Live Updates

کراچی سمیت سندھ بھر میں جرائم، دہشت گردی اور اسٹریٹ کرائم میں نمایاں کمی آئی، کچے میں پولیس کا کنٹرول قائم ہوچکا ہے، ضیا الحسن لنجار

رواں سال کراچی میں دہشت گردی کا کوئی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا جبکہ مجموعی طور پر دہشت گردی کے واقعات میں 80 فیصد کمی سامنے آئی ہے، وزیرداخلہ سندھ کا دعوی

ہفتہ 27 جون 2026 19:05

&کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 27 جون2026ء) وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے سندھ اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ اجلاس کے دوران امن و امان، انسدادِ دہشت گردی، اسٹریٹ کرائم، کچے کے علاقوں میں جاری آپریشنز اور منشیات کے خلاف حکومتی اقدامات پر تفصیلی اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں جرائم میں واضح کمی آئی ہے جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی میں نمایاں بہتری سامنے آئی ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ سندھ پولیس کے مجموعی طور پر ایک لاکھ ستر ہزار سے زائد پولیس اہلکار موجود ہیں جن میں سے ایک لاکھ چونتیس ہزار اہلکار عملی طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی سندھ ہمیشہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے معاون اور ہیلپنگ ہینڈ ثابت ہوئے ہیں اور حکومت امن و امان کے قیام کے لیے ہر ممکن وسائل فراہم کر رہی ہے۔

(جاری ہے)

کراچی کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے شہر میں امن و امان کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے جاتے ہیں تاہم سرکاری اعداد و شمار مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق کراچی میں موبائل فون چھیننے کے واقعات میں 7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ چار پہیہ گاڑیوں اور دو پہیہ گاڑیوں کی چوری اور چھینے جانے کے واقعات میں بھی کمی آئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مجموعی جرائم کی شرح میں 10 فیصد جبکہ گزشتہ برس کے مقابلے میں اسٹریٹ کرائم اور پرتشدد جرائم (وائلنٹ کرائم)میں 40 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ وزیر داخلہ نے دعوی کیا کہ رواں سال کراچی میں دہشت گردی کا کوئی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا جبکہ مجموعی طور پر دہشت گردی کے واقعات میں 80 فیصد کمی سامنے آئی ہے۔انسداد دہشت گردی اقدامات کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ سی ٹی ڈی نے رواں برس 642 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کیے جبکہ کالعدم تنظیموں اور دہشت گردی میں ملوث 66 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ سی ٹی ڈی کی کارکردگی اطمینان بخش رہی ہے اور حساس اداروں کے تعاون سے دہشت گردی کے کئی منصوبے ناکام بنائے گئے۔وزیر داخلہ نے انکشاف کیا کہ کراچی میں ایک مزدہ گاڑی سے 200 کلوگرام بارودی مواد برآمد کرکے ایک بڑے دہشت گردی کے منصوبے کو ناکام بنایا گیا۔اسٹریٹ کرائم، خصوصا موبائل فون چھیننے کے بڑھتے مسئلے پر انہوں نے کہا کہ شہریوں کو سہولت دینے اور جرائم پر قابو پانے کے لیے سی پی ایل سی ایک جدید موبائل ایپ متعارف کرا رہی ہے۔

اس ایپ کے ذریعے موبائل فون کی خرید و فروخت رجسٹرڈ ہوگی، موبائل فروخت کنندگان نظام کا حصہ ہوں گے اور چوری یا چھینے گئے موبائل فونز کی معلومات فوری طور پر دستیاب ہوسکیں گی تاکہ ان کی غیر قانونی فروخت روکی جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ سی پی ایل سی اب تک چھینے گئے 2458 موبائل فون مالکان کو واپس دلوا چکی ہے۔کچے کے علاقوں میں جاری آپریشنز کے حوالے سے وزیر داخلہ نے کہا کہ نجات مہران آپریشن حکومت کی ایک بڑی کارروائی ہے جس کا فیصلہ اعلی سطحی اجلاسوں میں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ابتدا میں سی پیک روٹس اور کچے کے علاقوں میں ڈاکوں کی سرگرمیوں پر تنقید سامنے آئی جس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ ہتھیار نہ ڈالنے والے عناصر کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے بتایا کہ آپریشن کے دوران 48 ڈاکو مارے گئے جبکہ سرینڈر پالیسی کے تحت 539 ڈاکوں نے خود کو قانون کے حوالے کیا۔ حکومت نے واضح پالیسی اختیار کی کہ سرینڈر کرنے والے افراد عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کریں گے۔

وزیر داخلہ کے مطابق کچے کے علاقوں میں مجرموں کے قبضے سے ایک لاکھ پندرہ ہزار ایکڑ زمین واگزار کرائی گئی جبکہ اب الحمدللہ پولیس نے ان علاقوں میں مثر کنٹرول قائم کر لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت صرف آپریشن تک محدود نہیں بلکہ کچے کے علاقوں میں سماجی اور معاشی ترقی کے منصوبوں پر بھی کام کر رہی ہے جن میں صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر اور روزگار کے مواقع شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سکھر سمیت مختلف علاقوں میں قبائلی تنازعات کے حل کے لیے بھی اقدامات کیے گئے۔منشیات کے خلاف جاری اقدامات پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ گزشتہ دو برس سے انسدادِ منشیات کے شعبے میں خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق کم تعلیم یافتہ طبقہ نسبتا زیادہ گٹکا اور ماوا کے استعمال کا شکار ہوا ہے جبکہ کراچی میں نوجوانوں کے اندر سنتھیٹک ڈرگز کے استعمال میں اضافہ ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کوکین، آئس اور حشیش کے استعمال کے شواہد موجود ہیں اور نوعمر افراد کے نشہ استعمال کرنے کی رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں۔ ان کے مطابق کئی ممالک میں ڈرگ ٹیسٹنگ کا نظام موجود ہے اور اب پاکستان میں بھی اس حوالے سے قانون سازی وقت کی ضرورت بن چکی ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ سوشل میڈیا پر حالیہ کیسز سے متعلق کئی غلط نام اور غیر مصدقہ معلومات گردش کرتی رہیں جس سے حقائق متاثر ہوئے۔

انہوں نے زور دیا کہ ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ منشیات استعمال کرنے والا فرد نسبتا کم سزا کا حقدار ہے جبکہ اصل اور سخت سزا منشیات فروخت کرنے والے عناصر کو ملنی چاہیے کیونکہ نوجوانوں تک نشہ پہنچانے والے اصل مجرم ہیں۔کوکین اسمگلنگ کے حوالے سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ وہ وثوق سے کہتے ہیں کہ کوکین کراچی ایئرپورٹ کے ذریعے نہیں آرہی بلکہ ان کے مطابق یہ لاہور اور پشاور ایئرپورٹس کے راستے ملک میں پہنچ رہی ہے۔

اس موقع پر فریال تالپور نے بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ گٹکا اور ماوا کے خلاف موجود قانون میں مزید ترامیم کی ضرورت ہے اور اسے نارکوٹکس ایکٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق ساحلی اضلاع سے لے کر شہید بینظیر آباد تک گٹکا اور ماوا ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔وزیر داخلہ نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ مشکل حالات کے باوجود سندھ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مثر کردار ادا کیا اور حکومت آئندہ بھی امن و امان کے قیام، جرائم کی روک تھام اور نوجوان نسل کو منشیات سے محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔
Live بجٹ 27-2026ء سے متعلق تازہ ترین معلومات