جنوبی پنجاب صوبہ محاذ پی ٹی آئی میں ضم، معاہدہ طے، پی ٹی آئی اقتدار میں آکر جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کی پابند ہوگی

پنجاب اور فاٹا میں گورننس اور فیڈریشن مضبوط ہو جائے گی، ہمارا کسی پارٹی سے اتحاد کرنے کا ارادہ نہیں پہلی مرتبہ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف اقتدار میں آئی، وہاں لوگوں کو گیس اور پانی کا پورا حصہ نہیں ملتا، جنوبی پنجاب میں احساس محرومی بڑھتی جارہی ہے، لاہور میرا شہر ہے جہاں پنجاب کا 53 یا 55 فیصد ترقیاتی بجٹ لگتا ہے، مجھے خوش ہونا چاہیے لیکن اس سے لاہور کے قریبی شہر شیخوپورہ، قصور اور دیگر ترقی سے رہ جاتے ہیں، یہی احساس محرومی جنوبی پنجاب میں ہے، صوبہ بنانا آسان نہیں لیکن ہم ابھی کمیٹی بنادیں گے، پاکستان کا مستقبل ایک نئی سوچ کو پروان دینے میں ہے،مینار پاکستان کے سائے تلے جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کا وعدہ کیا گیا،عمران خان ہمارے رہنمائوں کو پی ٹی آئی کا پرچم گلے میں ڈال کر شامل کررہے ہیں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اور خسرو بختیار کا مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب

بدھ مئی 23:04

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ بدھ مئی ء) تحریک انصاف اور جنوبی پنجاب محاذ کے درمیان انضمام کا معاہدہ طے پاگیا،معاہدے کے تحت جنوبی پنجاب صوبہ محاذ تحریک انصاف میں ضم ہوگئی ، تحریک انصاف اقتدار میں آکر جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کی پابند ہوگی،چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ پہلی مرتبہ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف اقتدار میں آئی، وہاں لوگوں کو گیس اور پانی کا پورا حصہ نہیں ملتا، جنوبی پنجاب میں احساس محرومی بڑھتی جارہی ہے، لاہور میرا شہر ہے جہاں پنجاب کا 53 یا 55 فیصد ترقیاتی بجٹ لگتا ہے، مجھے خوش ہونا چاہیے لیکن اس سے لاہور کے قریبی شہر شیخوپورہ، قصور اور دیگر ترقی سے رہ جاتے ہیں، یہی احساس محرومی جنوبی پنجاب میں ہے، صوبہ بنانا آسان نہیں لیکن ہم ابھی کمیٹی بنادیں گے، پاکستان کا مستقبل ایک نئی سوچ کو پروان دینے میں ہے،مینار پاکستان کے سائے تلے جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کا وعدہ کیا گیا،عمران خان ہمارے رہنمائوں کو تحریک انصاف کا پرچم گلے میں ڈال کر شامل کررہے ہیں۔

(جاری ہے)

تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف اور جنوبی پنجاب محاذ کے درمیان انضمام کا معاہدہ طے پاگیا،معاہدے کے تحت جنوبی پنجاب صوبہ محاذ تحریک انصاف میں ضم ہوگئی ، تحریک انصاف اقتدار میں آکر جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کی پابند ہوگی۔ اس موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے خسرو بختیار نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل ایک نئی سوچ کو پروان دینے میں ہے۔ پاکستان کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔

آج میربلخ شیر کی قیادت میں یہاں اکھٹے ہوئے ہیں۔ مینار پاکستان کے سائے تلے جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کا وعدہ کیا گیا۔سپرپاور بھی آج پاکستان کا ہمسایہ ہے۔ پاکستان کی اکائیوں میں توازن لانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنی نسل کو سیاست سے باشعور کرنا ہے۔ ہمارے پاس تحریک انصاف سے ملنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں۔ مسلم لیگ (ن) نے جنوبی پنجاب کو تقسیم کرنے کی کوشش کی۔

ایک ماہ پہلے ہم اپنا مقدمہ عوام کے سامنے رکھا ہمیں سب سے پہلے اندرونی اتحاد کی ضرورت ہے۔ہمارے ساتھ جو پارٹیاں رہیں وہ تخت لاہور پر قابض رہیں۔ عمران خان ہمارے رہنمائوں کو تحریک انصاف کا پرچم گلے میں ڈال کر شامل کررہے ہیں۔ اس موقع پر چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ میں پنجاب محاذ کے تمام اراکین کو پی ٹی آئی میں شمولیت پر خوش آمدید کہتا ہوں، جنوبی پنجاب کو صوبہ ہونا ضروری ہے، میرا یقین ہے کہ پاکستان کو ایک قوم بنانا ہے، وفاق تب مضبوط ہوتا ہے جب یونٹس خوش ہوں کہ ایک قوم کا حصہ بنیں، بڑے صوبوں کا انتظامی نظام چلانا مشکل ہے،18ویں ترمیم میں صوبوں کے پاس پاور چلی گئی، جب تک پاکستان میں لوگوں کو اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کا حق ملنا ضروری ہے، جنوبی پنجاب میں احساس محرومی بڑھتی رہی ہے، سب کچھ وزیراعلیٰ کنٹرول کرتا ہے لوکل گورنمنٹ کو اختیار نہیں، پنجاب کا 55فیصد ڈویلپمنٹ فنڈ لاہور پر خرچ کیا جا رہا ہے، ایک بحیثیت پاکستانی میں کہتا ہوں کہ یہ پاکستان کو نقصان ہورہا ہے، 60فیصد پاکستانی صرف پنجاب میں ہیں، تینوں صوبے مل کر بھی ایک پنجاب کا مقابلہ نہیں کر پائیں گے، اس کے باعث صوبوں کے اندر احساس محرومی ہے،ہمارا ملک احساس محرومی کی وجہ سے ٹوٹا، ہم چاہتے ہیں کہ اختیارات عوام کو ملنے چاہئیں، ہم صوبہ بنانے کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دیں گے، جنوبی پنجاب کے ساتھ ہم فاٹا کا مسئلہ بھی حل کریں گے۔

عمران خان نے کہا کہ قبائلی علاقے کے لوگوں کو بھی احساس محرومی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، بیس بیس سال اقتدار میں رہنے والے اب بھی کہتے ہیں تبدیلی لائیں گے، خیبرپختونخوا میں 30فیصد ڈویلپمنٹ فنڈ لوکل گورنمنٹ کے پاس جاتے ہیں، پاکستان کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی، اس سے لوکل سطح پر لوگوں کے مسائل حل ہونے لگ گئے ہیں، ڈویلپمنٹ کا کام لوکل گورنمنٹ کے اختیار میں ہوتا ہے،کسی بھی جمہوری حکومت میں ایک پارلیمنٹ کے ممبر کو ڈویلپمنٹ فنڈ نہیں دیئے جاتے، یہاں سے بھی کرپشن شروع ہوتی ہے، لوکل گورنمنٹ ہی جانتی ہے لوکل مسائل کا حل کیسے ہو گا، لوکل گورنمنٹ سسٹم سے ہم نے بہت سے مسائل حل کرنا سیکھے ہیں، آج کراچی کا حال بھی بہت خراب ہے، اس کی وجہ یہی ہے کہ وہاں جو کام لوکل گورنمنٹ کے پاس ہونا چاہیے وہ ان کے پاس نہیں ہے، خلائی مخلوق کا پتہ کروانا ہے تو صرف اصغر خان کیس دیکھ لیں جو کھل گیا ہے، غریب میاں نواز شریف کو اس دور میں 35لاکھ روپے ملے، وہ اپنے تجربے کی بنیاد پر خلائی مخلوق کی بات کر رہے ہیں، جس طرں نواز شریف بزنس مین سے سیاست بنے ہیں وہ سمجھتے ہیں سب ایسے ہی بنے ہیں، فاٹا کے اندر گورننس سسٹم جنگ کی وجہ سے تباہ ہوا، فاٹا کے لوگ کبھی نہیں چاہتے تھے کہ وہ کے پی میں ملے، فاٹا کی عوام ایک یتیم بن گئے تھے، اب فاٹا کے عوام بھی چاہتے ہیں کہ وہ آگے نکلے اور وہاں بھی ڈویلپمنٹ ہو، فاٹا کے 90فیصد لوگوں کی یہ ڈیمانڈ ہے کہ فاٹا ایک علیحدہ صوبہ بنے، احساس محرومی وہاں کے لوگوں میں بڑھ گئی ہے، اس طرح جنوبی پنجاب اور فاٹا میں گورننس اور فیڈریشن مضبوط ہو جائے گی، ہمارا کسی پارٹی سے اتحاد کرنے کا ارادہ نہیں، مولانا سمیع الحق کے ساتھ کے پی کے میں اتحاد ہے، الیکشن وقت پر ہوں گے، ہم الیکشن کی پوری تیاری کر رہے ہیں، ہمارے جتنے امیدواروں کے ٹکٹ کے فیصلہ میں خود کروں گا۔

Your Thoughts and Comments