پری پلین کرونا وائرس، معیشت، اقوام عالم اور امریکہ

اہل علم و نظر اس بات کو سمجھتے ہیں مگر مجھ جیسے کم علم انسان کو یہ بات حیرت میں مبتلا کر دیتی ہے کہ ایک امریکی رائٹر نے اس کروناوائرس کے بارے میں اس بیماری کا نام تو نہیں لکھا پر اسکی کلینکل نشانیاں بتا کر دماغ پر ایک جمودی سی کیفیت طاری کر دی ہے

بدھ مارچ

preplan coronavirus, maeeshat, aqwam aalam aur America
 تحریر: آفتاب شاہ 

 میں نہ کوئی فقیر،دست شناس اور نہ ہی کوئی نجومی ہوں، میرے احباب جانتے ہیں کہ میں اپنی معلومات اور علم کی روشنی جو اللہ تعالی نے مجھے عطا فرمائی ہے کی بنیاد پر اک تجزیہ پیش کر رہا ہوں۔
گو کہ زباں سے میں اس بات کو دوستوں کے ساتھ مختلف نشستوں میں اور جس کے ساتھ بھی فون پر گپ شپ ہوتی کافی مرتبہ ادوہرا چکا ہوں کہ موجودہ بیماری کروناوائرس کے ذمہ دار کون کیوں اور کیسے ہیں۔

جب تک میرا یہ کالم اخبار اور سوشل میڈیا کی زینت بنتا تب تک میری دوہرائی ہوئی باتوں کی سچائی سامنے آنا شروع ہو جائے گی اور الیکٹرانک میڈیا و سوشل میڈیا سے آنے والی خبریں میری لکھی ہوئی لائنوں کی تائید کریں گی۔

(جاری ہے)

امریکہ اور اس کے ہم نوا جو ایک ورلڈ آرڈر پر اپنا مشن جاری رکھے ہوئے ہیں جو کہ قریب سو سال پر مشتمل ایک پری پلین ہے، کو فالو کیا جاتا ہے کسی بھی حالت اور کسی بھی قیمت پر۔

امریکا کے مکرو چہرے سے سب باخوبی واقف ہیں۔ جب اس نے کسی ملک سے کوئی کام لینا ہوتا ہے تو ہاں میں ہاں ملاتا ہے اور جب کام نکل گیا تو پھر کوئی الزام لگا کر اپنے ہمنواؤں کے ساتھ مل کر تہس نہس کر دیتا ہے۔امریکا کی تاریخ سے بہرحال سب واقف ہیں، میں اس بحث میں جانا نہیں چاہتا کیونکہ یہ میرا عنوان نہیں ہے۔
صرف اک ٹریلر دکھاتے ہوئے آگے بڑھتا ہوں کہ دوسری جنگ عظیم میں جب امریکا نے ایٹم بم گرا کر جاپان اور انسانیت کے پرخچے اڑا دیے تھے اور اسکے بعد ویتنام، روس اور مسلم ممالک کی ایک لمبی لسٹ۔

یہ تو بات ہو گی امریکا کے سیاہ کرتوتوں کی اور اس کے سیاہ ماضی کی۔ اب اک نظر گزرتے دنوں پر، جہاں اس قرہ عرض پر بسنے والا ہر انسان پری پلین امریکی کرونا وئرس کے خوف میں مبتلا ہے۔ جہاں انسان، انساں سے بھاگ رہا ہے۔ دنیا کی معیشتوں کا بیڑا غرق ہو چکا ہے۔ ائیرلائن انڈسٹری سے لیکر ایک چائے فروش تک یکساں طور پر متاثر ہیں۔ انسانیت اک خود ساختہ جیل میں اپنے آپ کو مصور کر نے پر مجبور ہو چکی۔

اس صورت حال کا سارا کریڈٹ امریکا اور اس کے ہم نواؤں کو جاتا ہے جس کا لطف وہ لے رہے ہیں۔
چین کی پھلتی پھولتی معیشت امریکا کو ایک آنکھ نہیں بھا رہی تھی۔ چائنہ کو روکنے کیلئے کرونا وائرس سے بہترین کوئی ہتھیار نہیں تھا۔ اپنے خفیہ ایجنٹس کے ذریعے کھلاڑیوں کے روپ میں چین کے ایک صوبے پر کرونا وئرس کا معاشی ایٹم بم گرا دیا۔ جس کے اثرات آج آپ کے سامنے ہیں۔

آپ کی معلومات میں اضافے کیلئے یہ بات بھی بتائے دیتا ہوں اس کرونا وائرس کی ویکسین امریکا کے پا س موجود ہے۔کیونکہ جب سالوں پہلے کروانا وائرس تیار کیا گیا تھا اس کی ویکسین بھی تیارکی گئی تھی۔ 
اہل علم و نظر اس بات کو سمجھتے ہیں مگر مجھ جیسے کم علم انسان کو یہ بات حیرت میں مبتلا کر دیتی ہے کہ ایک امریکی رائٹر نے اس کروناوائرس کے بارے میں اس بیماری کا نام تو نہیں لکھا پر اسکی کلینکل نشانیاں بتا کر دماغ پر ایک جمودی سی کیفیت طاری کر دی ہے۔

Sylvia Browne سن 2008 میں، اپنی کتاب End of Days کے صفحہ نمبر 312 پر لکھتی ہے کہ قریب 2020 ایک نمونیا جوکہ پھیپھڑوں کی نالیوں پر حملہ کرے گا اور کوئی بھی دوا کام نہ کریگی اور اس کے نرغے میں پوری دنیا آے گی۔
اگر ہم کرونا وائرس کے مریض کا معائنہ کریں تو اس سے ملتی ہوئی علامات ہمیں ملتی ہیں۔ مریض سانس میں دقّت، کھانسی،سر درد اور بخارجیسی علامات کے ساتھ ہی نمونیا کا شکار ہو جاتا ہے اور کرونا وائرس کا جن انسان کے ساتھ چپک جاتا ہے۔

اس مرض کے پھیلنے کی وجہ اسکا وبائی ہونا۔ اس مرض کا آسان شکار کم سن بچے اور بزرگ افراد ہیں۔ یا پھر جن کا مدافعتی نظام یعنی کے قوت مدافعت کمزور ہوتی ہے۔ انسانیت دوست اور انسانیت کا درد رکھنے والے دُنیا کے بڑے لیڈر مل بیٹھیں اور اس امریکا جو کے اپنی طاقت کو برکار رکھنے کیلئے انسانیت کی تمام حدود عبور کر چکا ہے کے بارے میں کوئی لائحہ عمل تیار کریں۔ ورنہ کرونا وائرس جیسے کئی امراض امریکہ کی پائپ لائن میں ہیں۔ دنیا کی معیشت سے کیسے امریکا کھیل رہا وقت کا پہیہ خود ثابت کرے گا۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

preplan coronavirus, maeeshat, aqwam aalam aur America is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 18 March 2020 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.