متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نی11 دسمبر کو آل پارٹیز کانفرنس طلب کرلی

جس تنظیم نے پاکستان کو دولخت کیا لگتاہے اس تنظیم کو نظریہ پاکستان ختم کرنے کا کہہ دیا ہے،ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کراچی کے شہری کیسے اجازت دے سکتے ہیں کہ انکے خون پسینے کی کمائی سے بنے ادارے ایک نسل پرست حکومت کو دے دیں جب تک تھرڈ ٹیئر آف گورنمنٹ مضبوط نہیں ہوگی تب تک جمہوریت مضبوط نہیں ہوگی ،وسیم اختر پوری دنیا میں بلدیاتی حکومتیں اور میئر با اختیار ہوتے ہیں یہاں تک کہ بندرگاہیں اور پولیسنگ کا نظام بھی میئر کے ماتحت ہوتا ہے،کنور نوید جمیل لوکل گورنمنٹ ایکٹ2013 پر بھی ہمارے تحفظات تھے موجودہ نظام بھی اس ہی کا تسلسل ہے،فیصل سبزواری

بدھ 1 دسمبر 2021 23:56

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 01 دسمبر2021ء) آج ہم سب یہاں ریاست کے تمام اداروںسے یہ سوال کرنے آئے ہیں کہ کیا سندھ کے شہری علاقوں کو تباہ کرنے کی کوئی قومی اتفاق رائے پائی جاتی ہے کیا مہاجروں کو دیوار سے لگانے کا کوئی ایسا ارادہ ہے کہ جس پے عملدرآمد کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز بہادر آبادسے متصل پارک میں میڈیا نمائندگان سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہاکہ کیا 2008 میں جب پیپلز پارٹی کی حکومت نے اقتدار سنبھالا تو ملک کی یہی صورتحال تھی پیپلز پارٹی نے موجودہ بلدیاتی نظام بنا کر شہری سندھ کو مزید لاچار کردیا ہے جس تنظیم نے پاکستان کو دولخت کیا لگتاہے اس تنظیم کے ہاتھوں نظریہ پاکستان کو ختم کرنے کا کہہ دیا گیا ہے پاکستان پیپلز پارٹی کی کبھی بھی سندھ کے شہری علاقوں پر حکمرانی نہیں رہی سندھو دیش کے خواب کو تکمیل تک پہنچانے کی ذمہ داری پیپلز پارٹی نے لے رکھی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے دور میں کے آئی ایچ ڈی ، کے ایم ڈی سی اور دیگر ادارے جوکے ایم سی کے بجٹ سے بنائے گئے جو کچھ ادارے بلدیاتی حکومت کے پاس رہ گئے تھے وہ بھی چھین لئے گئے ہیںکراچی کے شہری کیسے اجازت دے سکتے ہیں کہ انکے خون پسینے کی کمائی سے بنے ادارے ایک نسل پرست حکومت کو دے دیں جو شہر اپنے خون پسینے کی کمائی سے پورے ملک کو پال رہا ہے اسکے ساتھ ایسے ہی زیادتی ہوتی رہے گی کراچی کی عوام کے خون پسینے کی کمائی سے بنے ادارے کرپشن کے اژدھے کے سپرد کر دیئے گئے ہیں۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ چیف جسٹس ان معاملات پر سو موٹو ایکشن کیوں نہیں لیتے آئین کا آرٹیکل 140 اے پر عملدرآمد کیوں نہیںکیا جارہاکیا عدالتوں کو صرف عمارتوں کو گرانے میں ہی دلچسپی ہے ہم نے ہر دروازہ کھٹکھٹا کر دیکھ لیاہمارے گھروں کو توڑ رہے ہیںآپ ہمیں بیروزگار کر رہے ہیںہمیں داخلوں سے محروم کر رہے ہیں۔سندھ ایک کثیر السانی صوبہ ہے یہاں پر یک لسانی حکومت کیوں نافذ ہے جعلی ڈومیسائل کے ذریعے سندھ کی سوا لاکھ نوکریاں صرف ایک لسانی اکائی کو دے دی گئیںکراچی حیدرآباد سکھر میرپور خاص کو عملا معطل کر دیا گیا ہے کراچی کی سڑکیں ہمارے خون سے رنگین ہوئی ہیںہم آئین و قانون کے تحت گزشتہ کئی عرصہ سے جدوجہد کر رہے ہیں لیکن اب ہم سوچ رہے ہیں کہ اپنے گھروں سے نکل کر سڑکوںپر زندگی گزاریں اب کراچی کی سڑکیں فیصلہ کریں گی دیواریںبولیں گی اور جب روڈ پر فیصلہ ہوتا ہے تو پورے پاکستان پر اس کا اثر ہوتاہے اب ہماری جنگ سڑکوں پر ہوگی اور یہ جنگ پاکستان کی بقا کی جنگ ہے۔

