خیبر پختونخواہ ایمپیکٹ چیلنج پروگرام ۔ نئے خیال سے کمال کر(ثنا امین)

یہ کہانی ثنا امین کی ہے جو وومین یونیورسٹی مردان میں بی ایس انگلش کر رہی ہیں۔ ثنا امین کے والد صاحب آرمی میں جاب کرتے ہیں اور وہ بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہیں

جمعہ نومبر

kp impact challenge programme - Sana Amin
ڈاکٹر مریم چغتائی
خیبر پختونخواہ ایمپیکٹ چیلنج پروگرام کی اینٹر پرینیور سحر صبا پیرزادہ کی کہانی پچھلے آرٹیکل میں چھپ چکی ہے۔ اس آرٹیکل کے زریعے لوگوں کو اس پروگرام کے بارے میں بہت تفصیل سے جاننے کا موقع ملا۔ اس آرٹیکل میں لوگوں کو یہ پتہ چلا کہ کس طرح سے ِان اینٹر پرینیور ز نے اس پروگرام میں شرکت کی اور وہ کن مراحل سے ہو کر گزرے۔

خیبر پختونخواہ ایمپیکٹ چیلنج پروگرام نے کئی کہانیوں کو جنم دیا جن کی زندگیاں اِس پروگرام کی وجہ سے تبدیل ہو گئیں۔
یہ کہانی ثنا امین کی ہے جو وومین یونیورسٹی مردان میں بی ایس انگلش کر رہی ہیں۔ ثنا امین کے والد صاحب آرمی میں جاب کرتے ہیں اور وہ بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہیں۔

(جاری ہے)

ثنا امین بتاتی ہیں کہ وہ چونکہ سب سے بڑی تھیں تو اس لئے گھر میں اُن کو وہی سہولیات دی گئی جو کہ گھر کے بڑے لڑکوں کو میسر ہوتی ہیں مگر معاشرتی طور پر بڑے ہوتے ہی مجھے یوں محسوس ہونا شروع ہو گیا کہ جیسے کسی پرندے کو پنجرے میں بند کر دیا گیا ہو۔

یونیورسٹی لائف میں آکر یہاں کافی ساری لڑکیوں میں دوبارہ سے ایک متحرک زندگی گزارنے کا موقع ملا۔ میں اپنی یونیورسٹی کی آرٹس سوسائٹی کی جوائنٹ سیکرٹری بھی ہوں اور اسی وجہ سے میں نے کئی فنکشنز میں شرکت کی اور کئی تقریبات کا اہتمام بھی کیا۔
خیبر پختونخواہ ایمپیکٹ چیلنج پروگرام کے بارے میں مجھے اپنی ایک کلاس فیلو سے پتہ چلا کہ خیبر پختونخواہ حکومت کی جانب سے ایک پروگرام شروع کیا جا رہا ہے۔

ہم یہ سوچ رہے تھے کہ ہمارا نام کہاں آئے گا مگر پھر بھی ہم نے اس پروگرام میں اپنی درخواست جمع کروا دی ۔ یہ جان کر میری خوشی کی انتہا نہ رہی کہ میں سیلیکٹ ہو گئی ہوں۔
میری امی اور میں اپنے ہاتھ سے بہت سے ہینڈی کرافٹس بناتے تھے مگر اپنے کاروبار کے بارے میں کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ عام طور پر یہی ہوتا تھا کہ ہم جو گھر میں بناتے تھے وہ کسی کو تحفے کے طور پر دے دیتے تھے۔

اِس پروگرام کی وجہ سے مجھ میں ایک سوچ پیدا ہوئی کہ مجھے اللہ نے ایک ہنر دیا ہے تو کیوں نہ میں اِس سے مستفید ہوتے ہوئے اپنے کاروبار کا آغاز کروں۔ خیبر پختونخواہ ایمپیکٹ چیلنج پروگرام کی تربیت نے مجھے یہ سکھایا کہ کس طرح سے اپنے کاروبار کا آغاز کیا جاتا ہے اور کاروبار کے دوران آنے والی مشکلات پر کیسے قابو پایا جا سکتا ہے۔
تربیت حاصل کرنے کے بعد ہمیں حکومت کی طرف سے گرانٹس دی گئیں اور جس دن مجھے گرانٹ ملی اُس دن مجھے ایک ذمہ داری کا احساس ہوا کہ اب کچھ کرکے دیکھانے کا وقت آگیا ہے اب مجھے آگے بڑھنا ہے لوگوں کو کر کے دیکھانا ہے کہ خواتین پردے میں رہ کر بھی بہت کچھ کر سکتی ہیں۔

