ہمارا ایک ماہ سابق حکومت کی ایک سال کی کارکردگی سے بہتر ہے ،ْوزیر اطلاعات چوہدر ی فواد حسین

ہمیں کہا جارہا ہے کہ چندے پر ملک نہ چلائیں تو ناقدین ہمیں آگے جانے کا راستہ بھی بتا دیں ،ْسابق حکومتوں نے چندوں کے علاوہ کوئی طریقہ چھوڑا ہی نہیں ہے ،ْمعیشت کی صورتحال کے ذمہ دار سابق وزیر خزانہ اسحق ڈار اور کمپنی ہیں ،ْسابق دور میں مہنگے ترین قرضے لے کر کھیلنے کے لیے کھلونے بنائے گے، پنجاب میں میٹرو لگائی گئی اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب نے صرف 10 برسوں میں 110 کھرب روپے خرچ کیے ،ْاورنج ٹرین کو پٹری پر رکھنے کیلئے ہر سال 20 ارب روپے کی ضرورت ہوگی ،ْریڈیو پاکستان میں 700 افراد کنٹریکٹ پر بھرتی کیے گئے، تنخواہوں اور مستقل ملازمین کی تنخواہوں کے پیسے نہیں ،ْخزانے میں پیسے نہیں ہیں تو کیا مزید قرضہ لیں پھر باہر جائیں اور قرضہ مانگیں نوید قمراور لیڈر آف اپوزیشن کی چارڈر آف اکانومی کے حوالے سے بہت اچھی تجویز ہے ،ْ اس کو ضرور آگے بڑھنا چاہیے ،ْ اسمبلی میں خطاب سردیاں آرہی ہیں ،ْ گیس کے استعمال میں اضافہ سے عام صارفین کے ماہانہ بل پر مزید بوجھ پڑے گا ،ْ سید نوید قمر

منگل ستمبر 16:12

ہمارا ایک ماہ سابق حکومت کی ایک سال کی کارکردگی سے بہتر ہے ،ْوزیر اطلاعات ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 ستمبر2018ء) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ہماری حکومت کی ایک ماہ کی کارکردگی سابق حکومت کی ایک سال کی کارکردگی سے بہتر ہے ،ْہمیں کہا جارہا ہے کہ چندے پر ملک نہ چلائیں تو ناقدین ہمیں آگے جانے کا راستہ بھی بتا دیں ،ْسابق حکومتوں نے چندوں کے علاوہ کوئی طریقہ چھوڑا ہی نہیں ہے ،ْمعیشت کی صورتحال کے ذمہ دار سابق وزیر خزانہ اسحق ڈار اور کمپنی ہیں ،ْسابق دور میں مہنگے ترین قرضے لے کر کھیلنے کے لیے کھلونے بنائے گے، پنجاب میں میٹرو لگائی گئی اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب نے صرف 10 برسوں میں 110 کھرب روپے خرچ کیے ،ْاورنج ٹرین کو پٹری پر رکھنے کیلئے ہر سال 20 ارب روپے کی ضرورت ہوگی ،ْریڈیو پاکستان میں 700 افراد کنٹریکٹ پر بھرتی کیے گئے، تنخواہوں اور مستقل ملازمین کی تنخواہوں کے پیسے نہیں ،ْخزانے میں پیسے نہیں ہیں تو کیا مزید قرضہ لیں پھر باہر جائیں اور قرضہ مانگیں نوید قمراور لیڈر آف اپوزیشن کی چارڈر آف اکانومی کے حوالے سے بہت اچھی تجویز ہے ،ْ اس کو ضرور آگے بڑھنا چاہیے ۔

(جاری ہے)

منگل کو قومی اسمبلی میں ضمنی مالیاتی بل پر بحث کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے اپنی تقریر کا آغاز جان پرکن کی کتاب کے اقتباس سے کرتے ہوئے کہا کہ اس کتاب میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح ایک امپائر تیسری دنیا کے لئے اقتصادی نظام بناتے ہیں‘ جب ایسٹ انڈیا کمپنی کا سفیر مغل بادشاہ اکبر کے دربار میں آیا تھا تو اس کے پاس ایک پورا اقتصادی منصوبہ موجود تھا کہ کس طرح ہندوستان کے وسائل پر قابض ہونا ہے‘ بالکل اسی طرح جب 2013ء میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت آئی تھی تو ان کے پاس بھی ملک کو قرضوں کے جال میں پھنسانے کا مکمل ایجنڈا موجود تھا۔

