Episode 35 - Abroye Maa By Shahid Jameel Minhas
قسط نمبر 35 - آبروئے ما - شاہد جمیل منہاس
(جاری ہے)
خود چل کر اپنے سے کم عمر لوگو ں سے ملنا اور خاص طور پر مجھے تو انہوں نے ہمیشہ شرمندہ کیا کہ موٹر سائیکل سئے اتر کر گلے لگا کر بہت پیار سے ملا کرتے تھے۔
اور میں دل میں سوچتا تھا کہ حاجی صاحب ہمیشہ سلام میں پہل کر کے بازی لے جاتے ہیں۔رشتوں کو بیلینس کرنا حاجی نواز صاحب سے بہتر کوئی نہیں جانتا تھا۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب ان کے چھوٹے بھائی راجہ ارشد فوت ہوئے تو حاجی صاحب کی حالت دیکھی نہیں جاتی تھی۔ آنسوؤں کا ایک سیلاب تھا جس میں وہ نہائے ہوئے تھے اور ایسا لگ رہا تھا کہ ان کا بھائی نہیں بلکہ ان کی اولاد میں سے خدا نہ خواستہ کوئی چل بسا ہو اور پھر سارے علاقے کے لوگوں نے دیکھا کہ حاجی صاحب نے اپنے بھائی کے گھر کو کیسے سنبھالا۔ان کی اولاد کو اپنی اولاد سے بڑھ کر پیار دیا اور بھا بھی کو بیٹی کا درجہ دے کر دست شفقت سر پر سائبان کی طرح رکھا ۔دوسروں سے ہمدردی اور دردمندی ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔اپنے ہوں یا پرائے سب کے لیے برابر درد دل رکھنے والی ہستی کا نام کیپٹن حاجی نواز تھا۔یتیموں بیواؤں اور بے آسرا لوگوں کا ہر لحاظ سے خیال رکھتے تھے اور خاص طور پر اپنے گاؤں ڈہوک میرا میں کوئی شادی ہو یا فوتگی حاجی صاحب سب سے پہلے خود کو پیش کرتے تھے اور پھر سب کو اپنی اپنی ذمہ داریاں سونپ کر کام کو تھوڑے وقت میں نمٹانے کا ہنر جانتے تھے۔ان کے ہوتے ہوئے کوئی کام مشکل نہیں لگتا تھا ۔ ایسے برگد کے درخت کی چھاؤں کے مالک شخص کی جدائی کا سوچ کر جسم کانپ جاتا ہے۔ ایک دن کیپٹن نواز روات شہر سے سودا سلف خریدنے کے بعد گھر کی جانب آ رہے تھے کہ راستے میں حادثہ پیش آگیا جس کی وجہ سے ان کی ٹانگ ٹوٹ گئی ۔64 برس کی عمر میں اتنا بڑا حادثہ پیش آیا کہ راولپنڈی سی ایم ایچ میں ایمرجنسی وارڈ میں ان کو لے جانا پڑا جہاں وہ بہت با ہمت نظر آ رہے تھے ۔وقت پر انجیکشن نہ لگنے کی وجہ سے ٹانگ میں کینسر پھیل گیااور ڈاکٹرز نے ٹانگ کاٹنے کا فیصلہ کر لیا۔چند دن بعد حاجی صاحب کی ٹانگ کاٹ دی گئی اور چند دن مزید گزرنے کے بعد جب پیپ مزید پھیل گئی تو ٹانگ دوبارہ کاٹ دی گئی ۔حتا کہ پانچ مرتبہ ٹانگ کاٹی گئی اور اس کے بعد پیٹ کا حصہ باقی بچ گیا لیکن مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ چند دن قبل ایک حادثے میں زخمی ہونے والا انسان ہمیں داغ مفارقت دے جائے گا ۔محفلوں کی جان اور زندگی میں رنگ بھرنے والی ہستی اچانک ہم سے دور چلی گئی ۔ اکیس دن زیر علاج رہنے والے کیپٹن نواز اپنی بیوی بیٹیاں بیٹے فرخ اور ہم سب کوکو چھوڑ کر اس جہان فانی سے رخصت ہو گئے۔روح قبض ہونے سے چند منٹ قبل انہوں نے کہا کہ " میرے پاس وقت کم ہے میرے مرنے کے بعد جب مجھے غسل دینے کا وقت آئے تو زیادہ سے زیادہ تین افراد مجھے غسل دیں" اس کے علاوہ انہوں نے اپنی اولاد سے کہا کہ سب لوگوں کو بہت عزت دینا کیونکہ اس دنیا میں ان لوگوں نے مجھے بہت عزت دی ہے۔جب میں ان سے ملنے ہسپتال گیا تو ایسے لگ رہا تھا کہ حاجی صاحب بالکل ٹھیک ہیں۔ان کے حوصلے کی داد دینا ہو گی کیونکہ وہ بالکل مایوس نہیں تھے بلکہ مجھے کہا کہ بیٹا میں بالکل ٹھیک ہوں۔پہاڑ جتنا حوصلہ اور ہمت رکھنے والی ہستی ہم سب کو چھوڑ کر چل بسیChapters / Baab of Abroye Maa By Shahid Jameel Minhas
قسط نمبر 1
قسط نمبر 2
قسط نمبر 3
قسط نمبر 4
قسط نمبر 5
قسط نمبر 6
قسط نمبر 7
قسط نمبر 8
قسط نمبر 9
قسط نمبر 10
قسط نمبر 11
قسط نمبر 12
قسط نمبر 13
قسط نمبر 14
قسط نمبر 15
قسط نمبر 16
قسط نمبر 17
قسط نمبر 18
قسط نمبر 19
قسط نمبر 20
قسط نمبر 21
قسط نمبر 22
قسط نمبر 23
قسط نمبر 24
قسط نمبر 25
قسط نمبر 26
قسط نمبر 27
قسط نمبر 28
قسط نمبر 29
قسط نمبر 30
قسط نمبر 31
قسط نمبر 32
قسط نمبر 33
قسط نمبر 34
قسط نمبر 35
قسط نمبر 36
قسط نمبر 37
قسط نمبر 38
قسط نمبر 39
قسط نمبر 40
قسط نمبر 41
قسط نمبر 42
قسط نمبر 43
قسط نمبر 44
قسط نمبر 45
قسط نمبر 46
قسط نمبر 47
قسط نمبر 48
قسط نمبر 49
قسط نمبر 50
قسط نمبر 51
قسط نمبر 52
قسط نمبر 53
قسط نمبر 54
قسط نمبر 55
قسط نمبر 56
قسط نمبر 57
قسط نمبر 58
قسط نمبر 59
قسط نمبر 60
قسط نمبر 61
قسط نمبر 62
آخری قسط
شہرِ دل
shehr e dil
قطرہ قطرہ قُلزم
Qatra Qatra Qulzam
ہم کیسے رکھوالے ہیں
Hum Kaise Rakhwale Hain
طاقتور شکاری کا المیہ (افسانے)
Taqatwar Shikari Ka Almiya - Afsane
کوہ قاف کی وادیوں میں
Koh Qaaf Ki Wadion Main
جنات کا غلام
Jinnaat Ka Ghulaam
دائرہ
Daira
اللہ محمد اور بندہ
Allah Muhammad Or Banda