Episode 48 - Abroye Maa By Shahid Jameel Minhas

قسط نمبر 48 - آبروئے ما - شاہد جمیل منہاس

امن کا گہوارہ راولپنڈی ۔۔۔۔طوفانوں کی زد میں
راولپنڈی کی 100 سالہ تاریخ کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ملک پاکستان کے بے شمار شہروں میں اچانک کرفیو عمل میں لایا گیا لیکن راولپنڈی جیسے پر امن شہر میں یہ نوبت کبھی نہیں آئی۔آج ایک صدی کے بعد راولپنڈی کے باسیوں کو یہ دن دیکھنا نصیب ہوا۔نویں اور دسویں محرم اقوام عالم کو صبر اور برداشت کا پیغام دیتی ہے۔
حضرت امام حسین اور دیگر اہل بیت کا کردار شفاف آئینے کی حثیت رکھتا ہے اور ہمارا یقین ہے کہ ایمان کی حدت کو اس وقت تک تقویت نہیں ملتی جب تک ہمارے دل میں شہدائے کربلا کے لیے محبت کے جذبات نہ ہوں۔اسی لیے کہا جاتا ہے"اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد" ایسی عظیم قربانی کہ جس کی مثال انسانی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی کیونکہ ایسی عظیم ہستیاں بس ایک ہی دفعہ نصیب ہو سکتی ہیں۔

(جاری ہے)

نبی کریم ﷺ حضرت حسن اور حضرت حسین کو جنت کے سردار کہا کرتے تھے۔محرم الحام میں ہمیں تحمل اور بردباری کا درس ملتا ہے لیکن افسوس کہ عاشورہ پر خون کی ندیاں بہا دی گئیں۔ ملک دشمن عناصر نے یہ ثابت کر دیا کہ اسلام اور ایمان سے ان کا کوئی واسطہ نہیں ہے کیونکہ نبی ﷺ کا امتی کسی بھی دور میں اتیا ظالم اور پتھر دل نہیں پایا گیا ۔ہم تو اس نبی کے امتی ہیں کہ جس پر نماز کے دوران اونٹ کی اوجری رکھ دی جاتی تھی،راستے میں کانٹے بچھا دیے جاتے تھے،آپ پر کوڑا کرکٹ پھینکا جاتا لیکن آپ ﷺ نے ہمیشہ ان لوگوں کے لیے ہدائت کی دعا کی۔
ایک دن ایسا ہوا کہ وہ بڑھیا جو آپ ﷺ پر روزانہ کوڑا کرکٹ پھینکا کرتی تھی اس نے کوڑا نہ پھینکا تو آپ ﷺ نے اس بڑھیا کے بارے میں دریافت کیا تو پتہ چلا کہ وہ بیمار ہے، قربان جاؤں آپ ﷺ کی عظمت اور برداشت پر کہ آپ اس بڑھیا کے گھر اس کی تیمارداری کے لیے تشریف لے جاتے ہیں۔ آپ ﷺ کی نظر میں انسان کی یہ قدر تھی اور آج جب راولپنڈی شہر کو آگ کی زد میں دیکھا تو انسانیت دم توڑتی ہوئی دکھائی دی۔
اس وطن کو جلانے والے کیا مسلمان ہی ہیں؟ کیونکہ اسلام تو کم از کم ایسا درس نہیں دیتا۔آج تحقیقاتی کمیشن بٹھائی جائے یا پولیس کے با مشقت نوجوانوں کو برطرف کیا جائے یا کنٹینر سے سڑکیں بند کی جائیں یہ وہ اقدامات ہیں جو ہم گذشتہ کئی برسوں سے دیکھتے آئے ہیں مگر یہ سب عارضی باتیں ہیں اب وقت آ چکا ہے کہ ایسے بے ضمیر لوگوں کو جرم ثابت ہونے پر سر عام پھانسی دی جائے۔
کسی نے تو یہ کام کرنا ہے تو پھر کل کا انتظار کیوں آج ہی سے آغاز کر کے تاریخ رقم کر دی جائے۔اسلام سے محبت کا یہ منہ بولتا ثبوت ہو گا۔انسانیت کیا یہی ہے کہ ہم اپنے ہی بھائیوں کے خون کے پیاسے بن جائیں۔ملک دشمن عناصر سے آج یہ پریشان سرزمین سوال کرتی ہے کہ وہ با مشقت دوکاندار جو دن رات اپنی اولاد کے لیے روزی کمانے میں مشغول رہتے تھے ان کی دکان ان کی روزی کا واحد سہارا تھی جس کو جلا کر راکھ بنا دیا گیا۔
ان کی محنت کا صلہ کیا یہی ہے۔ ان ماؤں کا کیا بنے گا جن کے لخت جگر کو آگ کے سمندر میں بہا دیا گیا۔ان بہنوں کا کیا ہو گا جن کے دوپٹوں کے محافظ بھائیوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا ہے۔وہ باپ کدھر جائے گا کہ جس کی کمر کا واحد سہارا اس کا بیٹا تھا۔اس یتیم کی یتیمی کا نگہبان کون بنے گا کہ جو بچپن ہی میں باپ کی شفقت سے محروم کر دیا گیا ۔یہ وہ سوالات ہیں جو اس مادر ملت کے کونے کونے سے اٹھ رہے ہیں۔کیونکہ سانحہ راولپنڈی کوئی نئی بات نہیں ایسے سانحات سے ہماری تاریخ بھری پڑی ہے۔اب سوچنا یہ ہے کہ "یہ کون ہیں جو ہم ہی میں رہ کر ہمارے گھر کو جلا رہے ہیں؟
کیا اس لیے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے
کہ جب بن جائے نشیمن تو کوئی آگ لگا دے

Chapters / Baab of Abroye Maa By Shahid Jameel Minhas