Live Updates

حافظ نعیم الرحمن کا نظام کی تبدیلی کے لیے ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان

فارم سنتالیس ہی نہیں ، فارم پینتالیس والے بھی ناکام حکمران ہیں‘ امیر جماعت اسلامی عوام ٹیکسوں کے بوجھ تلے دب گئے، حکمران عیاشیاں کررہے ہیں‘جلسہ عام سے خطاب

اتوار 3 مئی 2026 22:35

�یر بالا(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 03 مئی2026ء) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے ملک میں نظام کی تبدیلی کیلئے بھرپور عوامی تحریک شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ملک میں دو نظام اور دو دستور نہیں چل سکتے، عوام ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں ،حکمران طبقہ عیاشیاں کررہا ہے ، فارم سنتالیس ہی نہیں فارم پنتالیس سے آئے ہوئے بھی ناکام ہوگئے، گزشتہ 79 برسوں میں صرف چہرے، نعرے اور جھنڈے بدلتے رہے، فرسودہ ظالمانہ نظام جوں کا توں رہا۔

دیر بالا میں ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پہاڑوں کے دامن میں جلسہ گاہ کا مکمل بھر جانا اس بات کی علامت ہے کہ عوام جماعت اسلامی کے ساتھ کھڑے ہیں اور یہ اجتماع ملک میں آنے والی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نئی قیادت، نیا نظام کے نعرے کے تحت جدوجہد کر رہی ہے اور آئندہ دنوں میں اس تحریک کو مزید منظم کیا جائے گا۔

جلسہ عام سے نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر عطا الرحمن، امیر کے پی شمالی عنایت اللہ خان اور امیر ضلع صاحبزادہ فصیح اللہ نے بھی خطاب کیا۔ سابق ایم این اے صاحبزادہ طارق اللہ، مولانا اسد اللہ، مغفرت شاہ اور دیگر قائدین بھی اس موقع پر موجود تھے۔ حافظ نعیم الرحمن نے تاریخی جلسہ کے انعقاد پر امیر ضلع اور ضلعی تنظیم کو مبارکباد دی۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اشرافیہ، اسٹیبلشمنٹ اور مافیاز کے گٹھ جوڑ نے ملک کے وسائل پر قبضہ جما رکھا ہے اور 25 کروڑ عوام کو معاشی دبا کا شکار بنا دیا گیا ہے۔ مارشل لا ہو یا نام نہاد جمہوری ادوار، اقتدار ایک مخصوص طبقے اور خاندانوں کے ہاتھ میں رہا، جبکہ جاگیرداروں، وڈیروں اور طاقتور حلقوں نے ہمیشہ اپنے مفادات کا تحفظ کیا۔ انہوں نے افسر شاہی کو نوآبادیاتی نظام کی باقیات قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا ذہن اس طرح بنایا جاتا ہے کہ وہ خود کو عوام کا حاکم سمجھے۔

عدالتی نظام پر بھی تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام میں سفارش اور دولت کے بغیر انصاف کا حصول ممکن نہیں اور غریب آدمی انصاف کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتا۔ ملک میں کرپشن ہر شعبے میں سرایت کر چکی ہے، کہیں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیاں ہیں تو کہیں جنگلات، تعلیم اور دیگر شعبوں میں بدعنوانی عروج پر ہے۔ اسلام آباد کے ریڈ زون میں ججز، سابق وزیر اعظم اور دیگر حکمرانوں نے اس وقت فلیٹ خریدے اور غیر قانونی ٹاور تعمیر کیے جب سپریم کورٹ کے وہی ججز کراچی میں غریبوں کے فلیٹ مسمار کرنے کا حکم دے رہے تھے ۔

آئی پی پیز، چینی، آٹا اور دیگر مافیاز نے معیشت کو یرغمال بنا رکھا ہے اور یہی عناصر عوام کے خلاف کھڑے ہو جاتے ہیں جب ان کے مفادات کو چیلنج کیا جاتا ہے۔معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں ملکی قرضہ تیزی سے بڑھا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر اربوں روپے کا اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ پٹرولیم مصنوعات پر بھاری لیوی کے ذریعے عوام سے خطیر رقم وصول کی جا رہی ہے۔

