ہمارے کپتان ۔۔ہم اب تھوڑا سا گھبرا لیں

منگل نومبر

Umer Khan Jozvi

عمر خان جوزوی

یہ کہاکرتے تھے کہ اوپروالابندہ ٹھیک ہوتوپھرنیچے سارے خودبخودٹھیک ہوجاتے ہیں۔ وہ پہلے والے جن کویہ غلط ۔۔چوراورڈاکوکہاکرتے تھے وہ توآج نہیں پھریہ نیچے والے ٹھیک کیوں نہیں ہوتے۔۔؟ہم توکسی کوغلط۔۔چوریاڈاکونہیں کہتے لیکن انتہائی معذرت اورادب کے ساتھ ،،حضرات تبدیلی کرام،،سے یہ ایک سوال پوچھنے کی گستاخی ضرورکرتے ہیں کہ سابقین کی طرح کہیں یہ والابھی غلط تونہیں۔

۔؟تقریباًڈھائی سال ہوگئے میرے کپتان کواوپرآئے ہوئے لیکن اس کے باوجودنہ نیچے والے ٹھیک ہوئے اورنہ ہی ملک وغریبوں کے حالات ذرہ بھی کوئی بدلے۔جوحالات چور نوازشریف اورڈاکوزرداری کے دوریا زمانے میں تھے واللہ وہ توآج کی اس تباہی وسونامی سے ہزارنہیں لاکھ درجے بہتربہت بہترتھے۔

(جاری ہے)

۔ماناکہ نوازشریف اورآصف علی زرداری چورہوں گے ڈاکوہوں گے۔

غلط بھی ہوں گے لیکن ان چوراورڈاکوؤں کی حکمرانی میں بھی غریبوں کے شب وروزکبھی اس طرح نہیں گزرے جس طرح آج گزررہے ہیں۔۔چوروں اورڈاکوؤں کی حکمرانی میں جوغریب دونہ صحیح ایک وقت بھی جوپیٹ بھرکرکھاناکھایاکرتے تھے ریاست مدینہ میں آج ان غریبوں کے لئے بھی سفیدپوشی کابھرم رکھنامشکل نہیں بلکہ ناممکن ہوکررہ گیاہے۔۔پیٹ کے جہنم کوبھرنے کیلئے جب سوداسلف کی غرض سے دس،پندرہ اوربیس ہزارتنخواہ لینے والے غریب اوردیہاڑی دارمزدوربازارکارخ کرتے ہیں تومارکیٹ میں آٹا۔

۔چینی۔۔گھی ۔۔دال اورچاول کے بھاؤپوچھ اورنرخ سن کران کے ہوش اڑجاتے ہیں۔۔میرے کپتان کی حکمرانی میں اس ملک کے غریب آج نہ زندہ ہیں اورنہ ہی مردہ۔۔گھروں اورجھونپڑیوں میں روٹی کے ایک ایک نوالے کیلئے بچوں کی چیخیں،آہیں وسسکیاں اورباہراشیائے خوردونوش کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں کوسن کرغریب پھر نہ مرسکتاہے اورنہ جی سکتاہے۔۔حالات تویہ ہیں کہ ایمانداروں کی حکمرانی نے غریبوں سے جینے کی صلاحیت اورقوت تک چھین لی ہے لیکن مفت کے ٹکروں پرپلنے والے کپتان کے نادان کھلاڑی پھر بھی اس کھلی حقیقت کوماننے کیلئے تیارنہیں۔

ڈھائی سال سے ملک میں جاری بدترین مہنگائی۔۔غربت ۔۔بیروزگاری اورتباہی کاذکراگران کے سامنے کیاجائے تویہ فوراًآپے سے باہرہوکرایک ہی راگ الاپناشروع کردیتے ہیں کہ کپتان بڑے ایماندارہیں۔۔نوازشریف کی طرح چوراورزرداری کی طرح ڈاکونہیں۔۔ہم نے کب کہاکہ کپتان چوریاڈاکوہیں۔۔لیکن انتہائی معذرت کے ساتھ پچھلے ڈھائی سال سے ملک کے جوحالات چل رہے ہیں ۔

