیقی اور فاروق ستار سمیت ایم کیو ایم کی قیادت ماضی میں نئے صوبوں کی بات کرتی رہی ہے۔

خالد مقبول صدیقی نے سندھ میں لسانی بنیاد پر صوبے کے بجائے انتظامی بنیادوں پر مزید یونٹس کی بات کی، سعید غنی نے کہا کہ انتظامی یونٹ کا نام دے کر سندھ میں ایک سے زیادہ صوبوں کی بات کی جا رہی ہے۔ سندھ اسمبلی کے پاس آئینی اختیار ہے کہ سندھ میں نیا صوبہ بننا چاہیے یا نہیں،۔انہوں نے کہا کہ اگر مقصد صرف بہتر انتظامیہ ہے تو اس کے لیے موجودہ انتظامی ڈھانچے کو مضبوط کیا جاسکتا ہے۔

سعید غنی نے کہا کہ سندھ میں الگ صوبے کے مطالبے پر دیواروں کی چاکنگ کے معاملے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور یہ کہنا درست نہیں کہ دیواروں پر صوبے کے مطالبے کی چاکنگ معمولی بات ہے، سعید غنی نے کہا کہ اگر سندھ میں کسی نئے صوبے کے قیام کی بات کی جائے تو سندھ کے عوام خاموش نہیں رہیں گے، سندھ کے عوام سے پوچھے بغیر یہ فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش موجودہ چیلنجز کے دوران ایسی صورتحال پیدا نہیں کرنی چاہیے جو ہمارے قابو سے باہر ہوجائے، سندھ میں نفرت اور انتشار پیدا کرنے والی سیاست کے نتائج خطرناک ہوسکتے ہیں۔وزیر تعلیم سردار شاہ اور وزیر ایکسائز مکیش کمار چاولہ نے کہا کہ دو تہائی اکثریت کے ساتھ بھی سندھ کے خلاف کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

وزیر تعلیم سردار شاہ نے کہا کہ اسمبلی کو دیکھنے والے پوچھیں گے کہ ہر شخص اٹھ کر کیوں کہتا ہے "سندھ میری ماں ہی"۔انہوں نے کہا:"سندھ کے دو پہلو ہیں، ایک جذباتی اور ایک سیاسی۔ جو جذباتی لگاو ٴ لوگوں کا ہے اس کی کوئی مثال نہیں۔ طالع آزما لوگ اس کا اندازہ نہیں کر سکتے۔سردار شاہ نے موقف دیا کہ جب وفاق بنا تو 4 اکائیاں تھیں۔ پنجاب کا تصور رنجیت سنگھ کے بعد اور ستلج کی صورت میں سامنے آیا۔

ملک میں 4 وفاقی یونٹ ہیں لیکنسندھ کا تصور دیگر سے الگ ہے۔ ہم صدیوں سے آزاد ملک رہے ہیں۔ جب ریاستیں تھیں تب بھی سندھ ایک تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں اردو بولنے اور سندھی بولنے والوں کے درمیان ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ یہ "دہرا معیار" ہے کہ ایک طرف سندھ کی تقسیم نہیں چاہتے اور دوسری طرف انتظامی یونٹ بنانے کی بات کی جاتی ہے۔وزیر ایکسائز مکیش کمار چاولہ نے کہا کہ جب ہم اپوزیشن میں تھے تب بھی ان کو سندھ تقسیم کرنے نہیں دیا۔ آج ہم دو تہائی اکثریت میں ہیں تو ان کو کرنے دیں گی ان کا کہنا تھا کہ "تھوڑی دیر میں پتہ چل جائے گا۔ اب ٹائم آئے گا، پتہ چل جائے گا کون دھرتی ماں کے ساتھ کھڑا ہے۔اسمبلی میں دونوں وزراء کے بیانات کے بعد اراکین نے میز بجا کر نعرے لگائے۔