میانوالی (پنجاب کا پختونخواہ)

میانوالی شہر''میاں سلطان زکریاؒ'' کے نام پر میانوالی کہلاتا ہے۔ جنوبی ایشیا کے تمام حکمرانوں نے اپنے اپنے وقت میں یہاں حکومت کی۔ سلطان محمود غزنوی نے راجا جے پال کو شکست دے کر یہاں پہلی اسلامی حکومت قائم کی

Dr Syed Muhammad Azeem Shah Bukhari ڈاکٹر سید محمد عظیم شاہ بُخاری جمعرات اگست

Mianwali Punjab ka Pakhtunkhawa
صوبہ پنجاب کے شمال مغربی سِرّے پر واقع ضلع میانوالی کو اگر ''پنجاب کا پختونخواہ'' کہا جائے تو یہ غلط نہ ہوگا۔ وہ اس لیئے کہ ضلع کے شمال میں بڑی تعداد میں پختون آباد ہیں اور یہ تعداد پنجاب کے کسی بھی ضلع میں سب سے زیادہ ہے۔ پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں گِھرے میاںوالی کے جنوب میں ضلع بھکر، مشرق میں ضلع خوشاب اور چکوال، شمال میں اٹک، کوہاٹ اور کرک کے اضلاع جبکہ مغرب میں خیبر پختونخواہ کے اضلاع لکی مروت اور ڈیرہ اسماعیل خان واقع ہیں۔

اپنے اِسی محلِ وقوع کی بدولت یہ ضلع پنجابی، سرائیکی اور پختون ثقافت کا ایک حسین امتزاج ہے ۔
میانوالی شہر''میاں سلطان زکریاؒ'' کے نام پر میانوالی کہلاتا ہے۔ جنوبی ایشیا کے تمام حکمرانوں نے اپنے اپنے وقت میں یہاں حکومت کی۔

(جاری ہے)

سلطان محمود غزنوی نے راجا جے پال کو شکست دے کر یہاں پہلی اسلامی حکومت قائم کی۔ جبکہ مُغلیہ خاندان نے تین سو سال اس علاقے میں حکومت کی۔

مغلوں کے زوال کے بعد یہ علاقہ رنجیت سنگھ کے تسلط میں آیا اور اس کے بعد انگریز یہاں قیامِ پاکستان تک حکومت کرتے رہے۔ قیامِ پاکستان کے وقت میانوالی صوبہ سرحد کا حِصہ تھا جسے بعد میں پنجاب میں شامل کر کے سرگودھا ڈویژن کا حِصہ بنا دیا گیا۔
5،840 مربع کلومیٹر رقبے پر محیط اس ضلع کی آبادی لگ بھگ 16 لاکھ کے قریب ہے۔ میانوالی کی تین تحصیلوں میں، عیسیٰ خیل، پِپلاں اور میانوالی شامل ہیں۔

طبعی خدوخال کے لحاظ سے ضلع کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
شمال اور مشرق کا کچھ حِصہ، سطح مرتفع پوٹھوار اور کوہِ نمک کا تسلسل ہے، جہاں کے پہاڑوں میں بھرپورمعدنی دولت کے ساتھ ساتھ ''نمل جھیل'' جیسا پُر فضا مقام آباد ہے۔ نمل جھیل میانوالی کے مشرقی کونے میں وادئ نمل کے قصبے ''رِکّھی'' کے قریب واقع ہے۔ یہ جھیل جسکے دو طرف پوٹھوہار کی پہاڑیاں اور بقیہ دو جانب زرعی اراضی ہے، 1913 میں بنائے گئے نمل ڈیم کے بعد وجود میں آئی۔

نمل ڈیم کو انگریز حکومت نے علاقے میں آبپاشی اور پینے کے پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیئے بنایا تھا۔
ضلع کا جنوبی حِصہ ''صحرائے تھل'' پر مشتمل ہے۔ دریائے جہلم اور سندھ کے بیچ پنجاب کے 6 ضلعوں تک پھیلا صحرائے تھل، شمالاً جنوباً 190 میل لمبا اور شرقاً غرباً 70 میل تک چوڑا ہے۔ یہ چولستان کے بعد پنجاب کا دوسرا بڑا صحرا ہے۔پِپلاں تھل کے قریب واقع ہے۔


ضلع کا مغربی اور وسطی حصہ ''سندھ ساگر دوآب'' کا زرخیز علاقہ ہے جہاں دریائے سندھ شمال سے جنوب کی سمت بہتا ہے۔ شمال میں ماڑی انڈس اور کالا باغ کے بیچ دریائے سندھ پر ''جناح بیراج'' بنایا گیا ہے۔ ''تھل پراجیکٹ'' کے تحت اس بیراج کو 1939 سے 1946 کے بیچ تعمیر کیا گیا۔ اس بیراج سے نکالی جانے والی52 کلومیٹر لمبی '' گریٹر تھل کینال''، اپنی 3،362 کلومیٹر لمبی اضافی نہروں اور معاون شاخوں کے ذریعے میانوالی سمیت بھکر، لیہ، خوشاب اور مظفرگڑھ تک کےعلاقوں کو سیراب کرتی ہے۔