ان تجربہ کاروں کی حکومت نے جب حکومت سنبھالی تو انہوں نے پاکستان کے ساتھ وہی کیا جو ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان میں کیا تھا۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اس بات کو یقینی بنایا کہ ہمارے بچے اور ان کے بچے قرضے ادا کرتے جائیں ۔ انہوں نے جس طرح کی حکومت کی ہے وہ پوری قوم کے سامنے ہے۔ بجٹ خسارہ 7.2 فیصد تھا‘ ہمارے اخراجات 2780 ارب روپے زائد تھے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں حسابات جاریہ کے خسارے میں پانچ فیصد اضافہ ہوا۔

زرمبادلہ کے ذخائر جو ملکی اقتصادیات کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ان کی حالت سب کے سامنے ہے۔ اس وقت ہمارے پاس ڈیڑھ ماہ کے زرمبادلہ کے ذخائر ہیں۔ یہ وہ حالات تھے جس میں تحریک انصاف کی حکومت نے اقتدار سنبھالا ہے۔ 2008ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے قرضوں کا حجم 6 ٹریلین روپے تھا۔ 2013ء میں یہ 13 ٹریلین تھے۔ بزرجمہروں اور ارسطو کی حکومت جب ختم ہوگئی تو قرضوں کا حجم 28 ٹریلین تک پہنچ چکا تھا۔

کیا اس کی ذمہ دار 28 دن کی حکومت یا وہ لوگ ہیں جنہوں نے ملک کو قرضوں کے جال میں پھنسا دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اس بات کو یقینی بنایا کہ قرضوں کو اس سطح تک پہنچایا جائے جس سے ملک مشکلات کا شکار ہو۔ اس پالیسی کے نتیجے میں چند لوگ ارب پتی ہوگئے۔ ایسے لوگوں نے ایون فیلڈ میں رہائش گاہیں لے لیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اقتصادی مسائل کے ذمہ دار اسحاق ڈار اینڈ کمپنی ہیں جن کو سابق وزیراعظم نواز شریف کی مکمل حمایت حاصل تھی۔

اسحاق ڈار عدالتوں کو مطلوب تھے اس کے باوجود ان کو باہر بھجوا دیا گیا اور اب وہ نہیں آرہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے قرضے لے کر کھیل کے لئے کھلونے بنائے۔ پنجاب میں میٹرو بنائی گئیں۔ صرف دس برسوں میں شہباز شریف نے 11 ٹریلین روپے خرچ کئے ہیں۔ آج اسلام آباد لاہور اور ملتان میں میٹرو تو بن گئی ہیں ‘ پنجاب حکومت کو ان بسوں کو چلانے کے لئے آٹھ ارب روپے چاہئیں۔

اورنج ٹرین لائن پر 300 ارب روپے خرچ کئے گئے لیکن اس کی ادائیگی ہماری آنے والی نسلیں کریں گی۔ میٹرو ٹرین کو چلانے کے لئے سالانہ 20 ارب روپے درکار ہیں۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کے ساتھ مجرمانہ طرز عمل کا مظاہرہ کیا گیا۔ اداروں کو نقصان پہنچایا گیا۔ ریڈیو پاکستان میں 700 لوگ کنٹریکٹ پر کام کر رہے ہیں‘ ان کی تنخواہوں کے لئے پیسے نہیں ہیں‘ 20 کروڑ روپے پنشن کی مد میں بقایا جات ہیں‘ اس کو سدھارنے کی اجازت نہیں ہے۔

700 لوگوں کو تو نوکریوں سے نہیں نکالا جاسکتا لیکن اگر وسائل پیدا نہ کئے جائیں تو ان کے لئے تنخواہ کہاں سے دی جائے۔ کیا ملک کو اس طرح چلایا جائے جو ماضی کی ’’تجربہ کار ‘‘ حکومتیں چلاتی آرہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق اصلاحات متعارف کرا رہی ہے۔ ہمارا وژن یہ ہے کہ امیر لوگ سبسڈی نہ لیں اور غریبوں پر بوجھ نہ ڈالا جائے۔

