جمشید دستی نے تحفظ پاکستان ایکٹ کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا، تحفظ پاکستان ایکٹ کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا جاسکتا ہے، جمشید دستی

منگل 15 جولائی 2014 07:08

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔15جولائی۔2014ء)رکن قومی اسمبلی جمشید دستی نے تحفظ پاکستان ایکٹ 2014ء کو ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔جمشید دستی کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ تحفظ پاکستان ایکٹ کی کئی شقیں بنیادی انسانی حقوق کے منافی اور آئین کے آرٹیکل 4،9 اور 10 کی خلاف ورزی ہے۔ اس قانون کو ذاتی پسند اور سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا جاسکتا ہے۔

اس لئے عدالت عالیہ سے استدعا ہے کہ اس قانون کو کالعدم قرار دیا جائے۔واضح رہے کہ پارلیمنٹ نے گزشتہ ہفتے تحفظ پاکستان ایکٹ کو منظور کیا تھا ، اس قانون کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں کو غیر معمولی اختیارات تفویض کئے گئے ہیں جن میں کسی بھی مشتبہ شخص کو گولی مارنے اور 60 دن تک حراست میں رکھنے کا اختیار بھی شامل ہے۔

(جاری ہے)

۔

قومی اسمبلی اور سینیٹ کی منظوری کے بعد بل ایوان صدر بھجوایا گیا۔

صدر مملکت ممنون حسین کے دستخط کے بعد یہ بل تحفظ پاکستان ایکٹ بن گیا ہے جو ملک بھر میں فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔ابتدائی طور پر یہ قانون دو سال کیلئے نافذ ہوگا۔ تحفظ پاکستان ایکٹ 2014ء کے تحت ملزم کے ریمانڈ کی مدت ساٹھ روز ہوگی۔ خصوصی عدالت کے قیام کیلئے متعلقہ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سے مشاورت کی جائیگی۔ مشتبہ شخص پر فائرنگ کے اختیار کے معاملے پر سیف گارڈ بھی رکھے گئے ہیں۔ کسی شخص کو فائرنگ کرکے ہلاک کرنے کے واقعہ کی جوڈیشل انکوائری بھی ہوگی۔ تحفظ پاکستان ایکٹ 2014ء کے تحت اغواء برائے تاوان، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ، سرکاری املاک پر حملے کرنیوالوں اور انتہا پسندوں کیخلاف بھی کارروائی کی جا سکے گی۔