یہ منصوبہ صحرائے تھل کو آباد اور کاشت کرنے کا سب سے بڑا منصوبہ ہے۔
جناح بیراج سے 56 کلومیٹر
جنوب میں کندیاں کے قریب چشمہ کے مقام پر 1971 میں ''چشمہ بیراج'' بنایا گیا جہاں پاکستان میں پہلی بار ''بلب ٹربائن'' سے بجلی پیدا کرنے کا کامیاب تجربہ کیا گیا۔  اسکے ساتھ ہی چشمہ کے مقام پر پاکستان کا دوسرا ''ایٹمی بجلی گھر'' بھی لگایا گیا جہاں یورینیئم کی افزودگی سے بجلی پیدا کی جاتی ہے۔

دریائے سندھ کا پانی جہلم میں پہنچانے کے لیئے چشمہ بیراج سے ''چشمہ- جہلم لنک کینال'' نکالی گئی ہے جو صحرائے تھل سے گزرتی ہے۔ میانوالی کے مغرب میں عیسیٰ خیل کے قریب ''دریائے کُرّم'' دریائے سندھ میں شامل ہوجاتا ہے۔
ضلع میانوالی کی آب و ہوا شدید قسم کی ہے۔ گرمیوں میں درجہ حرارت 32 سے 51 تک چلا جاتا ہے جبکہ سردیوں میں پارہ 2 تک گِر جاتا ہے۔

اوسطاً سالانہ بارش 200 سے 250 ملی میٹر تک ہوتی ہے۔
تھل پراجیکٹ کی بدولت ضلع کا بیشتر رقبہ قابلِ کاشت ہے جہاں گندم، گنا، مکئی، چنا، مونگ پھلی، جوار اور باجوہ اگایا جاتا ہے۔ یہاں آٹے کی 7 ملیں موجود ہیں۔ ضلع کے40،019 ایکڑ رقبے پرمختلف جنگلات لگائے گئے ہیں۔ جبکہ علاقے میں سفیدے، سنبل، بکائن اور پاپولر کے درختوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔

صںعتی لحاظ سے میانوالی زیادہ مشہور تو نہیں ہے لیکن یہاں کھاد اور سیمنٹ بنانے، کپاس بیلنے، کھیس دریاں بنانے اور مٹی کے برتن بنانے کے کارخانے موجود ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے ضلع میانوالی کو بے شمار معدنی دولت سے نوازا ہے۔ مکڑوال کی کوئلے کی کانیں ضلع کے شمال مغرب میں واقع ہیں۔ کوئلے کے علاوہ یہاں جپسم، آتشی مٹی، ڈولومائیٹ، معدنی نمک، چکنی مٹی، سیلیکا اور چونے کا پتھر بھی بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔

ضلع میں سیمنٹ بنانے کی ایک فیکٹری بھی کام کر رہی ہےجبکہ کوئلے سے چلنے والے ایک بجلی گھرکا منصوبہ ابھی زیرِ غور ہے۔
اب آتے ہیں اس ضلع کی ثقافت اور بود و باش کی طرف۔ میانوالی کا سب سے بڑا قبیلہ ''نیازی'' ہے۔ اس قبیلے نے پاکستان کو نہ صرف سیاستدان بلکہ کرکٹر، شاعر اور گلوکار بھی دیئے ہیں جن میں مولانا کوثر نیازی، عمران خان نیازی، مصباح الحق، عطا اللہ خان نیازی اورعبدالستار خان نیازی شامل ہیں۔

اسکے علاوہ بلوچ، خٹک ، عیسیٰ خیل اور اعوان قبیلوں سے تعلق رکھنے والوں کی بھی ایک بڑی تعداد یہاں آباد ہے۔
سرائیکی ضلع کی سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے جسکے بعد پنجابی، پشتو اور اردو کا نمبرآتا ہے۔ میانوالی کے لوگوں میں جہاں پنجابی ثقافت کی خوبیاں محنت، فنونِ لطیفہ سے محبت اور جِدت پائی جاتی ہیں وہیں انکی آزاد طبیعت، قبائلی نظام، مہمان نوازی اور بہادری و شجاعت میں پختون ثقافت کا عکس جھلکتا ہے۔

چنانچہ یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ میانوالی کی ثقافت پاکستان کے دو صوبوں کی الگ الگ ثقافتوں کا ایک ''کامل اور خوبصورت مرکب'' ہے۔
ضلع کے مشہور علاقوں میں کندیاں، چشمہ، داؤدخیل، ماڑی انڈس، کالا باغ، موسیٰ خیل، روکھڑی، پائی خیل، مکڑوال اور منڈا خیل شامل ہیں۔
ضلع میانوالی کی مشہور ادبی،سماجی و سیاسی شخصیات میں تلوک چند (شاعر)، جگّن ناتھ آزاد (شاعر)، مولانا کوثر نیازی (سابق وفاقی وزیر)، خواجہ خورشید انور( فلمسار، رائٹر)، ملک امیر محمد خان نواب آف کالا باغ(سابقہ گورنرمغربی پاکستان)، عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی(صدارتی ایوارڈ یافتہ موسیقار و گلوکار)، مصباح الحق( کرکٹر)، شیرافگن نیازی(سابقہ وزیرِ قانون)، طارق نیازی (اولمپک گولڈ میڈلسٹ) اور عمران خان نیازی (کرکٹر، چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف) شامل ہیں۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Mianwali Punjab ka Pakhtunkhawa is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 20 August 2020 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.