جب سے آنکھ کھلی ہے تب سے سنتے آرہے ہیں کہ ہماری پولیس اپنے اختیارات کا بے دریغ اور ناجائز استعمال کرتی ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ واحد شعبہ ہے جہاں پر مظلوم کی دادرسی ہونی چاہیئے۔ پورے براعظم اشیاء اور خاص طور پر انڈیا اور پاکستان کی پولیس میں بے انتہا خامیوں کو سامنے لایا جاتا ہے۔ ہم آئے روز سنتے ہیں کہ فلاں با اثر S-H-O صاحب نے کسی مظلوم کو بُری طرح ماراا ور بے شمار عورتوں پر مظالم کو بھی پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر دکھایا جاتا ہے۔
لیکن خدا کو ہم نے جان دینی ہے۔ اور کہا جاتا ہے کہ کسی بھی شخص کو اُسکی خامیوں سمیت قبول کیا جانا چاہیئے ۔ یعنی کو ئی انسان خامیوں سے خالی نہیں ہے ۔جہاں پر ہم پولیس کے کردار کو کئی گنا زیادہ پیش کرتے ہیں وہاں پر کیا ہم نے کبھی ایسا کیاکہ کسی پولیس آفیسر کے مثبت کردار کو اسکی بہادری اور بہترین اقدامات کو اُسکی حوصلہ افزائی کے لیے خوبصورت انداز میں بیان کیا ہو ۔
(جاری ہے)
یہ ہمارے لیے ایک سوالیہ نشان ہے۔ ایسے ہزاروں پولیس آفسران آج بھی موجود ہیں ۔ جو نہ صرف بہادر بلکہ ایماندار بھی ہیں ۔جنکی قابلیت کو ٹی وی چینلز اور اخبارات میں انٹرویو کی صورت میں شامل کیا جائے تو انکا حق ادا ہوجائے گا۔ حوصلہ افزائی ایک ایسا ہتھیار ہے جو صلاحتوں کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔لہذا پڑھے لکھے معاشرے کی پہچان یہی ہے کہ وہ خوبیوں کا برملہ اعتراف کرتا ہے۔
آج اورگزرے ہوئے کل کے ٹی وی ڈرامے یا فلموں پر اگر نظر دوڑائیں تو پتہ چلتا ہے کہ ایک فیصد ڈرامہ یا فلم ایسی نہیں ہے ۔ جن میں پولیس کو رشوت لیتے ہوئے یا ظلم کا ساتھ دیتے ہوئے نہ دکھایا گیا ہو ۔ یہ سراسر زیادتی ہے۔ کیا ہمارے حکمران یا تعلیم کے شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد میں سے کوئی کرپٹ نہیں ہے۔ کیا ٹرانسپورٹ اینڈ کمیونیکیشن یا بینکاری کے شعبے میں یا اس کے علاوہ بے شمار دیگر شعبوں میں بدعنوانیاں عروج پر نہیں ہیں؟ اگر یہ سچ ہے تو ان کو اتنا زیادہ منظر عام پر کیو نہیں لایا جاتا جتنا پولیس ڈیپارٹمنٹ کو بدنام کیا جاتا ہے میں سمجھتا ہوں کہ کسی ڈرامے یا فلم میں پولیس کی وردی استعمال کرنے پر پابندی لگائی جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دی جائے اس میں کوئی شک نہیں کہ سب سے زیادہ کرپشن اس ڈیپارٹمنٹ میں ہے اور اس کے ثبوت بھی ملتے ہیں لیکن کہا جاتا ہے کہ ہاتھ کی پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں آئے دن پولیس کے جوان دفاع وطن کے لیے جان کے نذرانے پیش کرتے ہیں اس سے بڑی قربانی کیا ہو گی کہ کوئی اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران مادر ملت کے لیے جان کا نزرانہ پیش کر دے ہمیں یہ ہر گز نہیں بھولنا چاہئے کہ شہید بحرحال شہید ہے۔
