ایف پی سی سی آئی کے مطالبے پر کسٹمز، انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس تنازعات کے حل کے لیے ٹریبونلز قائم

وزارت قانون و انصاف نے دونوں ٹریبونلز کے ممبران کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کردیا دیرینہ مطالبہ پورا ہونے پر وزیراعظم عمران خان، چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد، وزیر قانون ڈاکٹر فروغ نسیم کے مشکور ہیں، شبیر منشاہ چھرہ

ایف پی سی سی آئی کے مطالبے پر کسٹمز، انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس تنازعات کے ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 09 جون2021ء)فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری( ٰایف پی سی سی آئی) کی قائمہ کمیٹی برائے کسٹمز کے کنوینر شبیر منشاء چھرہ نے وزارت قانون و انصاف کی جانب سے ایف پی سی سی آئی کے دیرینہ مطالبے پر ٹیکسز اور کسٹمز سے متعلق شکایات کو نمٹانے کے لیے دو مختلف ٹریبونلز کے قیام پر وزیراعظم عمران خان، چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس جناب گلزار احمد اور وفاقی وزیر قانون ڈاکٹر فروغ نسیم سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ٹریبونل طویل عرصے سے غیر فعال تھے اور اب ان ٹریبونلز کو فعال کرتے ہوئے ممبران کا تقرر کردیا گیا ہے اس حوالے سے وزارت قانون و انصاف نے نوٹیفیکیشن بھی جاری کردیا ہے۔

شبیر منشاہ چھرہ نے میڈیا سے کو جاری تفصیلات میں کہا کہ ایف پی سی سی آئی کی جانب سے وزارت قانون و انصاف کو ٹریبونلزکے لیے ممبران کے تقرر کے لیے خطوط ارسال کیے تھے جس پر مثبت پیش رفت سامنے آئی اور اب ٹریبونلز کے فعال ہونے اور ممبران کی تقرری سے بزنس کمیونٹی کو انصاف مل سکے گا۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ نوٹیفیکیشن کے مطابق محمد عارف خان کو چیئرمین کسٹمز ایپلٹ ٹریبونل بینچ ون مقرر کیا گیاہے جبکہ عبدالجبار قریشی کو جوڈیشنل ممبر برائے بینچ ون کراچی، ڈاکٹر نوید الحق ممبر بینچ ٹو کراچی، ممتاز حسین ممبر پشاور بینچ اور عبدالظاہر اچکزئی کوئٹہ بینچ کو جوڈیشل ممبر مقرر کیا گیا ہے۔

اسی طرح سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس سے متعلق تنازعات اور شکایات کے ازالے کے لیے بھی 10رکنی جوڈیشل ممبران کا تقرر کیا گیا ہے جو کہ یقینی طور پر انتہائی خوش آئند ہے کیونکہ ٹریبونلز کے فعال ہونے سے کسٹمز اور سیلز و انکم ٹیکس سے متعلق برق رفتاری سے تنازعات اور شکایات کا ازالہ ممکن ہوسکے گا۔

Your Thoughts and Comments