پاک بحریہ: سات دہائیوں کی داستان

شروع میں پاک بحریہ کے پاس کوئی انفراسٹرکچر بھی نہیں تھااور کراچی میں ایک کمرے میں نیول ہیڈکوارٹر قائم تھا جسے بعد میں وسیٹ و ہارف اور پھر نیپئیر بیریکس (موجودہ لیاقت بیریکس) میں منتقل کیا گیا۔ یہ بہت ہی قلیل ذرائع کی حامل نیوی تھی پر کامیابی کا سفر وہیں سے شروع ہوا۔

جمعہ اگست

Pakistan Navy: Tale of Seven Decades
حدیقہ میر
پاکستان دنیا کے نقشے پر اُس وقت اُبھرا جب دنیا امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان جاری سرد جنگ کی لپیٹ میں تھی۔ پاکستان اپنی جغرافیائی اور اسٹریٹیجک اہمیت اور سوویت یونین کے طاقت کے حصول کے مقصد کے باعث ایک اہم دوراہے پر تھا جہاں اسے ایک بلاک کا انتخاب کرنا تھا۔ ایک نئی ریاست کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی معاملات پر کوئی واضح موقف اختیار کرنا مشکل تھا کیونکہ قومی مقاصد، امنگوں اور مفادات کا تعین ابھی نہیں ہوا تھا۔

پاکستان نے آزادی کے فوراً بعد اس مسئلے کا سامنا کیا اور ملٹر ی الائنس کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنے قومی مفادات کے حق میں فیصلہ لیا۔ لہٰذا، فوجی معاونت اور خارجہ پالیسی کے اعتبار سے پاکستان ایک، سیکیورٹی اسٹیٹ، کے طور پر سامنے آیا اور اس کی مسلح افواج واضح اہمیت کی حامل قرار پائیں۔

(جاری ہے)

مزید برآں، آزادی کے وقت مختلف نامکمل ایجنڈوں کے باعث ہونے والی جھڑپوں، غیر علاقائی چالوں، افغان جنگ کے اثرات اور انقلاب ایران نے پاکستان کے  ’سیکیورٹی اسٹیٹ‘ کے تصور کو مزید مستحکم کر دیا۔


کثیر جہتی سیکیورٹی خطرات کی حامل ریاست کی مسلح افواج پر قومی مفادات کے تحفظ کی اہم ذمہ داری آئی۔ زمین سے لے کر ہوا اور سمندر تک پاکستان کی مسلح افواج نے ہمیشہ اپنی پیشہ ورانہ مہارت کا ثبوت دیا۔ گذشتہ کئی سالوں میں بحری سفارت کاری اورسی پیک کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے ساتھ پاک بحریہ کی اہمیت اور کردار میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔

اس ضمن میں، پاکستان کی ساحلی پٹی کی حفاظت، خطے کی سیکیورٹی میں خاطر خواہ کردار ادا کرنا، سمندری معاملات کے حوالے سے غفلت ختم کرنا اور خصوصی معاشی زون تلاش کرنا پاک بحریہ کے وژن کے وہ خدوخال ہیں جو قابلِ تعریف ہیں۔    
آزادی کے وقت، پاک بحریہ کے حصّے میں 4فریگیٹ/سلوپس،4 فلیٹ مائن سوئیپر،  8موٹر مائن سوئیپر اور چند ہاربرڈ یفنس لانچیں ہی آئی تھیں۔

شروع میں پاک بحریہ کے پاس کوئی انفراسٹرکچر بھی نہیں تھااور کراچی میں ایک کمرے میں نیول ہیڈکوارٹر قائم تھا جسے بعد میں وسیٹ و ہارف اور پھر نیپئیر بیریکس (موجودہ لیاقت بیریکس) میں منتقل کیا گیا۔ یہ بہت ہی قلیل ذرائع کی حامل نیوی تھی پر کامیابی کا سفر وہیں سے شروع ہوا۔ پاک بحریہ کے افسران اور عملے کی انتھک محنت، تندہی اور عزم نے پاک بحریہ کو ایک ترقی یافتہ نیوی بنایا جس کے پاس جدید مائن سوئیپرز، آبدوزیں، گَن بوٹس، فاسٹ پٹرول کرافٹ، فلوٹنگ ڈاک، روٹری وِنگ ہوائی جہاز، آبدوزوں کو ڈھونڈنے والے ہوائی جہاز، فاسٹ اٹیک کرافٹ، سروے جہاز، جدید میزائل سسٹم اور خصوصی تربیتی جہاز موجود ہیں۔

مزید برآں، پاک بحریہ کا ڈاک یارڈ مرمت کی تمام تر سہولیات فراہم کرتا ہے اور دوست ممالک کے ساتھ ٹرانسفر آف ٹیکنالوجی کے معاہدوں کے ذریعے خود انحصاری کی جانب بھی گامزن ہے۔ اس سلسلے میں چینی بحریہ، مغربی ممالک اور حال ہی میں ترکی کے ساتھ کیے گئے معاہدے اس کی مثال ہیں۔ اسلام آباد میں قائم موجودہ نیول ہیڈ کوارٹرز تمام تکنیکی اور انتظامی سہولیات سے آراستہ اور تربیت یافتہ عملے سے لیس ہے۔