بلدیاتی اداروں کے ملازمین کا دباؤ بھی ایم کیو ایم پر بڑھ رہا ہے ملازمین اس بلدیاتی نظام کے خلاف از خود احتجاج کرنا چاہتے ہیںاور اگر یہ سلسلہ شروع ہوا تو آپ ایم کیو ایم کو اپنے ساتھ کھڑا پائینگے اب کراچی کے احتجاج کے آگے کوئی حکمران ٹہر نہیں سکے گا پیپلز پارٹی کی راہ میں اگر کوئی رکاوٹ ہے تو وہ ہم ہیں۔11 دسمبر کو ایک آل پارٹیز کانفرنس بلوائیں گے۔

پریس کانفرنس سے ڈپٹی کنوینر و سابق میئر کراچی وسیم اختر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس صاحب 2017 سے ہماری پٹیشن آپکا انتظار کر رہی ہے اٹھارہویں ترمیم کے نام پر یہ سب زیادتیاںکراچی کی عوام کے ساتھ ہورہی ہیں جب تک تھرڈ ٹیئر آف گورنمنٹ مضبوط نہیں ہوگی اس وقت تک جمہوریت مضبوط نہیں ہوگی چیف جسٹس کنویں کا گندہ پانی نکالنے کے بجائے اس عمل کو روکیں جو اس پانی کو گندہ کر رہا ہے۔

وسیم اختر نے چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم نے پٹیشن دائر کر رکھی ہے جسکے فیصلے کا ہم انتظار کر رہے ہیں آپ جانے سے پہلے اس پر فیصلہ دیں تاکہ کراچی کی عوام آپکو ہمیشہ یاد رکھے ۔ ڈپٹی کنوینر و ممبر صوبائی اسمبلی کنور نوید جمیل نے کہا کہ پوری دنیا میں بلدیاتی حکومتیں اور میئر با اختیار ہوتے ہیں یہاں تک کہ بندرگاہیں اور پولیسنگ کا نظام بھی میئر کے ماتحت ہوتا ہے اورسندھ میں پیپلز پارٹی کی بدعنوان حکومت نے بلدیاتی اداروں کے پاس ایک ٹیکس دودھ کی فروخت پر تھاوہ ٹیکس بھی کرپٹ سندھ حکومت نے اپنے قبضے میں لے لیاہے کراچی کے لوگوں نے پاکستان بنانے کے لیے قربانیاں دی ہیںآج پورے پاکستان میں سب سے زیادہ ٹیکس کراچی دیتا ہے۔

انہوںنے مزیدکہا کہ ہماری نوکریوں کے حوالے سے اوردیگر زیادتیوں پر دائر کی گئیں پٹیشنزآج بھی عدالتوں میں سسک رہی ہیں۔سینیٹر ورکن رابطہ کمیٹی فیصل سبزواری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کی بدعنوان حکومت کی دنیا گواہ ہے پچھلے 13سالوں میں 10ہزار ارب سے زیادہ ترقیاتی بجٹ کے نام پرخرچ کیئے گئے ہیں کراچی کو چھوڑ دیجئے وزیر اعلیٰ یا سابق صدر کے ہی علاقوں میں چلے جائیں اندازہ ہوجاتا ہے کہ وہ پیسے کس کی جیبوں میں گئے یہ ان پیسوں سے ہر آنے والا انتخاب خریدتے ہیں اس لئے ہمارا خدشہ یہ ہے انہوں نے اس ترمیم میں انتہائی مشکوک شکیں شامل کی ہیں کہ میئر، ڈپٹی میئر کا چیئرمین کا انتخاب خفیہ رائے شماری سے ہوگااور دوسری بات کسی بھی غیر منتخب شخص کو منتخب کیا جا سکتا ہے بطور میئر اس ہی لئے ہم اس ترمیم کو مسترد کرتے ہیںیہ آئین کے آرٹیکل 140 -اے کے خلاف ہے اور یہ بل ترامیم پیش کی گئی اس پر ایم کیو ایم کو اعتراضات ہیں ہمارے ایم پی ایزہماری پارلیمانی پارٹی نے سندھ اسمبلی میں اور سندھ اسمبلی کے باہر بھی اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا تھااور اب جو پریس کانفرنس ہوگی اس میں بھی ہم بیان کرینگے کہ ہمارے خدشات کیا ہیں وہ سندھ کے شہریوں تک پہنچنے چاہئے ہیں۔

میئر اور چیئرمین کا انتخاب سیکرٹ بیلٹ کے ذریعے ہونا چاہئے 2013 کے لوکل گورنمنٹ ایکٹ پر بھی ہمارے تحفظات تھے موجودہ نظام بھی اس ہی کا تسلسل ہے ہم اس پر عدالت میں گئے اور مقدمہ بھی جیتے کہ یہ اختیارسیکرٹ بیلٹ پر نہیں اوپن بیلٹ پر ہونا چاہئی2017سے ایم کیو ایم پاکستان کی پٹیشن سپریم کورٹ میں موجود ہیں۔آئین کے آرٹیکل -140اے میں واضح ہے کہ صوبائی حکومتیں بلدیاتی حکومتوں کے انتخاب کروائینگی بلدیاتی حکومت وہ نہیں ہوسکتی جس کے پاس ادارے نہ ہوں ۔اس موقع پر سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان ودیگر اراکین رابطہ کمیٹی ،سینیٹرز ،اراکین قومی وصوبائی اسمبلی و دیگر شعبہ جات کے ذمہ دارن بھی موجود تھے۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments

>