وزیراعظم عمران خان مقامی حکومتوں کے مضبوط نظام پر یقین رکھتے ہیں

جب تک ہم اپنی سوچ نہیں بدلیں گے ملک ترقی نہیں کر سکتا، وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین کا مقامی حکومتوں کے حوالے سے قومی کانفرنس سے خطاب

منگل 28 ستمبر 2021 14:21

وزیراعظم عمران خان مقامی حکومتوں کے مضبوط نظام پر یقین رکھتے ہیں
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 28 ستمبر2021ء) وفاقی وزیربرائے اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ وزیراعظم مقامی حکومتوں کے مضبوط نظام پر یقین رکھتے ہیں، بااختیار بلدیاتی حکومتوں کا نظام پاکستان کے مسائل کا حل ہے، آرٹیکل 140 اے کا نفاذ نہ ہونا سب سے بڑا مسئلہ ہے، لوکل گورنمنٹ نظام نہ ہونے کی وجہ سے صوبوں کے پیسے برابری کی بنیاد پر اضلاع میں خرچ نہیں ہوتے، جدید جمہوریت میں نیچے سے اوپر کی طرف دیکھنا ہوگا، ہمارے شہروں میں بنیادی مسئلہ گورننس کا ہے، جب تک ہم اپنی سوچ نہیں بدلیں گے ملک ترقی نہیں کر سکتا، صوبوں میں پروونشل فائنانس کمیشن ایوارڈ نہ ہونے کی وجہ سے اضلاع  میں شکایات آتی ہیں، اسلام آباد میں بیٹھ کر کراچی کے مسائل حل نہیں کئے جا سکتے۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو مقامی حکومتوں کے حوالے سے قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ مقامی حکومتوں کے مضبوط نظام کے بغیر ملک کا نظام ٹھیک نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ کو دیکھیں تو مطلق العنان بادشاہت سے جمہوریت کی جانب سفر درجہ بدرجہ طے پایا، 1216ءسے 1226ءتک میگنا کارٹا کے دور کے بعد جدید جمہوریت سامنے آئی، ہندوستان میں 1857ءتک جنگ آزادی ہوئی، اس وقت بادشاہ کو ذی السبحانی کہا جاتا تھا، حکومت اور لوگ ذی السبحانی کی طرف دیکھ رہے ہوتے تھے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ 16ویں سے 17 ویں صدی میں جدید جمہوریت آئی، بل آف رائٹس منظور ہوا جس میں کہا گیا کہ ٹیکس کا پیسہ بادشاہ اپنی مرضی سے خرچ نہیں کرسکے گا، ٹیکس لگانے کا اختیار منتخب نمائندوں کے بغیر نہیں ہوگا، ٹیکس اس وقت لگے گا جب عوام کے منتخب نمائندے اجازت دیں گے، اس جمہوریت کا آغاز 17 ویں صدی سے برطانیہ کی پارلیمان سے ہوا،اس طرح  بادشاہ کے اختیارات کم ہوتے گئے۔

انہوں نے کہا کہ مقامی حکومتوں کے نظام کی جدید شکل میں عوام بااختیار ہوتے گئے، جدید جمہوریت میں نیچے سے اوپر کی طرف دیکھنا ہوگا، اس کے لئے مقامی حکومتوں کا نظام ہی بہترین نظام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2006ءمیں مقامی حکومتوں کا نظام شروع ہوا تو اس میں ایک خامی یہ تھی کہ صوبوں کے اختیارات تو منتقل کر دیئے گئے لیکن وفاق کے اختیارات منتقل نہیں کئے گئے، صوبوں کو تشنگی رہ گئی کہ ان کے پاس تو کچھ ہے ہی نہیں، پھر 18 ویں ترمیم کے تحت صوبوں کے منتقل ہونے والے اختیارات نیچے سے اوپر منتقل کر دیے گئے، اس طرح اختیارات کی منتقلی کا جو فائدہ ہونا چاہئے تھا وہ نہیں ہو سکا۔

انہوں نے کہا کہ گورننس میں سب سے بڑا مسئلہ آرٹیکل 140 اے پر عمل درآمد نہ ہونا ہے،اس  آرٹیکل( 140 اے )کے تحت پاکستان بھر سے ٹیکس اکٹھا ہو کر وفاق کے پاس آتا ہے اور وفاقی حکومت کی طرف سے 60 فیصد ٹیکس صوبوں کو چلا جاتا ہے، 23 سالوں میں صرف پنجاب کو تقریباً 2300 سے 2400 ارب روپے منتقل ہوئے، سندھ کو تقریباً 1700 ارب روپے گئے، بلوچستان کی آبادی فیصل آباد ڈویژن کی آبادی کے قریب ہے، اسے تقریباً 700 ارب روپے گئے، اسی طرح خیبر پختونخوا میں تقریباً 900 سے 1000 ارب روپے گئے۔

انہوں نے کہا کہ مقامی حکومتوں کی سب سے بڑی مخالفت چیف منسٹرز کی طرف سے آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک مسئلہ یہ درپیش ہے کہ وفاقی حکومت سے پیسہ صوبوں کو منتقل ہونے کے بعد چیف منسٹر آفس میں پھنس جاتا ہے، دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ایم این ایز اور ایم پی ایز راضی ہی نہیں ہیں کہ وہ پولیس، ٹھیکیدار اور پٹواری سے اوپر سوچ رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ہم اپنی سوچ نہیں بدلیں گے ملک ترقی نہیں کر سکتا۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں ایک طرف 1700 سے 1800 ارب روپے این ایف سی ایوارڈ کی مد میں دیئے گئے لیکن کراچی میں سندھ حکومت ایک روپیہ خرچ نہیں کرتی، وہاں کے لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا ہے، وفاقی حکومت نے 1100 ارب روپے کراچی میں لگائے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد سے بیٹھ کر کراچی کے مسئلے کس طرح حل کئے جا سکتے ہیں، اس کا واحد حل مقامی حکومتوں کا نظام ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت این ایف سی ایوارڈ کے تحت پیسے صوبوں کو تقسیم ہوتے ہیں لیکن صوبوں میں پرونشل فائنانس کمیشن ایوارڈ ہی نہیں ہوتا، خیبر پختونخوا میں ایک نظام وضع کیا گیا لیکن باقی تینوں صوبوں میں پروونشل فائنانس کمیشن ایوارڈ نہیں ہو رہا، اس سے اضلاع کی طرف سے شکایات آتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں شہباز شریف نے این ایف سی میں ملنے والا پنجاب کا بہت بڑا حصہ صرف لاہور پر خرچ کر دیا، 260 ملین ڈالر صرف لاہور ٹرین پر لگا دیے، اس کا کرایہ بھی پورا نہیں ہو رہا، جہلم، لیہ، چکوال کے حصے کے پیسے لاہور میں دیئے جا رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ایران پر پابندیوں کے باوجود تہران سالانہ 500 ملین ڈالر اپنے لوگوں پر خرچ کرتا ہے، اسی طرح ممبئی ایک ارب ڈالر سالانہ اکٹھا کرتا ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہمارے شہروں میں بنیادی مسئلہ گورننس کا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی حکومتوں کا ایک مضبوط نظام پاکستان کے آئین کی ڈیمانڈ ہے، پاکستان کے لوگوں کے مسائل کا حل مقامی حکومتوں کے نظام میں ہے، مستقبل کے اس نظام کے لئے پاکستان کے ہر سیاسی شعور رکھنے والے فرد کو کوششیں کرنی چاہیے۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments