9واں سی پیک میڈیا فورم :پاکستان اور چین منفرد آئرن برادرز,چینی سفیر نے پاک چین تعلقات کو لازوال قرار دیا، 2026 میں دو طرفہ تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر مشترکہ تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا

بدھ 24 دسمبر 2025 23:20

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 دسمبر2025ء) پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ (پی سی آئی) نے چائنا اکنامک نیٹ اور عوامی جمہوریہ چین کے سفارت خانے کے تعاون سے 9واں سی پیک میڈیا فورم منعقد کیا جس میں سینئر پاکستانی اور چینی حکام، سفارت کاروں، میڈیا لیڈرز اور چینی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ فورم کا مقصد سی پیک 2.0 کے تحت میڈیا تعاون کو مضبوط بنانا، حقائق پر مبنی بیانیے کو فروغ دینا اور پاکستان چین تعاون کو نشانہ بنانے والی من گھڑت خبروں، گمراہ کن معلومات اور“فیک نیوز”کے بڑھتے ہوئے چیلنجز کا مؤثر جواب دینا تھا۔

یہاں جاری پریس ریلیز کے مطابق پی سی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مصطفیٰ حیدر سید نے معزز مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ سی پیک میڈیا فورم 2015 سے ہر سال ایک نمایاں پاکستان–چین میڈیا پلیٹ فارم کے طور پر منعقد ہوتا آ رہا ہے جس کا آغاز صدر شی جن پنگ کے اپریل 2015 کے دورہ پاکستان کے بعد کیا گیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے یاد دلایا کہ پہلا فورم نومبر 2015 میں بیجنگ میں پی سی آئی کے شراکت دار چائنا اکنامک نیٹ کے ساتھ منعقد ہوا تھااور کووِڈ-19 کے دوران بھی ورچوئل فارمیٹس کے ذریعے اس تسلسل کو برقرار رکھا گیا۔

انہوں نے کہا کہ فورم کا بنیادی مقصد سی پیک اوربالخصوص مثا لی پاک چین تعاون کی بنیاد پرحقائق پرمبنی بیانیہ کی تشکیل ہے انہوں نے مزید کہا کہ فورم کا یہ ایڈیشن خصوصی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ سی پیک 2.0 کے اعلان کے بعد منعقد ہو رہا ہے جو ایسے وقت میں جب تعاون بشمول دفاعی شعبے میں تیزی سے وسعت اختیار کر رہا ہے بالخصوص مئی میں بھارت کے خلاف پاکستان کی فتح کے دوران جسے پوری دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔

سینیٹر مشاہد حسین سید، چیئرمین پاکستان–چائنا انسٹی ٹیوٹ نے فورم کو پاکستان کے خارجی تعلقات کے وسیع تر اسٹریٹجک تناظر میں پیش کیا اور اس ضمن میں اپنے حالیہ دورہ ماسکو کا حوالہ دیا۔ انہوں نے چین کو دوسری جنگِ عظیم میں فاشزم پر فتح کے 80 برس مکمل ہونے پر مبارکباد دی اور چین کی عظیم قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی قربانیاں رائیگاں نہیں گئیں۔

پاکستان کی قومی سلامتی کے بیانیے کو معلوماتی میدان سے جوڑتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کے ردِعمل نے ملک کی علاقائی اور بین الاقوامی حیثیت کو بلند کیا ہے تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ''فیک نیوز، ڈس انفارمیشن اور مس انفارمیشن'' اب ایک اسٹریٹجک چیلنج بن چکی ہیں۔ انہوں نے برسلز میں قائم این جی او ای یو ڈس انفولیب کی“انڈیا کرونیکلز”تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات کی نشاندہی کی کہ ان کے بقول بھارتی گمراہ کن معلومات پھیلانے والے اداروں کا ایک بڑے پیمانے کا نیٹ ورک موجود ہے۔