گیس کی قیمتوں میں اضافہ عام آدمی کے لئے نہیں ہے۔ پچاس ایم ایم ایف تک گیس استعمال کرنے والے گیس صارفین کے لئے 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے اپوزیشن لیڈر کی جانب سے چارٹر آف اکانومی کی تجویز کو سراہا اور کہا کہ یہ اچھی تجویز ہے اور اس پر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ معیشت کی خرابی کے جو ذمہ داران ہیں ان کی حمایت ختم ہونی چاہیے۔

پاکستان اس وقت جن معاشی مسائل میں گھرا ہوا ہے ہمیں ان کے ذمہ داروں کا پتہ ہے‘ ہماری حکومت کی پالیسی ہے کہ غریب آدمی کو بچایا جائے اور امیروں کو ٹیکس دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سارک کانفرنس کے لئے 98 کروڑ روپے کی مالیت سے 33 قیمتی گاڑیاں خریدی گئیں حالانکہ یہ کانفرنس منعقد بھی نہیں ہوئی۔ ان گاڑیوں پر 33 کروڑ روپے مرمت کی مد میں خرچ ہوئے اس کے باوجود بھی تنقید کی جارہی ہے کہ گاڑیاں نیلام نہ کریں۔

وزیراعظم عمران خان نے اب تک جو اقدامات کئے ہیں ماضی کے کسی وزیراعظم نے اس طرز عمل کا مظاہرہ نہیں کیا۔ وزیراعظم 11 سو کنال کا وزیراعظم چھوڑ کر تین بیڈ روم کی سٹاف کالونی میں قیام پذیر ہیں۔ وہ صوابدیدی فنڈز سے دستبردار ہوگئے۔ ماضی میں نواز شریف نے تھر میں بھی ایئرپورٹ کا افتتاح کیا جہاں آبادی ہی نہیں ہے۔ اسی طرح بنوں کے دورے کے موقع پر بھی انہوں نے ایئرپورٹ کا اعلان کیا۔

ایئرپورٹ اور موٹرویز کے اعلانات انہوں نے اس طرح کئے جس طرح سٹیپ سیلز کی گولیاں بانٹی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تنقید کرنے والوں کی حکومت کے پاس کوئی اقتصادی وژن نہیں تھا اور نہ ہی کوئی سوچ تھی جس محکمہ میں بھی آپ جائیں تو آگے سے کہا جاتا ہے کہ یہاں مسلم لیگ (ن) کے ورکر ہیں۔ دفتر آتے نہیں ایک ایک خاندان کے سات سات لوگ بھرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق تحریک انصاف کی حکومت نے عوام سے جس انقلاب اور تبدیلی کا وعدہ کیا تھا وہ پورا کیا جائے گا۔

ہماری ایک ایک ماہ کی کارکردگی ان کی ایک سال کی کارکردگی سے بہتر ہے۔ ہم نے جس تبدیلی کا وعدہ کیا ہے انشاء اللہ ایک ایک کرکے پورا کریں گے اور پورا کرکے دکھائیں گے۔سید نوید قمر نے ضمنی مالیاتی بل پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ایک طرف ہم معیشت کو دستاویز بنانے کی بات کرتے ہیں اور روز اس کے بارے میں بیانات بھی آتے رہتے ہیں لیکن پالیسی ہدایات ان بیانات کے برعکس ہیں۔

فائلرز اور نان فائلرز کے درمیان تفریق ختم کرکے حکومت نے دونوں کو برابر قرار دیا ہے۔ اس کی بجائے حکومت بانڈز جاری کر سکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی کو ریلیف دینے کے نام پر گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا۔ سردیاں آرہی ہیں اور گیس کے استعمال میں اضافہ سے عام صارفین کے ماہانہ بل پر مزید بوجھ پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی اور افراط زر ٹیکس کی بدترین شکل ہے اور اب تک جو اقدامات ہوئے ہیں اس سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔

سید نوید قمر نے کہا کہ درآمدا اور برآمدات میں نمایاں فرق سے بھی عام آدمی متاثر ہو رہا ہے۔ اگر آئی ایم ایف کی طرف جانا ہے تو قوم کو اعتماد میں لیا جائے۔ اس وقت کئی چیزیں مبہم اور غیر شفاف ہیں۔ اس ایوان کو اعتماد میں لیا جائے اور ہمیں بتایا جائے کہ کہیں کسی اور کی جنگ میں ہم تو شامل نہیں ہو رہے۔ 2 فیصد خسارہ گھٹانے کے لئے 90 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں حالانکہ اس پر 880 ارب روپے کے اخراجات آجاتے ہیں۔

اگر دیامر بھاشا ڈیم بنانا ہے تو اس کے لئے پی ایس ڈی پی میں رقم مختص کرنا چاہیے۔ چندوں سے ڈیم نہیں بنتے۔ سید نوید قمر نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور موجودہ حکومت نے بھی زراعت کے شعبے کے لئے عملی اقدامات نہیں کئے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نمائشی اقدامات کی بجائے عملی اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ لیڈر آف اپوزیشن کی جانب میثاق معیشت کی پیشکش کا حکومت کو سنجیدگی سے جواب دینا چاہیے۔

ضمنی مالیاتی بل 2018ء پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے اسلم بھوتانی نے کہا کہ حکومت نے ضرورت کے تحت نظرثانی شدہ بجٹ پیش کیا ہے۔ ترقیاتی بجٹ پر لگائی جانے والی 225 ارب کی کٹوتی سے بلوچستان کو مستثنیٰ قرار دیا جائے۔ منصوبہ بندی کمیشن گوادر کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی ترقی کے لئے فنڈز کے اجراء کو یقینی بنائے۔ حب اور لسبیلہ میں اہم صنعتیں ہیں جن کے صدر دفاتر کراچی میں ہیں اس لئے اکٹھا ہونے والا ریونیو سندھ کو چلا جاتا ہے۔

اس ریونیو کو بلوچستان کے حصہ میں جانا چاہیے۔ گوادر ماسٹر پلان پر بھی کوئی کٹوتی نہ کی جائے۔متحدہ مجلس عمل کی رکن قومی اسمبلی شاہدہ اختر علی نے کہا کہ اسد عمر نے ضمنی مالیاتی بل جب پیش کیا اس کے ابتدائیہ سے مکمل اتفاق کرتی ہوں کیونکہ اس میں کہا گیا ہے کہ غریب غریب تر اور امیر امیر ہوتا جارہا ہے اس حقیقت سے کوئی بھی پاکستانی انکار نہیں کر سکتا۔

تاہم سارا الزام سابقہ حکومتوں پر ڈالا جارہا ہے۔ اگر ان کو کسی بات پر اعتراض ہے تو اصلاحات بھی لے کر آئیں تاکہ ان اصلاحات کے ثمرات عوام تک پہنچیں۔ انہوں نے کہا کہ غریب عوام کی حالت کو بہتر بنانے کے لئے معیشت میں شراکت دار بنایا جائے۔ ضمنی مالیاتی بل 2018ء بھی سابقہ روایات کا عکاس ہے۔ اس میں کوئی بڑی تبدیلی متعارف نہیں کرائی گئی۔ سفید پوش طبقہ پر مزید ٹیکس لگا تو متاثر ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ریگولیٹری ڈیوٹیوں سے پیداواری لاگت بڑھے گی اور برآمدات متاثر ہوں گی۔ گیس کے نرخوں میں اضافہ سے سیمنٹ‘ کھاد سمیت دیگر اشیاء کی پیداواری لاگت بڑھے گی۔ غریب کو امیر کرنے کی بجائے امیر طبقہ کو غربت کی طرف لایا جارہا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ جو لوگ ٹیکس نہیں دیتے انہیں ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ برآمدات بڑھانے کے لئے صنعتوں کو مراعات دی جائیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ پرائیویٹ پبلک سیکٹر کی شراکت سے نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کئے جائیں۔