Episode 60 - Abroye Maa By Shahid Jameel Minhas

قسط نمبر 60 - آبروئے ما - شاہد جمیل منہاس

عدل کے سب ہمدرد مگر خاموش رہے
کچھ دنوں سے دل بہت اُداس اور آس و یاس کی کیفیت میں مبتلا ہے ۔ اس وطن کی فضاء نہ جانے کیوں روز بروز سوگوار سی ہوتی جا رہی ہے۔ ملکی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ بڑی بڑی جنگوں کے دوران بھی یہ قوم مایوس نہیں ہوئی اور ہر مرحلے میں اور ہر موقع پر پر جوش اور پر اعتماد ہونے کے ساتھ ساتھ باحوصلہ نظر آئی۔ تاریخ کے اوراق پلٹنے سے پتہ چلتا ہے کہ دو بڑی جنگوں کے دوران اس ملک کا ہر جوان مردو زن پاکستان کی بقاء کی جنگ لڑنے کیلئے جسمانی طور پر باہر نکلااور ساری دنیا اس بات کا اعتراف کرتی ہے کہ پاکستان کی کلمہ گو فوج اقوام عالم میں بہادر ترین فوج ہے ۔
موجود ہ سیاسی بحران اور اپنوں کی آپس کی لڑائی میں یہ قوم ثالثی کے کردار کے علاوہ کچھ اور نہیں کر سکتی۔

(جاری ہے)

اگر دوبھائی آپس میں لڑ پڑیں تو تیسرا ظاہری سی بات ہے انہیں ٹھنڈا کرنے کی کو شش کرے گا۔ اور اس کی شدید خواہش ہو گی کہ اردگرد کے مکین یہ واویلہ نہ سنیں۔ کوئی بھی عزت دارشخص یہ نہیں چاہتا کہ اس کے خاندان کی گلی گلی رسوائی ہو ۔حقیقت پسندانہ انداز میں اگر دیکھا جائے تو اس ملک کے اندر بھائی آپس میں ایک دوسرے کو نیست و نابود کرنے کے درپے ہیں اور شور اور واویلہ اتنا کہ اردگرد کے مکین یعنی باقی ممالک ہمارا مذاق اور تمسخر اڑا رہے ہیں۔