شہید چاہے پاکستان آرمی سے ہو پولیس سے ہو یا ایک شہری ہی کیو نہ ہو۔ صرف راولپنڈی اسلام آباد میں پولیس شہداء کی تعداد ہزاروں میں ہے کیا یہ کسی ماں کے لخت جگر نہیں ہیں؟ اگر ایسا ہے تو یقینا یہ خراج تحسین کے مستحق ہیں آج ہر دفتر کے گیٹ پر پولیس کے جوان دہشت گردی کی وجہ سے چوکس نظر آتے ہیں کسی بھی وقت وہ جان سے ہاتھ دھو سکتے ہیں ۔دلوں کے حال اللہ ہی جانتا ہے لیکن میں دو تین پولیس کے جوانوں سے خود ملا اور پتہ چلا کہ وہ ڈیوٹی کے دوران ہر ممکن با وضو رہنے کی کوشش کرتے ہیں خاص طور پر گھر سے نکلتے ہوئے وہ وضو کا اہتمام کر کے نکلتے ہیں۔
ڈیوٹی چاہے پولیس سٹیشن کے اندر ہو یا ایک بڑی مارکیٹ میں یا کسی مسجد کے دروازے پر اس کو کسی صورت میں بھی خطرے سے خالی نہیں سمجھا جا سکتا سینکڑوں کی تعداد میں ہر ضلع میں ایسے شہدائے پولیس گزرے ہیں جنہوں نے ملک دشمن عناصر کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے اور ملک پاکستان کی سا لمیت کے لیے اللہ کو پیارے ہو گئے ۔بینکوں کے سامنے ڈاکووں کے ہاتھوں شہید ہونے والے بے شمار پولیس اہلکاروں کا ریکارڈ موجود ہے جو حقیقت سے آگاہ کر سکتا ہے صرف اس محکمے کی خامیوں کو ہی کیوں منظر عام پر لایا جاتا ہے اچھائیاں کیا صرف پولیس کے علاوہ دیگر محکموں تک ہی محدود ہیں ؟ نہیں بالکل نہیں ۔
پولیس کا محکمہ اس ملک کے تمام اداروں کی ریڑھ کی ہڈی ہے لہذا ان لوگوں کی حوصلہ افزائی اور ان کی قابلیت کا اعتراف کرنا سوسائٹی کے فرائض میں شامل ہے افسران سے لے کر ایک سپاہی تک ان سب میں محب وطن افراد کی تعداد انگنت ہے ۔ایسے افراد نے ہمیشہ مشکل گھڑی میں مظلوم کی داد رسی کی اسی لیے تو یہ معاشرہ امید لے کر پولیس اسٹیسنوں میں بے ڈھڑک جاتا ہے۔
ورنہ گھر گھر سے کلاشنکوف نکلتی اور قانون کا احترام کرنے والا کوئی نظر نہ آتا ۔ میں خود ایسے کئی ایسے افراد کو جانتا ہوں جو پولیس جیسے ڈیپارٹمنٹ میں رہ کر بھی با کردار اور شریف النفس گنے جاتے ہیں۔موجودہ دور میں پولیس کے فرائض میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔آج سے دس سال قبل جن کاموں کی انجام دہی پولیس کے ذمہ نہیں تھی آج وہ بھی اس کے فرائض میں شامل ہو چکے ہیں کیونکہ یہ وقت کی ضرورت ہے،پاکستان آرمی گزرے ہوئے کل میں بھی اور آج بھی اور پھر آنے والے کل میں بھی ہماری سرحدوں کی محافظ تھی اور رہے گی اس ملک کی عوام میٹھی نیند سوتی ہے تو وہ صرف اور صرف اللہ کے کرم کے بعد پاک فوج کے آسرے پر ممکن ہے لیکن آج بہت سی جگہوں پر پولیس کو پاک فوج کے جوانوں کے ساتھ دیکھا جاتا ہے۔
وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان صاحب نے اس منسٹری کو بے شمار فضول پروٹوکول سے آزاد کر دیا ہے جس کو اختیار نہیں بھی تھا وہ بھی پولیس اہلکاروں کے ساتھ فل پروٹوکول میں نظر آتا تھا جو کہ اب ضرورت کی حد تک محدود کر دیا گیا ہے ۔بات کو سمیٹتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس ملک میں مسلئہ اہلکاروں کا نہیں بلکہ مسلئہ اصل میں سربراہان کا ٹھیک نہ ہونا ہے یعنی اگر سربراہان مملکت،وزراء اور سرکاری محکموں کے افسران ہوش کے ناخن لیں تو یہ دھرتی ایک دفعہ پھر جگمگا سکتی ہے۔
