Live Updates

بشیر زیب،اللہ نذر سمیت دیگر لوگ بھارت کی پراکسی ،ان کی دلالی کرتے ہیں ،بلوچ کہنا مناسب نہیں، وزیراعلیٰ

صوبے کی تاریخ کو ہمیشہ مسخ کر کے پیش کیا جاتا ہے، بلوچستان اور پاکستان کے لوگ محرومی اور تشدد کے درمیان تفریق پیدا کریں، دہشتگرد عوام کو بطور ڈھال استعمال کرتے ہیں،وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی

بدھ 11 فروری 2026 22:55

�وئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 11 فروری2026ء) وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بشیر زیب،اللہ نذر سمیت دیگر لوگ بھارت کی پراکسی اور ان کی دلالی کرتے ہیں انہیں بلوچ کہنا مناسب نہیں، صوبے کی تاریخ کو ہمیشہ مسخ کر کے پیش کیا جاتا ہے، بلوچستان اور پاکستان کے لوگ محرومی اور تشدد کے درمیان تفریق پیدا کریں، دہشتگرد عوام کو بطور ڈھال استعمال کرتے ہیں بلوچستان کے لوگ پاکستان اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ ہیں ہمارا جینا مرنا ملک کے ساتھ ہے ، بلوچ لاحاصل جنگ سے اپنے آپ کو دور کرلیں ، پاپولیر بیانیہ نہیں ریاست عزیز ہے جلد ہی پاپولر بیانیہ اور بھارتی پراسکیز ختم ہونے والے ہیں، ٹوئٹر سردار سے مرعوب نہیں ہونگے ان سے خوبصورت ہمارا پنا سردار تھا جسے انہوں نے پہاڑ پر بھیج دیا،یہ بات انہوں نے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہی ۔

(جاری ہے)

وزیراعلیٰ نے کہا کہ میں بحثیت وزیراعلیٰ نہیں بلکہ ایک بلوچ ،پاکستانی کے طور پر شہداء کے لواحقین سے اظہار ہمددری کرتا ہوں آپ کا وزیراعلیٰ آپ کی اسمبلی آپ کے لوگ آپ کے اس دکھ میں اس غم میں اس طرح برابر کے شریک ہیں جیسے کہ آپ خود غم زدہ ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے دہشتگردی کے ایشو کو لے کر اسمبلی سمیت پورے ملک میں کنفیوژن ہے گزشتہ 30سالوں سے مسلسل ایک منظم انداز میں ریاست پاکستان کے خلاف پروپگنڈا کے ذریعے ریاست کو اور بلوچستان کے عام نوجوان کو دور کیا گیا ہے اور ایک ایساجھوٹا بیانیہ بنیاگیا جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔

انہو ں نے کہا کہ جو لوگ ہمارے بچوں کو مار رہے ہیں ان کے لیے آواز بننے والے اس مسئلے کو کو کسی سے محرومی سے کسی سے نوکری سے کسی سے فنڈ سے کسی سے کسی ہسپتال سے جوڑتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کیا موسیٰ خیل کا بلوچستانی وہ واشک والے سے زیادہ ترقی یافتہ ہے تو پھر وہ کیوں بندوق نہیں اٹھا رہا ۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ مسئلہ سیاسی ہے تو اس پر بات کرلیتے ہیں ، میرٹ، فنڈز سمیت دیگر تمام معاملات پر بات ہوسکتی ہے مگر دہشتگردی کو ان مسائل سے کیسے جوڑا جاسکتاہے ریاست کے علاوہ کسی کو بھی تشدد کا اختیار نہیں کسی کو اختیار نہیں کہ وہ معصوم لوگوں کاقتل عام کرے کیا ملک کے دیگر تمام علاقے برابر کے ترقی یافتہ ہیں کیا وہاں کے لوگ بندوق اٹھا کر مار دھاڑ شروع کردیں ۔

