Episode 35 - Abroye Maa By Shahid Jameel Minhas

قسط نمبر 35 - آبروئے ما - شاہد جمیل منہاس

وہ شخص کتابوں جیسا تھا ۔۔۔۔کیپٹن حاجی نواز
میرے مرحوم والد گرامی اکثر کہا کرتے تھے کہ بیٹا حاجی نواز صاحب کا بہت خیال رکھنا وہ میرے بہت اچھے بھائی ہیں۔جب کبھی ان کو راستے میں مل جاتے تو گھر آ کر بہت یاد کرتے اور دعائیں دیتے ،کیپٹن حاجی محمد نواز نے بتیس برس پاکستان آرمی میں محنت اور بہادری کے جوہر دکھائے۔ حسن سلوک اور وفا کا پیکر اپنی محنت اور دیانت داری کی وجہ سے خطہ پوٹھوہار میں نہائت عزت کی نگاہ سے دیکھا گیا۔
ان کا بیٹا فرخ جو پرائمری تک میرے ساتھ پڑھتا رہا نہائت شریف النفس اور محنتی ہے۔اس کو دیکھتے ہی حاجی صاحب کی تصویر سامنے آنے لگتی ہے۔حاجی صاحب بے شمار خوبیوں کے مالک تھے۔روز مرہ کے معاملات نمٹانے کے لیے موٹر سائیکل کا استعمال کیا کرتے تھے۔

(جاری ہے)

خود چل کر اپنے سے کم عمر لوگو ں سے ملنا اور خاص طور پر مجھے تو انہوں نے ہمیشہ شرمندہ کیا کہ موٹر سائیکل سئے اتر کر گلے لگا کر بہت پیار سے ملا کرتے تھے۔

