ایف پی سی سی آئی کا آئی ٹی انڈسٹری کو حاصل 2025تک ٹیکس چھوٹ کے خاتمے پرافسو س کا اظہار

ایف پی سی سی آئی کا آئی ٹی انڈسٹری کو حاصل 2025تک ٹیکس چھوٹ کے خاتمے ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 جون2021ء) میاں ناصر حیات مگوں صدر ایف پی سی سی آئی نے ملک میں آئی ٹی برآمدات بڑھانے اور فور جی سہو لیات تیزی سے بڑھانے پر وفاقی وزیر برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام سید امین الحق کے کام کی تعریف کی ہے۔میاں ناصر حیات مگوں نے وفاقی بجٹ2021-22 میں آئی ٹی شعبے کو ٹیکس میں شامل کرنے پر تنقید کی ، جبکہ بجٹ سے پہلے اسے 2025 تک چھوٹ حاصل تھی۔

انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کی واحد صنعت ہے جس نے برآمدات میں پچھلے دو سالوں میں 70 فیصد سے زائدکا اضافہ کیا ہے۔ انہو ں نے کہاکہ اگر پچھلے 2 سال کی رفتار سے آئی ٹی ایکسپورٹس میں اضا فہ جا ری رہتا ہے تو اگلے تین سے چارسال کے عرصے میں آئی ٹی ایکسپورٹس سالا نہ دس ارب ڈالر تک پہنچنے کی صلا حیت رکھتی ہیں ۔

(جاری ہے)

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت 2025 تک آئی ٹی ایکسپورٹس کو ٹیکس سے مبرا رکھے ، جیسا کہ وفاقی بجٹ2021-22 سے پہلے تھا ۔

میاں ناصر حیات مگوں نے مزید کہا کہ حکومت اپنی بجٹ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 7 فیصد سے زیادہ شراح سود پربین الاقوامی ما رکیٹ میں بانڈ جاری کرتی ہے ؛جبکہ قیمتی غیر ملکی زرمبادلہ حاصل کرنے والے تاجروں کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت آئی ٹی برآمد کنندگان کو محض 5 فیصدریبیٹ کا اعلان کرتی ہے تو وہ آسانی سے ملک میں 10 بلین ڈالر سالانہ لا سکتے ہیں۔

وفاقی وزیر آئی ٹی نے کہا کہ آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام وزارت کے تحت تمام بڑے ترقیاتی منصوبے بغیر کسی تعصب کے اور ٹائم ٹیبل کے مطابق پورے پاکستان میں چلائے جارہے ہیں۔ انہوں نے اجلاس کو یہ بھی بتایا کہ تا ریخ میں پہلی بار چار ہفتے قبل کابینہ کا اجلاس پیپر لیس ماحول میں کیا گیا تھا؛اب وفاقی وزارت آئی ٹی کا مقصد پا رلیمنٹ کے اجلاس کو بھی پیپر لیس ماحول میں منعقد کروانا ہے۔

ممبر آئی ٹی سید جنید امام نے کہا کہ آئی ٹی کا روباروں میں تیزی سے اضافے کی صلاحیت موجود ہے، اگر انکوبینکو ں یا پرائیوٹ ایکیوٹی اداروں کے ذریعہ فنانس مہیا کیا جا سکے۔ انہوں نے ایف پی سی سی آئی کے ممبران سے بھی درخواست کی کہ وہ آئی ٹی سے متعلق نئے کا روبارں میں سرمایہ کاری کریں۔آئی ٹی اور ٹیلی کام وزارت کے وفاقی سیکریٹری محمد سہیل راجپوت نے کہا کہ وزارت آئی ٹی کے کاروبار قائم کرنے کے لئے آئی ٹی پارکس اور خصوصی زون کھول رہی ہے اور اس کو صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں رکھا جائے گا ؛بلکہ چھوٹے شہر بھی اس میں لازمی طور پر شامل کیے جائیں گے تا کہ سب کو برابر مواقع حاصل ہو ں۔

پاکستان سوفٹ وائیر ایکسپو رٹ بو رڈ ( PSEB) کے ایم ڈی عثمان ناصر نے کہا کہ ایف بی آر اور آئی ٹی انڈسٹری ایک ہی صفحے پر نہیں ہیں اور اگر ایف بی آر آئی ٹی انڈسٹر ی کی مخصوص ضروریات کو پورا نہیں کرتا ہے تو آئی ٹی ایکسپورٹس میں رکاوٹیں پیدا ہوسکتی ہیں۔زوہیب خان، کنوینر ایف پی سی سی آئی اسٹینڈنگ کمیٹی برا ئے آئی ٹی نے پاکستان کو ایمزون کی فروخت کنندگان کی فہرست میں شامل کرنے پر خوشی کا اظہار کیا لیکن انتباہ بھی کیا کہ چھوٹے اور درمیانے کارباروں کو اس موقع سے مکمل اور لانگ ٹرم فا ئدہ اٹھانے کے لیے ایمزون کے طریقہ کار اور کوالٹی کے معیار ات پر مناسب تربیت دینے کی ضرورت ہے۔

ایف پی سی سی آئی کی آئی ٹی سے متعلق اسٹینڈنگ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر شاہد اسماعیل نے فائیبر ائیزیشن اور اس کے خام مال کو ڈیوٹی فری بنانے اورپرائیوٹ کارباروں کو یکساں مواقع دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ ایف پی سی سی آئی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برا ئے سا ئبرکرائمز کے کنوینر محمد اعظم مغل نے خواتین کو آن لائن ہراساں کرنے کے بڑھتے ہوئے واقعات پرتشو یش کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس خطرے سے نمٹنے کے لئے ایف آئی اے کو اپنی صلاحیت میں فوری طور پر اضافہ کرنا چاہئے۔میاں ناصر حیات مگوں نے سائبر کرائمز سے متعلق آگاہی پیدا کرنے اور تاجر برادری کو آن لائن ماحول میں محفوظ رہنے میں مدد دینے کے لیے سائبر سیکیورٹی ونگ کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے پاکستان میں لیپ ٹاپ کے اسپیئر پارٹس پر ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں پرافسو س کا اظہار کیا۔

جبکہ مکمل طور پر تیار ایمپورٹ ہو نے والے لیپ ٹاپ پاکستان میں ڈیوٹی فری ہیں؛یہ ایک بہت بڑی کو تاہی ہے اور اس سے پاکستان ہمیشہ درآمد شدہ لیپ ٹاپ پر انحصار کرتا رہے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئی ٹی سے متعلق ہارڈ ویئر جیسے لیپ ٹاپ، اسمارٹ فونز، بائیو میٹرک مشینیں، اے ٹی ایم مشینیں، پی او ایس مشینیں وغیرہ پاکستان میں بنائی جا ئیںاور ان کے پرزے ٹیکس اور ڈیوٹی فری ہونے چاہئیں۔

ایف پی سی سی آئی کا وفاقی وزیر برا ئے آئی ٹی کے اس دورے پر انکا شکریہ ادا کیا اور آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام صنعتوں میں جاری بڑے پیمانے پر ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں حاضرین کو آگا ہی دینے پر بھی شکر یہ ادا کیا ۔ ایف پی سی سی آئی نے وفاقی بجٹ میں ٹیلی کام سیکٹر کو صنعت کا درجہ دینے کے فیصلے کو بھی سراہا ہے۔

Your Thoughts and Comments