کیا ہم اشرف المخلوقات ہیں

آج کی ترقی یافتہ اور ٹیکنالوجی کے دور میں بھی ہمارے ارد گرد بہت سے انسان نما حیوان موجود ہیں۔ انسان جو چاند پر پہنچ گیا، جس نے دنیا کو گلوبل ویلیج بنا دیا ، جو ہواؤں اور سمندر کا رخ دیکھ کرآنے والے طوفان کی پیش گوئی کردیتا ہے

sumaiya sultan سمیہ سلطان منگل اکتوبر

Kiya Hum Ashraf ul Makhlokat Hain
انسان کو اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات کا درجہ دیا اور یہ درجہ اسے عقل و شعور، دل و دماغ کی بنیاد پر ملا ہے۔ اشرف المخلوق کے معنی ہیں تمام  مخلوقات میں سب سے اعلیٰ اور سب سے برتر۔ یہ رتبہ گارے اور مٹی سے بنے انسان کو ہی کیوں ملا، اس رتبے کے اہل تو فرشتے یا جنات بھی ہوسکتے تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اگر انسان کو یہ مقام عطا کیا ہے تو وہ اس لیئے کی انسان میں اللہ تعالیٰ نے شعور اور اگاہی کا ادراک رکھا ، اس میں احساس اور محبت رکھی اور اللہ تعالیٰ نے اپنی پاکیزہ صفات کی بہت تھوڑی جھلک انسانوں میں رکھی۔


جتنا اونچا یہ رتبہ ہے اتنی ہی بھاری زمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے۔ ایک مشہور قول ہے:
"جانور میں خواہش اور فرشتے میں عقل ہوتی ہے مگر انسان میں دونوں ہوتی ہیں، اگر وہ عقل دبا لے تو جانور اور خواہش دبا لے تو فرشتہ۔

(جاری ہے)

"
عموماً انسان کی عقل پہ خواہشات کا غلبا رہتا ہے۔ دنیا میں کم ہی انسان ایسے ہیں جو اپنے نفس پر قابو پا کر انسانیت کی معراج پر پہنچتے ہیں۔

ورنہ یہاں قدم قدم پر انسان کے لبادےمیں حیوان ملتے ہیں جو نفس پرستی میں اس حد تک گر چکے ہوتے ہیں کہ انسان کہلانے کے لائق ہی نہیں رہتے۔ ایک مسلمان کی عقیدے کی بنیاد تو تقویٰ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ڈر اور خوف تو اتنا ہونا چاہیئے کہ ایک مسلمان کسی دوسرے کو نقصان پہنچانے کے متعلق سوچ بھی نہ سکے۔ مگر صد افسوس ہم مسلمان ہونے کا تو کیا انسان ہونے کا بھی حق ادا نہیں کرتے۔


"انسان اور حیوانیت میں فرق صرف احساس کا ہوتا ہے۔ جہاں احساس ہو وہاں انسانیت اور جہاں احساس مر جائے حیوانیت خود بخود جنم لیتی ہے۔"
آج کی ترقی یافتہ اور ٹیکنالوجی کے دور میں بھی ہمارے ارد گرد بہت سے انسان نما حیوان موجود ہیں۔ انسان جو چاند پر پہنچ گیا، جس نے دنیا کو گلوبل ویلیج بنا دیا ، جو ہواؤں اور سمندر کا رخ دیکھ کرآنے والے طوفان کی پیش گوئی کردیتا ہے، زمین میں دفن خزانے کھوج لیتا ہے۔

۔۔ وہ   اپنے برابر میں بیٹھے انسان میں چھپے حیوان کو نہیں ڈھونڈ پاتا۔ اس کی آنکھوں میں چھپی سفاکی اور چہرے پہ رقم درندگی بھی سامنے والے کی آنکھوں سے اوجھل رہتی ہے۔ شائد اگر یہ پردہ نہ ہوتا تو دنیا کب کی ختم ہو چکی ہوتی یا پھر شاید درج ذیل تمام واقعات، وہ دل دوز سانحات نہ ہماری سماعت کا حصہ بنتے اور نہ ہی بصارت کا:
٭  8جنوری 2018کو قصور کی چھ سالہ زینب کا زیادتی کے بعد قتل۔


٭ پاکستان ٹوڈے کے ایک سروے کے مطابق تقریباً ١٣۰۰ سے زائد بچے (جنوری تا جون ٢۰١۹ کے درمیان) جنسی زیادتی اور قتل کا شکار ہوئے ہیں جس میں سے ۶۵٢کیس پنجاب کے ہیں۔
٭ گھوٹکی کے غلام رسول بھٹو اور اس کی اہلیہ زرینہ بھٹو کا پسند کی شادی کرنے پر قتل۔
٭ ساہیوال میں معصوم بچوں کے سامنے ان کے ماں باپ کا بہیمانہ قتل اور اس قتل کے بعد گرفتار ملزمان کا رہا کردیا جانا۔


