ایس ایم ایز اپنی صنعتوں کے اخراجات پورے نہیں کرپارہیں،برآمدات پر منفی اثر پڑے گا

ٰریفنڈز کی عدم ادائیگی سے سینکڑوں صنعتوں کی پیداواری سرگرمیاں معطل ہونا تشویشناک ہے ،خادم حسین

ایس ایم ایز اپنی صنعتوں کے اخراجات پورے نہیں کرپارہیں،برآمدات پر منفی ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 10 جنوری2020ء) تاجر رہنما و پاکستان سٹون ڈویلپمنٹ کمپنی کے بور ڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن خادم حسین سینئر نائب صدر خادم حسین ایگزیکٹو ممبرلاہور چیمبرز آف کامرس نے کہا ہے کہ برآمدی شعبہ کے ریفنڈز کی عدم ادائیگی سے صنعتی شعبہ مالی مشکلات کا شکار ہے سرمائے کی عدم دستیاب سے سینکڑوں صنعتوں کی پیداواری سرگرمیاں معطل ہیں جو تشویشناک امر ہے انہوںنے کہا کہ ایس ایم ایز اپنی صنعتوں کے اخراجات پورے نہیں کرپارہیں جس کے باعث صنعتی یونٹس بند ہورہے ہیں جس کا برآمدات پر منفی اثر پڑے گا برآمدات کم ہونے سے حکومتی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی سے حکومت مالی مشکلات کا شکار ہوکر ایک بار پھر قرضے حاصل کرے گی جو ملکی معاشی صورتحال کیلئے انتہائی خطرناک ہیں جس کی وصولی عوام سے ٹیکسوں کی شکل میں کی جائے گی جس سے ملک میں پہلی ہی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی میں ہوشربا اضافہ ہوگا ۔

(جاری ہے)

ان خیالات کااظہار انہوںنے فیروز پور بورڈ کے تاجروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔خادم حسین نے کہا کہ ٹیکسٹائل کے شعبہ سے وابستہ برآمد کنندگان کے پہلے سے ہی تقریباً50ارب روپے حکومت کی جانب واجب الادا ہیں زیرالتواء کسٹمز ریبیٹ کی مالیت12ارب کے قریب ہے جبکہ ڈی ڈی ٹی اور ڈی ایل ٹی ایل کی مد میں68ارب اور18ارب روپے ودہولڈنگ ٹیکس کلیمز کی مد میں زیرالتواء ہیں کسٹمز ریبیٹ کی ادائیگیاں خود کار طریقے سے کرنے کی یقین دہانی پر بھی عمل نہ ہوسکا اس لے وزیراعظم خصوصی نوٹس لیکر کسٹمز ریبیٹ کی ادائیگی پر عملدرآمد کروائیں تاکہ برآمدی شعبہ سرمائے کی کمی کا شکار نہ ہو اور خوشدلی سے ملکی برآمدات میں اضافہ کرکے حکومتی زرمبادلہ میں اضافہ کرے اور حکومت معاشی طور پر مستحکم ہوسکے۔

Your Thoughts and Comments