عام طور پر خواتین کے بارے میں یہی تاثر پایا جاتا ہے کہ یا تو خواتین ڈاکٹر بن سکتی ہیں یا پھر ٹیچر بن سکتی ہیں۔ مگر اب مجھے ثابت کرنا ہے کہ خواتین اپنا کاروبار بھی بہت اچھے طریقے سے کر سکتی ہیں۔
کاروبار کا آغاز کرتے ہی مجھے کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بازار جانا اور اپنی مصنوعات کو لوگوں تک پہنچانے کے لئے مردوں سے ڈیل کرنا ایک مشکل مرحلہ تھا۔

ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں خواتین کا بازار جانا ہی معیوب سمجھا جاتا ہے وہاں ایک خاتون کو اپنا کاروبار کرتے ہوئے جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اُس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ شروع میں لوگوں نے کہا کہ تم یہ کام نہیں کر سکتی مگر آہستہ آہستہ میں نے خود تمام مشکلات پر قابو پالیا اور آج میں کامیابی سے اپنا کاروبار کر رہی ہوں اور وہی لوگ جو یہ کہتے تھے کہ تم اپنا کاروبار نہیں کر سکتی آج کہتے ہیں کہ ثنا امین ایک انٹرپرینیور ہے ۔


ایک انٹرپرینیور کے طور پر آج میں اِس قابل ہوں کہ اپنا کاروبار کر رہی ہوں پردے میں رہتے ہوئے میں بازار بھی جاتی ہوں اور مردوں سے کاروباری ڈیلنگ بھی کرتی ہوں۔ شروع میں مجھے کسٹمر ڈیلنگ کا بالکل پتا نہیں تھا ۔ ایک دفعہ ہمارے ایک جاننے والے کو ہمارے کپڑے پسند آگئے ہم نے اُسے بغیر منافع کے رقم بتا دی اِس پر وہ بضد تھے کہ وہ ہماری کہی ہوئی رقم سے آدھی رقم دیں گے۔

اِسی طرح کی بہت سی مشکلات کا شروع میں سامنا کر نا پڑا۔ میں اگر اپنے کام کے سلسلے میں باہر نہ نکلتی تو میں اِن تجربات سے کبھی نہ گزر پاتی۔ میرے خیال سے تو خواتین کو باہر جانا چاہئے معاشرے کا سامنا کرنا چاہئے تب ہی وہ ایک با اعتماد شخصیت اور زندگی میں آنے والے ہر قسم کے حالات سے نمٹنا جان سکیں گی۔ خیبر پختونخواہ ایمپیکٹ چیلنج پروگرام کی وجہ سے مجھے تربیت کے ساتھ ساتھ اعتماد بھی ملا اور حکومت کی طرف سے کاروبار کے لئے مجھے چار لاکھ کی رقم ملی جس کی وجہ سے میں نے مشینیں ، کپڑا اور ہینڈی کرافت بنانے کے لئے دوسرا سامان خرید لیا۔

آج میں ایک رجسٹرڈ برانڈ کے طور پر اپنی مصنوعات کو مارکیٹ میں متعارف کرا رہی ہوں۔
 میرا خواب ہے کہ میں کامیاب ہو جا وٴں اور دنیا کو دکھا سکوں کہ پردے میں بھی خواتین کامیاب زندگی گزار سکتی ہیں۔
میں نے تو یہی سبق سیکھا ہے "کہ پرندہ جب اُڑنے کی ٹھان لے تو ہوا کو بھی راستہ دینا ہی پڑتا ہے۔"

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

kp impact challenge programme - Sana Amin is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 29 November 2019 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.