انہوں نے اطلاعاتی جنگ خاص طور پر ان قوتوں کے مقابلے میں جو ''پاکستان–چین تعلقات کی پیش رفت سے خوش نہیں ہیں کے خلاف تیز تر ردِعمل اور مضبوط تر ہم آہنگی پر زور دیا، انہوں نے چین کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کا“محور”قرار دیا اور چین–پاکستان مشترکہ ایکشن پلان کو بھی اجاگر کیا جو سات شعبوں پر مشتمل پانچ سالہ فریم ورک ہے۔وزیرِ مملکت برائے ماحولیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر شذرا منصب علی کھرل نے ڈونگ فینگ اسکالر کی حیثیت سے اپنے حالیہ دورہ چین کے تجربات بیان کیے اور اسے ایک ایسا دور قرار دیا جس میں انہوں نے ''بہت کچھ سیکھا'' اور چین کے عوام'' اور ان کی ''روابط بڑھانے'' پر بڑھتی ہوئی توجہ پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ گلوبل ساؤتھ کے 50 ممالک سے تعلق رکھنے والے 50 سے زائد اسکالرز کی موجودگی چین کے اس نقطہ نظر کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ مل کر امن اور ترقی کے لیے تعاون کرنا چاہتا ہے انہوں نے کہا کہ چین اپنا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن وہ بالادست یا بالادستی کا خواہاں نہیں بلکہ تمام فریقوں کے یکساں استفادہ اور تعاون کا خواہاں ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاک چین تعلقات منفرد،سد ابہار اور اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری ہے اور زبان، ثقافت اور مذہب کے فرق کے باوجود اعتماد'' پر قائم ہے، کشمیر اور ون چائنا پالیسی سمیت بنیادی امور پر باہمی حمایت کی توثیق ہے سی پیک کے دوسرے مرحلے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے عالمی ماحولیاتی نظم و نسق میں چین کے کردار کو سراہا،انہوں نے ماحولیاتی تبدیلی کو ایک وجودی مسئلہ قرار دیا اور میڈیا کے لیے ایک عملی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کو گمراہ کن معلومات، غلط معلومات اور فیک نیوز کے فوری جواب کے لیے ایک مشترکہ میڈیا میکنزم قائم کرنا چاہیئے۔

پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زائی ڈونگ نے پاکستان اورچین کے درمیان دوستی کے ضمن تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے کی تعریف کی، انہوں نے چین کے مؤقف کا اعادہ کیا کہ وہ کسی بھی شخص یا کسی بھی قوت کو برداشت نہیں کر سکتا جو تائیوان کو چین سے الگ کرنے کی کوشش کرے، چینی سفیرنے ون چائنا پالیسی کے حوالے سے پاکستان کے ''پختہ عزم'' اور خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے اس کی حمایت کو سراہا۔

انہوں نے یاد دلایا کہ یہ فورم 2015 میں صدر شی جن پنگ کے تاریخی دورہ پاکستان اور ''وِن پلس وِن'' تعاون کے فریم ورک کے بعد سی پیک کی پیش رفت کے ساتھ ہی قائم کیا گیا تھا۔ انہوں نے اعلیٰ سطحی روابط کے تسلسل اور نئے اتفاقِ رائے کی جانب اشارہ کیا تاکہ سدا بہار شراکت داری کو آگے بڑھایا جا سکے اور سی پیک کو بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت ایک جامع، کثیر شعبہ جاتی فلیگ شپ منصوبے میں تبدیل کیا جا سکے۔

انہوں نے حقائق کو مسخ کرنے کے خلاف میڈیا کے کردار کی تعریف کی اور اس تصور کا حوالہ دیا کہ دنیا میں تلوار اور قلم طاقت ہے اورصحافیوں نے دعوؤں کا حقائق کے ساتھ جواب دے کر قلم کو تلواروں میں بدل دیا ہے سی پیک 2.0 کے حوالے سے انہوں نے تین توجہاتی شعبوں زراعت، معدنیات اور صنعت کا خاکہ پیش کیا،اور صنعتی تعاون اور روزگار پر پڑنے والے اثرات کا ذکر کیا، جن میں مینوفیکچرنگ اور ٹیکسٹائل پارکس میں سرمایہ کاری شامل ہے جن کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا کریں گی، جبکہ مستقبل میں 'برآمدات پر مبنی'' اور ''عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر خصوصی توجہ دینے پر زور دیا۔