۔غریبوں کی جس طرح چمڑیاں اتاری جارہی ہیں۔۔لوگ جس طرح بھوک سے بلک بلک کرمرنے پرآرہے ہیں۔۔ذرہ بھی نہیں لگ رہاکہ اس ملک میں کسی ایمانداراورامانت دارکی کوئی حکمرانی ہے۔۔اوپروالاٹھیک ہوپھرواقعی نہ صرف نیچے والے بلکہ آس پاس والے بھی ٹھیک ہوجاتے ہیں۔۔یقین نہ آئے توخلیفہ ثانی حضرت عمرفاروق  کی طرزحکمرانی کودیکھیں۔۔جن عظیم ہستیوں نے ریاست مدینہ کی بنیادرکھی تھی ان کی حکمرانی میں توچرند۔

۔پرنداوردرندے بھی انسان بن جایاکرتے تھے آج تواس ملک میں اشرف المخلوقات کالقب پانے والے انسان بھی چرند۔۔پرنداوردرندوں سے کم نہیں۔۔اس ملک میں آج نہ کسی کی عزت محفوظ ہے اورنہ ہی کسی کی جان ومال۔۔کپتان ٹھیک ہوتے توکیاآج اس ملک اورعوام کی یہ حالت ہوتی۔۔؟ ویسے حدسے زیادہ ایمانداری اورسادگی بھی اچھی نہیں ہوتی۔۔کہتے ہیں کہ پرانے زمانے میں چوروں یاڈاکوؤں کاایک گروہ تھاجس میں پانچ چھ بندے تھے ۔

۔ان کے علاقے میں ایک بندہ تھاجوسادگی کے ساتھ ہمارے کپتان کی طرح ایمانداری میں بھی بڑامشہورتھا۔۔یہ چوراورڈاکوتوہمیشہ انتہاء درجے کے ہوشیار۔۔عقل منداوراستادہواکرتے ہیں ۔۔یہ ہمارے سیاستدانوں کی طرح نہ ایمانداروں کوچھوڑتے ہیں اورنہ ہی بے ایمانوں کو۔۔مسجدومدرسہ ان سے محفوظ ہوتاہے اورنہ ہی کسی سنیماکویہ بخشتے ہیں۔۔خیرچوروں کے اس گروہ نے اس ایماندارشمارہونے والے بندے کواپناسربراہ بنادیا۔

۔کہتے ہیں کہ وہ بندہ کمرے میں بیٹھارہتاتھا۔۔وہ خودکسی کے گھراوردرنہ چوری کے لئے جاتاتھااورنہ ہی ڈکیتی کی کسی واردات میں شامل ہوتاتھالیکن اس کے کھلاڑی جب کوئی چوری کرتے یاکہیں کوئی ڈاکہ مارکرواپس آتے توپھرسب سے پہلے وہ چوری کے اس مال سے اپنے اس ایماندار قائدوسربراہ کاحصہ الگ کردیتے تھے۔۔یوں چوروں اورڈاکوؤں کے اس ایماندارقائداورسربراہ کی ساری زندگی پھر اسی طرح کی ایمانداری پرگزری۔

۔ہم یہ نہیں کہتے کہ آج ہمارے کپتان کاحصہ بھی الگ کیاجاتاہوگایاہمارے کپتان بھی اس طرح کاکوئی حصہ لیتے ہوں گے لیکن اتناضرورکہتے ہیں کہ ہمارے ایماندارکپتان کی سربراہی اورنگرانی میں اس وقت اس ملک کے اندربھی اس چورگروہ کی طرح چوریاں اورڈکیتیاں زوروشورکے ساتھ ہورہی ہیں۔۔محض ڈھائی سال میں ادویات کی قیمتوں میں ڈبل اورٹرپل اضافہ کیایہ غریبوں پرڈاکہ نہیں۔

۔؟مصنوعی بحران کے ذریعے آٹے کی قیمت سات سو سے پندرہ سواورچینی کی فی کلوقیمت پچپن روپے سے ایک سودس روپے تک پہنچاناکیایہ چوری نہیں ۔۔؟بجلی اورگیس کی قیمتوں میں اضافوں پراضافہ کیایہ بھی ڈاکے کی ایک شکل وصورت نہیں۔۔؟میرے کپتان آپ بلاکسی شک وشبہ کے ایمانداربہت بڑے ایماندارہوں گے لیکن اس وقت آپ کی ریاست میں مخلوق خداکی جوحالت ہے وہ ہرگزہرگزآپ کے شایان شان نہیں۔