اس کے لیے بیک وقت تمام محکموں کو متوازن حکمت عملی اختیار کرنا ہو گی پاکستان کا ہر شعبہ ایک وقت میں جب تک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو گا تب تک معاشی ترقی و معاشرتی اقدار کا فروغ ناپید رہے گا صنعت و حرفت ،فنون لطیفہ،زراعت کا شعبہ،سرمایہ اندوزی و دیگر شعبے اس وقت تک منظم و ترقی یافتہ نہیں ہو سکتے جب تک بنیادی محکمے اور ان کے سربراہان محنت کو اپنا شعار نہ بنا لیں قربانی بحرحال قربانی ہے چاہے وہ کسی بھی شعبے میں دی جائے لیکن ایک بات طے ہے کہ انقلاب برپا کرنے کے لیے قربانی پہلا قدم ہے۔
ا قوام عالم کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جانی اور مالی قربانی کے بغیر انقلاب برپا کرنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ۔نیا پاکستان بنانے کی بجائے پرانے پاکستان کی مرمت پر توجہ دی جائے تو جانی اور مالی نقصان سے بچا جا سکتا ہے ۔ویسے بھی بزرگوں کی نشانی کی جتنی قدر ہماری ثقافت میں ہے اتنی دنیا کے کسی مذہب میں نہیں ملتی ۔گھر کے کسی بزرگ کے دور کے پتھر کو بھی اس کی اولاد سنبھال کر رکھتی ہے ۔
کہ یہ ہمارے والد یا دادا دادی کی نشانی ہے المختصر یہ کہ پاکستان بھی کسی کی نشانی ہے اس کو ویسا ہی سنبھال کر رکھنا ہے جیسا قائد اعظم محمد علی جناح ہمیں دے کر گئے ۔اس کو بالکل نیاکرنے کی بجائے اس کی حفاظت پر توجہ دی جائے تو زیادہ بہتر ہو گا ورنہ غیر تو ہمیں اپنانے سے بھی انکار کر دیں گے لہذا اس خوش فہمی سے باہر آنا ہو گا۔ قربانیوں کا اعراف کر نا ہو گا اور اچھے انسان کی اچھائیوں کو منظر عام پر لاناہو گا ورنہ ہم سب آپس کی لڑائی میں مارے جائیں گے اور خدا نہ کرے کبھی ایسا ہو۔
پولیس کے محکمے میں موجود بد عنوان افسران کو فوری طور پر برطرف کیا جائے اور با کردار پڑھے لکھے محنتی اور قابل لوگوں کو سامنے لایا جائے تا کہ اس ملک کی تقدیر بدلے ۔قابل افراد کو اہم امور کی ذمہ داری دی جائے اور اس کے لیے مقابلے کے امتحانات کے ذریعے نئی نسل کے پڑہے لکھے طبقے کو چنا جائے۔جب ایسے لوگ محکمہ پولیس میں آئیں کے تو ماتحت طبقہ بھی بد عنوانی سے پاک ہو جائے گا ۔
پولیس کا محکمہ اپنی مثال آپ ہونا چاہئے لیکن افسوس کہ اس شعبے میں بے شمار بد عنوانیاں پائی جاتی ہیں ۔لیکن یاد رہے کہ جہاں پر بے شمار برےء لوگ بستے ہیں وہاں چند لوگوں کا محنت اور قربانی کا جذبہ رکھنا اپنی مثال آپ ہے ۔جیسا کہ آغاز میں بتایا گیا ہے کہ اس ملک کے بے شمار پولیس کے جوانوں نے اس پاک دھرتی کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔کرپشن کی بات ضرور کریں مگر پولیس کے مثبت اقدامات اور شہدائے پولیس کو کبھی فراموش نہ کریں کیونکہ زندہ قومیں اپنے شہداء کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا کرتیں۔