انہوں نے کہا کہ 2022میں بھی اسمگلنگ تھی کیا اس وقت حملے نہیں ہورہے تھے اس وقت تو بارڈر کھلے تھے پھر تو حملہ نہیں ہونا چاہیے تھا ۔انہوں نے کہا اسمبلی میں آئین اور قانون کی حکمرانی کی بات ہونی چاہیے اسمگلنگ کو کیسے جائز کہہ سکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ایک نام نہاد سردار کسی معاہدے کی بات کر رہے تھے جس خان احمد یار خان کی بات کی جارہی تھی وہ بلوچستان کے گورنر رہے ہیں انہوں نے اپنی کتاب لکھی تھی انہوں نے اپنی کتاب نہیں نہیں لکھا کہ میرے ساتھ کوئی زبردستی ہوئی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ 1973کے آئین کے بعد کوئی معاہدہ ویلڈ نہیں رہا۔ آئین ذمہ داری دیتا ہے پھر حقوق کی بات کرتاہے ۔انہوں نے کہا کہ جوڑ رہا ہے وہ کہتا ہے میں نے ملک توڑنا ہے بلوچ شناخت پرایک نیا ملک بنانا ہے جس کے لیے وہ سماجی بدلائو، سوشل میڈیا کا استعمال کر رہا ہے اور ہندوستان کی پراکسی بن چکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب اپنے دل پرہاتھ رکھ لیں بلوچستان کے نوجوان بلوچستان کے بزرگ بلوچستان کی خواتین بلوچستان کی میرے بیٹے اور میری بیٹیاں اپنے دلوں پر ہاتھ رکھ لیں کیا بلوچستان تشدد سے آزاد ہو سکتا ہے بلوچ کو ایک لاحاصل جنگ میں دھکیلا ہ جا رہا ہے جس سے صرف کشت و خون ہورہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ گوادر کے اندر ایک خاندان کے 7بلوچ جو وہاں مزدوری کر رہے تھے کو گولیوں سے چھلنی کردیاگیا انکا کیا قصورتھا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان بھر میں تشدد کو راست ثابت کرنے کی کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جو بہت خطرناک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے بعد سب سے اہم دستاویز نیشنل ایکشن پلان ہے خوارج کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے صرف نام مذہب کا استعمال کرتے ہیں اس میں انہیں دہشتگرد قراردیا لیکن جو لوگ قوم پرستی کے نام پر دہشتگردی کرتے ہیں انہیں علیحدہ کردیا اگر بات چیت کی بات ہے تو اس سے کیا حاصل کیا جائے گا ، میں نے 10بار سے زائد کہا ہے کہ اگر پاکستان میں کوئی بھی اس مسئلے کو حل کرنا چاہتے تو ہم بات چیت کرنے کو تیار ہیں لیکن ہم ان سے بات نہیں کر سکتے جو بندوق کی نوک پر ہم سے بات کرتے اور معصوم لوگوں ، سیکورٹی فورسز کو قتل کرتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ گوادر میں پانچ سال میں 66ارب خرچ ہوئے آج وہاں ایک سکول بھی بند ہیں ، ہم نے صوبے بھر میں 3200اسکول کھلوائے ہیں آج گوادر میں دہشتگردی کیوں ہورہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نواب خیربخش مری کا نظریہ تھا کہ ہم تشدد کے ذریعے پاکستان کو توڑیں گے اور ایک نظریہ میر غوث بخش بزنجو کا تھا کہ ہم اسی پاکستان میں رہ کے سیاسی جدوجہد کریں گے آج یہ بات ثابت ہوئی کہ ہمیں حقوق پارلیمان نے دئیے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ 2018کے بعد دہشتگردوں کی دوبارہ آباد کاری ہوئی جس سے وہ دوبارہ مضبوط ہوئے بی ایل ا ے کے لوگوں کو جیلوں سے چھڑایا گیا وہ دوبارہ کیمپ میں گئے اسی اسمبلی کے کہنے پر ایف سی کی چیک پوسٹیں ختم کی گئیں جس کا نتیجہ آج ہم بھگت رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آج ریاست نے جو فیصلہ کیا ہے کہ ہارڈ اسٹیٹ بنے گی ،بلوچستان حکومت پانچ بارڈر اضلاع میں نوجوانوں پر 16ارب روپے خرچ کر رہے ہیں بلوچستان کے بچوں کا مستقبل زمباد نہیں بلکہ اے آئی، کاروبار ہے ۔

انہوں نے کہا کہ بشیر زیب نے کہا کہ آؤ میرے ساتھ مل جاؤ تو چار سو پانچ سولوگ ملے لیکن ایک کروڑ آبادی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام نے ہمیں منتخب کیا ہے بلوچستان کی تاریخ کو باربارمسخ کیاجاتارہاہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹوئٹر سردار نے نہ صرف مجھے بلکہ پاکستان کے سابق وزیراعظم کی تضحیک کی وہ محبت اور اخلاق سے پیش آئیں گے توہم بھی وہی کریں گے اگر وہ مرعوب کریں گے اور سردار ی چھاڑیں گے تو آپ سے زیادہ خوبصورت میرا اپنا تھا آپ نے اس کو بھی کہا تھا کہ ڈیرہ بگٹی میں ایک گولی چلی تو وڈھ میں سو چلیں گی وڈھ میں ایک پٹاخہ بھی نہیں چلا ہمارے سردار کو پہاڑوں پر چڑھا دیا ۔