٭ ضلع پنجگور میں 12سالہ بچی کا دھوکہ سے اپنڈکس  کے آپریشن کا بتا کر گردہ نکالنا۔
٭ رشتہ کے انکار پر یا انتقام کی آگ کو بجھانے کیلئے دوسروں کے منہ پر تیزاب پھیکنا یا کبھی چھریوں کے وار کرنا۔
٭ گھریلو تنازعات کی بنیاد پر تشدد کا نشانہ بنانا۔
٭جلن اور حسد جیسی عفریت کی لپیٹ میں آکر زندہ انسانوں کو بھسم کرنا۔
٭ ہسپتالوں میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا مریضوں کو دنیاوی عیش کی خاطر کاروبار بنانا۔


٭ قانون کے رکھوالوں اور عہدیداران کا جیلوں میں قیدیوں پر مغلظات بکنا اور سفاکانہ جسمانی تشدد ۔
٭ چند روپوں کے عوض انسانوں کا اغواء، جنسی ہوس کیلئے زیادتی کا نشانہ بنانا اور بے کس و لاچار کی مجبوری کا فائدہ اٹھانا۔
٭ معصوم بچوں سے جانوروں جیسا سلوک، ان سے مزدوری کروانا اور ان کے ننھے ننھے ہاتھوں کو دوسروں کے سامنے پھیلانے پر مجبور کرنا۔


یہ سب انسان کے انسان پہ، ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پہ  مظالم کے چند واقعات ہیں ۔ یہ کچھ واقعات جو منظر عام پر آجاتے ہیں ان میں سے بھی بہت تھوڑے یہاں قلم بند کئے ہیں اور بہت سارے مظالم بہت سی آہیں درپردہ رہتی ہیں۔ یہ تمام مظالم انسانوں کی آنکھ سے بے شک پوشیدہ ہیں مگر اللہ تعالیٰ سے کچھ بھی مخفی نہیں  ہے۔ یہ کیسا مسلمان ہے جو اپنے بھائی پہ ظلم کرکے خوش ہوتا ہے۔

یہ کیسا مسلمان ہے جس کا دل نہیں کانپتا ایک بےبس کی فریاد سن کر۔ ایسا مسلمان ، مسلمان تو درکنارانسان کہلانے کے لائق نہیں۔
ایک حدیث شریف میں نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر ارشاد فرمایا ہے:
" مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں۔" (صحیح بخاری: ١۰)
ظالم تو انسانیت کے درجے سے نیچے گر جاتا ہے تو وہ مسلمان کیسے رہے گا۔

ہم فلسطین کے مسلمانوں کے لیئے روتے ہیں، عراق، شام، بوسنیہ، سیریا اور کشمیر کے مسلمانوں کے لیئے دعا گو ہیں۔ مگر ان پر تو غیروں نے مظالم ڈھائے ہیں۔ ہم ایک ہو کر ان کے حق کے لیئے آواز اٹھا سکتے ہیں مگر وہ ظلم ڈھانے والے مسلمان نہیں اور ان کے پاس تو ہمارا دین نہیں ۔ مگر اپنے وطن کے لوگ جب اپنوں پہ ہی ظلم ڈھاتے نظر آتے ہیں تو ہم کس کے در پہ کھٹکھٹائیں اور کس کو آواز دے کر جگائیں۔

ان سب کے ضمیر سو گئے ہیں یا شائد مردہ ہی ہوگئے ہیں۔ جو اپنے بھائی یا بہن کی آہ و بکا نہیں سن پاتے تو حبیب جالب کا یہ شعر ایسے ہی لوگوں کی عکاسی کرتا ہے:
 دیواروں میں سہمے بیٹھے ہیں کیا خوب ملی آزادی
اپنوں نے بہایا خون اپنا، ہم بھول گئے بیگانوں کو

اس ظلم و بربریت میں مرد اور عورت کی تشخیص اب بہت معدوم ہوگئی ہے۔

جس طرح ترقی کی شاہراہ پر عورت مرد کے شانہ بشانہ ہے اسی طرح ظلم ڈھانے میں بھی وہ کسی طور پیچھے نہیں ہے۔ ہر دفعہ مرد ہی عورت پر ظلم نہیں کرتا ، بہت دفعہ عورت ہی عورت کی دشمن ہوتی ہے۔ لیکن اب ظلم کے لیئے اٹھتے ہوئے ہاتھوں کو روکنے  کی کوشش اور ان کی اصلاح کی کوشش کا آغاز کرنا ہوگا۔ صرف حقوق کے نعرے لگانا کافی نہیں ہے بلکہ عملاً انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کی جدوجہد کی ابتداء موجودہ وقت کی ضرورت ہے۔ دعا ہے کہ ہم  داخلی اور خارجی بنیادوں پر ظلم کے خلاف جہاد کا علَم بلند  رکھیں اور اس میں فتح یاب  اور سر خرو  ٹھہریں۔ 

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Kiya Hum Ashraf ul Makhlokat Hain is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 29 October 2019 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.