انہوں نے بنیادی ڈھانچے میں تعاون، گوادر سے متعلق رابطہ کاری اور سماجی شعبے میں عملی معاونت کا بھی حوالہ دیا جس میں طبی آلات کی فراہمی اور تربیتی پروگرامات شامل ہیں۔ژینگ چِنگ ڈونگ، صدر اور چیف ایڈیٹر اکنامک ڈیلی نے اس فورم کو صدر شی جن پنگ اور وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ملاقات کے بعد قائدین کے اتفاقِ رائے پر عمل درآمد کے لیے ایک ٹھوس قدم قرار دیا اور نئے دور میں مشترکہ مستقبل کی حامل مزید قریبی برادری کی تیز رفتار تعمیر پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک ایک خاکے سے ایک ٹھوس حقیقت میں تبدیل ہو چکا ہے اور ایک اپ گریڈ شدہ 2.0 مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ راہداری کی کہانی کو مزید گہرے اور زیادہ مؤثر انداز میں بیان کرنا میڈیا کے سپرد کی گئی ایک ذمہ داری ہے،یہ ایک ایسی ذمہ داری جس سے ہم پہلو تہی نہیں کر سکتے۔یانگ چن یان، ڈپٹی ایڈیٹر ان چیف فار ن لینگویجز پریس نے میڈیا کو اشاعت تک وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کتاب کی اشاعت 'بنیادی، گہرا اور دیرپا اثر ڈالتی ہے اور تہذیبی تبادلے اور عوامی تعلقات کے لیے ذمہ داری رکھتی ہے۔

انہوں نے فارین لینگویجز پریس (1952 میں قائم) کو چین انٹرنیشنل کمیونیکیشنز گروپ (سی آئی سی جی) کے حصے کے طور پر متعارف کرایاجو اشاعت، میڈیا، ترجمہ، تھنک ٹینکس اور ثقافتی تبادلے کے شعبوں پر محیط ہے۔ہو پِنگ پِنگ، صحافی اور ایسوسی ایٹ سینئر مترجم، ایشیا-افریقہ لینگویج پروگرامز سینٹر، چائنا میڈیا گروپ نے اردو میں خطاب کیا انہوں نے یکم اگست 1966 کو اس تاریخ کے طور پر یاد کیا جب پہلا چینی اردو نشریاتی آواز ''پامیر کے راستوں میں گونج'' اٹھی، اور کہا کہ ان کی ٹیم طویل عرصے سے پاکستان–چین دوستی کی کہانی کی ''نگہبان''اور ''بیان کنندہ'' کے طور پر خدمات انجام دیتی رہی ہے۔

انہوں نے قابلِ عمل ''زمینی حقائق'' بیان کرنے کی ضرورت پر زور دیا، جن میں غربت کے خاتمے کے فارمولے، صنعتی کامیابی کے پیچھے ٹیکنالوجی اور افرادی تربیت شامل ہیں، اور حال ہی میں پاکستان کی چین کو گلابی نمک کی برآمدات پر ایک ویڈیو کا حوالہ دیا، جس میں صرف تجارت پر نہیں بلکہ جدید نظاموں کے ذریعے ویلیو ایڈیشن کے ذریعے یورپ اور امریکہ تک پہنچنے پر زور دیا گیا تاکہ قیمت میں اضافہ کیا جا سکے۔

سینئرصحافی حامد میر نے معلومات کی غلط فراہمی کے خلاف ڈیجیٹل مہمات کی حمایت کرتے ہوئے فورم سے کہا کہ بیانیہ سازی میں ساختی رکاوٹوں کا بھی سامنا کیا جائے۔ انہوں نے دلیل دی کہ بھارت سی پیک کے خلاف معلومات کی غلط فہمی کا بڑا ذریعہ ہے کیونکہ وہ ایک ایسے منصوبے کی مخالفت کرتا ہے جو چین کو پاکستان کی شمالی سرحد سے جوڑتا ہے، اور کہا کہ پاکستان–چین پیغام رسانی میں ایک اہم اور غائب عنصر بھارت کے اکھنڈ بھارت کے تصور کو اجاگر کرنا ہے، جسے انہوں نے بھارت کی پارلیمنٹ میں دکھائے جانے والے ایک توسیع پسندانہ نقشے کے طور پر بیان کیا اور کہا کہ یہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے ۔

