بھاری اخراجات ۔۔ نوجوان تعلیم چھوڑ نے پر مجبور

جمعہ 15 نومبر 2019

Riaz Ahmad Shaheen

ریاض احمد شاہین

تعلیم ہی سے ملک وقوم کی ترقی خوشحالی ممکن ہے پاکستان میں یکساں نظام تعلیم نہ ہونے کے باعث عام طبقہ کے نوجوان بھاری اخراجات کے باعث ادھوری تعلیم چھوڑ نے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور تعلیم بھی بتذریج مہنگی ہوتی جا رہی ہے مگر ملک میں ابھی تک یکساں نظا م تعلیم کو رائج کرنے کی جانب عملدر آمد نہیں ہوسکا درسی کتب اور دیگر سامان کی آسمان سے باتیں کرتیں ہوئی قیمتیں اور تعلیمی اداروں کی بھاری فیس اور دیگر اخراجات نے عام طبقہ کے نو جوانوں کے خوان چکنا چور کر رکھے ہیں ایسے ماحول میں باہمت نوجوان اپنے مستقبل کو سنوانے کیلئے تعلیم کے حصول کیلئے تعلیمی سفر کو جاری رکھے ہوئے ہیں یونیورسٹی نہیں پرائیوٹ امتحان دینے کو ذریعہ تعلیم اپنا رکھا ہے ان کی زندگی کا مقصد صرف اور صرف کام اور کام ہے بازار سے گزر ہوتا تو کریانہ کی چھوٹی سی دوکان پر اپنے باپ کا ہاتھ بٹانے کے ساتھ بڑے انہماک کے ساتھ درسی کتب کے مطالعہ میں مصروف اپنے مستقبل کو سنوانے کیلئے فکر وسوچ میں مگھن نظروں کے سامنے آتا یہ ہی اس نوجوان کا معمول تھا اس باہمت نوجوان کو تعلیم کے حصول کیلئے کام اور کام کے ساتھ ساتھ آگے بڑھنے کی جستجو کو دیکھ کر میں اس کے پاس پہنچا اورنام پوچھا اس نے مسکراتے ہوکہا محمد عرفان مون ایم سیاسیات کر رہا ہوں بڑے اعتماد کے ساتھ کہا موچی کا بیٹا ہوں میں نے اعلی تعلیم کا عزم کر رکھا ہے اس سلسلہ میں اپنا ٹائم ٹیبل ترتیب دے رکھا ہے اور نماز کے اوقات کو بھی مس نہیں کرتا محمد عرفان مون کی آنکھیں مجھ سے سوال کررہی تھیں میری چھان بین کرنے کی ضرورت کیوں کر رہے سچ بولنے پر خوش ہوں جو لوگ جھوٹ بولتے ہیں وہ آگے نہیں بڑھ پاتے محمد عرفان مون نے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہمارا خاندان سر گودھا کے گاوٴں میں موچی کے پیشہ سے وابستہ ہے میرے والد احمد نے پاک فوج میں سپاہی کے طور پر ملازمت کی اور ریٹارئر منٹ کے بعد گاوٴں سے ہجرت کر کے پنڈی بھٹیاں میں قیام پذیر ہیں میری والدہ بھی پنڈی بھٹیاں کی رہنے والی ہیں والد کی پنشن اور کریانہ کی دوکان پر ہی ہمارے خاندان کی گزر اوقات ہو رہی ہے اور جب میں دیکھا بی اے کرنے کے بعد اعلی تعلیم کے حصول کیلئے یونیورسٹی کے اخراجات برادشت کرنا مشکل ہیں تو میں فیصلہ کر لیا میں ں نے ناممکن کو ممکن بنانا ہے اور کچھ کر کے دیکھانا ہے اور اپنے مقصد کے حصول تک شب و روز کام اور کام کرنا ہے اگر جاپان کا ہر فرد خواہ بوڑھا ہی ہے کام اور کام کو ترجیح دیتا آ رہا ہے یہ ہی ان کی کامیابی ہے تو پاکستان کا ہر فرد بھی کام اور کام کو اپناتے ہوئے سولہ گھنٹے کام کر لے تو یہان بھی ہر ناممکن کام ممکن ہو سکتا ہے محمد عرفان مون نے کہا میں نے ایک ٹی وی چینل پر معروف اینکر ارشاد بھٹی کی گفتگو سنی ان نے کہا میرا تعلق پنڈی بھٹیاں کے گاوٴ ں مچھو نکہ سے ہے میں نے گورنمنٹ ہائی سکول نمبر ایک پنڈی بھٹیاں سے تعلیم حاصل کی بسوں کے پیچھے لٹک کر یا چھت پر سوار ہوشدید گرمی سردی میں تعلیم حاصل کرنے آتا جاتا تھا اور تعلیم کے حصول کیلئے مالی مشکلات سے دوچار مگر ہمت اور کام اور کام کے بعد مقام حاصل کیا اس کی حقیقت بیان کرنے اور سچ بولنے نے مجھ کو مزید ہمت دی ہے مجھ یہ بھی فخر ہے میں پاک فوج کے سپاہی کا بیٹا ہوں اور محنت کش موچی خاندان سے تعلق رکھتا ہوں اللہ تعالے کے قریب رزق حلال کمانے والے محنت کش کا بہت ہی بڑا مقام ہے اس طالب علم کی گفتگو سوچ اور فکر اسے اس کے منزل کی جانب بڑھنے کو دیکھ کر اس کی سادگی سچ کا اظہار اس کے چہرا بیان کر رہا تھا گفتگو کے دوران اس کی بار بار نظریں کتب پر آتی جاتی رہیں اور کہنے لگا وقت کم ہونے کے باعث سیاسیات کر رہا ہوں اس کے بعد ایم اے انگلش کرنے کا ارادہ ہے نہ تھکنے والا ہوں میری جد وجہد ضرور رنگ لائے گی اللہ تعالے مجھ کو محنت کا ضرور صلہ دے گا نو جوانوں کو پاکستان اور پاک فوج سے محبت ہے ان کے حوصلے بلند ہیں اس کی حفاظت کے لئے قوم وملک اور پاک فوج کے ساتھ ہر کال پر ہوں گے ضرورت تو یہ بھی ہے تعلیم اور کتب کو اس قدر سستا کیا جائے عام طبقہ کے نوجوان بھی آ سانی کے ساتھ اعلی تعلیم حاصل کر سکیں موجودہ حالات عام طبقہ نوجوانوں کے پریشان کن ہیں اور وسائل نہ ہونے کے باعث ادھوری تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہو تے آ رہے ہیں جبکہ ملک وقوم کی ترقی تعلیم کے فروغ کے بغیر ممکن نہ ہے اور تعلیم اس قدر مہنگی ہے عام طبقہ کے نوجوانوں کا دھرن تختہ ہو رہا ہے حکمرانوں کو اس جانب توجہ دینی چاہیے نوجوانوں سے کہا تعلیم کے حصول کیلئے عزم اور کام اور کام کی سوچ کے ساتھ آگے بڑھیں انشاء اللہ کامیابی ان کے قدم چومے گی ۔


ادارہ اردوپوائنٹ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Bharti Ikhrajat - Nojwan Taleem Chorne Per Majboor Column By Riaz Ahmad Shaheen, the column was published on 15 November 2019. Riaz Ahmad Shaheen has written 49 columns on Urdu Point. Read all columns written by Riaz Ahmad Shaheen on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.