اور میں دل میں سوچتا تھا کہ حاجی صاحب ہمیشہ سلام میں پہل کر کے بازی لے جاتے ہیں۔رشتوں کو بیلینس کرنا حاجی نواز صاحب سے بہتر کوئی نہیں جانتا تھا۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب ان کے چھوٹے بھائی راجہ ارشد فوت ہوئے تو حاجی صاحب کی حالت دیکھی نہیں جاتی تھی۔ آنسوؤں کا ایک سیلاب تھا جس میں وہ نہائے ہوئے تھے اور ایسا لگ رہا تھا کہ ان کا بھائی نہیں بلکہ ان کی اولاد میں سے خدا نہ خواستہ کوئی چل بسا ہو اور پھر سارے علاقے کے لوگوں نے دیکھا کہ حاجی صاحب نے اپنے بھائی کے گھر کو کیسے سنبھالا۔
ان کی اولاد کو اپنی اولاد سے بڑھ کر پیار دیا اور بھا بھی کو بیٹی کا درجہ دے کر دست شفقت سر پر سائبان کی طرح رکھا ۔دوسروں سے ہمدردی اور دردمندی ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔اپنے ہوں یا پرائے سب کے لیے برابر درد دل رکھنے والی ہستی کا نام کیپٹن حاجی نواز تھا۔یتیموں بیواؤں اور بے آسرا لوگوں کا ہر لحاظ سے خیال رکھتے تھے اور خاص طور پر اپنے گاؤں ڈہوک میرا میں کوئی شادی ہو یا فوتگی حاجی صاحب سب سے پہلے خود کو پیش کرتے تھے اور پھر سب کو اپنی اپنی ذمہ داریاں سونپ کر کام کو تھوڑے وقت میں نمٹانے کا ہنر جانتے تھے۔
ان کے ہوتے ہوئے کوئی کام مشکل نہیں لگتا تھا ۔ ایسے برگد کے درخت کی چھاؤں کے مالک شخص کی جدائی کا سوچ کر جسم کانپ جاتا ہے۔ ایک دن کیپٹن نواز روات شہر سے سودا سلف خریدنے کے بعد گھر کی جانب آ رہے تھے کہ راستے میں حادثہ پیش آگیا جس کی وجہ سے ان کی ٹانگ ٹوٹ گئی ۔64 برس کی عمر میں اتنا بڑا حادثہ پیش آیا کہ راولپنڈی سی ایم ایچ میں ایمرجنسی وارڈ میں ان کو لے جانا پڑا جہاں وہ بہت با ہمت نظر آ رہے تھے ۔
وقت پر انجیکشن نہ لگنے کی وجہ سے ٹانگ میں کینسر پھیل گیااور ڈاکٹرز نے ٹانگ کاٹنے کا فیصلہ کر لیا۔چند دن بعد حاجی صاحب کی ٹانگ کاٹ دی گئی اور چند دن مزید گزرنے کے بعد جب پیپ مزید پھیل گئی تو ٹانگ دوبارہ کاٹ دی گئی ۔حتا کہ پانچ مرتبہ ٹانگ کاٹی گئی اور اس کے بعد پیٹ کا حصہ باقی بچ گیا لیکن مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ چند دن قبل ایک حادثے میں زخمی ہونے والا انسان ہمیں داغ مفارقت دے جائے گا ۔
محفلوں کی جان اور زندگی میں رنگ بھرنے والی ہستی اچانک ہم سے دور چلی گئی ۔ اکیس دن زیر علاج رہنے والے کیپٹن نواز اپنی بیوی بیٹیاں بیٹے فرخ اور ہم سب کوکو چھوڑ کر اس جہان فانی سے رخصت ہو گئے۔روح قبض ہونے سے چند منٹ قبل انہوں نے کہا کہ " میرے پاس وقت کم ہے میرے مرنے کے بعد جب مجھے غسل دینے کا وقت آئے تو زیادہ سے زیادہ تین افراد مجھے غسل دیں" اس کے علاوہ انہوں نے اپنی اولاد سے کہا کہ سب لوگوں کو بہت عزت دینا کیونکہ اس دنیا میں ان لوگوں نے مجھے بہت عزت دی ہے۔
جب میں ان سے ملنے ہسپتال گیا تو ایسے لگ رہا تھا کہ حاجی صاحب بالکل ٹھیک ہیں۔ان کے حوصلے کی داد دینا ہو گی کیونکہ وہ بالکل مایوس نہیں تھے بلکہ مجھے کہا کہ بیٹا میں بالکل ٹھیک ہوں۔پہاڑ جتنا حوصلہ اور ہمت رکھنے والی ہستی ہم سب کو چھوڑ کر چل بسی
اپنے بے خواب کواڑوں کو مقفل کر دو
اب یہاں کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا
نو برس قبل پاکستان آرمی سے ریٹائر ہونے والے کیپٹن نواز کے جنازے پر عوام کا ایک سمندر دیکھا۔
ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے وہ سروس کے دوران فوت ہوئے ہوں ۔آرمی کے بے شمار جوانوں نے شرکت کر کے یہ ثابت کیا کہ حاجی صاحب واقعیی نیک انسان تھے۔ان کے گھر والوں سے پتا چلا کہ کٹی ہوئی ٹانگ کے ساتھ بار ہا نماز پڑھنے کی کوشش کرتے رہے۔ہر وقت با وضو رہنے والے حاجی صاحب کو در حقیقت شہادت کی موت نصیب ہوئی اور شہید کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے خون کا پہلا قطرہ زمین پر گرنے سے پہلے وہ جنت میں ہوتا ہے۔
والدہ محترمہ جن کی عمر91 سال ہے اپنے ہاتھوں سے اپنے بیٹے کو رخصت کر کے تڑپ تڑپ کر رو رہی تھیں۔ہر آنکھ اشک بار تھی۔نماز جنازہ سے قبل جب ان کو غسل دیا جا رہا تھا تو میرے سامنے میرے اپنے والد گرامی راجہ ایوب خان کی وفات کا وہ منظر تھا کہ جب میں بہت کم عمر تھا ۔اس کے بعد آنسوں تھے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے ۔اسی لمحے ایک معصوم سی بچی میرے ساتھ والے شخص کے پاس آ کر کھڑی ہو گئی اور اس سے کہنے لگی اس دوسرے گھر میں میرے بابا سوئے ہوئے ہیں ان سے کہیں نا کہ اب اٹھ جائیں ۔
شائد وہ فرخ کی بیٹی تھی جو اپنے دادا(حاجی نواز) کی تلاش میں اِدہر اُدہر پھر رہی تھی اسے کیا پتہ کہ اس کے دادا اب وہاں چلے گئے ہیں کہ جہاں سے کبھی کوئی واپس نہیں آیا
اس شہرمیں کتنے چہرے تھے کچھ یاد نہیں سب بھول گئے
وہ شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد رہا

Chapters / Baab of Abroye Maa By Shahid Jameel Minhas