جنگی سازوسامان میں جدیدیت کے علاوہ پاک بحریہ دنیا بھر میں موثربحری سفارت کاری، میں بھی مصروف ہے۔ اسی سلسلے میں اس سال دو جہاز پی این ایس اصلت اور پی این ایس معاون افریقی ممالک میں تعینات تھے۔ اس تعیناتی کے دوران، پی این ایس اصلت اور پی این ایس معاون نے مراکش، موریتا نیا، گھانا، کینیا، تنزانیا،جنوبی افریقہ اور نائیجیریا سمیت کئی ممالک کا دورہ کیا جس میں افریقی ممالک کے ساتھ دو طرفہ تعلقات، میری ٹائم اشتراک اور باہمی تعاون کو مستحکم کرنے کی کوشش کی گئی۔


افریقی ممالک سے روابط مضبوط کرنے اور مقامی باشندوں کے لیے جذبہ خیر سگالی کے طور پر پاک بحریہ کے وفد نے ان ممالک میں طبی کیمپ بھی قائم کیے۔ ان طبی کیمپس میں مقامی آبادی کو مفت روٹین چیک اپ، چھوٹی سرجری اور دانتوں کا ٹریٹمنٹ مہیا کیا گیا۔ مزید برآں پاک بحریہ کے افسران اور سیلرز نے ان ممالک کے عہدیداران اور سفارتکاروں سے ملاقاتیں بھی کیں اور باہمی روابط کو فروغ دیا۔


پاکستان کی ساحلی سرحد کی حفاظت کی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ پاک بحریہ قومی ترقی میں بھی اپنا کردار ادا کرتی آئی ہے۔ اس سلسلے میں تعلیمی اداروں کا قیام، ساحلی آبادی کی ترقی کے لیے پراجیکٹ اور ریلیف آپریشن کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ پاک بحریہ ساحلی آبادیوں کے لیے طبی کیمپ کے قیام، راشن فراہمی اور قدرتی آفات کے دوران امداد کو بھی یقینی بناتی ہے۔


بین الاقوامی ذمہ داریوں اور بدلتے ہوئے عالمی حالات کے تناظر میں پاک بحریہ نے عالمی سمندروں کی حفاظت اور خطے کے امن کو برقرار رکھنے کے لیے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔یہ آپریشنز شمالی بحیرہ عرب بشمول خلیج فارس اور خلیج عمان میں کیے جاتے ہیں۔ پاکستان بین الاقوامی ٹاسک فورس 150اور 151کا حصّہ ہے اور اس حیثیت میں بحری قذاقی، منشیات اسمگلنگ اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف خلاف بین الاقوامی سطح پر خاطر خواہ خدمات انجام دے چکاہے۔

پاکستان نے دیگر اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر کئی کامیاب آپریشن سر انجام دے کر کئی جہاز قبضے میں لیے ہیں۔ پاک بحریہ امریکہ کی سربراہی میں قائم کولیشن میری ٹائم کیمپین پلان(CMCP)  کا سن2004 میں حصّہ بنا۔ یہ کیمپین ’آپریشن اینڈیورنگ فریڈم‘ کا بحری جزو ہے اور اس کا مقصد بحری دہشت گردی کے عوامل پر کڑی نگرانی رکھنا ہے۔
خطے کی تقدیر بدلنے والے منصوبے سی پیک کے آغاز کے ساتھ اس اربو ں کی مالیت کے منصوبے کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے پاک بحریہ کی ذمہ داریاں کئی گنا بڑھ گئی ہیں۔

اس ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے کے لیے پاک بحریہ نے ایک خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی۔ یہ ٹاسک فورس گوادر پورٹ اور سی پیک کے دیگر منصوبوں کو سیکیورٹی مہیا کر رہی ہے۔لہٰذا یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ بحریہ پاکستان کی معاشی استحکام کا اب ایک اہم جزوہے۔
مختصراً یہ کہ پاک بحریہ نے اپنا سفر پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد بہت قلیل ذرائع سے شروع کیا لیکن قائدین کے وژن، عزم، استقامت اور انتھک محنت اور بحریہ کے عملے کی قربانیوں کی بدولت آج ایک جدید پیشہ ورانہ بحری طاقت ہے جس کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں بین الاقوامی سطح پر مانی جاتی ہیں۔

مزید یہ کہ ان سات دہائیوں میں ساحلی سرحد کی حفاظت ہو یا قومی ترقی کے منصوبوں کی تکمیل، پاک بحریہ ہمیشہ قوم کی امنگوں پر پورا اتری ہے۔ سمندروں کے حوالے سے پائی جانے والی کم علمی کو ختم کرنے، خصوصی معاشی زون میں قدرتی ذخائر کی تلاش اورCPEC جیسے بڑے معاشی منصوبے کی سیکیورٹی کے وژن کے ساتھ پاک بحریہ اب ملک کا ایک اہم معاشی حصّہ ہے۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Pakistan Navy: Tale of Seven Decades is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 14 August 2020 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.