انہوں نے کہا کہ واشک میں مائنز اینڈ منرلز شعبے میں میں بیسیوں کمپنیوں نے دلچسپی ظاہر کی ، بی آر ٹی کوئٹہ کے منصوبے میں سروے کے لیے امریکی،بنگلہ دیشی سمیت 14باہر کی کمپنیوں نے دلچسپی ظاہرکی۔ انہوں نے کہا کہ ابوجہل اور سیدنا امیر حمزہ کے بھی پسماندگان تھے بشیر زیب،اللہ نذر سمیت دیگر لوگ بھارت کی پراکسی اور ان کی دلالی کرتے ہیں انہیں بلوچ کہنا مناسب نہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج بلوچ خواتین کو خودکش جیکٹ پہنائی جارہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے لوگوں اور ایوان کے تمام اراکین کی طرف سے دہشت گردی کیخلاف جنگ کیلئے سکیورٹی فورسزکاشکریہ اداکرتا ہوں اس دہشت گردی کو ہمارے انٹلی جنس اداروں نے ہینڈل کرناہے،انہوں نے کہا کہ ہم حق کی بات نہیں کرتے،پاپولر بیانیے کی طرف بھاگتے ہیںریاست میرے بچوں سے زیادہ اہم ہے ریاست ہے تو ہم ہیں ہم اپنی فورسز کے شکر گزار ہیں کہ وہ بہادری سے لڑ رہے ہیںاسی لئے کہتے ہیں پاپولر بیانیے کے پیچھے مت جائیں،اپنی سکیورٹی فورسزکیساتھ کھڑے ہوںپاپولر بیانیہ دفن ہونے جارہاہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے لوگوں کو ذمہ داری کیساتھ وعدہ کرتاہوں کہ ہڑتال کے نام پرسڑکیں بند نہیں ہوں گی احتجاج کاحق سب کاہے میرا وعدہ ہے کہ ہم بلوچستان کو امن کی طرف لوٹائیں گے،وزیراعلی نے کہا کہ بلوچستان کے لوگوں سے کہتاہوں کہ وہ دہشت گردوں کیساتھ نہ کھڑے ہوںدہشت گرد عام لوگوں کو انسانی شیلڈ بناتے ہیں،عام لوگ،ان کی انسانی شیلڈ نہ بنیں،ورنہ ہم کارروائی کیلئے مجبورہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ لاہور میں رانا ثناء اللہ نے پاکستان کا مقدمہ دلیری سے لڑا میں نے کہا کہ میں اس کانفرنس میں آئونگا لیکن نہیں بلایاگیا یہ بیانیہ بنایاجاتاہے کہ لوگ ان کیساتھ ہیں،یہ غلط ہے،لوگ ریاست اور فوسزکیساتھ ہیں پاکستان کے ساتھ ہمارا جینا،مرناہیاور جینا مرنا رہیگا۔انہوں نے کہا کہ بلوچ،خود کو اس لاحاصل جنگ سے دور کرلیں،افغانستان میں بیٹھ کر،اسکوٹرپر ویڈیو بناکر اس قوم کو مرعوب نہیں کیاجاسکتا،ایک دن ان پراکسیزکو بے یارومددگار پھینک دیاجائیگا،یہ یادرکھ لیں،یہ جلدہوگا۔

انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں لوگ تماش بینی کر رہے تھے ایک شخص کو گرفتار کیا جو بی ایل اے کے دہشتگرد کا ہاتھ چوم رہا تھا وہ شخص اچکزئی تھا اس کا بی ایل اے سے کیا کام ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک مارٹر گولے سے تمام لوگوں کو ہلاک کر سکتے تھے مگر عوام کا تحفظ ملحوظ خاطر رکھا گیا ہم ایک ذمہ دار ریاست اور فورس اور فوج ،حکومت ہیں ہم عوام پر فائر نہیں کھول سکتے لوگ ڈھال نہ بنیں ۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے بشیر زیب اور اللہ نذر کے لیے نظم بھی پڑھ کر سنائی ۔
Live آپریشن غضب للحق سے متعلق تازہ ترین معلومات