آج دنیا والے فلموں اور فلمی گانوں کے بجائے براہ راست شوٹنگ اور براہ راست گانوں کے ساتھ ساتھ رقص و سرور کی محفلیں اور وہ بھی لڑائی اور جھگڑے کے دوران دیکھنے کو ترجیح دے رہے ہیں ۔ یعنی دنیا ہمارا تماشا دیکھ رہی ہے اور ہم ہیں کہ ہمیں تماشبین نظر ہی نہیں آ رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم بے حسی کی چادر میں دھنستے چلے جاریے ہیں جس کی مثال میں یہ دوں گاکہ کبوتر اکثر بلی کو دیکھ کر بے حوصلہ ہو جاتا ہے اور کوئی تدبیر احتیار کرنے کے بجائے اپنی آنکھیں بند کر لیتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ بلی اسے نہیں دیکھ سکتی ۔
ارے بابا آنکھیں تمھاری بند ہیں اور دیکھ بلی نہیں سکتی ۔ یہ کیسا فلسفہ ہے ؟ حقیقت سے منہ چھپانے والی قوم دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ذلیل و خوار ہوا کرتی ہے۔ لیکن الحمداللہ اس پاکستان کی غیور قوم میں آج بھی غیرت اور ایمان کی طاقت موجود ہے ۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ ان دھرنے والے ڈراموں کے دوران اس ملک کی 19کروڑ آبادی میں سے ایک لاکھ کا مجمع بھی نظر نہیں آیا ۔
بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ 20سے25 ہزار کے قریب لوگ وہاں پر جمع ہیں جو کہ آٹے میں نمک کے برابر ہیں ۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ بغیر مسائل یا الجھنوں کے یہ لوگ وہاں جمع ہو گئے ۔ مسائل بہر حال ہیں۔ جس کی وجہ سے ان دھرنوں کی ضرورت محسوس ہوئی ۔ لیکن اب ہم نے سو چنا ہے کہ اگر یہ دھرنے کامیاب بھی ہو جاتے ہیں تو کیا عمران خان اور طاہر القادری کے پاس کوئی آلہ دین کا چرغ ہے کہ وہ ایک منتر پڑھ کر اس قوم میں پھیلے اندھیرں کا قلع قمع کر کے روشنی کی کرنیں بکھیر دیں گے ۔
میں سمجھتا ہوں کہ صرف لوڈ شیڈنگ ہی ختم کرنا ان کے بس میں نہیں ہے ۔ جو ہر روز ہر تقریر کا لب لباب ہوتی ہے ۔یہ وہ مسائل ہیں کہ جن کو حل کرنے کی کو شش کی جاسکتی ہے اور وہ بھی اللہ کا فضل مانگ کر۔ نہ جانے یہ بڑے بڑے حکمران اور سیاست دان یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ قبر انسان کو سارا دن یاد کرتی ہے اور یہ سانس تو ایک بے جان کھلونا ہے۔پتہ نہیں اگلی سانس آتی بھی ہے یا کہ نہیں نہ جانے کیوں یہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ اللہ کی ذات انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے ۔
ذراسوچئیے کہ جب ویڈیو چل رہی ہو گی اور اس منظر کے دوران ہمارا ہر رشتہ ہمارے پاس بیٹھا ہوا ہو گا اور ہمارا ہر گناہ ہمارے عزیز و اقارب دیکھ رہے ہونگے ۔ جو ہم نے بند کمرے میں کیے ۔ اس دن اپنی ذات پر ڈھائے جانے والے مظالم کے ساتھ ساتھ اللہ کے حکم کی ہر نافرمانی ایک ایک کر کے ہمارے صغیرہ اور کبیرہ گناہ ہماری ماوٴں بہنوں بھائیوں اور بیٹیوں کے سامنے ایسے عیاں کر دیے جائیں گے کہ جیسے یہ سب براہ راست ہو رہا ہو۔
اس وقت منہ چھپانے کیلئے کوئی جگہ نہیں ملے گی ۔ یہ تو وہ حقائق ہیں جو عام آدمی کو حصے میں ملیں گے۔ سو چنا یہ ہے کہ اہل اقتدار یا با اثر افراد یا یوں کہہ لیں کہ ان حکمرانوں اور کرسی والوں کے حساب و کتاب کا کیا منظر ہو گا ۔ کیونکہ جتنا بڑا اقتدار اتنا بڑا حساب ۔ اس دن پتہ چلے گا کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی یا نہیں ۔ اس دن یہ جھوٹ کام نہیں آئیں گے۔
اس دن اگر بول بالا ہو گا تو وہ صرف سچ کا ہو گا۔ اسلام میں جتنی بڑی سزا گناہ کی ہے اس کئی گناہ زیادہ اور بھیانک سزا تہمت لگانے والے کا انتظار کر رہی ہو گی ۔ لہذا اے اہل دولت و ثروت اور اہل اقتدار لوگوں وہ دن دور نہیں کہ جب مجھ جیسے گناہ گار اور عام انسان سے لیکر آپ سب اللہ کی عدالت کے کٹہرے میں کھڑے ہوں گے اور اس دن دنیا کے جھوٹے گواہوں کی گواہی کسی کام نہیں آ سکے گی۔
ہم نہ جانے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ آج اگر کسی کا نماز ِ جنازہ پڑھ کر آئے ہیں تو کل ہم بھی اس صف میں یقینا شامل ہو جائیں گے ، کیونکہ انسان کی زندگی بہت مختصر ہے کہ جس کے بارے یہ کہا جاتا ہے کہ اس کا دورانیہ اتنا ہے کہ جتنا اذان اور نماز کے درمیان کا وقفہ ہوتا ہے ۔ بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو اس کے کان میں اذان دی جاتی ہے اور وہ بچہ بوڑھا ہو کر مرتا ہے تو اس کی نماز ِ جنازہ پڑھی جاتی ہے۔
اسلئے تو کہا جاتا ہے کہ سو برس کی عمر پا کر بھی ہر مرنے والا بہت تڑپتا ہے اور دل میں سوچتا ہے کہ میں تو کچھ لمحے پہلے آیا تھااور اتنی جلدی اللہ نے بلا لیا ۔دنیا کے سو برس کی بجائے ہزار برس بھی اس ایک رات کے دور اپنے سے کم ہو گے جو آخرت کی رات ہو گی۔ آج اس ملک کی افراتفری اس بات کی گواہ ہے کہ ہم نے اس ملک میں اپنی طاقت کا بے جا اور غلط استعمال کیا۔
اللہ کی دی ہوئی عزت اور طاقت ہمارے بڑوں سے ہضم نہیں ہو رہی ہے ۔ اب حالات اس قدر بگڑ چکے ہیں کہ ان کوسدھارنا بہت سی قربانیاں مانگ رہا ہے ۔ جان کی قربانی تو اس ملک کا ہر غریب کراچی سے خیبر تک ہر کونے میں دے رہا ہے ۔ کیونکہ ایک غریب انسان کے پاس جسمانی قربانی کے علاوہ دینے کیلئے اور کچھ نہیں ہوتا اور وہ سب سے بڑی قربانی یعنی اپنی زندگی کی قربانی نہ چاہتے ہوئے بھی دیتا ہے ۔
لیکن آج اس ملک کو ہر اہل دولت اور اہل اقتدار کو اپنی انا کی قربانی دینا ہو گی ۔ ورنہ جب سیلاب آتا ہے تو کچے گھروندوں کے ساتھ ساتھ سونے اور چاندی کے محل میں بھی پانی گھس جایا کرتا ہے۔ ملک کے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے ارشاد عرشی کے چند اشعار یاد آ گئے۔
ظلم کے ساتھی گلیوں گلیوں دھاڑے ہیں 
عدل کے سب ہمدرد مگر خاموش رہے
لاکھوں اپنے دیس میں ہی پردیسی ہیں
باقی ہو کر ملک بدر خاموش خاموش رہے
چوک میں ماں نے چاروں بچے بیچ دیئے
پڑھ کر قاری یہ بھی خبر خاموش رہے

Chapters / Baab of Abroye Maa By Shahid Jameel Minhas