انہوں نے پاکستان اور چین پر زور دیا کہ وہ اس معاملے کو زیادہ مؤثر طریقے سے بین الاقوامی فورمز، بشمول اقوام متحدہ، میں اجاگر کریں، اور خبردار کیا کہ بھارت کی معلوماتی مہم صرف سی پیک کو نہیں بلکہ پاکستان کی بقا کو بھی نشانہ بناتی ہے۔سینئرصحافی محمد مالک نے کھلے پن اور حقائق پر مبنی کہانی سنانے کی اپیلوں کی تائید کی اور عوامی تاثرات اور عوام کے درمیان فاصلے کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے گوادر کے حوالہ سے غلط تاثرات کوزائل کرنے کی ضرورت پرزوردیا لیو یونگ گانگ، قائم مقام چیف ایگزیکٹو آفیسر، (چائنا تھری گورجز ساؤتھ ایشیا انویسٹمنٹ لمیٹڈ، سی ایس اے آئی ایل) نے ادارہ جاتی سطح پر شراکتوں اور سی پیک 2.0 کو عوامی مرکزیت دینے میں میڈیا کے کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے سی پیک 1.0 کے تحت اہم صاف توانائی کی سرمایہ کاریوں کا حوالہ دیا، جن میں 720 میگاواٹ کروٹ ہائیڈروپاور پروجیکٹ شامل ہے، جسے سی پیک کے تحت مکمل ہونے والا پاکستان کا پہلا بڑے پیمانے کا ہائیڈروپاور منصوبہ قرار دیا گیا، جو ''صاف اور سستی بجلی'' فراہم کرتا ہے، اور تقریباً 150 میگاواٹ کی ونڈ پاور سرمایہ کاری بھی شامل کی، جو پاکستان کی قابل تجدید توانائی کی منتقلی، روزگار اور کمیونٹی کی ترقی کی حمایت کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک 1.0 نے کنیکٹیویٹی، توانائی، بنیادی ڈھانچے اور صنعتی صلاحیت کے شعبوں میں بنیادیں رکھیں، جبکہ سی پیک 2.0 کو ''معیار، پائیداری اور عوامی مرکزیت کی حامل ترقی'' کو مزید مستحکم کرنا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ سی پیک 2.0 صرف بنیادی ڈھانچے پر مشتمل نہیں ہے بلکہ ''اعتماد، سمجھ اور مشترکہ بیانیے'' کے بارے میں بھی ہے، اور کہا کہ میڈیا کا کردار ''ناقابلِ متبادل'' ہے، اور دلیل دی کہ جہاں بنیادی ڈھانچہ علاقوں کو جوڑتا ہے، میڈیا کمیونٹیز اور کارکنوں کی حقیقی کہانیاں بیان کر کے معاشروں کو جوڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ غلط معلومات کو صرف عارضی تردید سے شکست نہیں دی جا سکتی، بلکہ یہ ''حقائق، شفافیت، پیشہ ورانہ مہارت اور ذمہ دار صحافت'' کے ذریعے ممکن ہے، انہوں نے اپنی کمپنی کی پاکستان میں“طویل مدتی شراکت دار”کے طور پر عزم کا اعادہ کیا، اور نتیجہ اخذ کیا کہ مضبوط میڈیا تعاون مضبوط بنیادی ڈھانچے جتنا ہی اہم ہوگا فورم کے دوران پی سی آئی نے '' پاکستان میں چینی تکنیکی معیارات کے عملی اطلاق کا تجزیہ '' کے عنوان سے رپورٹ کا بھی اجراء کیا۔