امیر جماعت نے کہا ایک عام شہری پٹرول کے ایک لیٹر پر ایک سو ستائیس روپے ٹیکس ادا کرتا ہے، موٹر سائیکل اور چھوٹی گاڑیوں کا مالک غریب اور متوسط طبقہ حکومت کو روزانہ کی بنیاد پر پٹرول خریداری کے عوض بارہ سو ارب ٹیکس کی مد میں ادا کرتا ہے جبکہ بڑے جاگیردار صرف بارہ ارب سالانہ ٹیکس دیتے ہیں۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہونے کے باوجود عوام کو ریلیف نہیں دیا جاتا اور حکومت پٹرولیم لیوی کے ذریعے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال رہی ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ پٹرول کی قیمت فوری طور پر 250 روپے فی لیٹر مقرر کی جائے اور بجلی کے نرخوں میں نمایاں کمی لائی جائے۔ عوام بجلی کے بلوں پر کئی قسم کا ٹیکس دیتے ہیں، آئی پی پیز کو سالانہ دوہزار ارب بجلی نہ بنانے پر دیا جاتا ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے سودی نظام کو ملکی معیشت کی تباہی کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نظام شریعت کے بھی خلاف ہے اور اس کے خاتمے کے بغیر معیشت کی بہتری ممکن نہیں۔

حکومت قرضوں پر سود کی ادائیگی میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے جس کا بوجھ بالآخر عوام پر ہی پڑتا ہے۔تعلیم کے شعبے پر اظہار خیال کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ملک میں پونے تین کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں جبکہ صرف خیبرپختونخوا ہ میں انچاس لاکھ بچے سکول نہیں جاتے ، دیر بالا میں بھی ایک لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ صوبائی حکومتیں سرکاری تعلیمی اداروں کو بہتر بنانے کے بجائے آئوٹ سورسنگ کی پالیسی اختیار کررہی ہیں جو مسائل کا حل نہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہر بچے کو آئین کے مطابق مفت اور معیاری تعلیم فراہم کی جائے اور اساتذہ کو بروقت تنخواہیں اور وسائل دیے جائیں۔ جماعت اسلامی کو اقتدار ملا تو امیر اور غریب کیلئے الگ تعلیمی نظام ختم کر کے یکساں نظام تعلیم نافذ کیا جائے گا اور 100 فیصد مفت تعلیم کو یقینی بنایا جائے گا،ہم بنو قابل پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کو مفت آئی ٹی تعلیم فراہم کررہے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی عوامی قوت کے ذریعے اقتدار میں آئے گی اور کسی اسٹیبلشمنٹ یا کرپٹ عناصر کے سہارے حکومت نہیں بنائے گی۔ انہوں نے ماضی کے سیاسی اتحادوں کے تلخ تجربات کا ذکر کیا اور کہا اب جماعت اسلامی عوام کے ساتھ مل کر ایسا اتحاد قائم کرے گی جو ملک کی تقدیر بدل دے گا۔ انہوں نے ملک بھر میں تنظیمی مہم کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 50 لاکھ نئے ممبرز بنائے جائیں گے اور 50 ہزار عوامی کمیٹیاں قائم کی جائیں گی، جبکہ دیر بالا میں ممبرشپ کا ہدف بڑھا کر 50 ہزار کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے نوجوانوں کیلئے یوتھ الیکشن کرانے، خواتین کو جدوجہد میں شامل کرنے اور ہر سطح پر عوامی شمولیت بڑھانے کا بھی اعلان کیا۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی ایک حقیقی جمہوری جماعت ہے جہاں باقاعدہ انتخابات ہوتے ہیں اور عام آدمی بھی قیادت تک پہنچ سکتا ہے، جماعت اسلامی پر کرپشن کا کوئی داغ نہیں۔ انہوں نے دیگر جماعتوں کے کارکنوں، خصوصا تحریک انصاف کے حامیوں کو بھی ساتھ چلنے کی دعوت دی۔

خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ یہ جلسہ اختتامی پروگرام نہیں بلکہ ایک بڑی تحریک کا آغاز ہے، جو ملک بھر میں پھیلائی جائے گی۔ امیر جماعت اسلامی نے عوام پر زور دیا کہ وہ نظام کی تبدیلی کیلئے تیار ہوں کیونکہ یہی جدوجہد پاکستان میں حقیقی عدل و انصاف کے قیام کی ضامن بنے گی۔
Live پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ سے متعلق تازہ ترین معلومات