۔اس ملک کے عوام نے کبھی خوابوں میں بھی یہ نہیں سوچاتھاکہ ورلڈکپ فتح کرنے والے عمران خان کی حکمرانی اورنگرانی میں اس طرح انہیں لوٹاجائے گا۔۔میرے کپتان ملک اورعوام کے آج جوحالات ہیں وہ انتہائی دردناک ۔۔غمناک اورشرمناک ہے۔۔واللہ تحریک انصاف کے کھلاڑیوں کی طرح ہمیں بھی آپ کی ایمانداری پرکوئی شک نہیں ۔ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ آپ کبھی تاریخ میں کسی چوریاڈاکوگروہ کے کوئی سربراہ اورقائدشمارہوں۔

۔ لیکن انتہائی معذرت کے ساتھ پچھلے ڈھائی سال سے اس ملک کے اندرجوکچھ ہورہاہے۔۔ جوحالات چل رہے ہیں اورآٹا۔۔چینی۔۔گھی۔۔دال ۔۔بجلی اورگیس بلوں کے ذریعے جولوٹ مارہورہی ہے وہ کسی چوراورڈاکوگروہ کی خطرناک قسم کی وارداتوں سے ہرگزمختلف نہیں۔۔لوگ اس وقت آپ کے کھلاڑیوں سے سوال کررہے ہیں کہ آپ کے کپتان اگرواقعی ایمانداراورامانت دارہیں توپھران کی سربراہی۔

۔نگرانی اورحکمرانی میں اس ملک کے اندریہ لوٹ مارکیوں ہیں۔۔؟میرے کپتان اقتدارکی کرسی پربیٹھنے والے ہرشخص کوپھرسب کچھ ٹھیک نظرآتاہے آپ بھی بنی گالہ میں عیش وعشرت کرکے کہیں یہ سمجھ رہے ہوں گے کہ سارے 22کروڑعوام عیش وعشرت کی زندگی گزاررہے ہیں ۔۔بڑھتی مہنگائی ۔۔غربت اوربیروزگاری کے سرکاری اعدادوشمارکوبھی آپ اپوزیشن وسیاسی دشمنوں کی چال قراردے رہے ہیں لیکن میرے کپتان حقیقت میں ایساباالکل بھی نہیں۔

۔نہ مہنگائی اورغربت بارے اعدادوشمارکسی کی کوئی چال ہے اورنہ ہی 22کروڑعوام آپ کی طرح کوئی مزے کی زندگی گزاررہے ہیں ۔۔آپ کی تاریخی حکمرانی نے تو اس ملک کے اچھے بھلوں کوبھی ایک ایک وقت کی روٹی کامحتاج بنادیاہے۔۔اس ملک میں کل تک جوپیٹ بھرکرکھاناکھایاکرتے تھے آپ کی حکمرانی میں آج ان کوبھی ایک وقت کی روٹی میسرنہیں۔۔آپ کے اردگردشہدکی مکھیوں کی طرح بھن بھن کرنے والے یہ وزیراورمشیرمالش اورپالش میں نہ جانے آپ کوکونسے قصے اورکہاں کی کہانیاں سناتے ہیں لیکن میرے کپتان اصل قصہ اورسچی کہانی صرف اورصرف یہ ہے کہ سیاسی دشمن اوراپوزیشن تودور 2018کے الیکشن میں آپ کووٹ دینے والے آپ کے کھلاڑی اورخیرخواہ بھی آج یہ پوچھتے پھرتے ہیں کہ ،،ہمارے کپتان،،اجازت ہوتوہم اب تھوڑاساگھبرالیں۔

۔۔۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Hamare Kaptaan Hum Ab Thora Sa Ghabra Lain Column By Umer Khan Jozvi, the column was published on 10 November 2020. Umer Khan Jozvi has written 420 columns on Urdu Point. Read all columns written by Umer Khan Jozvi on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.